Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر # 33
تھینک گاڈ بھائی آپ آئے ملنے مجھے تو لگا تھا اس بار آپ آئیں گے ہی نہیں اور یہ کون ہیں ؟؟ ” ارمان کی موت کی وجہ سے علیم اور منال کا پلان لیٹ ہوگیا تھا اور آج ہفتے کی شام میں وہ تینوں ایک کافی شاپ پر موجود تھے علیم نے ابھی ابھی اریبہ کو ہوسٹل سے پِک کیا تھا اسنے مسکرا کر منال کر دیکھا جو اشتیاق سے اریبہ کو دیکھ رہی تھی جو لمبی سے چوٹی میں مقید بالوں کو باندھے یونیفارم کی بٹن اوپر تک بند کیے کف تک بند تھے اسکے وہ بہت سادہ سی تھی صاف ستھری سمجھ دار ” یہ سپیشل ہی سمجھ لو پہلے کبھی کسی کو لایا ہوں ملانے کے لیے !!” منال نے حیرت سے علیم کو دیکھا جو رخ بدل گیا ” تو بھائی یہ وہ والی سپیشل ہیں شکر ہے آپکو پتہ ہے اس دن کا مجھے کتنا انتظار تھا بھائی مجھ سے ہمیشہ کہتے تھے جس دن بھابھی کو لے آؤں گا اس دن ہمیشہ کے لیے ہوسٹل سے لیجاو گا تو شاید وہ وقت آگیا .” منال کو حیرت پر حیرت ہوتی جارہی تھی اسنے علیم کی جانب دیکھا جو اسے گھور کر خاموش رہنے کا اشارہ کررہا تھا ۔اسکے بعد وہ لوگ مال میں آگئے تھے جہاں سامنے اریبہ کتابوں کی دوکان میں گھسی کہانیوں کی کتابیں خرید رہی تھی اور علیم اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہورہا تھا ” بہت پیار کرتے ہو اپنی بہن سے ؟”
“ جان ہے وہ میری میرا ہر رشتہ وہی تو ہے اسکے بارے میں اب صرف دو لوگ جانتے ہیں ایک میرا باس اور دوسرا تم اور کسی کو نہیں بتاتا ڈر لگتا ہے کہ کبھی مجھے کچھ ہوگیا تو اسکے بارے میں کسی کو پتہ ہوا اور کچھ ہوگیا تو اسلیے ہوسٹل میں رکھ کر اسکے انڈیپنڈنٹ کرنے کی کوشش کررہا ہوں میرے باس کہتے ہیں اگر مجھے کچھ ہوگیا تو وہ اسے گود لے لیں گے مگر میں بہت سنبھل کر چلتا ہوں میں اریبہ سے دور نہیں جانا چاہتا اور اب تم سے بھی !!! اسنے رُخ موڑ کر اسے دیکھا اسکا ہاتھ تھام کر گھٹنوں کے بل جھک گیا تھا ” یس آئی لو یو منال !!!” منال کا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا تھا اسے بلکل بھی توقع نہیں تھی پورا مال مسکرا کر اس جوڑے کو دیکھ رہا تھا ” وِل یو میری می !! “
“ سے یس پلیز !! ۔۔۔۔پلیز سے یس ہی از سو کیوٹ ……..ڈیم واٹ آ کپل یار !! لوگ حیرت سے انھیں دیکھ رہے تھے جوان لڑکے لڑکیاں اسے ہاں بولنے کے لیے کہہ رہے تھے اسنے اریبہ کی جانب دیکھا جو خود ہاتھ جوڑ رہی تھی آخر اسنے ہمت مجمع کی ” یس !!!! ! مال میں کئی دوکانداروں نے پارٹی بلاسٹر پھوڑ دیے تھے وہ ہنستا سرجھکا گیا پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا ” تھینک یو !!” منال چاہ کر بھی ہنس نہیں پائی تھی وہ علیم کو دھوکا دے رہی تھی اسنے علیم کو پولیس میں دینا تھا اس پر ایسا سنگین الزام لگا کر جسنے سب تباہ کردینا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعمان فریحہ کو لیکر مینشن اگیا تھا فریحہ کو دیکھ کر جوجو ذی ذی عفت سب اسکے پاس آئے تھے ” اسلام علیکم بھابھی آپ آگئی !! عفت اسکے گلے ملی تھی جس پر اسنے کوئی ردِ عمل نہیں دیا تھا اسلام علیکم ممانی !! اسنے نظر گھما کر جوجو ذی ذی کو دیکھا ” یہی ہے نہ تمہارے بھتیجے جنہوں نے دانیال بھائی کی سسٹرز کو ٹریپ کیا تھا شرم آنی چاہیے تم دونوں کا عمریں دیکھو اپنی اور کام دیکھو تم جیسی سٹوڈنٹس کی وجہ ہمارے تعلیمی ادارے قابل ِ اعتماد نہیں رہے کئی لوگ اپنی بیٹیاں پڑھانے سے انکاری ہو جاتے ہیں کہ سکول کا کالج کا اکیڈمی کا ماحول اچھا نہیں کو ایجوکیشن کی امیج خراب کردی تم جیسے سٹوڈنٹس نے !! اسے کھری کھری سنا کر اوپر نعمان کے کمرے میں چلی گئی تھی ذی ذی نے نفرت سے جوجو کو دیکھا ” آج تیری وجہ سے سب ہمیں نفرت کی نظر سے دیکھ رہیں خالہ ماموں اور ممانی تو آج آئی ہیں انھوں نے بھی نفرت ہی دکھائی اور لائبہ بھی نفرت کرتی ہے مجھ سے!!”
“ اور میرا سوچ میں نے تو امبر کو کھو ہی دیا ہے !!!” وہ بے بس ہوگیا تھا ” سزا ہے تیری !!” وہ بھی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔
فریحہ جب کمرے میں آئی تو مارگریٹ منان کو چپ کروانے میں لگی تھی اسنے کھنچنے کے انداز سے منان کو اس سے لیا” میر ا بچہ میرا منان !! وہ اسکا منہ ہاتھ پیر گردن آنکھیں پاگلوں کی طرح چوم رہی تھی ” یا اللہ تیرا شکر ہے آپ نے مجھے میری اولاد دے دی !! اسکو اپنے سینے سے لگائے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی ” اسے اتنا تیز بخار کیوں ہے ؟”
“ میم اسے ٹائیفائیڈ ہے میڈیسن سب دے چکے ہیں مگر یہ ٹھیک نہیں ہورہا اسلیے سر آپکو لیکر آئیں ہیں آج !! اسنے اسے بیڈ پر بیٹھایا اسکی میڈیسن چیک کی ” ٹھیک ہے ٹھنڈا پانی لاو اور اس میں آئس کیوبز مت ڈالنا !! مارگریٹ اثبات میں سر ہلا کر چلی گئی تھی نعمان کمرے میں آیا تو فریحہ منان کو چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی ” ائم سوری مما کی جان میں لیٹ ہوگئی آپکے پاپا ہی ملنے نہیں دیتے تھے بٹ ڈونٹ وری آپکی مما آگئی ہے نہ ابھی دو منٹ میں بخار چلا جائے گا !!! اور وہ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے فریحہ کی ناک میں سے نوز پِن نکالنے کی کوشش کررہا تھا ” آپکو چاہیے پر لڑکے تو پہنتے ہی نہیں !!! “منان کے رونے میں تھوڑی کمی آگئی تھی شاید اسنے فریحہ کو دوست بنا لیا تھا جو اسے چومے جارہی تھی کبھی گالوں پر کبھی ہونٹوں پر کبھی ہاتھ تو کبھی پیر انھیں ایسے دیکھ کر نعمان کو کچھ سکون محسوس ہوا تھا اسلیے مسکرا دیا مگر مرزا کا خیال آتے ہی دل کڑوا ہوگیا تھا اسنے فون نکلا ” ہاں نعمان بات کررہا ہوں لاہور کو برباد کردو چوری ڈکیتی بم دھماکے جو جی میں آئے کرو خوف پھیلا دو ہر جگہ مجھے لاہور پولیس تنقید میں چاہیے !! یہ کہہ کر اسنے فون بند کردیا تھا ۔ اسکے بعد وہ لائبریری چلا گیا اسکی ڈریم ویلا کی میٹنگ تھی ۔رات کا کھانا بھی اسنے کام میں بزی کھایا تھا فارغ ہوکر جب وہ کمرے میں آیا تو سامنے کا منظر نہایت خوبصورت تھا فریحہ بیڈ پر لیٹی تھی اور منان اسکے سینے پر سو رہا تھا اسے ہنسی آئی تھی منان نے فریحہ کو اتنی جلدی دوست بنا لیا تھا وہ ان دونوں کے قریب آیا منان کو پیار سے گود میں اٹھایا اسکا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا اسنے فریحہ کو دیکھا ” میجک بخار اتر گیا !! اسے کوٹ میں ڈالنے کے بعد وہ فریحہ کی طرف مُڑا ایک نظر محبت سے اسے دیکھا اور اسکے ہونٹوں پر جُھک گیا فریحہ کی آنکھ کُھلتے ہی اسنے مزاحمت شروع کردی تھی نعمان مسکرا کر اس سے الگ ہوگیا ” مم۔۔منان کہاں ہے ! وہ اٹھنے لگی تو اسنے روک دیا ” یہی ہے تمہارا منان بھی اور تمہارا نعمان بھی !! فریحہ نے اسے اچانک دھکیل دیا تھا ” دور رہو مجھ سے گھٹیا انسان !!! نعمان حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔” میں تمہارے ساتھ آگئی ہوں تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں کردی نہ تم نے وہی حرکت کرلیا نہ میرا استعمال میرے بھائی کو نیچا دکھانے کے لیے میں یہاں صرف اپنے بچے کے لیے آئی ہوں ہزار بغیرت مرے ہونگے تو تم پیدا ہوئے ہوگے نعمان شیرازی شیطان ہو تم !!
نعمان کو آج فریحہ پر غصہ آرہا تھا شیطان مان لیا میں شیطان ہوں مگر اس سے محبت میں نے مومن جنتی پاکیزہ کی تھی اور یہ مجھے شیطان کہہ رہی ہے بغیرت کہہ رہی ہے اپنے شوہر کو اسنے ایک دم اسکے بال پکڑ کر چہرا قریب کرلیا ” نعمان شیرازی گلی میں گھومتا کوئی کتا نہیں ہے جسے تم پتھر مارو گی اور وہ بھاگ جائے گا کوئی فقیر نہیں جو تم سے محبت کی بھیک مانگ رہا ہے اور نہ ہی غریب بچے کے ہاتھ میں روٹی کا بچا ہوا ٹکڑا جسے تم ترس کی نگاہ سے دیکھو بچا کچا انسان بن کر تمہاری زندگی میں نہیں آیا تھا میں میں تمہارے ماتھے کا وہ ٹیکا ہوں جو تمہارا شنگار بنا تھا ورنہ اس رات افریقہ کے وہ حبشی تمہاری ہڈیاں تک نگل جاتے !! دھکیل کر بیڈ پر گرا دی ” اب اس گجثر کو جنت سمجھو یا قفس رہنا تمہیں یہی ہے اور اگر یہ چاہتی ہوں منان تمہارے پاس رہے تو آئیندہ ایسی بکواس مت کرنا !! شرٹ کے بٹن کھولتا الماری سے کپڑے نکال کر واش روم میں گھس گیا اور خود کو سنبھال کر اٹھی اور منان کو گود میں لیکر بیٹھ گئی ” ماما آپکے لیے کچھ بھی کریں گی بس آپ دور مت ہونا !!” نعمان واپس آیا تو وہ ابھی بھی رو رہی تھی اسے اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا مگر اسنے غلطی بھی تو کی تھی ” اچھا سوری !!!
“اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ” تم بہت بول رہی تھی فریحہ اگر مجھے تمہیں استعمال ہی کرنا ہوتا تو بہت پہلے کرکے مرزا کی ساری کاروائیاں روک دیتا میں تمہیں منان کے لیے لایا ہوں اسے اتنا بخار تھا مارگریٹ نے کہا رئیل مدر از رئیل میڈیسن اور دیکھو تمہارے آنے سے منان ٹھیک ہورہا ہے اسکا بخار اتر گیا پلیز ائم سوری مرزا کے ساتھ لڑائی باہر تک رکھتے ہیں نہ ہم اپنے درمیان کیوں لا رہے ہیں سوری نہ !!! وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اسے سے التجا کررہا تھا ” نعمان کیا شے ہیں آپ ایک پل میں اتنا روکھا کہ ہاتھ زخمی کردے اور دوسرے لمحے اتنا نرم کہ محبت کرنے پر مجبور کردو !!اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” آئی لو یو ! ” اس بات پر وہ مسکرا دی تھی ” میں مرزا کو صرف تنگ کروں گا مارو گا نہیں !!
“ لیکن کیوں ؟؟” ۔۔۔کیونکہ میں چور ہوں اور وہ پولیس اب گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا اسلیے باہر کا کام باہر کرتے ہیں پرسنل نہیں ہوتے مجھے اچھا نہیں لگتا مجھے پتہ ہوتا ارمان دانیال کے گھر پر اٹیک کر رہا ہے تو میں اسے سمجھا لیتا مگر انھوں نے مار دیا اسے اسکی سزا ملے گی انھیں !!! اسنے پُرسوچ لہجے سے کہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا آج گھر پر اکیلا تھا اسلیے اپنے لیے کھانا وہ خود بنا رہا تھا فریحہ نے جو اسے نعمان اور اپنے بارے میں بتایا تھا اس سے اسے ایک حوصلہ تھا چلو وہ بغیرت اسکے معاملے میں تو غیرت مند ہے ورنہ اسے نقصان پہنچاتا گیس کا چولہا دیکھ کر اچانک ہیر کی یاد آگئی ” او نو ایک ہفتہ ہوگیا میں نے ہیر سے بات بھی نہیں کی !! اسنے فون نکالا چاچی کا نمبر ڈھونڈا اور فون ملا دیا ” اسلام علیکم چاچی مرزا بات کررہا ہوں !” چاچی کے چہرے پر ناگواری آگئی تھی ” ہاں بولو !
“ ہیر سے بات کروائیں !! اسنے بھی روکھے لہجے میں کہا چاچی نے کچن میں شو کیس سیٹ کرتی ہیر کو دیکھا ” وہ سو گئی ہے اور اس سے بات کرنی تھی تو اسے ایک فون لے دیتے !! ٹھک سے فون بند کردیا ” بد تمیز آپ کو بھی سیدھا کرنا پڑے گا فون ہیر کے لیے لیکن کونسا سمارٹ فون یا بٹنز والا آئے گی تو خودی پوچھ لوں گا !”
“ مجھ سے کیا پوچھنا ہے بابو ؟؟ اسنے حیرت سے بائیں جانب دیکھا جہاں وہ سادہ سے کھلے بال لیے اسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی ” تم !!! ” اسے حیرت ہوئی تھی ” آپکو اتنی یاد آرہی ہوں کہ ہر جگہ میں ہی نظر آرہی ہوں !!وہ ایکدم غائب ہوگئی تھی ” ہیں یہ کیا ہورہا ہے !!
“ محبت !! اسنے پھر اسکے کان میں سرگوشی کی تھی جس پر وہ حیرانی سے ادھر دیکھنے لگا مگر وہاں کوئی نہیں تھا ” کیا سچ میں !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانیال جب سے آیا تھا کام میں ہی لگا تھا حالات بہتر ہوتے جارہے تھے کیونکہ امبر کی جگہ فری نے سنبھال لی تھی اور سائے کی طرح لائبہ کے ساتھ رہتی تھی اب بھی وہ اسے سلا کر آئی تھی اور دانیال کو دیکھ کر اسکا منہ اتر گیا تھا اسے جینا سکھانے والا کیسے آپ سیٹ ہوگیا تھا اسکی ہمت دیکھ کر یونی میں کئی لڑکیاں اسکی دوست بن گئی تھی انفکیٹ وہ سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے لگی تھی مگر ایک جو چیز فری میں شامل ہوگئی تھی وہ تھا پردہ جو اسنے منہ چھپانے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے لیے شروع کیا تھا ” کوپ !! اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ” ہمم !!
“ آپکے ناک لگا ہوا ہے چہرے پر !! دانیال نے حیرت سے چہرے پر ہاتھ پھیرا ” نہیں لگا !!
“ لگا ہے اتنا سارا !! وہ قدم قدم چلتی اسکے پاس آئی ” نہیں لگا !! اسنے فون میں اپنا چہرا دیکھا جب فری نے اسکی ناک پکڑ لی ” یہ دیکھیں اتنا بڑا لگا تو ہوا !!اسنے زور سے کھینچا تو اسے تکلیف ہوئی تھی ” فری چھوڑ دو !! مگر وہ کھینچے جارہی تھی آخر جب دانیال نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرلیا تھا وہ حیران رہ گئی ناک بھی چھوڑ دیا ” کمال ہے تم نے ناک پکڑا تو میں کیا تمہیں نہیں پکڑ سکتا ۔” وہ اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کررہی تھی ” چھوڑ دیں نہ !! اسنے شرم سے نظر جھکا کر کہا تھا دانیال کو اس پر رحم آگیا تھا اسلیے چھوڑ دیا فائل اٹھائی اور جانے لگا جب فری نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تو وہ اس کے اوپر ہی گر گیا تھا وہ دونوں بیڈ پر اوپر نیچے کی پوزیشن میں گرے تھے ” آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔لو ۔۔۔۔۔۔یو ۔۔۔۔دا۔۔۔۔۔دانیال !! اسکے چہرے پر انگلی پھیرتی آج فری نے دانیال سے پہلے اظہار کردیا تھا جس پر وہ اسکا چہرا دیکھتا رہ گیا تھا ” سچ میں اب مسلط نہیں ہوں تم پر ؟؟” اسنے جیسے تصدیق کرنی چاہی جس پر فری نے نفی میں سر ہلا دیا ” آئی لو یو ٹو !”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہتاب کے سو جانے کے بعد وہ بھی بیڈ پر اسکی جانب کروٹ لے کر لیٹ گئی تھی ” آپ جانتے ہیں آپ نے اپنی زندگی کا سب غلط فیصلہ یہ کیا ہے کہ مجھ سے نکاح کیا ہے !! وہ تھوڑی سے اسکے قریب ہوئی ” آپ جانتے ہیں بچپن سے زیادہ خوبصورت ہوگئے ہیں آپ کہ اپنا آپ شرمندہ لگتا ہے مجھے میں اپکے قابل نہیں ہو ! اسنے محبت سے اسکے ماتھے پر آئے بال پیچھے کیے جب مہتاب نے آنکھیں کھول کر مسکرا کر اسے دیکھا ” اچھا تو چوری چوری خود محبت کرلیتی ہو اور مجھے کرنے نہیں دیتی !! ” وہ اٹھنے لگی تو اسنے روک لیا اور اس پر جھک گیا ” پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگیا ہوں دل نہیں کرتا پیار کروں تم سے !! پر اسکا ردِ عمل نہایت سنجیدہ تھا اسنے نفی میں سر ہلا دیا ” میں کسی کے پیار کے قابل نہیں ہوں !”
“ ہو تم ہی تو ہو مہتاب کے عشق کی حقدار تم ہی ہو اور کون ہوسکتا ہے کتنا پیار کرتا ہوں تم سے تم سمجھتی ہی نہیں ہو !! وہ اسکی گردن پر جھکتا جارہا تھا جب اسکی گھُٹی گھُٹی آواز آئی ” وہاں مت چھوئیں وہاں سگریٹ کے جلنے کے نشان ہیں کہاں کہاں سے روکو گی اس محبت کے لیے جگہ نہیں ہے !!! اسے دھکیل کر اٹھ گئی تھی اور پیچھے وہ گرجانے کی طرح تکیے پر سر گرا گیا آنکھیں بند کی تو ایک آنسو آنکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہوگیا ۔ “ تڑپتے رہو جہنم کی آگ میں فائق شیرازی !!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا تھانے آیا تو تمام لوگ پریشان حال بیٹھے تھے ” کیا ہوا ؟”نیوز دیکھی ؟ ” دانیال کے سوال پر اسنے نفی میں سر ہلا دیا ” کل اور پرسوں ان دو دونوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور آج صبح ایک سکول کی سامنے والے مال۔میں دھماکا ایمرجنسی میں سکول بند ہوگیا ہے دو دن میں چھے بچے اغوا ہوگئے !!”
“ کیا !!! اسنے ٹی وی ان کیا تو سامنے ایک اور بڑی خبر منتظر تھی ” بریکنگ نیوز بتارہے ہیں ہم آپکو صبح مال کے بعد اگلا دھمکا اور فلیٹ میں ہوا ہے آگ کی زد میں اس عمارت کے دو فلورز اچکے ہیں دو دن سے لاہور کے حالات پر لوگ اظہارِ برہمی کر رہے ہیں عوام کا کہنا ہے کہاں ہے پولیس کیا کررہی ہے پولیس کیا پولیس کو صرف انکاونٹر کرنے آتے ہیں حالات کو قابو میں نہیں کیا لاہور کی پولیس چھنکنا بجانے کے لیے بیٹھی !!” وہ تمام پریشان تھے اور چور مجرم سلاخوں کے پیچھے دانت نکال رہے تھے ” چھنکنا بجانے کے لیے !!
“ یہ سب نعمان شیرازی نے کیا ہے !! دانیال اپنی چئیر پر بیٹھ گیا تھا مرزا بھی اپنی ڈیسک سنبھال چکا تھا ” it’s time to take action!!
No it’s time to take double action!!
مہتاب کی بات پر ان دونوں نے اسے دیکھا جو فون پر بات کررہا تھا ” یس منال !!
“ سب تیار ہے دو گھنٹے میں کال کرتی ہوں !!” یہ کہہ کر اسنے فون بند کردیا تھا اسکے سامنے ایک مردہ پڑا تھا اور ہاتھوں میں ایک خنجر جس پر خون لگا تھا اسنے گہرا سانس لیا اور علیم کو فون کردیا ” ہہ۔۔ہیلو علیم ۔۔۔۔مم۔۔۔۔مجھ سے غلطی ہوگئی ہے ۔۔۔پپ۔۔۔پر وہ بدتمیزی کررہا تھا مم۔۔۔مجھ سے قتل ہوگیا ہے پلیز میری مدد کرو میں لائیو لوکیشن بھیج رہی ہوں پلیز وہاں آجاو!!
“ تت۔۔۔تم پریشان نہ ہو میں ابھی آتا ہوں !! لیپ ٹاپ آف کرتا وہ باہر کی جانب بھاگا تھوڑی دیر بعد ہی وہ اس جگہ پہنچ چکا تھا جہاں سامنے وہ سر گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی اور خنجر ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا ” منال !! اسنے اسکے اچہرا ہاتھوں میں تھاما جو پسینے سے بھیگا ہوا تھا ” عع۔۔۔۔علیم پلیز میری مدد کرو یہ میرے ساتھ بدتمیزی کررہا تھا چوری کررنے کی کوشش کررہا تھا میں نے اس سے خنجر چھین لیا پھر آگے بڑھ رہا تھا میں ڈر گئی ممم۔۔۔میں نے اسے مار دیا ! علیم نے اسے اپنے گلے سے لگایا ” ریلیکس کچھ نہیں ہوگا یہ ۔۔۔یہ۔مجھے دو ابھی ہم نے باڈی چھپا دینی ہے !! خنجر ہاتھوں میں پکڑے وہ لاش کی جانب آیا وہ ابھی اسے کھینچنے ہی لگا تھا جب پولیس آگئی مرزا دانیال مہتاب تینوں آئے تھے ” یہ کیا ہورہا ہے !!
“ منال نے چند لمحے ان سب کو دیکھا پھر بھاگ کر ان میں شامل ہوگئی” مم۔۔مجھے بچاؤ مرزا یہ قاتل ہے ! علیم نے حیرت سے اسے دیکھا وہ تینوں چور نظروں سے اسے دیکھ کر مسکرا دیے تھے ” کیا ہوا ہے یہاں ؟ مرزا نے سنجیدہ چہرے سے منال سے پوچھا ” مم۔۔۔مرزا یہ پاگل ہے لڑکا کچھ دونوں سے میرے پیچھے پڑا ہوا ہے اور آج میں اس شخص سے صرف بات کررہی تھی اور اسنے اسے مار دیا اس قدر پاگل ہے !! ” علیم اپنے قدموں پر ہی لڑکھڑا گیا تھا اسنے مہتاب کی جانب دیکھا جو پر سکون تھا ” یو انڈر اریسٹ ! انسپیکٹر دانیال اریسٹ کریں انھیں !!
“ یس سر !! اسنے آگے بڑھ کر علیم کے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنائی اسنے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ چپ چاپ چل دیا تھا کیونکہ اسے مہتاب اور منال دونوں کا کھیل سمجھ آگیا تھا جاتے جاتے وہ اچانک مُڑا ” اگر جنگ محبت سے ہوتی نہ تو مجھے پورا یقین ہے سکندر اعظم بھی ہار جاتا !!” اس سے رُخ موڑ کر موت کو قبول کرنے چلا گیا تھا ۔ اسکے جانے کے بعد وہ مہتاب کے پاس آئی ” پلیز مہتاب جب وہ نعمان شیرازی کے خلاف ثبوت دے دے گا منہ کھول دے گا سرکاری گواہ بن جائے گا تو پلیز اسے چھوڑ دینا اسکی بہن بہت چھوٹی ہے اسکو بہت ضرورت ہے اسکی !!
“ ہمم پہلے منہ تو کھولنے دو !!
“ میں کتنی بار کہہ چکا ہوں میں نے وہ قتل نہیں کیا میں نہیں جانتا کہ وہ لڑکی جھوٹ کیوں بول رہی ہے ! وہ ٹارچر روم میں شرٹ لیس بیٹھا تھا دانیال اور مہتاب اسے ٹارچر کررہے تھے بلیٹوں سے وہ اسے مار چکے تھے مگر وہ پتھر جسم ٹس سے مس نہیں ہورہا تھا ۔ مرزا باہر میڈیا سے بات کررہا تھا ” دیکھیں ہم لوگ جانتے ہیں لاہور کے حالات جو ہیں وہ دن بدن خراب ہورہے اور ہمیں ڈیوٹی کے بارے میں اچھے سے پتہ ہے اور یہ لوگ بھی آپ جانتے ہیں ان سب کے پیچھے کون ہے تو ہم آپ کو بتاتے ہیں ان سب میں صرف ہمارا کام نہیں ہے کچھ آپ لوگوں کی بھی زمہ داریاں ہیں اور وہ ہیں چوکنا رہیں اپنے اس پاس ہونے والی عجیب وغریب کاروئیوں کا دھیان رکھیں پولیس کو اطلاع کریں ان سے تعاون کریں شکریہ !! میڈیا سے فارغ ہوکر وہ اندر آیا جہاں علیم کو دوبارہ ٹارچر کیا جارہا تھا ” کھولتا ہے منہ کے نہیں؟” جس پر ان دونوں نے نفی میں سر ہلا دیا مرزا اسکے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا ” دیکھو ہم جانتے ہیں کہ تم نے وہ قتل نہیں کیا منال جھوٹ بول رہی ہے انفکیٹ منال بول ہی نہیں رہی ہم بول رہے ہیں تو اصل بات پر آتے ہیں تم نعمان شیرازی کے پرسنل اسسٹنٹ ہو یعنی اسکا سایہ تو تم ہمیں نعمان شیرازی کی کالی کرتوتوں کا کچا چٹھا دے دو سرکاری گواہ بن جاؤ میں تمہیں وعدہ دیتا ہوں ہم تمہیں آزادی کے ساتھ منال بھی دے دیں گے !!”علیم نے چند لمحے اسے دیکھا ” لعنت ہے ایس پی مرزا تمہار ے سودے پر تمہیں لگتا ہے اس فانی زندگی اور ایک دھوکے باز لڑکی کے لیے میں اپنے مالک سے غداری کروں گا ہاہا!!
“ مارو اسے منہ کھولتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ دفعہ 302 کے تحت پھانسی تیاری کرو اور جس دن اسے پھانسی ہو اسکی بہن کو اٹھاو اور وہی سلوک کرو جو یہ دوسروں کی بیٹیوں کا کرتے ہیں ۔!”
“ خبردار جو میری بہن کو ہاتھ بھی لگایا میں مار ڈالو گا سب کو ۔۔۔۔” اسے چیختا چھوڑ کر وہ تینوں باہر نکل آئے تھے جب مہتاب نے گھور کر مرزا کو دیکھا ” تو نے اس کی بہن کے بارے میں ایسا کیوں بولا ہم انکی طرح جانور ہیں ؟”
“ یار ڈرانے کے لیے بولا ہے اس بچی کو کیوں کچھ کرے گے ہم ہمیں بس نعمان شیرازی کی سزا چاہیے اسے بھی چھوڑ دیں گے اگر یہ کچھ غلط نہ کرے !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ کمشنر صاحب کچھ کریں علیم کو باہر ابھی کے ابھی !!
“ دیکھو نعمان اس بار مجبور ہوں علیم پر قتل کا الزام ہے انکے پاس ہتھیارہے گواہ ہے !!”
“ آپ کے انڈد کام کرتے ہیں وہ آفیسرز آپ ان کو آرڈر دیں انھوں نے کھیل کھیلا ہے !!”
“ دیکھو نعمان اگر انھوں نے کھیل بھی کھیلا ہے تو قانون کے مطابق کھیلا ہے میں کچھ نہیں کر سکتا علیم کو نہیں بچایا جاسکتا !! انھوں نے فون بند کردیا تھا نعمان نے غصے سے فون دیوار میں دے مارا ” you have to pay for this SP Mirza Ayub !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
