Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 14
وہ واش روم کے باہر ٹہل رہی تھی جب دانیال کمرے میں آیا اسنے کیپ اور اسٹیک ٹیبل پر رکھی بلیک یونیفارم میں کافی ہینڈسم ہونے کے ساتھ وہ کافی تھکا ہوا بھی لگ رہا تھا آج وہ چوروں سے سر کھپا کر آیا تھا دماغ آلریڈی بہت بیزار تھا اور فری کو دیکھ دیکھ لگ رہا تھا کہ کچھ تو پنگا ہوا ہے وہ انگلیاں مروڑتی کبھی واش روم کو دیکھ رہی کبھی ڈر رہی تھی ” کیا ہوا فرحین ؟” اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور فوراً اسکے پاس آگئ ” وو۔۔واش روم۔۔۔آئیں میرے ساتھ ! اسنے۔ بے ساختہ اسکا ہاتھ پکڑا اور آگے بڑھ گئی وہ اسے واش روم میں لے آئی تھی جہاں باتھ ٹب سے پانی بھر بھر کی نیچے گر رہاتھا “۔ فرحین یہ !!! اسنے آگے بڑھ کر ٹیپ بند کردیا ۔” وو۔۔مجھے نہانا تھا مگر۔۔۔۔وہ !! اسنے۔ باتھ ٹب سے اوپر روشن دان کی طرف اشارہ کیا جہاں چھپکلی روشن دان کی ونڈو میں پھنس گئی تھی دانیال نے حیرت سے اسے دیکھا “چھپکلی اسے بھگا دیں پلیز!!! وہ کہتی پیچھے کھسکتی جارہی تھی دانیال کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی سارے دن کی فرسٹریشن جیسے اسکا معصوم چہرا اور لہجہ دیکھ کر ختم ہوگئی ” اس دیکھو تو سہی وہ کتنی کیوٹ ہے اسکا نام لیانا ہے۔ یہ میری دوست ہے ادھر آؤ !! اسنے موقع کے فائدا اٹھاتے اسے اپنے قریب کھڑا کرلیا جو وہ ہونا نہیں چاہتی تھی ” ہیے لیانا سوری یار میں نے تمہیں بتایا نہیں یہ فرحین ہے میری وائف ہاں شادی کرلی سے ہائے !! یہ کہتے۔ اسنے زبردستی فرحین کا ہاتھ کھینچ کر شیشے پر مارا تو چھپکلی میں حرکت پیدا ہوئے جس سے وہ چیختی پیچھے ہو گئی خود کو دانیال میں چھپا لیا تھا ” کوپ بھگائیں اسے !!! دانیال کی ہنسی کنٹرول نہیں ہورہی تھی ” ارے کچھ نہیں کہتی فرحین دیکھو تو کتنی کیوٹ ہے وہ تو تم سے ملنے بیٹھی ہے وہاں کہ یہ کون آگئی اب اسے تو فکر ہوگی نہ جب میرے روم میں کسی اور لڑکی کو دیکھے گی تو تم سے ملنے آئی ہے تمہیں پتا ہے میں اس سے کتنی باتیں کرتا ہو اور ۔۔۔۔
“میں کرلوں گی باتیں اسے بھگائیں !! اسنے بے ساختہ کہا تو دانیال کو خوشی بھی ہوئی تھی اسنے آہستہ سے روشندان کھولا چھپکلی کو تو جیسے آزادی مل گئی وہ فوراً وہاں سے غائب ہوگئی وہ اب بھی دانیال سے چپکی کھڑی تھی ” فرحین وہ چلی گئی !!! اسنے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے کہا تو وہ ایکدم اس سے دور ہوگی وہ اسے پیچھے جارہی تھی دانیال بھی اسے دو قدم پیچھے ہوا فرش گیلا تھا اسکا پیر پھسلا اور وہ باتھ ٹب کے اندر فری اسے پکڑنا چاہتی تھی مگر وہ بھی اسکے اوپر ہی گر گئی تھی وہ دونوں باتھ ٹب میں بھیگ چکے تھے فری اسکے سینے پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ہو نہیں پارہا تھا اور وہ جیسے یہ وقت صرف اسکے ساتھ ہی گزارنا چاہتا تھا وہ ٹکر ٹکر اسے دیکھے جارہا تھا ” فرحین !!! لہجہ اتنا خمار آلودہ تھاکہ وہ اسے دیکھے بنا نہ رہ سکی اسنے بے ساختہ ہاتھ اسکے گال پر رکھا وہ اسکے چہرے پر جھکتا جارہا تھا لمحے کے فسو میں وہ غلطی کرنے جارہا تھا بہت قریب جاکر اسے ہوش آیا وہ ایکدم اس سے دور ہوگیا اسے اٹھنےمیں مدد کی خود باہر آکر اس سے بنا نظریں ملائے جانے لگا جب وہ بولی “ اسے تو احساس نہیں ہوا تھا اسنے تو زبردستی کِس کرلیا تھا انفکیٹ وہ تو جیسے انھیں کھا۔۔۔۔۔۔۔۔””
“ شٹ اپ جسٹ شٹ اپ !!!! دھاڑتا ایک گھوری سے نوازتا باہر نکل گیا ” ہاہاہاہاہاہا اٗفف یہ ہمدردی کی لبادے میں بھیڑیے جیسے لوگ!! یہ الفاظ بھی دانیال نے باخوبی سنے تھے۔ اسکا دل دُکھ گیا تھا ۔
رات کا ناجانے کونسا پہر تھا جب وہ کام سے فارغ ہوکر کمرے میں آیا تو وہ آج پھر فرش پر لیٹی تھی دانیال نے گہرا سانس لیکر خود کو نارمل رکھا وہ آہستہ آہستہ چلتا اسکے قریب آیا تو وہ چت لیٹی پنکھے کو دیکھ رہی تھی ” فرحین !!
مجھے اذیتوں کی عادت ہے۔۔۔۔
یہ مشکلیں مجھے مات نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔۔۔
محبتوں کے شہر میں پاکیزوں کی ہمنوائی ۔۔۔۔
مجھے بے داغ ذات نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو کھڑے ہوں با مثلِ چٹانِ راہ۔۔۔۔۔۔۔۔
کاٹ دیتی ہے آری درختوں کو خم نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔
مجھے نوچا گیا ہے ناخنوں کے ہتھیار سے۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ تلواریں مجھے زخم نہیں دے سکتی!!
چھت کو گھورتی وہ اپنی اثنا میں بولتی جارہی تھی جسکا ایک ایک لفظ دانیال کو ازیت دے رہا تھا۔ وہ اُٹھ کر جانے لگا جب وہ پھر مخاطب ہوئی ” مجھے سے گھن آتی ہے نہ آنی بھی چاہیے جو چیز مسلط کردی جائے اس سے نفرت ہی ہوتی ہے اور اگر وہ چیز پہلے استمعال شدہ ہو تو اس گھن بھی آتی ہے پر تمہیں شرم نہیں آتی کہ میں اس حالت میں تمہاری وجہ سے ہوں ! وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ” کیوں نہیں آتی آنی تو چاہیے شاید اسلیے دور دور رہتے ہو !! کھڑی ہوتی بال سمیٹتی وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی ” میں آپ سے دور کسی اور وجہ سے رہتا ہوں اور جہاں تک رہی بات گھن آنے کی تو وہ مجھے آپ سے نہیں خود سے آتی ہے ۔” جواب دے کر وہ جارہا تھا جب وہ بولی ” کوپ !! اسنے پلٹ کر اسے دیکھا ” آئی ہیٹ یو!!بنا کوئی جواب دیے وہ پھر جانے لگا تھا ” جانتے ہیں مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے جب آپ میرے اتنے قریب آکر دور چلیں جاتے ہیں مجھے اپنا آپ گندا لگنے لگتا دادی کی باتیں یاد آتی ہیں کہ کوئی مجھے نہیں اپنائے گا کیونکہ میری وجود پر کسی اور کے نشانات ہیں آپکے دور رہنے کی جو بھی وجہ ہو مگر میری نظر میں وجہ یہی ہوگی کہ آپکو مجھ سے نفرت ہوتی ہے !!! اسنے پھر پلٹ کر دیکھا تو بلینکٹ منہ تک اوڑھے لیٹی گئی تھی دانیال نے ہاتھ منہ پر پھیرا ” یا اللہ کیا کروں میں قریب جاؤ تو بھی مسئلہ نہ جاؤ تو بھی مسئلہ !! کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد وہ قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا بلینکٹ ہٹایا تو آنسوں سے تر چہرا لیے اسے دیکھ رہی تھی جب وہ اسکے ماتھے پر جھکا وہاں اپنے لب رکھے کچھ دیر وہیں رہنے دیے ہاتھ کی پشت سے اسکا گال سہلایا ” گُڈ نائٹ!!” خود باہر صوفے پر جاکر دراز ہوگیا تھا اور کچھ دیر اس لمس کو محسوس کرتی رہی تھی کہ ارمان اور دانیال کے لمس میں کیا فرق تھا ایک حوس وحشت تھی تو دوسرے میں محبت عزت احترام !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا صبح سے ہی کسی ضروری فائل پر کام کررہا تھا اسنے پورے بیڈ پر کاغذ بکھیر رکھے تھے اور خود وہ کپمیوٹر پر کچھ نوٹ کررہا تھا ” وہ آپسے باہر کوئی مہتاب ملنے آیا ہے !!! اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” مہتاب یہاں کیوں آیا ہے ؟” وہ اٹھ کر باہر چلا گیا مہتاب کو چائے دینے کے بعد وہ واپس کمرے میں آگئ تھی جہاں بیڈ پر پورا گند بکھرا ہوا تھا سامنے کی بیڈ پر مرزا کا سمارٹ فون پڑا تھا وہ اسے ہمیشہ سے چلانا چاہتی تھی مگر کبھی موقع ہی نہیں ملا تھا دائم اور فری کا وہ چھوتی نہیں تھی اسنے اختیاط سے اسے اٹھایا انگلیاں چلائیں تو کیمرا آن ہوگیا ۔ کلک کی آواز آئی تو وہ ڈر گئی یہ کیا ہوا پھر آخر اسنے مزید انگلیاں چلائی تو اسے سمجھ أگیا تو بے ساختہ ہنس دی ” ہاہا یہ تو تصویر بن گئی!! اسنے دوبارہ وہی انگلی لگائی وہ بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی کہ اسے ٹچ موبائل سے تصویر کھینچنی آگئی وہ بیڈ پر پڑے کاغذات کو سہی طریقے سے تصویریں بنا کر دیکھ رہی تھی ” تمہاری بھی کھینچو !! تمہاری بھی !! وہ کاغذوں کی تصویریں ایسے کھینچ رہی تھی جیسے بچے کو کھیلنے کے لیے نیا کھلونا مل گیا ہو !
” چل ٹھیک ہے فائل لے کر جلدی آ کمشنر سر آنے والے ہیں !! اسے وارن کرکے مہتاب چلا گیا تھا وہ واپس کمرے میں آیا تو وہ فون ہاتھ میں پکڑے تصویریں بنا رہی تھی ” اے لڑکی !! اسکی اچانک آواز سے وہ ڈر گئی موبائل ہاتھ سے گر گیا جو اسنے ایکدم کیچ کیا ” پاگل ہوگئی ہو کتنی بار کہا ہےکہ مجھ سے اور میری چیزوں سے دور رہا کرو !! اسنے چیخ کر کہا تھا وہ سر سے پیر تک کانپ گئی وہ آگے بڑھا تو بدک کر پیچھے ہوگئی سائیٹ ٹیبل کی نوکڑ اسکی کمر میں چبھ گئی تھی وہ بیڈ پر جھکا کاغذ سمیٹ رہا تھا اور وہ سائیٹ ٹیبل سے چپکی کھڑی تھی اسکی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ اسے سائیڈ ہونے کا کہہ سکے ” کیا کھانا ہے مجھے نکلو یہاں سے !!فائل کمپوز کرکے رکھتا واش روم گھس گیا اور وہ سُکھ کا سانس لیتی باہر چلی گئی تیار ہوکر باہر آیا گھڑی پر ٹائم دیکھا فائل۔ ساتھ والی سیٹ پر رکھی اور گاڑی چلا دی جیپ سڑک پر فراٹے بھر رہی تھی کہ اچانک گاڑی کے سامنے بلی بچے لیکر گزر رہی تھی اسنے انھیں بچانے کے چکر میں گاڑی اتنی زور سے موڑی کہ فائل ہوا میں اڑتی سڑک کے گڑھوں پر موجود پانی میں گر کر تباہ ہوگئی ” او شِٹ !!! اسنے فورا نکل کر فائل دیکھی جو مکمل نہا چکی تھی یہ نعمان شیرازی کے انڈر گراؤنڈ کلب کی فارنزک رپورٹس تھیں جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ نائٹ کلب کی آڑ میں منشیات کی فروشی اور الیگل اشیاء استمعال کرتا تھا اتنی مشکل سے وہ سب اکٹھا کیا تھا اور آج کمشنر صاحب وہ فائل دیکھنا چاہتے تھے تبھی اسکے خلاف کورٹ میں کیس فائل ہوتا ۔ وہ ماتھے پر ہاتھ رکھے فائل کے گیلے پنوں کو دیکھ رہا تھا ۔
“ مرزا تم اتنے لاپرواہ کیسے ہو سکتے ہیں تم نے اتنی امپورٹنٹ فائل اتنی کئیر لیس طریقے سے کیری کی ہے تم نے !!! ” گیلی فائل کر دیکھ کر کمشنر صاحب اس پر برس پڑے تھے اور وہ سر جھکائے سامنے کھڑا تھا مہتاب اور دانیال بھی باہر سے دیکھ رہے تھے ” سر کئیر لیس تو نہیں ہوا سر ائم سوری !!!”
“ اوکے اسکا ڈیٹا تو لیپ ٹاپ میں ہوگا ؟” جس پر اسنے۔ گہرا سانس لیا ” سر وہ مجھے ڈر تھا لیپ ٹاپ کوئی ہیک ہو جائے گا ہارڈ کاپی کے بعد میں نے سافٹ کاپی کلیر کردی تھی !”
” شیم آن یو ایس پی مرزا مجھے نہیں معلوم تھا تم اس قدر لاپرواہ ہو اپنی ایک سال کی محنت تم ایسے ضائع کرلو گے یہ سب تمہیں دوبارہ کرنا ہوگا آوٹ !!!”
“ یس سر !!! وہ سر جھکائے واپس آگیا تھا دانیال اور مہتاب اسکی جانب بڑھے مگر وہ نکلتا چلا گیا اسے اپنے آپ پر انتہا کا غصہ آرہا تھا رش ڈرائیونگ کرتا وہ آٹھ بجے گیا دس بجے ہی واپس آگیا ہیر اسے دیکھ کر حیران ہوگئی تھی ” بابو آپ اس وقت جلدی آگئے !! وہ صوفے پر بیٹھا نوچنے کے انداز سے جوتے اتار رہا تھا وہ پانی کا گلاس لیے اسکے سامنے کھڑی تھی جسے وہ دیکھ بھی نہیں رہا تھا وہ یونیفارم کے بٹن کھولنے کی کوشش کررہا تھا جو ہو نہیں پارہا تھا ” بابو کیا ہوا ۔۔۔۔ککک۔۔کچھ ہوا آپ ٹھیک ہو !” مگر وہ اسے مکمل اگنور کر رہا تھا ننگے پیر اوپر کی جانب چل دیا جب وہ ڈرتی ڈرتی سامنے آگئی ” بابو چائے پیے گے یا ۔۔۔
“ کیا تم اپنی بکواس بند نہیں کرسکتی جب نہیں سوالوں کو جواب دے رہا تو کیوں سر کھا رہی ہو جانا چاہتی ہو نہ کیا ہوا ہے تو سنو میرے بہت ضروری کاغذات سیلاب میں بہہ گئے کمشنر نے میری کُتے والی کرکے دفاع کردیا ہے اب بتاؤ کیا کروں کرسکتی ہو میری مشکل آسان نہیں تم کہاں کرسکتی ہو جو لڑکی بجلی والا چولہا نہیں چلا سکتی وہ ملک کو سدھارنے میں مدد کیسے کرے گی !!!!اسے دھکیلتا وہ اوپر چلا گیا اوندھے میں بیڈ پر ڈھے گیا کمشنر کے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے انھیں پریشانیوں میں اسے نیند کب آگئی پتہ ہی نہ چلا ۔وہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں آئی تو وہ اوندھے منہ سویا پڑا تھا اسنے آگے بڑھ کر دیکھا تو سائیڈ فیس پسینے سے بھرا پڑا تھا وہ دبے قدموں سے اسکے قریب بیٹھی اپنے دوپٹے سے نرمی سے اسکا چہرا صاف کیا ” میں جانتی ہو بابو میں ان پڑھ ہوں مجھے کوئی بات۔ سمجھ نہیں آئی مگر مجھے آپکی پریشانی سے پریشانی ہوتی ہے میں کوشش کرسکتی ہوں کہ آپکو میں کوئی تکلیف نہ دوں !وہ اسکے پیروں کی جانب ائی بہت محتاط طریقے سے اسکی جرابیں اتاری وہ چلی گئیں ۔دوپہر کے تین بج گئے جب وہ دوبارہ کمرے میں آئی کھانے کی ٹرے میز پر رکھی ” بابو ! بابو کھانا کھالیں ! اسنے دو تین بار اسے آوازیں دی مگر وہ نہیں اٹھی آخر اسنے ہمت جُتا کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا ” بابو !” بالوں میں کچھ محسوس ہوا تو وہ بے چین ہوگیا آنکھ کھولی تو وہ سامنے کھڑی تھی جو ایکدم پیچھے ہوگئی ” وو۔وہ۔۔۔۔کک۔۔۔کھانا کھالیں ! ٹرے کی طرف اشارہ کرتی وہ باہر چلی گئی ۔جمائی کو ہاتھ سے روکتا وہ واش روم چلا گیا چینج کیا اور باہر آگیا فون آن کیا تو اچانک نظر سٹوریج فُل کا نوٹیفکیشن دیکھا ” اسکی سٹوریج کیسے فُل ہوگئی اسنے گیلری اوپن کی تو اتنی ساری فضول تصویریں تھیں اسکے ماتھے پر بل آگئے پھر یاد آیا کہ ہیر نے فون پکڑا تھا ” یار یہ جاہل گنوار لڑکی پوری پینڈو ہے !وہ ساری تصویریں دیکھ رہا تھا کوئی لیمپ کی تھی کو بیڈ کراؤن کی کوئی الماری کی کوئی سٹڈی ٹیبل کی اور کوئی ۔۔۔۔کوئی کاغذات کی اسنے زوم کرکے پڑھا تو حیران رہ گیا وہ وہی کاغذات تھے جو خراب ہوگئے بہت خوبصورت طریقے سے انکی تصاویر بنائی گئی تھیں ” گریٹ !!! کھانا چھوڑ وہ لیپ ٹاپ لیکر بیٹھ گیا اسنے تمام ڈیٹا لیپ ٹاپ میں ٹرانسفر کیا اور دوبارہ فائنل بنانے لگا رات تک وہ اسی کام میں لگا رہا ہیر رات کا کھانا بھی دکھ کر جا چکی تھی مگر اسے ہوش کہاں تھا وہ تو بس کام میں لگا تھا رات۔ کے دس بج گئے تھے جب اچانک اسکا فون بجا اسنے بے دھیانی میں کان سے لگا لیا مہتاب اور دانیال کی گروپ کال تھی ” ہاں مرزا کیا حال ہے یار ہم نے تجھ سے بات۔ کرنے کی کوشش کی تھی مگر تو فائل کی وجہ اتنا پریشان تھا کوئی بات نہیں ہم بنا۔۔۔۔۔”
“ دانیال مہتاب فائل ریکور ہوگئی ہے !”اسکی آواز میں عجیب سی خوشی تھی ۔” سچی کیسے؟؟”
“ ہیر کی وجہ سے اسنے ڈاکومنٹس کی پکچر بنائی تھیں اس وجہ ریکور ہوگئی !”
“ واہ کیا بات یہ سونے پر سُہاگا ہوگیا پولیس والے کی بیوی اس سے زیادہ دماغ رکھتی ہے اچھا چل بتا کیا گفٹ دے رہا ہے بھابھی کو !” مہتاب کے سوال پر وہ ٹھٹھک گیا ” گفٹ !”
“ ہاں تیری عادت ہے نہ تو اسے ہمیشہ گفٹ دیتا جو تیری مدد کرتا ہے تو بھابھی کو بھی اچھا سے گفٹ دلا دے نوکری بچا لی تیری انھوں نے !” فون بند کرنے کے بعد وہ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا دے دینا بھی چاہیے یا نہیں مگر اتنی بڑی ہیلپ کی اسنے میری دینا چاہیے اور صبح بھی تو سارا غصہ اس پر نکالا تھا ۔” سلیپرز پہنتا وہ اسکے کمرے کی جانب چلا گیا اپنے ہی گھر میں دروازہ نوک کرنے کی اسکی عادت ہی نہیں تھی وہ سیدھا اندر کی جانب چلا گیا جہاں وہ شیشے میں کھڑی ماتھے پر انگلیاں پھیر رہی تھی اسکی اچانک آمد پر وہ ڈر گئی فورا دوپٹہ اٹھایا اور شرمندگی سے سر جھکا گئی ادھر مرزا کو سمجھ نہیں آرہی تھی بات کیسے شروع کرے وہ پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گیا ۔” آ۔۔۔وہ۔۔۔۔۔جو کاغذات خراب ہوئے تھے ۔۔وہ مل گئے ہیں واپس !!! اس بات پر حیرت نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ” سچی میں نے ابھی دعا کی تھی قبول ہوگئی اللہ جی میری ساری دعائیں قبول کرتے ہیں اب تو آپ پریشان نہیں ہو !” اسنے زبردستی مسکرا کر اسے دیکھا ” نہیں جو تم نے میرے فون میں فضول میرا مطلب تصویریں بنائی تھیں ان کاغذات کی بھی بن گئی تھیں تو تھینک یو میرا مطلب شکریہ تم نے میری مدد کی !” وہ ہاتھوں کو مسلتا ہچکچاتے بات کررہا تھا وہ خود حیران تھا کہ کیوں اٹک رہا ہے اور بس مسکرا کر اسے دیکھی جارہی تھی “ تو میری عادت ہے جو میری مدد کرتا میں اسے تحفہ دیتا ہوں !” اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” تحفہ !
“ ہاں تحفہ کچھ بھی جو اسے چاہیے جسکی ضرورت ہو جو اسے اچھا لگے یاد امل نے جب تمہیں تیار کرنے میں مدد کی تھی اسے بھی سکارف دیا تھا تمہیں بھی لادوں کپڑے جوتے زیور یا باہر کھانا یا پھر جو تم ۔۔۔۔
“ میں آپکے کمرے میں آکر سو جاؤں مجھے یہاں ڈر لگتا ہے اکیلے سونے کی عادت نہیں ہے نہ اور اکثر رات کو بجلی بھی چلی جاتی بارشیں بھی ہورہی ہیں !!!مرزا نے حیرت سے اسے دیکھا کیا مانگا تھا اسنے ” یہ کیا ہے !”
“آپ ہی نے کہا تھا۔۔۔جج۔۔۔۔جو چاہیے مجھے یہاں ڈر لگتا ہے میں وہاں نیچے سو جاؤں گی تنگ بھی نہیں کروں مجھے بس یہ تحفہ چاہیے !” وہ حیرت سے اسے دیکھتا پلٹ گیا ” ٹھیک ہے آجاو !” اسکے چہرے پر بچوں جیسی خوشی آگئی تھی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسکے پیچھے چل دی وہ کمرے میں جانے لگا تو وہ اس سے پہلے گھس گئی وہ خوش ہی اتنی تھی کہ جلدی میں اسکا پیر مُڑنے لگا گرنے لگی مگر بروقت ڈور ناب کو تھام لیا مرزا کو حیرت بھی ہورہی تھی اور اسکی جلدبازی پر ہنسی بھی آرہی تھی بنا دھیان دیے اسنے الماری سے بستر نکالا اور زمین پر بچھانے لگی مرزا نے حیرت سے آنکھیں کھولیں اسے دیکھا ” یہ کیا کر رہی ہو !”جس پر کچھ سہم گئی ” وو۔۔۔۔وہ بستر لگا رہی تھی !”
“ ہاں پر یہاں نہیں لگاؤ نیچے نہیں وہاں صوفے پر سو جاؤ !خود وہ بیڈ پر آلتی پالتی مارے لیپ ٹاپ پر جھک گیا تھا اسنے ایک نظر صوفے کو دیکھا جو اتنا چوڑا تو تھا کہ اس پر آرام سے سو سکتی تھی مگر وہ پہلے کبھی صوفے پر نہیں سوئی تھی پھر تو پکا گِرتی ” نن۔۔۔رہنے دیں میں نیچے ہی سو جاتی ہوں !!!
“ ایک بار بول دیا نیچے نہیں صوفے پر سو تو سمجھ کیوں نہیں آرہی بحث کیوں کر رہی ہو !! اسنے زرا سخت لہجے میں کہا تو وہ ڈر گئی اسکی کمفرٹر اٹھا کر صوفے کی جانب چل دی لیٹ کر کمفرٹر سیدھا کیا اور ایک نظر اسے دیکھ کر آنکھیں موندے گئی مرزا کام میں مصروف ہوگیا تھا مگر بھٹک بھٹک کر نظر ہیر کی جانب جارہی تھی جو آنکھیں موندیں گہری سانسیں لے رہی تھی ۔ اسنے اچانک ایک چیز نوٹس کی تھی وہ کروٹ بدلتا نیچے کھسکتی جارہی تھی ” ارے !!ارے !!! مگر دھڑام وہ صوفے سے نیچے پڑی تھی کمفرٹر اسکے پیروں میں الجھا تھا وہ ایکدم اسکے قریب آیا جو اپنا کندھا دبا رہی تھی ” تم ٹھیک ہو ! ” نظریں جھکائے ہی اسنے اثبات میں سر ہلا دیا وہ شرمندہ ہوگئی تھی مگر سب سے بڑی بات مرزا ہنسا نہیں تھا گھر میں جب وہ گرتی تو اسے اٹھانے کی بجائے فری اور چچی ہنسنے لگتی تھیں وہ تو فکر مندی سے اسے دیکھ رہا تھا ” تمہیں چوٹ تو نہیں لگی تم گر کیسے گئی ؟”
“وو۔۔۔۔وہ مجھے سونا نہیں آتا صص۔۔صوفے مم۔۔میں گرجاتی ہوں!” اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے وہ مسلسل اپنا کندھا دبا رہی تھی مرزا بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ” یہاں چوٹ لگی ہے دکھاؤ مجھے ! اسنے اسکے کندھے کی جانب ہاتھ بڑھایا تو وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہوگئی ” کک۔۔۔کچھ ۔۔۔نن۔۔نہیں ہوا۔۔۔مم۔۔۔۔ٹھیک ہوں!”
“ نہیں مجھے پتا ہے تمہیں لگی ہے مجھ سے کیوں چھپا رہی ہوں میں بام لگا دیتا ہوں دکھاؤ نشان تو نہیں ہے! ” اسنے دوبارہ کندھے کو چھونا چاہا تو خود کو گھسیٹتی پھر دور ہوگئی ” نہیں ۔۔۔ککک۔۔۔۔کوئی نشان نہیں ہے وہاں کک۔۔کچھ نہیں ہوا ! وہ اتنا عجیب بی ہیو کررہی تھی جو مرزا کو حیران کرگیا ” ہیر کیا ہوگیا میں کونسا ڈانٹ رہا ہوں آج دکھاؤ زیادہ نہ لگی ہو نہ ! اسکے قریب ہوتے اسکا ہاتھ اسکے گلے پر تھا جب وہ اسے دھکیل چکی ” کہہ دیا نہ کوئی نشان نہیں ہے !” غصے سے کمفرٹر اٹھایا نیچے بستر لگایا اور زبردستی آنکھیں بند کیے سو گئی اور وہ کنگ اسے دیکھتا رہ گیا ” بہت گرہیں ہیں تمہاری ذات میں کھولنی پڑیں گی !!”
جاری ہے
