Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
گرجتے بادل کڑکتی بجلی اور گھُپ اندھیرا ” امی میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں ! ” اسکے قدم اسکے کمرے کی جانب تھے فون کی ٹارچ آن کیے وہ کمرے میں داخل ہوا تو کمبل کے بیچ بھی وہ وجود کانپ رہا تھا بہت دھیمی آواز آرہی تھی ” اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو ! اسکے القابات پر اسے ترس آیا تھا ٹارچ کمرے رکھی اور اسکے کمرے کے دراز کھنگالنے کے بعد اسے ٹارچ تو نہیں موم بتی ضرور مل گئی تھی اسے جلائے وہ اسکی جانب دوبارہ بڑھ گیا ” اوئے لڑکی ! اسے پکارہ مگر وہ کانپتے جارہی تھی اسنے آگے بڑھ کر اسکے چہرے سے کمبل ہٹایا جس سے وہ اور ڈر گئی اسے بازو سے کھینچ کر اُٹھایا اور موم بتی اسکے چہرے کے سامنے کردی آگ کی لو سے اسکا چہرا چمک گیا تھا جو پسینے سے شرابور تھا اسکے ہونٹ تک کانپ رہے تھے ان دونوں کے چہروں کی درمیان موم بتی کا شعلہ بھڑک کررہا تھا اسکی آنکھیں ابھی تک بند تھیں وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو غور سے دیکھ رہا تھا صرف معصومیت ہی جھلک رہی تھی اوپرسے اسکی اللہ ہو کی گردان اسکی گردن پر بہتے پسینے کی بوندیں جو بیوٹی بون پر جا کر ٹِک جاتے نظریں پھر وہیں رّک گئی تھیں تیز سانسوں سے ان میں بھی حرکت ہوتی کبھی زیادہ اُبھر جاتیں تو جذب ہو جاتی اسکی جانب دیکھتے اسنے گہرا سانس لیکر کو اپنے آپ کو ہوش دلایا “ہہ۔۔۔ہیر !!! اپنے نام کو سن کر اسنے آنکھیں کھولیں تو مرزا کا چہرا دیکھ کر اسکی سانس بہال ہوگئی وہ اسکے روشن چہرے کو دیکھے جارہی تھی وقت تھم سا گیا تھا کہ اچانک بادل شور سے گرجا اور اسکا نازک وجود اسکے ساتھ چپک گیا اسکی پشت پر ہاتھ مضبوطی سے باندھے وہ اپنے آپ کو بچانے کی معصوم کوشش کررہی تھی ” ہی ۔۔۔ہمیں ڈر لگ رہا ہے ! وہ تو اس لمحے میں بلکل ہی شاک ہوگیا تھا باہر تیز بارش شروع ہوگئی تھی لمحے گزرے جارہے تھے ہوش تب آیا جب ہاتھوں پر موم پڑی آہ!!!! اسنے موم بتی نیچے پھینکی جو بُجھ گئی تھی کھینچ کر خود سے دور کیا کمرے میں موبائل کی ٹارچ اب بھی کچھ روشنی کئے ہوئے تھے اسکا ارادہ تو اسے موم بتی پکڑا کر جنریٹر جلانے کا تھا مگر اسکا ردِ عمل اسے کہیں اور ہی لے گیا تھا وہ ڈری ہوئی اسکی جانب دیکھ رہی تھی اسکا غصہ ساتویں آسمان کو پہنچ گیا تھا اسکا سیدھا ہاتھ اسکے بالوں پر گیا سختی سے بال دبوچے وہ اسکا چہرا اپنے قریب کرگیا تھا ۔” تم بھی عام لڑکیوں جیسی ہو اٹریکشن پانے کے گھٹیا طریقے ڈرنا سہمنا چپکنا یہ سب کرکے میرے قریب آنے کی کوشش کرہی تھی نہ تمہیں سمجھ نہیں آتا کیا نفرت کرتا ہوں میں تم سے …” اسکی سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہوری تھیں وہ ڈر سے آنکھیں بند کرگئی تھیں اسکی نظریں اسکے ماتھے پر پڑے ایک چوٹ کے نشان پر جہاں ٹانکے لگنے کے نشان تھے مگر اسے کیا فرق اسنے جھٹکے سے اسے چھوڑا وہ بستر پر گِر گئی تھی ۔ فون اُٹھاتا وہ کمرے سے باہر چلا گیا کمرا پھر اندھیرے میں ڈوب گیا تھا وہ بیڈ کی چادر پکڑے زار و قطار رونے لگی تھی ۔وہ واپس کمرے میں آیا انگلیاں لیپ ٹاپ پر پھر سے چلنے لگی تھیں جب اچانک رُکیں اسکی انگلیوں کے ساتھ اسکے بال لگے تھے کچھ دیر پہلے کا منظر آنکھوں میں گھوم گیا اسنے غصے سے مُکا لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر مارا ” ڈیم اِٹ !!” عجیب مصیبت میں پھنسا دیا ہے ۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨……✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح جب اسکی آنکھ کُھلی تو ساڑھے سات بج رہے تھے وہ جمائی لیتا اُٹھا یونیفارم نکالا اور فریش ہونے چلا گیا تیار ہوکر بال بناتے اسے ہیر کا خیال آیا تھا بال بنا کر نیچے آیا کچن خالی تھا اسے غصہ آیا تھا اسکا رُخ اب اسکے کمرے کی جانب تھا دروازہ کھولا تو وہ وہاں بھی نہیں تھی بستر سمیٹا پڑا تھا اسکا بیگ بھی وہاں نہیں تھا اسے کچھ حیرت ہوئی واش روم کے پاس گیا ناک کیا مگر جواب ندارد ایک انجانی خوشی نے اسے ان گھیرا تھا ٫
“ چلی گئی ہیر چلی گئی یس!!!! وہ خوشیاں مناتے دادی کا نمبر ملا رہا تھا مگر وہ اٹھا نہیں رہی تھیں ” موجاں ہی موجاں شام سویرے ہن موجاں ہی موجاں !! وہ گنگناتا کچن میں گیا چائے بنانے کے لیے ساس پین میں پانی ڈالا ہونٹ دانتوں تلے دبائے وہ خوش ہوگیا تھا ایک رات میں مصیبت سے جان چھوٹی جب ٹیبل پر چوڑیوں کی کھنک سُنائی دی اسنے اگنور کردی ” بابو !!! ” اسکی آواز پر اسنے پلٹ کر دیکھا اور شکر کا ڈبہ ہاتھوں سے گِر گیا وہ سامنے ہی وائٹ اور ریڈ کلر کے سادہ سلوار سوٹ میں سرخ شفون کا آنچل اسکے سر پر پِن تھا فرینچ ٹیل چھوٹی سی گھنگھرو والی پراندی میں قید تھی سلکی بالوں سے کچھ آوارا لٹیں چہرے پر گھوم رہی تھی پیروں کوہلا پوری چپل پہنے وہ بغیر سُرخی بِندی کے وہ مشرقی عورت کی مثال لگ رہی تھی ۔” بابو ناشتہ بن گیا ہے گرم ہے کھالیں ورنہ ٹھنڈا ہوجائے گا !!! اسکا منہ کھُلا رہا گیا تھا کیونکہ کچن کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ استمعال ہوا ہو اسنے ایک نظر الیکٹریکل چولہے کو دیکھا ” تمہیں یہ استمعال کرنا آتا ہے ؟”
“نن۔۔۔نہیں میں نے اسکو نہیں چھیڑا مجھے نہیں آتا !” اسنے انگلیاں مروڑتے جواب دیا ” تو ناشتہ کیسے بنایا ؟”
“ ویڑے او صحن میں ! اپنی آدھی پنجانی پر وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” صحن میں کیسے ؟
“ اینٹوں کا چولہا بنا کر لکڑی پر وہ میں آئی تھی یہاں پر مجھے یہ چلانا نہیں آیا میں نے چھیڑا بھی نہیں کک۔۔کہیں خراب نہ ہو جائے پھر میں صحن میں گئی وہاں اینٹیں اور لکڑیاں پڑی تھیں آپکو دیر ہوجاتی تو اسلیے میں نے وہاں بنا لیا !!! وہ اسکی عقل پر دنگ رہ گیا تھا اسکے نہایت قریب سے اسے گھورتے آگے بڑھ گیا جہاں ٹیبل پر پراٹھا انڈا اور چائے پڑی تھی چائے میں سے بھاپ نکل رہی تھی اسنے کپ کو ہاتھ لگایا جو کافی گرم تھا پراٹھا بھی کافی گرم تھا وہ چپ چاپ ناشتہ کرنے لگا ” اچھا سُنو آج گھر کا کام اچھے سے کرلینا اور آج میرے کچھ دوست کھانے پر آرہے ہیں ۔یہی کوئی دس لوگ ہونگے کھانا بنا لو گی ؟” اسنے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا ٫ تو ٹھیک سامان دیکھ لو اور جو کم ہو اسکی لسٹ بنا دینا میں امانت کو بھیجو گا وہ سامان لا دے گا ! ٹوپی اور ڈنڈا اُٹھاتا وہ باہر کی جانب بڑھ گیا وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر اسے پیچھے سے آواز دینا اسے مناسب نہیں لگا ” یہ تو چلے گئے بتایا بھی نہیں کہ بنانا کیا ہے یہ والا چولہا بھی چلانا نہیں سکھایا اور لل۔۔۔۔لسٹ مجھے لکھنا بھی نہیں آتا کیسے کروں گی میں اسنے اسکی پلیٹ میں دیکھا جو وہ آدھا ناشتہ وہیں چھوڑ گیا تھا ہر خیال ذہن سے جھٹک کر اسنے وہی ناشتہ کرلیا اور مسکرا دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ✨….✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھانے آیا تو مہتاب نے اسکے سامنے ایک فائل رکھی اور پریشانی سے اسے دیکھنے لگا مرزا نے مسکرا کو اسے دیکھا ” کیا ہوا ؟”
“ مرزا اب بھی کہہ رہا ہوں چھوڑ دے بند کردے کیس چند لڑکیاں ہی اغوا ہوئیں تھیں جو آزاد ہوگئی ہیں ۔اسنے حیرت سے اسے دیکھا ” صرف چند لڑکیاں وہ کسی کی بیٹی بہن تھی !
“ یار مجھے بھی افسوس ہے مگر مجھے ڈر بھی لگ رہا ہے کیونکہ تو ہاتھ نعمان شیرازی پر ڈالنے جارہا ہے وہ پولیٹکل لیڈر غنڈا ہے بہت خطر ناک ہے !” اسنے افسوس سے سر جھٹک کر فائل کھولی جو نعمان کی ہسڑی تھی اس پر کئی کیس تھے کئی معاملات میں پھنس چکا تھا ۔مگر اتنے بڑے پولیٹیکل لیڈر سے کون پنگا لے مہتاب افسوس سے بس اسے دیکھتا رہ گیا ” مرزا بات سن !
“ بس مہتاب بہت ہوگیا جب یہ وردی پہنی تھی نہ تو قسم کھائی تن من دھن سے اس ملک کی خدمت کرنے کی ڈرنے کی نہیں جان بھی چلی گئی تو کوئی ڈر نہیں !”
“ جان اپنی جائے تو کوئی ڈر نہیں ں مگر جب بات اپنے پر اجائے تو بہت ڈر لگتا ہے اور پہلے تو اکیلا تھا اب تیرا نکاح ہوگیا بھابھی بھی ہیں یہ گندے لوگ کب پروفیشنل سے پرسنل ہوجائے پتا ہی نہیں چلتا کہیں وہ انھیں !”
“ مہتاب میری بیوی میری پرابلم میری جاں میری پرابلم تو فکر مت کر مجھے کسی کی فکر نہیں چاہے جسکی مرضی جان چلی جائے ۔” اس بات پر مہتاب بس اسکا منہ دیکھتا رہ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨….✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے سارا سامان دیکھ لیا تھا نو جج چکے تھے اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے کیا بنائے کہ اچانک ٹیلی فون بجا وہ ڈر گئی تھی پھر ڈرتے ڈرتے اسنے فون اُٹھایا ” ہاں میں بول رہا ہوں !”
“ میں کون جی ؟ اسکے سوال پر مرزا نے حیرت سے فون کو دیکھا ” مرزا بول رہا ہوں !”
“ جج۔۔۔جی ہاں جی !! وہ سامنے نہیں تھا پھر بھی اسنے دوپٹے سے بال چھپا لیے تھے ” ہاں وہ میں نے پوچھنا تھا کیا سوچا ہے تم نے کھانے میں بنانے کا”.
“ وہ جی میں پوچھنا تھا جی مگر آپ چلے گئے پھر میں نے پوچھا ہی نہیں میں سب کچھ بنا لیتی ہوں جی سوائے انگیرجی کھانوں کے !” یہ بات اسنے شرمندگی سے کہی تھی ” ہاں تو تم بریانی پلاؤ کھیر کوفتے اور دانیال کو کیا پسند ہاں شامی کباب کڑاہی بنا لینا دس لوگوں کے لیے !” اسکی فرمائش پر وہ کچھ پل سوچ میں پڑ گئی وہ فون کو گھورتا مسکرا دیا تھا ” ہوگئی بولتی بند ماسٹر شیف مِس ہیر !! کیا ہوا بنا لو گی نہ کہ منع کردوں سوچ لو !!! ” وہ تو چاہتا کہ وہ منع کرے اور وہ دادی سے شکایت کرے کے انکی سگھڑ بہو نے کھانا بنانے سے انکار کردیا ہے !”
” نن۔۔نہیں میں تو یہ سوچ رہی تھی جی کہ اتنا کھانا بنانے کے لیے گھر اتنے پتیلے میر مطلب بڑے برتن ہیں جی ! اسنے بیزاری سے فون کو گھورا” وہ تمہارا مسئلہ ہے !” کھٹ سے فون بند کردیا ۔اور وہ ہیلو ہیلو کرتی رہ گئی ” اب کیا کروں برتن ڈھونڈو اور ان سب کے لیے سامان کا کیا کروں کس سے لکھوائوں وہ افسردہ بیٹھی تھی اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے جب اچانک دروازہ بجا پہلے تو وہ پریشان دیکھتے رہی اور سوچتی رہی کھولے یا نہ جب زیادہ ہی بجنے لگا تو اسنے کھول ہی دیا سامنے آنکھوں پر گلاسز لگائے کوئی کپ پکڑے کھڑی تھی اسنے مسکرا کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا اور ہنس کر بولی ” آپ یقیناً بھابھی ہیں مرزا بھائی کی وائف نائس ٹو میٹ ! اسنے ہاتھ آگے بڑھایا جو اسنے ڈرتے ڈرتے پکڑ لیا وہ ابھی اس سے ڈر رہی تھی مگر یہی تھی وہ جس نے مرزا کے دل کی راہیں اسکے لیے ہموار کرنی تھی مگر کیا دائم کے دل.میں وہ گھر کر پائے گی ” میرا.نام امل ہے میں یہاں سے آپکے ہمسائے میں رہتی کیا آپ.مجھے ایک کپ.چینی دے سکتی ہیں پلیز جلدی دے دیجیے گا مجھے یونی بھی جانا ہے ! وہ اتنی تیزی سے بولی کہ ہیر اسکا چہرا ہی دیکھتی رہ گئی اسنے اسکی آنکھوں کے سامنے چُٹکی بجائی ” جج…جی دے دیتی اچھا آپ پڑھی لکھو ہو ؟ اسکے دماغ میں ابھی ابھی ایک خیال آیا تھا . “
جاری ہے
