Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 12
وہ ہاتھ جوڑے رو رہی تھی اسکی معصومیت بے گناہی اسکے نم آنکھیں بیان کررہی تھی پہلی بار تھا کہ التجا کرتی کسی لڑکی کے آنسو نعمان شیرازی کے دل پر گر رہے تھے پہلی بار کسی کی معصومیت اسے شہ مات دے گئی تھی یا شاید اس سے پہلے آنے والی لڑکیاں معصوم نہیں تھیں سگریٹ جلتی جارہی تھی مگر نشہ کسی اور کا چڑھ رہا تھا بے ساختہ قدم اسکی جانب چل دیے جس سے فریحہ اور ڈر گئی ” نو نو پلیز لیو میں مجھے جانے میں ایسی لڑکی نہیں ہوں !! وہ اُردو میں بولنے لگی تھی حالانکہ کے سامنے والے شخص کی اسنے ابھی تک شکل نہیں دیکھی تھی اسنے چہرا ڈھکا ہوا تھا مگر وہ سحر میں جڑکتا اسکے قریب جارہا تھا جو پیچھے قدم بڑھانے لگی تھی .
کیا جزباتان نو بیان کرے ۔۔۔
میں وارے جاواں غالب توں۔۔۔۔۔
میرا جی کردا اے تیرے لئی ۔۔۔۔
ایک شعر لکھاواں غالب توں ۔۔۔۔۔
کیا جزباتاں نو بیان کرے ۔۔۔۔۔
میں وارے جاواں غالب توں ۔۔۔۔۔
وہ دیوار کے ساتھ جا لگی تھی اور وہ بے خود دونوں ہاتھ دیوار سے لگائے اسکے چہرے کے قریب چلا گیا تھا سیاہ انکھیں پردے کے پیچھے اشتیاق سے اسکے نقوش دیکھ رہی تھیں مگر وہ ڈر سے آنکھیں میچ چکی تھیں وہ اسکے دیدار سے ہی مدہوش ہوچکا تھا اسے علم ہی نہیں تھا وہ پاگلوں کی طرح اسے گھور رہا ہے ” تمہارا نام کیا ہے ! کہیں دور محبت سے چور سوال کیا گیا تھا جس پر اسنے حیرت سے اسے دیکھا وہ نقاب پوش اسکے چہرے پر جھکا ہوا تھا ” ا۔۔۔اپ کو اُردو آتی ہے ؟” اسنے پلک جھپک کر ہاں کردی وہ اب بھی اسے گھور رہا تھا کہ جب فریحہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکا نقاب اتارنا چاہا جسے اسنے ہونے دیا تھا اسنے نرمی سے رومال کھینچا تو اسکا چہرا اسکے سامنے تھے گلابی باریک ہونٹ مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہے تھے فریحہ خود چند لمحے اس میں کھو سی گئی تھی ۔نعمان کی نظر اسکے ماتھے پر آئی پسینےکی بوندوں پر تھیں اس سے نیچے جب آنکھوں پر پہنچی تو ایک آنسوں کا قطرا پلکوں سے اٹکا تھا ناک کو نوز پن مدھم روشنی میں چمک رہا تھا سرخ ہونٹ کپکپا رہے تھے ہونٹ کے نیچے تل پسینے کی بوندوں میں بھیگ گیا تھا تیز چلتی سانسیں وہ اسکا ایک ایک نقش حفظ کر رہا تھا ۔۔
تیرے حسن دی چرچا ہونی۔۔۔۔
سِر توں پیراں دے تک نی۔۔۔۔۔۔
کی کی تیرے وچ خاص اے۔۔۔۔۔
تینوں دسنا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اے سب کچھ دسدے دسدے ۔۔۔۔
میں کینا شرماواں غالب توں۔۔۔۔
میرا جی کردا تیرے لئی ۔۔۔۔
اک شعر لکھاواں غالب توں۔۔۔۔
وقت جیسے تھم سا گیا تھا وقت فریحہ کو دور کہیں بچپن میں بیوٹی اینڈ دی بیسٹ کی کہانی میں لے گیا تھا کہ جیسے وہ اس محل میں ٹریپ ہوگئی تھی اسی طرح وہ اس فارم ہاؤس میں ٹریپ ہوچکی ہے جیسے وہاں ایک بیسٹ تھا اسکی طرح یہاں ایک بیسٹ ہے مگر یہ تو پرنس جیسا دکھتا نعمان شیرازی کے ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل ہوتا جارہا تھا مگر وہ بے سُدھ بیوٹی اینڈ دی بیسٹ کے بیسٹ اور اس بیسٹ میں فرق ڈھونڈ رہی تھی جو اسکے کان کے قریب جھکتا جارہا تھا ” کہہ دو کہ تم انسان نہیں ہو کہہ دو کہ تم نے نعمان شیرازی پر جادو کیا کہہ دو کہ تم ہوئی ساحرا ہو کہہ دو کوئی منتر پڑھا ہے تم کہہ دو کوئی خاک پھینکے ہے تم کہہ دو کہ تم سیف الملوک سے بھٹک گئی ہو کہہ دو تم میری ہو میرے لیے آئی ورنہ میں یوں تم پر۔فدا نہ ہوتا تم وہ کہانی ہو جو ہر ایک مصنف لکھنا چاہتا ہے تم وہ غزل ہو جسنے کسی شاعر کو مقبول کیا ہو تم وہ نظم ہو جو محبت بیدار کرتی ہے ۔۔۔۔۔” اسکی گرم سانسیں اسے گردن پر چبھنے لگی تھیں اسلیے اسنے اسے دھکیل دیا وہ دور ہوتا دو تین قدم پیچھے چلا گیا تھا ” کک۔۔ہوں تم ؟”نعمان کو اسکی یہ حرکت انتہائی بری لگی تھی محبت اپنی جگہ مگر آج تک اسے ایسے دھکیلا نہیں گیا ” تم وہاں کیا کررہی تھی ؟
“ ممم۔میں نے بتایا تو ہے کہ ڈاکٹر ہوں وہاں بس سرچ کے لیے گئی تھی مجھے جانے دین پلیز مجھے جانے دیں میرے نام ایک تھوڑی زمین ہے اکاؤنٹ میں دس بیس لاکھ آپ لے سارا کچھ لے لو مگر پلیز مجھے جانے دو پلیز !!! وہ ہاتھ جوڑ رہی تھی مگر نعمان شیرازی کہا کب کسی کی سنتا تھا وہ تو وہ کرتا تھا جو سوچ چکا تھا یہ تو کہیں نہیں جاسکتی میری دل کی دنیا ہلا دینے والی اب اسے ملبے میں رہے گی ” علیم !! علیم !! وہ اتنی اونچی دھاڑ رہا تھا جب علیم بھاگتا ہوا اندر آئی ” قاضی !! قاضی کا اتنظارم کرو !!! اسنے حیرت سے پہلے نعمان اور پھر فریحہ کو دیکھا جو خود حیران تھی ” سر !!”
“ جو کہا ہے وہ کرو !!” علیم قاضی کو ڈھونڈنے چلا گیا تھا ” نہیں دیکھیں مجھے جانے میں بری لڑکی نہیں ہو آپ ایسا نہیں کرسکتے !!!” اسنے مسکرا کر اسے دیکھا ” میں کیا کرنے والا ہوں ؟”
“ اپ۔۔۔اپ مجھ سے نکاح کرنے والے ہیں تاکہ جو کچھ آپ کریں وہ حلال ہو جائے اور پھر آپ مجھے اپنے پاس رکھ سکیں کھلونا بنا۔۔۔۔۔۔
“ شٹ اپ جسے شٹ اپ !!! کچھ دیر میں نکاح ہوگا اور اگر تم نے انکار کیا تو یاد رکھنا میں اپنے آپ کو مار لوں گا اور الزام تم پر لگا دوں گا ساری زندگی تم آؤ تمہاری فیملی کا ایک ایک میمبر بھی ۔”
میرا بھائی پولیس میں ہے !! اسنے جیسے اپنی سب سے بڑی طاقت بتائی تھی ۔
وہ چاہے کو مرضی ہو مجھ سے نہیں بچے گا جانتی نہیں ہو مجھے ابھی ت اسلیے اچھی بچی کی طرح ہاں کردینا ۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا کچھ دیر بعد علیم قاضی صاحب کو ل ایا تھا وہ کچھ غلط نہ کرے اسلیے نکاح ساتھ بیٹھا کر گیا تھا اور کچھ ہی دیر میں فریحہ کی زندگی بدل گئی تھی وہ فریحہ ایوب سے فریحہ نعمان شیرازی بن گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(✨……✨) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو جو اور زی زی کلاس کے بعد سر سے کوئی ٹاپک ڈسکس کررہے تھے انکے جانے کے بعد وہ جیسے ہی واپس مُڑے زی زی کی ٹکر لائبہ سے ہوگئی ہاتھ میں پکڑی کتاب اٹھانے کے لیے وہ جھکا تو لائبہ نے پہلے پکڑ لی ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر مسکراتی ان آفت پرکالوں کو جو انکی کتاب کو الٹ پلٹ ک دیکھ رہی تھی دیکھنے کے بعد اسنے وہ کتاب زی زی کی طرف بڑھی اسنے ہاتھ آگے کیا تو اسنے پہنچے کھینچ لی کبھی دائیں کبھی بائیں وہ کتاب اسکے ہاتھ لگنے ہی نہیں دے رہی تھی زی زی کا غصہ بڑھتا جارہا تھا وہ کچھ بولنے لگا تو امبر کے الفاظ اسکے کانوں میں پڑے جو جوجو کو دیکھ رہی تھی ” اوئے ڈم ڈم ڈگا ڈگا یار غصہ نہ کیا کرو ہم دوست بھی بن سکتے ہیں ویسے اگر تم چاہو تو ؟” اس پر دونوں کی مسکراہٹ گہری ہوگئی ” سو واٹ ہر لڑکی بنا چاہتی ہے تم دو نوں یہ چیپ سٹنٹس کرکے ہماری توجہ حاصل کرنا چاہتی ہو تو لیسن ہم دونوں فرینڈ نہیں بناتے !” زی زی کی بات پر لائبہ کا منہ کھلا رہ گیا ” یو میں تم دونوں لیسبیان ہو استغفار!! وہ دونوں کانوں کو ہاتھ لگا رہی تھیں اور انکا ضبط جواب دے رہا تھا جب اسکی کتاب زبردستی اسکے ہاتھ تھما کر وہ چلی گئی زی زی نے وہی کھڑے کھڑے کتاب کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں جوجو نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا ” That’s enough Jojo I have to give them a lesson!زی زی نے فون نکالا اور بات کرتا باہر آگیا ۔
اکیڈمی آف ہونے میں آدھا گھنٹہ رہتا تھا وہ دونوں ہال میں بیٹھی باتیں کرنے میں مصروف تھیں ” یار تمہیں لگتا ہم نے آج جوجو اور زی زی کو بہت بڑی بات بول دی مزاق اپنی جگہ مگر کوئی بھی لڑکا اس طرح کی بات اپنے لیے برداشت نہیں کرتا !” امبر پریشانی سے لائبہ کو دیکھ رہی تھی جو سنیکس کھانے میں مصروف تھی ” ہاں تو انھوں نے بات بھی تو ایسی ہی کی تھی ہاں ٹھیک مجھے زی زی سے اور تجھے جوجو سے لو ایٹ فسٹ سائٹ ہواگر ایسا تھوڑی انکے پیچھے بھیگی بلی بن کے پھرتے رہے ہم الگ ہیں ! “
“ تھینک ٹو دیٹ مول ان لِپس آف جوجو ایک وہ تل ہی ہے جو ان میں فرق بتاتا ہے!! لائبہ نے مسکرا کر اسے دیکھا جو آفاق نے انھیں بتایا کہ سر رانا انھیں کلاس میں بلا رہے ہیں وہ انکے کیمسٹری کے سر تھے وہ بکس لیے بیگ وہیں چھوڑ کر کلاس کی جانب چل دیں انکی کلاس لاسٹ کونرر پر تھی آنھوں نے دروازہ کھولا تو اندھیرا ہی اندھیرا تھا انھوں نے اپنے فونز کی ٹارچ آن کی ” سر !! سر رانا !!! وہ آوازیں دے رہی تھی کہ اچانک سرخ بلب جلا اور کمرا ایسے لال روشنی میں نہا گیا جیسے دیواریں خون سے بھر دی ہوں اور انھیں کھینچ کر کسی نے دیوار سے پِن کردیا امبر نے جب اسکا چہرا دیکھا تو نظر سیدھا ہونٹ پر گئی جہاں کالا تِل موجود تھا ” جوجو یہ کیا بدتمیزی ہے لیو می ! ادھر زی زی کو دیکھ کر لائبہ کا بھی یہی حال تھا ” چوں چوں جوجو کتنا برا ہوگا نہ آج انکے ساتھ آج ہمارا شکار یہ بنی گی !! زی زی نے لائبہ کو گھورتے جوجو کو مخاطب کیا جو امبر کے چہرے کے نشیب و فراز دیکھ رہا تھا ” یس زی زی بس اور آج کے بعد ان حسین لڑکیوں کا خون پی کر ہم ہمیشہ کے لیے خوبصورت ہو جائیں کہ آج ہمارا سو لڑکیوں کا ٹارگٹ پورا ہوجائے گا !!! انکی باتیں امبر اور لائبہ کی پسینے چھڑا رہی تھیں ” کک کیا مطلب ہمارا خون ٹارگٹ !! لائبہ نے خود کو زی زی کی گرفت سے چھڑاتے پوچھا جو اسے گھورے جارہا تھا ” یس وی آر ویمپیائرز اور آج فورٹینتھ فُل مون نائٹ میں ہم جوان خوبصورت اور کنواری لڑکی کا خون پیتے ہیں !! وہ لائبہ کے چہرے پر انگلی پھیر رہا تھا جو ٹھوڑی تک جاکر رُک گئی .لائبہ کی تو سن کر جان نکل گئی
” تو بتاؤ کیا چاہتی کہاں سے پییے تمہارا خون یہاں سے یہاں سے یہاں یا پھر یہاں سے !! پہلے ماتھا پھر گال پھر ہونٹ اور پھر جوجو کی انگلی اسکی بیوٹی بون پر جاکر رُک گئی تھی جسے وہ ٹریس کر رہا تھا !
“ ہہ۔۔۔ہمیں پتا ہے تم دونوں ہمیں تنگ کر رہے ہو کوئی ویمپائر نہیں ہو ۔۔۔تت۔۔دونوں مگر پلیز ہمیں ٹچ مت کرو کسی دیکھ کیا تو ہم بد کردار کہہ دیں گے تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا پلیز ! امبر اپنی کلائیاں اسکے ہاتھوں سے چھڑوا رہی تھی ۔
“ تم دونوں سے کس نے کہا کہ ہم جھوٹ بول !!! یہ کہتے ساتھ ان دونوں نے اپنا منہ کھولا جہاں دو لمبے لمبے دانت خون پینے کے لیے تیار تھے ان دونوں کے دماغ بلکل ساکن ہوگئے تھے ان دونوں کی لمحہ بہ لمحہ اپنی جان نکلتی محسوس ہورہی تھی ہو انکی گردن پر جھکتے جارہے تھے کہ ایک ساتھ ان دونوں کھ وجود ساکن ہوئے اور وہ انکی باہوں میں ہی جھول گئیں مگر وہ جوجو اور زی زی تھے ایسے خون سے تعلق رکھنے والے جو سفید تھا ۔انھوں نے انھیں زمین پر گِرا دیا اور خود پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگے ” ویل جوجو اب یہ دونوں تو کیا انکی آنے والی سات نسلیں بھی ہم سے دور رہیں گی !! منہ سے نکلی دانت نکال کر وہیں پھینکے اور کمرے سے باہر نکل گئے ۔کچھ دیر بعد انھیں ہوش آیا تو وہ دونوں سٹاف روم میں تھیں تما ٹیچرز سر انھیں حیرت سے دیکھ رہی تھیں وہاں سر رانا بھی موجود تھے ۔
“ آپ دونوں وہاں کمرے میں اکیلی کیا کر رہی تھیں ؟” سوال بھی سر رانا نے کیا تھا جب لائبہ کچھ کہنے لگی تو امبر نے روک دیا جوجو اور زی زی پیچھے ہنس رہے تھے آدھے سے زیادہ سٹوڈنٹس کا چکے تھے ” سر ہم آپکو ڈھونڈنے گئے تھے پھر اچانک چکر آیا میں بے ہوش تو شاید لائبہ مجھے دیکھ بے ہوش ہوگئی ! وہ جانتی تھیں کہ اگر انھوں نے سچ بتایا تو جوجو اور زی زی نے مُکر جانا ہے اور بدنامی انکی ہونی اسلیے خاموش رہیں !” سر رانا نے بائیو کے سر کو دیکھا ” جڑواں میں ایسا ہوتا ہے !!
“ ججی ۔۔۔سر ہوتا ہمارے ساتھ بھی غصہ دکھ ایک ساتھ ہوتا کبھی اگر جوجو کو اچانک غصہ اجائے تو مجھے بھی بلا وجہ آجاتا ہے !!! زی زی نے نچلہ ہونٹ دبا کر کہا کیونکہ لائبہ کا چہرا شرمندگی سے لال ہوا پڑا تھا جوجو امبر کو دیکھ رہا تھا جو انگلیاں توڑنے میں مصروف تھی ان دونوں کو ایک نظر دیکھ کر وہ باہر آگئے جہاں باہر گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کوئی انکا انتظار کررہا تھا انکے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی ” ماموں !!!انکی آواز سن کر نعمان کے باریک ہونٹ مسکرا دیے تھے انھیں بچوں کی طرح اسنے باہوں میں سمیٹ لیا تھا ۔” ماموں آپ کب آئے منان بھی آیا ہے !! جوجو نے گاڑی کے اندر دیکھا جہاں ایک بے بی کوٹ پڑا تھا ” ہاں منان بھی آیا اسے کچھ دن بخار تھا تو اپنے ساتھ ہی لے آیا دل ہی نہیں کی اسے چھوڑنے کا چلو گھر چلتے ہی !! وہ دونوں گاڑی کھول کر بیٹھنے لگے تو باہر آتی لائبہ اور امبر پر پڑی نعمان نے انکے تعاقب میں دیکھا ” بوائز واٹ !!
Mamu that girls made fun of us ? جوجو نے نعمان کو دیکھے ہوئے کہا “
Then what my boys do ?
“ if they are beauties then we are beasts !!!
زی زی نے مسکراتے ہوئے کہا اور گاڑی میں بیٹھ کر منان سے پیار کرنے لگا جنہیں دیکھ کر وہ خوش ہوگیا تھا ۔ نعمان گاڑی میں بیٹھ کر ایک نظر ان دونوں کر دیکھ کر باہر دیکھنے لگا جہاں امبر اور لائبہ گاڑی میں بیٹھ رہی تھیں ۔پھر ڈرائیو کرگیا ۔
جاری ہے
