Musalat By Binte Aslam Readelle50190 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 18
صبح جب دانیال کی آنکھ کھُلی تواسکا سر درد کررہا تھا ہوش سنبھالا تو اپنی پوزیشن دیکھی تو ایک دم اٹھ گیا وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بڑے مشکل انداز میں سو رہی تھی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا پھر رات کے کچھ دھندلے منظر نظر آنے لگے اسکا اسے میڈیسن دینا بس اسکے بعد کچھ یاد نہیں !!!
” فرحین !! اسنے نرمی سے اسے پکارا تو کچھ بے چین ہوگئی تھی آنکھوں کو ملتے دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ” آپ کیسے ہیں ! ایکدم اسکی طرف بڑھی تو رات کی اکڑی کمر میں درد کی ٹیس اٹھی آہ !!
“ کیا ہوا فرحین آر یو اوکے !! اسنے اسے چھونا چاہا پھر کچھ سوچ کر ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اسکی یہ حرکت فرحین نے دیکھ لی تھی جو اسے اچھا نہیں لگا تھا بیڈ سے خود کو سنبھالتی اترنے لگی جب اسنے پھر پکارا ” فرحین آر یو اوکے !!
“ آپکو باداموں سے الرجی تھی پھر بھی کھائے کیا ثابت کرنا چاہتے تھے کہ آپکو مارنا چاہتی ہوں جان لینے چاہتی ہوں جان چھڑانا چاہتے ہو !!”
“ نہیں فرحین یہ بات نہیں تھی وہ …….” مگر اسے بنا سنے ہی وہ واش روم میں گھس گئی تھی وہ کچھ لمحے سر ہاتھوں میں گرائے سوچتا رہا ” کہاں غلط ہوں میں کہاں کیا قصور ہے میرا کتنا برداشت کروں میں !!! قریب جاؤ تو گلہ ہاتھ لگاتے رُک جاؤ تو غصہ میں مر جاؤ !! تبھی وہ باہر آئی تو وہ اسکی جانب متوجہ ہوگیا گھٹنوں تک آتا ڈیجٹل پرنٹ کا کُرتا وائٹ ٹراوز گلے میں کمر تھا جھولتا ریشمی آنچل گیلے بال وہ بیڈ سے اتر کر اسکی جانب چل دیا تھا فرحین کی اچانک اپنی کمر کے گرد کچھ حائل ہوتا محسوس ہوا گیلے بال گردن سے پیچھے کرتے وہ وہاں جھکتا جارہا تھا اپنی گردن پر اسکا نرم لمس محسوس کرکے اسکی روح تک فنا ہوگئی تھی اسنے گرفت سے نکلنے کی کوشش کی مگر اسنے اسکے ہاتھ آگے باندھ رکھے تھے ” کوپ دور ہوں ! مگر وہ تو سفر طے کرچکا تھا گردن سے کندھے تک کا ” بہت گلے ہیں تمہیں مجھ سے دور ہی تو کر رہا ہوں ! ” گلے کو دوپٹے سے آزاد کرتا اسکے کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتا جارہا تھا ایکدم گھما کر اسکا رُخ اپنی جانب کیا بال کان کے پیچھے اڑیستے ہاتھ وہیں پھنسا کر چہرا اوپر کردیا اسکے سینے پر ہاتھ رکھے وہ اسے دور کرنےکی کوشش کررہی تھی ہونٹ اسکے ہونٹوں کے بے حد قریب کیے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جہاں ڈر تھا اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی ۔آنکھیں بند کرتا وہ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا تھا یہاں اسکی آنکھیں بند تھیں مگر فری کی پوری کُھل گئی تھیں وہ اسے دھکیل رہی تھی مگر وہ مکمل کھو گیا تھا اس لمحے میں اسکے لمس میں پنکھڑیوں جیسے نرمی تھی پھر بھی فرحین آزاد ہونے کے لیے مچل رہی تھی آخر کچھ دیر بعد جب رحم آیا تھا دور ہوگیا سرخ چہرے کے ساتھ وہ سانس بحال کررہی تھی اسکے چہرے پر پھر ایک دلفریب مسکراہٹ آگئی تھی خود پر قابو رکھتا وہ اسے دوسری نظر دیکھے بغیر واش روم میں چلا گیا اور وہ اسے دیکھتی رہ گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تقریباً ساڑھے چار بجے کے قریب اچانک اسکی آنکھ کُھلی تھی باہر ابھی بھی نیم اندھیرا تھا واش روم سے جب وہ واپس آیا تو صوفے کی جانب دیکھا جو خالی تھی پھر فرش کو وہ بھی خالی تھا ” ہیر !!!پھر یاد آیا تو نیچے کی جانب دوڑ لگا دی دروازہ کھولا تو وہاں کوئی نہیں تھا سرد ہوائیں بھی چل رہی تھی مون سون کا پیغام لیکر اسنے نیچے زمین پر دیکھا تو وہ سر گھٹنوں میں دئیے کپکپا رہی تھی ” ہیر !! وہ گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھ گیا اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اسکے ہونٹ خشک کپکپا رہے تھے آنکھیں نیند سے بوجھل ہوئیں پڑی تھیں یخ ٹھنڈے ہاتھ اور سُن ہوئے پیر ” بب۔۔۔۔۔بابو میں اب دائم کا نام نہیں لوں گی سس۔۔سوری !! وہ شرمندگی سے نظریں جھکا گیا تھا”سوری !! اسکا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا وہ کپکپا رہی تھی خود کو سمیٹ رہی تھی جب مرزا نے بے ساختہ اسے باہوں میں اٹھا لیا وہ حیرت سے اسکا منہ دیکھتی رہ گئی وہ اسکا وزن اٹھائے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اور وہ اسکی گردن کے گرد باہیں ڈالیں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جسکا مکمل فوکس راستے پر تھا کمرے میں آکر اسے بیڈ پر بیٹھایا کمبل نکال کر اسکے گرد پھیلایا اور خود باہر چلا گیا گردن تک کمبل لپیٹتی اسکی گرمائش محسوس کرنا چاہتی تھی تھوڑی دیر بعد وہ ٹرے میں بھاپ نکلتا کپ لیکر آیا وہ خشک ہونٹوں کو تر کرتی اسے دیکھنے لگی اسنے کپ ٹیبل پر رکھا اسکے ماتھے کو چھوا پھر دراز سے تھرمامیٹر نکال کر اسکی جانب بڑھایا ” لگانا آتا ہے نہ لگاؤ اسے ! جو اسنے پکڑ کر رکھ کیا کچھ دیر بعد واپس دیا تھا اسے ہلکا بخار تھا میڈیسن نکالی پانی گلاس میں ڈالا اور اسکی جانب بڑھا دیا جسے پکڑتے مرزا نے دیکھا تھا کہ اسکے ہاتھ سردی سے کپکپا رہے ہیں اسنے ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا اور فوراً نظر ہٹا لی کافی کا مگ اسے تھمایا جسکے گرد اسنے ہاتھ لپیٹ لیے تھے گہرا سانس لیکر وہ اس سے مخاطب ہوا ” تمہیں لگ رہا ہے میں پاگل ہوں میں نفسیاتی مریض ہوں جو پہلے غصہ کرتا سزا دیتا اور پھر ہمدرد بن جاتا تو ہاں میں نفسیاتی ہوں ان چیزوں ان لوگوں کے معاملے میں جو میرے ہوں میری ملکیت ہوں اور مت بھولو تم ان میں سے ایک ہوں جو میرا ہے چاہے میں اس سے نفرت کرو یا محبت۔ پر مجھے برداشت نہیں ہے کہ ان پر کوئی نظر بھی رکھے تو تم بتاو مجھے کیسے گوارا ہوگا کہ میری بیوی میرے ساتھ کسی غیر مرد کے لیے لڑے مجھ سے بحث کرے دائم کزن ہے بھائی نہیں ہے تو نامحرم ہی ہے نہ میں مشرقی مرد ہوں بے غیرت نہیں کہ میری بیوی میرے سامنے اپنے کزن کی تاریفیں کرے اور میں خاموش رہ جاؤ اور نیک شرف مشرقی بیوی کو یہ بات زیب نہیں دیتی یہ مشرق ہے یہاں حیا ہی سب کچھ ہے یورپ نہیں جہاں بیوی شوہر کے ساتھ بیٹھ کر شراب پیتی ہے آئی سمجھ آئندہ خیال رکھنا !! اسنے گھبراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ” یہ پیو اور سو جاؤ !! اسے سونے کا کہہ کر وہ کمرے سے چلا گیا تھا ۔ گر جانے کے انداز سے وہ تکیے پر گری وہ مسکرانا چاہتی تھی مگر دائم کی فکر اسے کھائے جارہی تھی پھر ہر خیال ذہن سے جھٹک دیا کہ مرزا نے اسکے خیال میں بھی دائم کو دیکھ لیا تو اسنے ایک نظر گرم کافی کو دیکھا جو اسے کڑوی لگی تھی پر مسکرا کر پینے لگی کہ یہ مرزا نے بنائی ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی میرا یقین کریں میں نے اسکے ساتھ کچھ نہیں کیا آپ تو کریں !! چاچی اور دادی سلاخوں کے پیچھے دائم سے سوالات کررہی تھی اور فہد پولیس انسپیکٹر کی مِنتیں !! تبھی مرزا اور امل کے والد جو کافی پریشان لگ رہے تھے اندر آئے وہ تو آتے ہی دائم پر ابل پڑے تھے کمینے انسان تم !!مگر اس سے پہلے ہی مرزا درمیان میں آگیا تھا ” انکل ساری غلطی اسکی نہیں ہے امل نے پہلے پرپوز کیا تھا اسے مگر اسنے نیت خراب کرلی.” مرزا بیٹا یہ باہر نہیں آنا چاہیے !! اس بات پر فاطمہ بی نے دل پر ہاتھ رکھ لیا تھا مرزا نے جب انکی حالت دیکھی تو انکی جانب چلا گیا انھیں کندھوں سے تھاما ” بڑی بی آپ ٹھیک ہیں !”
“ مرزا دائم ایسا نہیں ہے میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں !!
“ دادی !!! دائم نے تڑپ کر انھیں پکارہ تھا ” کوئی ضرورت نہیں اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے کی !!! مرزا نے غصیل نظروں سے دائم کو دیکھا تو وہاں کونسی ٹھنڈ تھی اشتعال سے تو وہ بھی بھرا بیٹھا آگ بھڑکائے جس میں آج امل جلنے والی تھی “ بڑی بی فکر مت کریں اسے کچھ نہیں ہوگا آخر بہنوئی ہوں کچھ رعایت کر ہی دوں گا !!
“ بہنوئی مائی فُٹ !!! دائم نے پیر پٹک کرکہا تھا ” آپ سب گھر جائیں ہم بھی آتے ہیں !! اسنے جلانے والی مسکراہٹ سے دائم کو دیکھا تھا ۔” شکیل انھیں میرے گھر لیجاو!! اور جاتے ہوئے ایک شیروانی بھی لیتے جانا اب ہمارا دولہا شرٹ لیس تو نکاح نہیں کرسکتا نہ !!! دائم کا بس نہیں چل رہا تھا وہ مرزا کا گلہ دبا دے ۔فاطمہ بی فہد مسز فہد بھی مرزا کا منہ تکتے رہ گئے تھے ۔ مگر شکیل انھیں اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔
دروازے پر دستک ہوئی تو کھولنے پر ہیر کا ہاتھ منہ کو آگیا تھا بی بی !!! وہ ان سے لپٹ گئیں تھی ” بی بی آپ کب آئے ہیں !! چاچا بھی آیا ہے !! اسنے انکے سامنے سر کیا جس پر انھوں نے ہاتھ رکھ دیا پھروہ چاچی کی طرف مڑی جو تنگ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی پھر اسکے گھر کو دیکھتی آگے بڑھ گئی فاطمہ بی نے پیچھے افسوس سے سر جھٹکا ” ابھی بھی یہ نہیں سُدھری!!! مگر وہ زبردستی مسکرا دی بی بی کو صوفے پر بیٹھا کر وہ پانی لینے چلی گئی پیچھے چاچی اسکی قسمت پر رشک کررہی تھی حالانکہ کے فری کی قسمت اس سے بلکل کم نہیں تھی مگر حسد کہاں برداشت کرتی ہے بھلا وہ سب کو پانی دے رہی تھی جب چاچی کی نظر لیپ ٹاپ پر پڑی وہ اسے چھونی لگی ” چاچی اسے رہنے دیں وہ کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے مجھے بھی نہیں !!”
“ ہو تیری بہت زبان نہیں چلنے لگ گئی اپنی چاچی کو سکھائے گی کہ وہ اس اس گھر کی کونسی چیز کو ہاتھ لگائے کونسی کو نہیں تیرا نہیں مرزا کا گھر ہے یہ تو زیادہ سیانی نہ بن کہ دکھا !!!٫
“ اس گھر کی ایک ایک چیز اسکی ملکیت ہے وہ چاہے تو آپکو اٹھا کر باہر پھینک سکتی ہے ۔” مرزا کی آواز پر ان چاروں نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں آگے وہ تیکھی نظروں سے چاچی کو دیکھ رہا تھا اور دائم حیرت سے اسے اسنے ہیر کے لیے سٹینڈ لیا تھا ۔شکیل نے مرزا کے ہاتھ میں شیروانی دی جسے لیکر اسنے دائم کو دیکھا ” اگر تم یہ چاہتے کہ سامان کے ساتھ ہیر کو بھی باہر نہ پھینک دیا جائے تو پہنو اسے !” دائم کی خوشی تبھی غائب ہوگئی تھی اسنے اسکے ہاتھوں سے شیروانی کھینچی ” ہیر غسل خانہ کہاں ہیں ؟ اسنے سیدھا ہیر سے سوال کیا تھا جس پر مرزا نے اسے کڑے تیوروں سے دیکھا پھر ہیر کو جو خاموشی سے سر جھکا گئی مرزا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ” گُڈ گرل !!اسنے پھر دائم کو دیکھا ” وہ رہا کمرا جلدی پھر میں نے اپنے سالے کی برات بھی لیکر جانی ہے ! اسے پہنائے گئی شرٹ کا کالر درست کرتے وہ اسے ٹیز کررہاتھا اسکا ہاتھ جھٹک کر وہ کمرے کی جانب چلا گیا مگر راستے میں رُک اسنے ہیر کو پلٹ کر دیکھا جو دادی سے باتیں کررہی تھی ۔وہ بچپن سے سوچتا آیا تھا جب وہ بڑا ہوگا تو ہیر کو اپنی ملکیت بنا لے گا اسے اتنی محبت دے گا کہ وہ ہر دُکھ بھول جائے گی اپنی ماں کو بھی اسے کچھ نہیں کہنے دے گا مگر یہ بڑوں کے بول کھا جاتے ہیں محبتوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنگ تھے نور تھا ۔۔ ۔۔۔۔
جب قریب تو تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک جنت سا تھا یہ سماں ۔۔۔۔
وقت کی ریت پے ۔۔۔۔۔
کچھ میرے نام سا ۔۔۔۔۔
لکھ کے چھوڑ گیا تو کہاں ۔۔۔۔
ہماری ادھوری کہانی ہماری ادھوری کہانی ۔۔۔۔۔۔
“ ہاں ہوجاوں گا آج امل کا صرف تمہارے لیے ہیر تاکہ تمہیں یہ شخص کوئی تکلیف نہ دے کردی قربان دائم نے اپنی ذات ہیر کی خوشیوں کو قائم و دائم رکھنے کے لیے ۔۔۔۔انکھوں کے کنارے نم ہوگئے تھے انھی دیکھ کر وہ کمرے میں چلا گیا تھا مرزا بھی امل کے گھر جارہا تھا جب اسکی نظر مسکراتی ہیر پر پڑی جو اپنی دادی سے چپکی بیٹھی تھی آج اسنے اسکی بات کا مان رکھا تھا جو اسے اچھا لگا تھا ایک دلفریب مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر آگئی تھی کہ رات والے واقعہ کے بعد وہ ہیر کے لیے تھوڑا نرم ہوگیا تھا۔یا شاید عشق کی شروعات ہونے والی تھی ۔وہاں سے وہ امل کے گھر آیا تھا جہاں اندر امل تیار ہونے میں لگی تھی اسے تو یقین نہیں آرہا تھا کہ کیسے مرزا نے دائم اسکی فیملی اور اسکے پاپا کو منا لیا وہ بہت خوش تھی کہ وہ دائم کی ہونے جارہی تھی مگر حقیقت میں وہ دائم پر مسلط کی جارہی تھی زبردستی کے رشتے صرف بوجھ ہوتے ہیں جن کا وزن ہر صورت اٹھانا پڑتا ہے اور جب تک اسی زبردستی کی بنجر زمین پر محبت کا پھول نہیں کھلتا تب تک اس پر برداشت صبر کا ہل چلانا پڑتا ہے جو کبھی زخمی کرتا ہے تو کبھی چلملاتی دھوپ میں راکھ امل نے بھی صرف راکھ ہونا تھا تب تک جب تک دائم نے اسے سمیٹنا نہیں تھا ۔باہر مرزا اسکے باپ کو سمجھا ر ہاتھا ” دیکھیں انکل آپ امل کی زمہ داری مجھ پر چھوڑ کر گئے تھے کیونکہ آپکو یقین تھا میں اسکی حفاظت کروں گا تو یقین کریں انکل میں کوئی غلط فیصلہ نہیں کروں گا اور امل خود دائم سے نکاح کرنا چاہتی ہے اور انکل بہتر بھی یہی ہے !!”
“ لیکن اسنے اگر میری بیٹی کوئی نقصان پہنچایا ؟”
“ نہیں پہنچائے گا میں ہوں نہ اسے سیدھا کرنا آتا ہے مجھے !!! آخر وہ مان گئے تھے ۔
وہ تیار ہوکر باہر آیا تھا بلیک کلر کہ شیروانی سفید تِلے کےکام سے مزین بال سنوارے وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ہیر نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا اور کچن میں چلی گئی حالانکہ وہ اس سے بات کرنا چاہتا وہ کچن میں آئی تو ڈری ہوئی تھی ” بابو سہی کہہ رہے تھے دائم مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح نہیں دیکھتا !!!
مرزا واپس آیا تو قاضی انکے ساتھ تھے جنہیں اسنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا امل کے دستخط وہ کروا لا یا تھا ” مرزا بیٹا یہ کیا ہے ؟” فاطمہ بی نے آخر پوچھ ہی لیا ۔
“ بڑی بی جس لڑکی کے ساتھ دائم نے بد تمیزی کی ہے اسنے شرط رکھی تھی کہ وہ اسے معاف کردے گی اگر یہ اس سے نکاح کرلے تو اسے آزاد کروانے کے لیے ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اسلئے نکاح کروا رہے ہیں آپ فکر مت کریں لڑکی اچھی ہے اسکا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا ہے انکی ساری جائیداد زمین امل کے نام ہے لڑکی کھاتے پیتے گھر کی ہے !! چاچی کے چہرے پر چمک آگئی تھی جو مرزا دیکھنا چاہتا تھا ۔
“ بیٹا اسکے پیسوں ویسوں سے ہمیں کچھ نہیں لینا دینا لڑکی اچھی ہے نہ شریف نیک !!” اس بات پر دائم نے دادی کی جانب دیکھا اور دل میں سوچا ” نیک اور شریف ہوتی تو اپنے محافظ کو مجرم نہ بناتی !!”
“ جی بڑی بی لڑکی بہت اچھی ہے پر رُخصتی امل کی ڈاکٹر کی ڈگری ہونے کے بعد ملے گی ۔” دائم نے مرزا کو گھور کر دیکھا” کیوں ر ُخصتی آج کیوں نہیں مجھے آج ہی رخصتی چاہیے اور ہاں نکاح کے بعد آگے پڑھنے کی اجازت میں اسے نہیں دے رہا ۔”مرزا نے کڑے تیوروں سے اسے دیکھا اور فون نکال کر امل کے والد سے بات کرنے لگا دائم کے لبوں کو مسکراہٹ چھو گئی کچھ دیر بعد فون جیب میں رکھتا واپس آیا تھا ۔” نکاح شروع کریں انھیں منظور ہے !”
“ دائم فہد ولد فہد آپکو یہ نکاح امل مرتضیٰ ولد مرتضیٰ سے باعوض دو لاکھ سکہ رائج الوقت قبول ہے ” دائم نے ایک نظر ہیر کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی مرزا بھی اسکے ساتھ ہی کھڑا تھا اسنے فورا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کرلیا وہ اسکا چہرا دیکھتی رہ گئی
“ قبول ہے
قبول ہے ۔۔۔
قبول ہے….
مرزا نے تو جیسے جنگ فتح کرلی تھی وہ دائم سے بغل گیر ہونے آگے بڑھا اور اسکے کان میں سرگوشی کی ” نکاح مبارک !!!
“ امل کی تباہی مبارک !!! اسکے الفاظ پر مرزا نے حیرت سے اسے دیکھا اور نامحسوس انداز سے اسکا گریبان پکڑ لیا ” اگر امل کے ساتھ کچھ بھی غلط ہوا تو یاد رکھنا مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا !”دائم نے بھی ہاتھ گریبان پر سیدھا کرلیا تھا ” اور اگر ہیر کے ساتھ کچھ غلط ہوا تو میں تم دونوں کو زندہ گاڑ دوں گا !! ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے وہ اشتعال سے بھرے تھے جب ہیر کی آواز نے انھیں ہوش دلایا ” بابو !! وہ مٹھائی کی پلیٹ لیے حیرت سے انھیں دیکھ رہی تھی ” ارے ہیر مجھے نکاح مبارک نہیں کہو گی !! دائم کے مخاطب کرنے پر اسنے مرزا کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا ” کہو تمہارے چھوٹے بھائی کا نکاح ہوا ہے جس خوشی میں مٹھائی بانٹ رہی ہو !! وہ مسکراتی پلیٹ آگے لے آئی جس میں سے مرزا نے رس گلہ اٹھا کر پورا دائم کے منہ میں گھسا دیا وہ کیوں کر رہا تھا یہ سب وہ تو ہیر سے محبت نہیں کرتا تھا پھر کیوں دائم کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا شاید اسلیے کہ اسے ڈر تھا کہ دائم ہیر کو ورغلا نہ لے اس سے دور نہ کردے کر بھی دے تو ایک سال بعد اسنے بھی کرہی دینا تھا پھر بھی آج وہ اتنا خوش کیوں تھا برفی اٹھا اسنے ہیر کے منہ کو لگائی جس اسنے حیرت سے دیکھتے کھا لیا پھر اگلا عمل اسکے لیے اس سے بھی عجیب تھا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کیے وہ اسکی گردن پر جھک گیا تھا دائم نظریں پھیرتا وہاں سے چلا گیا مرزا نے چور نظروں سے اسے دیکھا وہ سیدھا ہونے لگا جب اسکی نظر اسکے کان کے پیچھے تل پر گئی اور وہاں سے آتی بلیک بیوٹی کی خوشبو اسکی نظر اسکے چہرے کا طواف کرنے لگی تھی نظر پھر بیوٹی بون پر جاکر رُک گئی تھی وہ اسے گھورے جارہا تھا جب ہیر کی آواز کانوں میں پڑی ” میں دوپٹہ ٹٹ۔۔۔ٹھیک کرلیتی ہوں سوری !!” وہ ایکدم اس سے پیچھے ہوگیا بغیر دوسری نظر اس پر ڈالے چلا گیا تھا ۔
“ مرزا جو کچھ بھی ہوا وہ سہی نہیں ہوا مگر اب ہمیں جانے دو حویلی خالی ہے گاؤں میں کوئی نہیں ہے وہاں اور ابھی تو فری کے سوالوں کے جواب بھی دینے پڑیں گے کہ دائم کا نکاح اچانک کیوں !! فہد مرزا سے استفسار کررہا تھا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
“ ہیر پتر تو بھی آجا کچھ دن رہ لیں ! ہیر کے چہرے پر رونق آگئی تھی اسنے مرزا کو دیکھا جو سنجیدہ تھا ” مم۔۔۔میں چلی جاؤں ! مرزا نے ایک نظر اسے دیکھا ” ہمیشہ کے لیا جانے چاہتی ہو تو چلی جاؤ ! واضع تنبیہ تھی اسکے لہجے میں وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی ” دادی میں بعد میں آؤں گی انکو کھانا کون دے گا پھر ہم اکٹھے آئیں گے !!! مرزا کے ہونٹوں کو آج جابجا ہیر کو دیکھ کر مسکراہٹ آرہی تھی کیسے ایک ہی رات میں تیر جیسے سیدھی ہوگئی ہے ۔
دائم گاڑی میں بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا جب اپنے ہاتھ پر کچھ چبھا تو پلٹ کر دیکھا لہنگا سنبھالتی گھونگھٹ نکالے وہ اسکے ساتھ بیٹھی تھی وہ نفرت سے نظر پھیر گیا گاڑی دھول اڑاتی جھنگ کے لیے نکل گئی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
