96.1K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

ناول # مسلط
ازقلم # بنت اسلم
قسط نمبر 21
رات کی فلائٹ سے علیم واپس امریکہ آگیا تھا اور آتے ہی ہوسپیٹل نعمان کو دیکھنے چلا گیا اسنے دروازہ کھولا تو وہ سامنے ہی بیڈ پر لیٹا تھا اسنے سوالیہ نگاہوں سے علیم کو دیکھا تو اسنے کاغذات والی فائل اسکے سامنے کردی ” سارا ڈیٹا کلیر سر !! نعمان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اس دن جب اسکے پیر پر گولی لگی تھی وہ پاکستان اسی کام کے لیے جارہے تھے مگر نعمان زخمی ہونے کی وجہ سے نا جا سکا مگر اسنے علیم کو بھیج دیا تھا کہ وہ کیس فائل ہونے سے روکے جو علیم کرآیا تھا ۔نعمان نے محسوس کیا تھا کہ وہ اداس ہے کیونکہ آج اسنے بوم !! نہیں کہا تھا ” علیم !”
“ ایک غلطی ہوگئی ہے سر ! نعمان نے حیرت سے اسے دیکھا ” سر ایڈوکیٹ فرحت خان کے جو انجیکشن لگایا تھا وہ تو ٹھیک تھا وہ زندہ تھے پھر میری جیب دو انجیکشنز تھے ایک میں بے ہوشی کی دوا تھی اور دوسرے میں زہر میں فائل لیکر نکلنا چاہتا تھا مگر ایڈوکیٹ اُٹھ گئے انھوں نے چاقو نکال لیا ہاتھا پائی میں مجھے چاقو لگ گیا انھیں انجیکشن لگا کر میں بھاگ تو آیا مگر میرے خون کے دھبے گرتے گئے تھے جن کا پیچھا کرتے ایس پی مرزا وہاں آگیا میں زخمی تھا میں جانتا تھا مقابلہ نہیں کر پاو گا اسلیے میں نے اسے بے ہوش کرنے کا سوچا ڈیٹا فون میں بھی ہوسکتا ہے یہ سوچ کر فون بھی توڑ دیا پر پر سر ایک غلطی ہوگئی ” نعمان جو کب سے اسے سن رہا تھا اچانک چیخ ” کیا ہوا مرزا کو ؟”
“ سر انکی باڈی میں زہر انجیکٹ ہوگیا ہوسکتا ہے اگر اسے کسی نے نہ دیکھا ہوا تو وہ مر چکا ہوگا!!”
“ واٹ !!! وہ بیڈ سے اچھل پڑا تھا جب نظر فریحہ پر پڑی جو منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی علیم نے بھی اپنے پیچھے دیکھا تو اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے ” بب۔۔بھائی مرزا بھائی کو ممم۔۔۔مار دیا تم نے ایسا کیسے کر سکتا ہو تم نعمان !!! فریحہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اسنے فون نکالا اور ایوب صاحب کو فون کردیا ” ہہ۔۔ہیلو ابو مم۔۔۔مرزا بھائی انھیں مار دیا کسی نے !!! ایوب صاحب کے ہاتھ سے فون گر گیا تھا وہ جو گھر پر دادی اور اپنی بیوی کے ساتھ نا شتہ کرنے میں مصروف تھے اچانک پتھر ہوگئے فون سے ہیلو ہیلو کی آوازیں آرہی تھیں ” ایوب کیا ہوا ؟
“ ایوب بتائیں نہ کیا ہوا ؟ انھیں ایسے دیکھ کر اسکی جان لبوں پر آگئی تھی ” مم۔۔۔مرزا کو مار دیا کسی نے !” شگفتہ بیگم کے ہاتھ سے چینک گر گئی تھی دادی کانپ رہی تھیں اور وہاں فریحہ کا رو رو کر حال برا ہوگیا تھا علیم سر جھکائے خود کو کوس رہا تھا نعمان کا بس نہیں چل رہا تھا علیم کو کھا جائے ” بھابھی ہوسکتا ہے وہ زندہ ہو اگر اسے وقت سے ہسپتال لے گئے ہوئے تو !”
“ مم۔۔۔مجھے ابھی پاکستان جانا ہے !! وہ باہر کی جانب بھاگی جب نعمان اسکے پیچھے جانے کی کوشش کرتا بیڈ سے گر گیا اسکی ٹانگ ساتھ نہیں دے رہی تھی ” بھابھی آج طوفانی بارش کے امکان ہے فلائٹس بند ہیں !” نظریں جھکائے وہ ایک اور صور اسکی کانوں میں پھونک رہا تھا علیم نے آگے بڑھ کر نعمان کی اٹھنے میں مدد کی اسے بیڈ پر بیٹھایا جب وہ اپنا ہاتھ اس سے جھٹک گیا ” سوری سر !! فریحہ نے علیم کو دو تھپڑ ایک ساتھ مارے تھے نعمان نے اسے ارمان جتنا پیار دیا تھا وہ کیسے برداشت کرتا اسے کوئی ایسے مارے اسلیے تیسرے تھپڑ پر ہاتھ روک لیا تھا ” بچہ ہے غلطی ہوگئی !
“ بچہ اس بچے کے ہاتھ نہیں کانپے کسی کو موت کے منہ میں ڈالتے ہوئے شرم نہیں آئی یہ جانتے ہوئے کہ وہ میرا بھائی اسے مار دیا مار کر لاوارث چھوڑ آئے تاکہ جانور اسکی چیر پھاڑ کردیں نفرت ہے مجھے تم سے نعمان نفرت !!! آنسوں پونچتی وہ وہاں سے چلی گئی تھی پیچھے نعمان بس افسوس سے سر جھکا گیا ” سوری سر غلطی ہوگئی اندھیرا تھا درد سے آنکھیں بند ہورہی تھیں بس اتنا پتہ تھا آپکو بچانا ہے اسلیے اسے انجیکشن دے دیا بہت بعد میں پتہ لگا زہر تھا ائم سوری میری وجہ سے آج آپ نے پھر بھابھی کو کھو دیا !” نعمان نے اسکی پشت پر ہاتھ رکھا اور اپنے ساتھ لگا لیا وہ بھی چھوٹے بھائی کی طرح اس سے لپٹ گیا تھا۔
“ایوب کچھ کرو کوئی طریقہ نکالو پاکستان جانے کا مرزا سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا !” ایوب فون پر فون لگائی جارہا تھا مگر ہر طرف موسمی خرابی سے زرائع ابلاغ بند تھا ” آپکی کی وجہ سے آج آپکی وجہ سے میں نے اپنا بیٹا کھو دیا امی !!! ایوب نے درد بھرے لہجے میں کہا تھا ” میں نے منع کیا تھا یہ پیشہ موت کی نگری کو جاتا ہے ہر ایماندار افسر کو نگل جاتا ہے مگر نہیں میرا پوتا یہ میرا پوتا وہ مر گیا آپکا پوتا ! وہ ضبط کی انتہا پر تھے جب فریحہ آئی وہ روتی انکے گلے لگ گئی وہ بھی رو دیے تھے پھر اچانک الگ ہوئے ” تجھے کیسے پتہ چلا کس نے کہا !
“اب اس سوال کا وہ کیا جواب دیتی کہ نعمان شیرازی سے پتہ چلا وہ۔۔۔۔وہ فیسبک پر دیکھا تھا وڈیو ڈالی کسی نے مرزا بھائی کو۔۔۔۔لل۔۔لے جارہے تھے ۔”
“ دکھاؤ مجھے بھی ! اسکی والدہ بھی قریب آگئی تھی مگر شاہدہ بی ویسے ہی ساکن بیٹھی تھیں ” وہ۔۔وہ تو گم ہوگئی ابو آپ۔۔۔آپ کے پاس کمشنر انکل کا نمبر تھا پلیز انھیں فون کریں !!! انھیں تو اب یاد آیا تھا ۔انھوں نے کانٹیکٹ چیک کیے تو آخر میں انھیں کمشنر فیصل کا نمبر ملا جو دوسری بیل پر اٹھالیا گیا ” اس۔۔۔اسلاعلیکم ۔مم۔۔۔میں ایوب بات کررہا ہوں ایس پی مرزا کا باپ مرزا کو کیا ہوا وہ کیسا ہے !”
“ واعلیکم اسلام مرزا ٹھیک ہے کل رات اس پر قاتلانہ حملہ ضرور ہوا تھا اسے زہر دیا گیا تھا بٹ ابھی وہ خطرے سے باہر ہے ! ایوب صاحب نے سکھ کا سانس لیا ” مم۔۔۔میری بات ہوسکتی ہے ؟”
“ میں تو ہاسپیٹل نہیں انسپکٹر دانیال ہیں وہاں آپ ان سے بات کرلیں میں نمبر بھیج دیتا ہوں!”
دانیال مہتاب فری ہیر سب اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کررہے تھے جب دانیال کا فون بجا انجان نمبر دیکھ اسنے پک کرلیا ” ہیلو دانیال میں ایوب بات کررہا ہوں مرزا کیسا ہے ؟”
اسلام علیکم انکل کیسے ہیں آپ ؟
“ مرزا کیسا ہے میری بات کرواو اس سے ! سپیکر آن تھا فون کا ان سب کو سکون ہوگیا تھا مرزا کی خیریت کا سن لیا تھا
“ جی انکل وہ ٹھیک تو ہے مگر اسے ہوش نہیں آیا ابھی تک ہم بس اسی کا انتظار کررہے ہیں !”
“ دانیال ہیر سے بات کرواو ! دادی کی آواز پر اسنے ہیر کی جانب دیکھا جو ابھی بھی اللہ ہو کی گردان کررہی تھی ” بھابھی دادی مرزا کی دادی بات کرنی چاہتی ہیں !” اسنے کپکپاتے ہاتھ سے فون پکڑا ” اسلام علیکم خالہ بی کیسی ہیں آپ ؟”
” میں تو ٹھیک ہوں تو کیسی ہے مرزا کیسا ہے !”
وہ اب ٹھیک ہیں ڈاکٹر کہہ رہا تھا تھوڑی دیر میں ہوش اجائے گا بس انھیں ہوش اجائے!”
“ ہم آجائیں گے میری بچی پریشان نہ ہونا اکیلی ہم آجائیں گے جائیں گے نہ ایوب !”
“ نہیں جب میں نے اس سے کہا تھا کہ پیشہ سوائے موت کے کچھ نہیں تب میری بات نہیں مانی اس نے روز تڑپا کر اسے مزا آتا ہے یہ ضدی ہے تو میں اسکا باپ ہوں ” یہ ساری باتیں ہیر نے بھی سنی تھی ” ایسی ضد کا کیا فائدہ چچا جو اپنے کو تکلیف میں دیکھ کر بھی اسکا مداوا نہ کرنے دے آپ ان سے ناراض ہیں کہ انھوں نے آپ سب کا سوچے بغیر پولیس والے بن گئے تو اس طرح تو مجھے میرے ماں باپ سے نفرت کرنی چاہیے باپ ملک کے لیے مر گیا اور ماں ابا کے لیے دونوں نے میرا تو سوچا ہی نہیں مگر مجھے ان سے نفرت نہیں ہے مجھے ان سے محبت ہے فخر ہے کہ ان دونوں نے وفا کی ایک نے ملک سے اور دوسرے نے محبت سے بابو بھی اپنے ملک سے وفا کررہے ہیں آپکو یہ ڈر ہے یہ ملک بابو کو مار دے گا اس بات کا فخر نہیں ملک بچاتے شہید ہوگا مجھے میرے بابو پر فخر ہے آج بھی جنگ لڑتے موت کے منہ سے واپس غازی بن کر آئے ہیں دادی بتاتی تھیں جو ملک کی حفاظت کرتا دم توڑ دے وہ شہید اور جو لڑتے لڑتے جیت کر لوٹ آئے اسے غازی کہتے ہیں بابو بھی جنگ جیت گئے انکے دشمن ہار گئے وہ مرے نہیں زندہ ہیں وہ غازی ہیں ان پرخدا فخر کررہا ہے اور آپ ناراض ہوئے بیٹھے ہیں ۔ ایک باپ جب سینے سے لگا کر یہ کہتا ہے کردے تو انسان دنیا فتح کرلیتا ہے آپ بھی انھیں سینے سے لگا کر کہہ دیں کہ جا جنگ فتح کرکے آ تو دنیا پلٹ دیں گے وہ لیکن اگر ناراضگی میں وہ اللہ کو زیادہ پیارے ہوگئے تو ضد آنا غصہ ناراضگی کوئی کچھ کر پائے گا؟ .” ہیر کی باتیں سنتے ایوب صاحب کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے سچ ہی تو کہہ رہی تھی آج اس پر قاتلانہ حملے کی خبر سنی تھی تو تڑپ اٹھے تھے اگر کسی دن تب وہ کیا کرے گے۔” ہیر تم بہت سیانی ہو اتنی کہ آج تم نے اپنے باپ کو سدھار دیا ہم لوگ آئیں گے خوشیاں لیکر بس ایک بار جہاز چلنے لگ جائیں !” ہیر کے چہرے پر اب مسکراہٹ آئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح جب دائم اٹھا تھا تو امل کمرے میں نہیں تھی حویلی میں ابھی تک کسی کو کل والے حادثے کے بارے میں نہیں پتا تھا میڈیکل یونی ورسٹی میں چھٹیاں تھیں ایک منتھ کی وہ بلیک شلوار قمیض کی آستین موڑتا نہا کر نکلا تھا بال کو اوپر کی طرف کنگا کرکے کندھوں پر شال ڈالے جوتا پہنتا کہیں جانے کی تیاری کررہا تھا جب دروازہ کُھلا سادہ سفید گھیرے دار فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ اور ساتھ سرخ آنچل ہاتھوں میں چوڑیاں پیروں میں پائل کھلے بال ہلکا میک اپ وہ سچ میں نئی نویلی دلہن لگ رہی تھی مگر دائم پر اسکا کچھ خاص اثر نہیں ہوا تھا اسنے چائے کی ٹرے لاکر دائم کے سامنے رکھی اور چائے بنانے لگی اسنے پہلے گرم پانی ڈالا پر ٹی بیگ پھر دودھ ” چینی !!! دائم نے کوئی جواب نہیں دیا اور اسکی کاروائی دیکھتا رہ گیا آخر اسنے دو چمچ ڈال کر اسے چائے پکڑا دی جب اسنے چائے کے ساتھ اسکا ہاتھ پکڑ لیا وہ حیران رہ گئی ” خوبصورت لگی رہی ہو ؟”امل کے لیے تو جیسے عید ہوگئی تھی وہ اسکے ہاتھ کو غور سے دیکھ رہا تھا اسکی لمبی انگلیاں نرم جلد جسے وہ محسوس کررہا تھا ” تمہارے ہاتھ بھی خوبصورت ہیں چائے بھی بڑی اچھی لگ رہی ہے ! اسنے چند لمحے اسکے ہاتھ کو دیکھا اور گرم چائے اسکے ہاتھ پر گرا دی آہہہ!!! اسکے منہ سے دل خراش چیخ نکلی تھی جب اسکا ہاتھ چھوڑتا وہ اٹھ کھڑا ہوا ” میں کوئی شہری چوزہ نہیں ہو جو چینی پتی دودھ مقدار سے پیتا ہو امی چاہ بنا دیں میرے لیے چولہے پے پکی ہوئی ! دھاڑتا نیچے چلا گیا ایک بار پلٹ کر دیکھا بھی نہیں کہ اسکا ہاتھ کتنا جل گیا ہے ہاتھ کی ساری پشت لال ہوگئی تھی زخم سے زیادہ تکلیف اس بات کی تھی کہ زخم تو دیا مرہم تو رکھ کر جاتا ہاتھ دوپٹے میں لپیٹے وہ گھٹی گھٹی آواز میں رو رہی تھی ۔ مگر اسے سنے والا تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ہوش آگیا تھا اسے بولنے میں تھوڑی تکلیف تھی مگر وہ بول رہا تھا کمشنر صاحب بھی دوبارہ اسکی حالت دیکھنے آگئے تھے ۔” لیکن مرزا مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی ہم نے نعمان شیرازی کے نائٹ کلب کی فوٹیج اور ڈرنک کا لیب ٹسٹ کروایا ہے وہاں منشیات کی ڈیلنگ ہوتی ہے یہ ساری انفارمیشن ہم نے اکٹھی کی اسکے بارے میں صرف ہمیں پتا تھا نعمان شیرازی کو کیسے پتہ چلا اور اسے ایڈوکیٹ فرحت خان کے بارے میں کیسے پتا چلا ہم نے تو کبھی ان سے کھلم کھلا بات بھی نہیں کی کہیں اسنے ہمارے فونز ہیک یا ہمارے پیچھے کوئی فالور تو نہیں لگایا یا ہمارا اپنا کوئی آدمی مخبر !!!
“ صرف تو میں مرزا اور کمشنر سر جانتے تھے کہ یہ ثبوت نعمان شیرازی کی ہر ایکٹیویٹی ریٹارڈ کردے گا تو پھر کون ؟”
“ ویل بوئز مجھے لگتا ہے۔ ہم نعمان شیرازی خلاف کچھ نہیں کرسکتے عدالت ثبوت مانگے گی انکوائری کے لیے اور وہ ہمارے پاس ہے نہیں مرزا مائی بوائے گیٹ ویل سون اور چھوڑ دو نعمان کا پیچھا سارے کرپٹ ہیں کس کس سے بچو گے !” اپنی بات کہہ کر کمشنر صاحب چلے گئے تھے مرزا نے انھیں جاتے ہوئے عجیب نظروں سے دیکھا وہ باہر آکر گاڑی میں بیٹھے جب انکا فون بجا ۔
“ اسلاعلیکم ورحمتہ وبرکاتہ! کمشنر صاحب کیسے ہیں میرا خیال آپکا اکاؤنٹ تو منہ کو آگیا ہوگیا ۔” نعمان کی آواز سن کر کمشنر صاحب کے چہرے پر تھوڑی ناراضگی آگئی تھی ” نعمان تم نے اچھا نہیں کیا میرے آفیسر پر تمہارے آدمی نے قاتلانہ حملہ کیوں کیا اگر وہ مر جاتا تو تم پکا ختم تھے سب کو پتہ چل جاتا پہلے ہی بڑی مشکل سے میں نے مرزا کو یہ بات راز رکھنے کو کہا تھا اور پھر تمہیں چرانے کے لیے تاکہ منظر پر آئے بغیر سب حل ہو جائے !”
“ بس بچہ تھا غلطی ہوگئی آپکے اکاؤنٹ میں پچاس لاکھ ٹرانسفر کردیے گئے ہیں اوکے بائے !! فون رکھنے کے بعد اسنے علیم کو دیکھا جو ٹیب پر کچھ کررہا تھا ” سر کمشنر فیصل اکرم ایڈ !! پر اسرار مسکرا کر آنکھیں موند گیا ۔
“ دد۔۔۔۔دانیال ۔۔۔ککک۔۔۔۔کمشنر سر پر نظر رکھو وہ ہمارے سا۔۔۔۔۔ساتھ نہیں ہیں ! مہتاب اور دانیال نے حیرت سے اسے دیکھا پھر کچھ سمجھ کر اثبات ہلا دیا وہ مسکرا کر دانیال اور مہتاب کی باتیں سن رہا تھا اور ہیر کب سے دروازے میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی جب اچانک مرزا کی نظر اس جانب گئی تو حیران رہ گیا تھکی ماندی رف سے حلیے میں وہ ان پڑھ تھی مگر سلیقہ شعار تھی آج تو وہ اپنا آپ بھلائے بیٹھی تھی ۔ دانیال نے اسکی نظروں کی تعاقب میں دیکھا تو اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر باہر چلے گئے انکے جانے کے بعد بھی وہ وہیں کھڑی تھی اسے دیکھے جارہی تھی جب اسنے ہاتھ سے آنے کا اشارہ کا دوپٹہ سر پر سیدھا کرتی وہ اسکے پاس آگئی مرزا نے بیڈ سے تھوڑا کھسک کراسے جگہ دی ” بب۔۔بیٹھو !”اسنے ایک نظر اسے دیکھا اور سر جھکا کر بیٹھ گئیں طویل لمحے کے لیے خاموشی حائل ہوگئی تھی نہ مرزا نے اسے دیکھا نہ وہ ہیر نے اسے پھر ہمت مجمع کرکے مرزا نے اسے مخاطب کیا ” مم۔۔میں ٹھیک ہوں یہ مشینیں بس ایسے ہی ہیں مجھے کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں بلکل تم ڈرو مت اب سب ٹھیک اور ۔۔۔وہ اسکے سینے پر سر گرائے دل کھول کر رو دی تھی اسکی شرٹ کو مضبوطی سے تھامے وہ ساری رات کی بھڑاس نکال رہی تھی بہت ہمت دکھائی تھی مگر اب بس ہوگئی تھی مرزا کو اسکی آنکھوں کا گرم پانی اپنے سینے پر گرتا محسوس ہورہا تھا مگر آج وہ اسے دھکیل نہیں سکتا تھا وہ پریشان تھی اور نہیں کرنا چاہتا تھا اسلیے ہاتھ اسکے بالوں پر رکھ دیا ” ساری رات کا ایک لمحہ نہیں تھا جب سانس لینے میں آسانی آئی ہو بس کھینچ کھینچ کر یہ وقت آیا ہر لمحے بعد لگتا تھا پیروں سے جان نکل جائے گی میں ۔۔۔۔میں نے کہا تھا مت جائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے کچھ غلط ہو جائے گا مگر آپ نے نہیں مانا دیکھ لیا کوئی اپنا تکلیف میں آنا والا ہو تو دل اشارے دیتا ہے مگر اپنا سنتا ہی نہیں تو کیا کریں ! اسنے اسکے کپڑے بھگو دیے تھے اسنے ایکدم اسے خود سے الگ کیا ” تم نے تو آج کریلے پکانے تھے دوپہر سر پر آگئی پتہ نہیں دو بجے کھانا کھا لیتا ہو بھوکا مارنا ہے !!”” ہیر نے آنسو پونچھ کر اسے دیکھا ” ڈاکٹر نے کہا نرم کھانا دینا ہے میں دالیہ بنا کے لاو یا ساگو دانہ !! مرزا نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا ” تمہیں پتا ہے مجھے یہ سب نہیں پسند مجھے کریلے ہی کھانے ہیں اور وہ بھی زیادہ پیاز والے !!! ہیر نے خاموشی سے اسے دیکھا اور آٹھ گئی ” میں نے ڈاکٹر کی بات مانی ہے ساگو دانہ بنا لاتی ہوں !” اور باہر نکل گئی پیچھے وہ حیرت سے منہ کھولے دیکھتا رہا پھر خاموشی سے آنکھیں موند گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جوجو زی زی نے اپنا کام کرنا تھا شروع کرنا تھا امبر اور لائبہ پڑھائی پر فوکس تھیں آج انھیں کچھ بھی ہوش نہیں تھا نہ ہی وہ انھیں چھیڑ رہی تھی جوجو اور زی زی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کلاس ختم ہونے کے بعد انسے چند قدم کے فاصلے پر چلنے لگے جب انکی باتیں کان میں پڑی ” یا پندرہ تاریخ کو لاہور کے قدافی سٹیڈیم میں عاطف اسلم کا کانسرٹ ہے پی ایس ایل سٹارٹ ہونے والا ہے نہ بہت بڑی سیریمنی ہوگی کاش ہم بھی جا پاتے ! امبر نے افسوس سے کہا ” مگر امبر تجھے پتہ تو ہے نہ بھائی اور پاپا کو یہ سب اچھا نہیں لگتا اور ہمارے اکیلے جانے پر تو وہ کبھی نہیں مانے گے ہاں اگر کالج یا اکیڈمی لیکر جائے تو مان جائیں گے !” امبر افسوس سے سر جھکا گئی تھی تبھی جوجو اور زی زی انکے پاس آئے ” اسلام علیکم! ان دونوں نے حیرت سے انھیں دیکھا اور کتابیں اٹھا کر جانے لگی تو جوجو نے امبر کا ہاتھ پکڑ لیا زی زی نے لائبہ کا بیگ کھینچا تھا ” سوری !! ایک ساتھ سوری کہنے پر ان دونوں نے حیرت سے ان آفت پرکالوں کو دیکھا ” کیا !!!”
“ ہاں وی آر سوری فار دیٹ بٹ ہم کیا کرتےتم لوگوں نے ہمیں لیسبین کہہ دیا تھا غصہ آگیا بٹ ناؤ سوری فرینڈز !!! امبر اور لائبہ نے حیرت سے انھیں دیکھا اور مسکرا دی ” اٹس اوکے فرینڈز !! وہ دونوں پر بھی خوش ہوگئے تھے اور وہیں بیگ رکھ کر بیٹھ گے جوجو امبر سے باتیں سن رہا تھا اور زی زی لائبہ کو قصے سنا رہا تھا جب انھیں لگا کہ لوہا گرم ہوگیا ہے تو انھوں نے ہتھوڑا مار دیا” یار تم لوگ پی ایس ایل دیکھتی ہو !
“ ہاں مجھے پی ایس ایل بہت پسند ہیں میں تو ہر بار پورا دیکھتی ہوں .”
“ ہم تو لائیو دیکھتے اور سٹارٹ تو ہم مس ہی نہیں کرتے اور پرسوں سے سٹارٹ ہورہا ہے ماموں نے ٹکٹس بک کروا لیں ہیں !” لائبہ اور امبر کے چہرے اتر گئے تھے جوجو نے زی زی کو آنکھ دبائی ” تم لوگ چلو گی ہمارے ساتھ ؟”
“ نہیں ہمارے بھائی اور پاپا پرمیشن نہیں دیں وہ تو اکیلے نہیں جانے دیتے تو تمہارے ساتھ تو سوچو ہی مت !”
“ تو ہم اکیلے نہیں جائیں گے ہمارے ساتھ اکیڈمی کے کچھ سر اور ٹیچرز چند سٹوڈنٹس بھی چلیں گے میں نعمان ماموں سے کہہ دوں گا وہ پی ایس ایل کو سپانسر کرتے ہیں ! ان دونوں کے چہروں پر چمک آگئی تھی ” سچی ایسا ہوسکتا ہے تو کیا ہی بات ہے ہم بھی چل سکتی ہیں پھر !”
“ تو ٹھیک ہے میں ماموں سے کہہ دوں گا میرے ماموں بہت رِچ ہیں انکا ایک نائب کلب ہے ایک ہوٹل اور تیسرا وہ بنانے والے ہیں دی ڈریم وِلا وہ پاکستان سب سے بڑا ہوٹل اینڈ کلب ہوگا جہاں فارنرز بھی وزٹ کریں گے ۔”
“ ہیں تمہارے ماموں کے پاس اتنا پیسہ ہے ؟”
“ ابھی تو بولا وہ بہت رچ ہیں اور بہت اچھے بھی !!انھوں نے رشک سے کہا شیرازیز کے بارے میں وہ جانتی ہی نہیں تھیں اسلیے دھوکا کھا گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منال تم اتنی لاپرواہ تو کبھی نہیں تھی کہ ایک انجان آدمی وہ بھی جسنے تمہارے دوست کو مارا ہو اسے گھر لے آو !!! منال افسردہ سی صوفے پر بیٹھی تھی صبح جب اسکے ماں باپ آئے تھے تو وہ انھیں بے ہوش ملی تھی اور ہوش میں آنے کے بعد وہ سب بتا چکی تھی جس پر اسکی خدمت کی جارہی تھی ۔ اور اسکے کانوں میں اسکے الفاظ گونج رہے تھے ” راہ زنی ڈاکو آگئے بائیک چھینی مجھے مارا اور بھاگ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈر نہیں لگ رہا خطرناک بھی ہوسکتا ہوں گھر بلا رہی ہوں !!
“ منال!!!!!!!! اسنے گہرا سانس لیکر رافع کو دیکھا جو سکول سے آیا تھا ” رافع ٹیسٹ دکھاؤ !”
رافع نے پہلے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر ٹیسٹ اسکے سامنے کردیا جس میں اسکا ایک معروضی غلط تھا ” یہ ایک نمبر کیوں کٹا ہے کتنی بار بتایا مینڈک کا سائنسی نیم رانا ٹِگرینا ہے پھر یہ تم نے کچھ اور کیوں لگایا !!
“ آپی بھول گیا تھا دوست سے پوچھا تو اسنے یہ بتایا تھا !”
“ دوسروں پر یقین نہیں کرتے سب جھوٹ بولتے دھوکا دیتے ہیں دوسروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے کہتے کچھ ہیں اور ہوتا کچھ اور ہے! ٹیسٹ وہیں پٹخ کر کمرے میں چلی گئی ” غلطی اپنی ہے اور غصہ کسی اور پر !!
“ آپ دونوں کب سے میری بیٹی کو بلیم کیے جارہے ہیں ایک بار بھی سوچا اسنے یہ سب انسانیت کے لیے کیا تھا اسے کیسے پتا ہوتا وہ قاتل ہے اسنے تو ایک انسان کو تکلیف میں دیکھا اور خدا ترسی کرنے لگی اسے کیا معلوم تھا وہ دھوکا دے گا پہلے مہتاب نے اسے ہاں کرکے نہ کردی اور پھر اس انسان نے اسکے خلوص سے دھوکا کیا وہ بہت ہرٹ ہے !” اسکی والدہ انھیں کہہ کر اندر چلی گئیں ۔اور وہ باپ بیٹا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی
نعمان لیبر روم کے باہر بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا علیم بھی اسکی یہ حالت دیکھ دیکھ کر ہنس رہا تھا جب نرس باہر آئی اسکی گود میں کپڑے میں لپٹا چھوٹا سا ایک گہوارا تھا جسے اسنے اسکی جانب بڑھایا ” مبارک ہو بیٹا ہوا ہے !” اسنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اسے تھاما ” خوش آمدید میری جان میرا منان !!
“ ویلکم جونئیر نعمان !!! علیم نے بھی اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا ” نرس میری وائف !”
” وہ بھی ٹھیک ہیں ابھی تھوڑی دیر تک انھیں جنرل وارڈ میں شفٹ کردیا جائے گا آپ ان سے مل سکتے ہیں !!”وہ منان سے لاڈ کرنے لگ گیا تھا اسے روپ میں شفٹ کرنے کے بعد نعمان خود اس سے ملنے آیا تھا اسکے ماتھے پر بوسہ دیا ” تمہیں پتا وہ کتنا چھوٹا اتنا سا ہے بس ! اسنے دو ہاتھوں کے درمیان تھوڑی سے جگہ بنا کر کہا ” اتنا نرم جیسے روئی ملائم اسکی سکن پنک پنک ہے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پیر ہیں آنکھیں بھی نہیں کھولی اسنے اسکی کچھ ویکسینیشن کرنے کے لیے نرس لے گئی تھوڑی دیر میں لادے گی !” وہ اس سے اتنی ساری باتیں کررہا تھا اور وہ غیر مرائی نقطے کو گھوری جارہی تھی ” فریحہ کیا بات ہے تم خوش نہیں ہو ؟”
“ نو مہینے پورے ہوگئے آپکو آپکا بچہ مل گیا مجھے جانے دیں طلاق دیں مجھے !! نعمان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی نو مہینے میں اسکی محبت کا کچھ اثر نہیں ہوا تھا اس پر اسے آج بھی مجھ سے الگ ہونا ہے ” فریحہ دیکھو ابھی ہم الگ نہیں ہوسکتے منان کتنا چھوٹا ہے اسے تمہاری بہت ضرورت ہے!”
“ میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا مجھے نہ تو یہ بچہ چاہیے اور نہ آپ سے رشتہ زبردستی مجھ پر مسلط مت کریں اسے آپ نے کہا تھا نو مہینے بعد آپ مجھے چھوڑ دیں گے !!
“ مگر فریحہ ابھی وقت !!! تبھی نرس منان کو لیکر آگئی یہ لیں میم آپکا بے بی اور اسے فیڈ کروا دیں یہ بھوکا ہے !! لیکن فریحہ منان سے رُخ بدل گئی تھی وہ رو رہا تھا وہ سن نہیں رہی تھی ” فریحہ اسکا پہلا حق تو دے دو اسے !”
“ نعمان اسکو لیجائے یہ صرف آپکا بیٹا ہے مجھے میری آزادی دے دیں !”
” دے دوں گا پہلے اسے پکڑ لو دیکھو وہ بھوک سے کیسے رو رہا ہے !” مگر فریحہ تو جیسے پتھر ہوگئی تھی نعمان کو اس پر غصہ آگیا تھا منان کو نرس سے لیا اور اسے لے گیا فریحہ سے دور اسے تڑپانے ۔۔۔۔۔منان کے جانے کے چند روز بعد ہی فریحہ کی ممتا جاگنے لگی تھی وہ جہاں کہیں کوئی بچہ دیکھتی تو اسے منان یاد آتا ماں کا پیار دیکھتی تو اسکی اپنی کوکھ اسکی گود اسکی تزلیل کرنے لگتی اسے اسکی تکلیف اسکا بچہ یاد آنے لگا تھا اور پھر ایک دن نعمان نے اسے ایک بچے کی تصویر بھیجی ایک ماہ کا منان جو کافی صحت مند تھا ہنس رہا تھا اسکی محبت کی نشانی وہ اس ملنا چاہتی تھی اپنی غلطی کا مداوا کرنا چاہتی تھی اسنے نعمان سے کہا بھی تھا وہ منان سے ملنا چاہتی مگر تب نعمان نے یہ شرط رکھ دی تھی کہ اسے ہم دونوں کو سب کے سامنے اپنانا ہوگا اور تب سے آج تک وہ منان سے ملنے کے لیے بھیک مانگتی آئی جو اسے کبھی نہیں ملی ۔۔۔۔
جاری ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✨۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے