No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
وه کنفیوز سی الماری کے سامنے کھڑی تھی۔ راجہ اسے کہہ کر گیا تھا کہ آدھے گھنٹے میں تیار ہو جاۓ کہیں باہر جانا ہے۔ الماری کافی زیادہ ملبوسات سے بھری پڑی تھی۔ یہ سارے کپڑے اس کے آنے سے پہلے ہی الماری میں سیٹ کر کے رکھے گئے تھے۔
شاید راجہ اپنی مرضی سے لے کر آیا تھا۔تمام لباس بہت خوبصورت تھے۔وہ زیادہ تر جینز کے ساتھ شارٹ شرٹس یا فراکس ہی پہنتی تھی پر یہ سب شلوار قمیض اور لانگ فراکیں تھیں۔
اس نے گلابی رنگ کا لباس نکالا اور شیشے کے سامنے جا کر اپنے ساتھ لگا کر چیک کرنے لگی۔
وه گلابی رنگ کی لمبی قمیض تھی جس کے بوٹ گلے دامن اور کھلے بازوؤں پر گلابی رنگ کی ہی نفیس سی کڑھائی ہوئی تھی۔ ساتھ میں تھوڑا بھاری میچنگ دوپٹہ اور سادی شلوار۔ وه لباس اسے بہت پسند آیا تھا۔
گھڑی پر نظر پڑتے اسے وقت کی قلت کا احساس ہوا تو تیزی سے باتھ روم کی طرف بڑھی۔
فریش ہو کر وه باہر آئی تو راجہ اب تک نہ آیا تھا۔ وه شیشے کے آگے کھڑی ہوتی تیار ہونے لگی۔
راجہ کہ کہنے پر اس کے لئے یوں سجتے اسے بہت شرم آ رہی تھی۔میک اپ کو فائنل ٹچ دیتے اس نے دوپٹہ اٹھانے کی غرض سے بیڈ کا رخ کیا تو اس کی نظر اپنے موبائل پر پڑی۔
حاشر اسے بار بار كالز اور میسجز کر رہا تھا پر اس نے نہ تو کال اٹھائی اور نہ ہی اس کے کسی میسج کا جواب دیا۔
جب حاشر کے نکاح میں ہوتے اس نے نہ کسی غیر محرم کے متعلق سوچا نہ کسی سے رابطہ رکھا تو پھر راجہ کے نکاح میں ہوتے وه کیوں کر حاشر سے رابطہ رکھتی۔
ہاں وه اس کی پہلی محبت اس کا شوہر تھا۔ پر یہ”تھا” ہی ہر بات پر بھاری پر جاتا تھا۔ وه جب تک راجہ کے نکاح میں تھی تب تک اس کی ساتھ وفا دار رہنا چاہتی تھی پوری طرح سے۔
ابھی وه ان ہی سوچوں میں گم تھی جب پیچھے سے دو مضبوط بازو اسے اپنے حصار میں لے گئے۔
“کیا سوچ رہی ہے میری رانی؟”
وه اس کے گرد اپنا حصار مضبوط کرتا محبت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا۔ اپنی گردن پر اس کی سانسوں کی تپش محسوس کرتے نوریہ تھرا اٹھی۔ وه اسے یوں ہی باہوں میں لئے اس کا رخ اپنی طرف کر کے اس کی صبیح پیشانی کو اپنے ہونٹوں سے معتبر کر گیا جب کہ وه آنکھیں بند کرتی اس عقیدت بھرے لمس کو محسوس کرنے لگی۔ اس نے راجہ سے جڑنے سے پہلے کہاں محسوس کی تھی لمس میں ایسی عقیدت!
“ما شاء اللّه!”
اس کے چہرے پر نظر پڑ تے بے ساختہ اس کے منہ سے یہ كلمات نکلے تھے جنھیں سنتی نوریہ سرخ پڑ گئی۔
وه مبہوت سا اس کے چہرے پر پهيلے خوبصورت رنگوں کو دیکھ رہا تھا۔ کیا اس سے دلکش منظر بھی کوئی ہو سکتا تھا۔
“میں جب جب اپنی رانی کو دیکھتا ہوں تو والله دل بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے!”
کانوں میں پڑتی اس کی سرگوشی سنتے نوریہ کا دل بے تحاشہ دھڑکنے لگا تھا.
“بب۔۔باہر جانے کا کہا تھا آ۔۔آپ نے!”
وه اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی فاصلہ بڑھانے کی ناکام سی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
“ابے یار! تجھے دیکھنے کے بعد تو راجہ اپنا آپ ہی بھول جاتا ہے یہ تو پھر بہت چھوٹی سی بات ہے۔
وه اس کے گلے میں پہنے نیکلیس کے موتی کو چھیڑتا ہوا بولا۔
“پر میں باہر جانا چاہتی ہوں۔”
وه اپنے دوپٹے سے بے پرواہ وجود پر اس کی بے باک نظریں محسوس کرتی ہوئی لاج سے بولی۔
“میری رانی کا ہر حکم سر آنکھوں پر!”
وه اس کی آنکھوں کو چھوتا ہوا بولا۔
اس کے پیچھے ہٹتے ہی وه جلدی سے بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر کندھوں پر ڈال گئی۔
اس کی بوکھلاہٹ دیکھتا وه قہقہہ لگا گیا اور الماری کے باہر لٹکے اپنے کپڑے پکڑ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
وه کپڑے بدلتا باہر آیا تو نوریہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ کالی پینٹ پر کالی ہی شرٹ پہنے کھلے لمبے بالوںاور اپنے توانا وجود کے ساتھ وه نوریہ کو کافی ہینڈسم لگا۔ اس کیگهنی مونچهوں اور داڑھی سے اس کا آدھا چہرہ ڈھکا جاتا تھا۔ پر اس کی رنگت صاف تھی۔
وه اس کی طرف مسکراہٹ اچھالتا شیشے آگے جا کھڑا ہوا اورآدھے بالوں کو جوڑے میں باندھنے لگا۔ بالوں سے فارغ ہونے کے بعد اس نے ڈریسنگ پر پڑے بینڈز کو اٹھا کا ایک ایک کرتے ہاتھ پر باندھا ۔پھر گلے میں چینز پہننے لگا جب وه لب دباتی اس کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
“یہ مت پہنیں آج پلیز !”
بول تو چکی تھی پر ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اس کی شامت نہ آ جاۓ۔
“جو حکم میری رانی!”
وه سینے پر ہاتھ رکھتا اس کے آگے جھک کر عاجزی سے بولا تو وه کھلکھلا کر ہنس دی۔پر اس کی ہنسی کی بریک تب لگی جب وه ایک دم جھکتا اس کے گلابی گالوں پر لب رکھ گیا۔
“بے شرم!”
اس کا پیچھے ہوتے ہی وه باہر کی طرف دوڑ لگا گئی جب کہ وه اس کی حرکت پر قہقہہ لگا کر رہ گیا۔
“میری معصوم محبت!”
وه محبت سے کہتا اس کے پیچھے باہر کی طرف چل دیا۔
وه صحن میں آیا تو وه تیار کھڑی تھی۔ وه اس کا ہاتھ تھام کر گھر سے باہر نکل آیا۔ باہر نکل کر دروازہ بند کر کے تالا لگانے لگا جب کہ نوریہ گلی میں نظریں دوڑا رہی تھی۔
راجہ تالا لگانے کی بعد اس کے پاس آیا اور اس کی کندھے پر پڑی چادر اس کے سر پر ڈال دی۔
“راجہ نہیں چاہتا کے اس کی رانی کے حسن پر کسی اور کی نگاہ تک پڑے۔ رانی کے تن اور من پر صرف راجہ کو حق حاصل ہے۔”
اس کی شدت پسندی پر نوریہ جھرجھری لے کر رہ گئی۔
“ہم کہاں جا رہے ہیں۔”
وه اس کی بات ٹالتی ہوئی بولی۔
وه دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پیدل چل رہے تھے۔
“جان جاۓ گی میری رانی اتنی جلدی بھی کیا ہے!”
اس کی بات پر وه سر ہلاتی اپنے سر سے پهسنے والی چادر سہی کرنے لگی۔
گلی سے نکل کر وه میں روڈ پر آ گئے جب اچانک ایک لڑکا سامنے آیا۔اس سے پہلے کہ وه نوریہ سے ٹکراتا راجہ اسے تیزی سے اپنے ساتھ لگا گیا۔
“ابے سا*لے اندھا ہے کیا؟ دکھتا نہیں بے کیا تیرے کو؟”
وه ایک دم اس لڑکے پر گرجنے لگا جب کہ وه لڑکا راجہ کو دیکھتے گھگھیا گیا۔
“بھائی معاف کر دو بھائی۔ میں تو اپنے دھیان میں جا رہا تھا آپ کو اور بھابھی جی کو دیکھ نہیں پایا۔ معاف کر دو راجہ بھائی۔”
نوریہ حیرت سے اس لڑکے کو راجہ سے خوف کھاتا دیکھ رہی تھی۔
“تیری تو میں ۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه اس لڑکے کو مارنے کے لئے اس کی طرف لپكتا نوریہ جلدی سے راجہ کا بازو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام گئی۔
“چھوڑ دیں پلیز!”
اس کی آنکھوں اور لہجے میں التجہ دیکھ کر راجہ کو خود پر غصّہ آیا۔
“پہلی فرست میں كهسك لے یہاں سے۔”
راجہ کے کہنے کی ہی دیر تھی کہ وه لڑکا گدھے کے سر سے سینگھ کی طرح وہاں سے غائب ہوا جب کہ نوریہ تو بس اس کی پھرتی ہی دیکھتی رہ گئی۔
اپنے ہاتھ پر سخت گرفت محسوس کرتی وه سر اٹھا کر راجہ کی طرف دیکھنے لگی۔
“چلیں؟”
اس کے پیار سے پوچھنے پر نوریہ بھی ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاتی اثبات میں سر ہلا گئی۔
وه دونوں سامنے کھڑی ٹیکسی میں بیٹھ کر ایک حسین دن منانے نکل پڑے۔
راجہ اسے لئے ایک ڈھابے پر آیا تھا جب کہ نوریہ حیرت سے ارد گرد کا ماحول دیکھ رہی تھی اس کے لئے یہ سب بالکل نیا تھا۔ وہاں کرسیوں اور میز کی جگہ تخت پڑے تھے جن پر گاؤ تکیے رکھے گئے تھے۔
راجہ اسے لئے ایک تخت کی طرف بڑھ گیا۔ وه جوتے اتارتا اوپر ہو کر بیٹھا تو اس کی دیکھا دیکھی وه بھی اپنا جوتا اتار کر بیٹھ گئی۔
اس پر نظر پڑتے ہی ایک آدمی تیزی سے ان کی طرف آیا۔
“سلام راجہ بھائی! کیسے ہیں آپ؟ کیا کھانا پسند کریں گے آج؟”
اس کے سوالوں سے نوریہ کو اندازہ ہوا کہ راجہ پہلے بھی یہاں آتا رہا ہو گا۔ اس نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ اس آدمی نے ایک دفعہ بھی نوریہ پر نظر نہیں ڈالی۔ وه راجہ کی طرف دیکھنے میں مگن تھی جو اب آرڈر بتا رہا تھا اس آدمی کو۔
چند منٹوں بعد ہی دو لڑکے آئے اور ان کے آگے دسترخوان سجانے لگے۔ جب کھانا چنا گیا تو وہ لڑکے واپس چلے گئے جب کہ راجہ نوریہ کی طرف متوجہ ہوا۔
راجہ نے ایک پلیٹ میں فرائیڈ فش سجا کر اس کے آگے رکھی اور خود بھی اس کی طرف كهسک گیا۔
“کھانا شروع کرو میری رانی!”
وه روٹی کے نوالے میں مچھلی کا ٹکرا رکھ کر پاس پيالی میں پڑی چٹنی میں وه نوالا ڈبو کر اس کے منہ میں ڈال گیا۔
نوریہ اب تک الجھی ہوئی نظروں سے اسے ہاتھ سے مچھلی توڑتے دیکھ رہی تھی کیوں کہ اس نے ہمیشہ چھری کانٹے سے ہی مچھلی کھائی تھی وه بھی کیچپ کے ساتھ۔ پر حیرت انگیز طور پر اسے اس طرح کھانا بہت اچھا لگا تھا۔ یہ مچھلی بہت ذائقہ دار تھی۔ اس نے خود سے اعتراف کیا کہ اسے آج تک مچھلی کھانے کا اتنا مزہ نہیں آیا جتنا اس وقت آ رہا تھا۔
وه ایک نوالا اسے کھلاتا اور ایک خود کھاتا۔ وه بھی مزے سے اس کے ہاتھ سے کھاتی جا رہی تھی۔ اس کی لئے یہ خوبصورت احساس بالکل نیا تھا۔ حاشر نے آج تک اسے اپنے ہاتھ سے ایک نوالا بھی نہ کھلایا تھا۔
راجہ کا یوں توجہ اور محبت سے کھلانا نوریہ کو بہت لبها رہا تھا۔
“بس!”
اس کے بولنے پر راجہ سر ہلا گیا۔
“ہاں ٹھیک ہے ابھی میٹھا بھی تو کھانا ہے نا!”
اس کی بات پر نوریہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ کیا اسے نہیں پتا تھا کہ وه میٹھا نہیں کھاتی۔ اسے میٹھا پسند نہیں۔پھر اسے یاد آیا کہ وه کیسے جانتا ہو گا۔وه دونوں تو اب ملے تھے۔
وه مسکراتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو مٹی کی پيالی میں کھیر ڈال رہا تھا .
“منہ کھولو شاباش۔ آں کرو جلدی سے۔”
وه بالکل بچوں کی طرح اسے پچکار رہا تھا .
“پر مجھے نہیں پسند۔”
وه ناک چڑھانے لگی۔
“دیکھنا بہت مزے کی لگے گی۔ منہ تو کھولو نا میری جان۔”
وه چمچ اس کے منہ کی طرف بڑھا گیا۔
“صرف آپ کی وجہ سے کھا رہی ہوں۔”
وه منہ کھول گئی پر جتانا ضروری سمجھا۔
“ہاں میں جانتا ہوں میری جان میری ہر بات مانتی ہے۔”
اس کے بات پر وه خوشی سے سر ہلا گئی۔
پھر وه اسے یوں ہی پچکارتا ساری کھیر کھلا گیا۔
کھانے کے بعد وه اسے لئے سنیما کی طرف بڑھ گیا۔
“کیا ہم مووی دیکھیں گے؟”
اس کی بات پر وه مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا اثبات میں سر ہلا گیا۔
ٹکٹیں لینے کے بعد دونوں نے وہاں سے پاپ کارن لئے اور اپنی سیٹوں کی طرف بڑھ گئے۔
مووی شروع ہوئے پندرہ منٹ گزر چکے تھے پر دونوں کو مزہ نہیں آ رہا تھا۔ اگلی سیٹ پر بیٹھے لوگوں پر نظر پڑتے ہی نوریہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
اس نے راجہ کے ہاتھ میں دبا اپنا ہاتھ چھڑوایا اور لگی اپنا کام کرنے۔
راجہ آنکھوں میں حیرانی لئے اسے دیکھ رہا تھا جو اگلی سیٹ پر بیٹھی عورت کے لمبے پیچھے لٹکتے بالوں کو ایک سیٹ چھوڑ کر بیٹھے انکل کے مفلر کے ساتھ باندھ رہی تھی۔ راجہ نے اسے منع کرنا چاہا تو وه جلدی سے انگلی ہونٹوں پر رکھتی اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرنے لگی۔
اس کے اشارے پر راجہ فرماںبرداری سے خود بھی ہونٹوں پر انگلی جما کر اچھے بچوں کی طرح بیٹھ گیا۔
اپنی کاروائی مکمل کرنے کے بعد وه اس کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے نکل آئی۔
مووی میں دلچسپی تو دونوں کی ویسے ہی ختم ہو چکی تھی۔
باہر آنے کے بعد ان دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور ایک دم ہنسنے لگے۔ راجہ کی ہنسی تو کچھ سیکنڈ کے بعد ختم ہو چکی تھی پر نوریہ بے طرح ہنستی چلی جا رہی تھی جب کہ راجہ مبہوت ہوتا اس کے کھلکھلاتے چہرے کی طرف دیکھ رہا ہے تھا جس کی آنکھوں میں ہنسنے کے باعث آنسو آ چکے تھے۔
وه ایک دم جھکتا اس کی پیشانی کو اپنے لمس سے مہکا گیا۔
اس کو حرکت سے نوریہ کی ہنسی کو بریک لگی تھی۔ وه بالوں کو بلا وجہ کانوں کے پیچھے اڑستی کنفیوز سی یہاں وہاں دیکھنے لگی۔
راجہ پھر سے اس کا نازک ہاتھ اپنے فولادی ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام گیا۔
“چلو واک کرتے اس حسین موسم کو وہ انگریزی میں کیا کہتے ہیں۔۔انجوآئے۔۔۔ہاں انجوائے کرتے ہیں۔”
وه اسے ساتھ لیتا قدم بڑھا گیا جب کہ اس کی بات پر وه پھر سے ہنس دی۔
وه دونوں اب مسکراتے ہوئے ہاتھوں میں پکڑے رنگین شربتی گولے کھاتے کھاتے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے۔
نوریہ نے اپنی زندگی میں اتنا انجوآئےکبھی نہیں کیا تھا آج سے پہلے۔اسے یہ سفر بہت حسین معلوم ہو رہا تھا۔وه جان گئی تھی کہ سفر کہاں حسین ہوتا ہے۔ سفر کو حسین تو آپ کا ہمراہی بناتا ہے۔ وه یہ بھی جان گئی تھی کہ عورت دولت یا شہرت نہیں مانگتی۔ عورت محبت بھی نہیں مانگتی۔ عورت وقت اور عزت مانگتی ہے۔ جو نوریہ کو حاشر سے نہیں راجہ سے مل رہی تھی۔
وه جانتی تھی کہ راجہ کے ساتھ اس کا وقت بہت قلیل گزرنے والا ہے پر وه یہ بھی جانتی تھی یہ وقت یادگار رہنے والا ہے اس کے لئے۔ ہمیشہ!
جس وقت پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے تھے اسی وقت وه دونوں بھی ایک حسین دن ایک دوسرے کی سنگت میں گزارنے کے بعد گھر کو واپس لوٹے۔
°°°°°°°°°°
باسم کے ہمراہ وہ دونوں آفریدی ولا پہنچے۔ باسم نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا تو ارسم ارمش کو باہوں میں اٹھاۓ باہر نکلا۔ جتنا اس کا چہرہ پر سکون تھا اتنا ہی ارمش کا خوف زدہ۔ وه اپنے ماں باپ اور بھائی کی علاوہ بس گھر کے ملازموں کے ساتھ ہی رہی تھی بچپن سے۔ کچھ اپنے ساتھ ہوئے حادثے خوف اور کچھ نئے لوگوں کا سامنا کرنے کا خوف اس کے چہرے پر صاف واضح تھا۔
وه اسے یوں ہی اٹھاۓ دھیرے قدم اٹھاتا لاؤنج میں داخل ہوا تو سب وہیں براجمان تھے۔ ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی دونوں اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کی طرف بڑھیں تو ارمش خوف زدہ ہوتی ارسم کی گردن میں اپنا منہ چھپا گئی۔
سب کی سامنے اس کی حرکت پر ارسم بے بسی سے باسم کی طرف دیکھنے لگا جو اس کی حالت پر بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپا رہا تھا۔
“ارسم بیٹا انہیں صوفے پر بٹھاؤ۔”
ایشا آفریدی کے کہنے پر وه اسے لئے صوفے کی طرف بڑھ گیا۔
اسے احتیاط سے بٹھا کر وه پیچھے ہونے لگا تو وه تیزی سے اس کا بازو اپنے کمزور ہاتھوں میں جکڑ گئی۔ وه اس کے آنسوؤں سے تر چہرے کو دیکھتا اس کےساتھ ہی بیٹھ گیا اور دوسرا ہاتھ اس کے چہرے پر لے جا کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
ایشا آفریدی اس کے ساتھ جب کہ فریحہ آفریدی سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئیں۔
“اس پیاری سی گڑیا کا نام کیا ہے؟”
وه اس کے چہرے کو پیار سے تهپتهپاتی ہوئی پوچھنے لگیں۔
ارسم کے اشارے پر وه ڈرتے ڈرتے ان کی طرف دیکھنے لگی۔
“ارمش!”
وه جواب دے کر پھر سے ارسم کی طرف منہ کر گئی۔
“ارے ہماری گڑیا کا تو نام بھی بہت پیارا ہے۔ ہے نا فریحہ؟”
وه اس کی طرف پیار سے دیکھتی فریحہ آفریدی سے بھی رائے لینے لگی۔
“جی بھابھی ارمش گڑیا تو بہت پیاری ہے۔”
ان کی مسکراتی آواز پر ارمش نے ان کی طرف دیکھا تو وه مسکرا کر اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھیں۔ یہ جلدی سے نظریں پهير گئی۔
“بیٹا میں ارسم کی ماما ہوں اور اب سے آپ کی بھی ماما ہوں۔ یہ فریحہ آفریدی ہیں آپ کی چھوٹی امی۔ اپنے بابا اور چھوٹے بابا سے تو مل چکی ہیں نا آپ۔ اور باسم بھائی سے بھی۔”
ان کی نرم آواز پر وه سر ہلا گئی۔
“ارے ہماری بہن سے ہمارا تعارف تو کسی نے کروایا ہی نہیں سو بیڈ!”
انجان آواز کی سمت میں ارمش نے دیکھا تو ایک خوب صورت سے لڑکی ایک چھوٹی بچی کو اٹھاۓ کھڑی تھی۔
مومل مناہل کو گود میں لئے اس کی طرف بڑھی اور جھک کر اس کے گلے لگ گئی۔
“ارمش سویٹی میرا نام مومل ہے۔ویسے تو میں ارسم بھائی کی چھوٹی بہن ہوں پر تم تو چھوٹی سی گڑیا ہو اس لئے میں تمہاری بڑی بہن ہوئی۔اور یہ ہے آفریدی ولا کی چھوٹی سی جان مناہل۔”
وه مسکراتی اپنا تعارف کروا کر مناہل کو اس کے سامنے کر گئی جو اپنی گول مٹول آنکھیں پوری کھولے گھر میں ہونے والے نئے اضافے کو دیکھ رہی تھی۔
“مما شی ڈول( مما کیا یہ گڑیا ہے)؟”
مناہل کی معصومیت سے پوچھے گئے سوال پر سب ہنس دیے۔
“جی میری جان یہ ڈول ہیں!”
وه اس گال چوم گئی۔
“کس کی؟”
اس کی آنکھوں میں اشتیاق کے ساتھ الجھن تھی۔
“ارسم چاچو کی!”
اس کے شرارت سے کہنے پر ارسم اسے گھور کر رہ گیا۔
ارسم کے پہلو میں بیٹھی ارمش بے یقینی سے آفریدی ولا کی مکینوں کے میٹھے لہجے اور نرم رويے دیکھ رہی تھی۔
“ارسم بیٹا ارمش کو روم میں لے جاؤ تهك گئی ہو گی بیٹھ بیٹھ کر۔”
ایشا آفریدی کے کہنے پر ارسم سر ہلاتا کچھ جھجھک کر اسے پھر سے باہوں میں بھر گیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“مینو جان چلو ہم بھی اپنے روم میں چل کر کھیلتے ہیں۔”
پاس کھڑے باسم کو بری طرح نظر انداز کرتے وه اس کے پاس سے گزر کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
اس کی جانے کے بعد وه غصّے سے مٹھیاں بھینچتا اپنے کمرے میں آ گیا۔ کمرے میں آنے کے بعد وه غصّے سے یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔
“سمجھتی کا ہے خود کو؟اسے کیا لگتا ہے کہ مجھے اس کے نظر انداز کرنے سے کوئی فرق پڑتا ہے! نہیں! بالکل بھی نہیں! “
وه شیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ کر بولتا یہ بھول گیا تھا کہ اس کا یہ حال اس کے نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی ہو رہا تھا۔
“میری بیٹی! ہاں میری بیٹی پر کیسے حق جتاتی ہے۔ ابھی بتاتا ہوں۔”
وه تیش میں اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔اپنے غصّے میں وه یہ بھی بھول چکا تھا کہ کسی کے کمرے میں جانے سے پہلے دروازہ ناک کیا جاتا ہے۔
وه دروازے کا ہینڈل پکڑ کر ایک دم دروازہ کھول گیا پر سامنے نظر آتے منظر پر اس کی نظریں ٹھہر سی گئی تھیں۔
°°°°°°°
