Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2


وہ چھوٹی سی معصوم پری اس وقت خوف سے لرزتی كانپتی بیڈ کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ اپنے ماں باپ کے چیخنے اور چلانے کی آوازوں سے بچنے کے لئے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے تھے جب کہ اپنی چیخیں روکنے کے لئے اپنے ہونٹ سختی سے بند کر کے منہ گھٹنوں پر جما رکھا تھا۔
“تم گھٹیا عورت۔۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اس قدر گھٹیا اور لالچی نکلو گی۔ اپنی حوس پوری کرنے کی خاطر تم نے اس معصوم کی جان لے لی اور خود مظلوم بن کر میرے سامنے آ گئی۔”
وہ کسی مرد کی آواز تھی جو غصے سے چیخ رہا تھا۔
“دد۔۔۔دیکھو تم غلط سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں جیسا تم کہہ رہے ہو۔ تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے کوئی۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس کا الزام مجھ پر لگا رہے ہو تم!”
وہ عورت اس کا ہاتھ پکڑتی منت بھرے لہجے میں بولی۔
“غلط فہمی! تم کہ رہی ہو کہ غلط فہمی ہوئی ہے مجھے۔شک تو پہلےہی ہو گیا تھا مجھے تم پر پر آج میں نے خود اپنے ان کانوں سے تمہیں اپنے گھٹیا کارناموں کا اعتراف کرتے سنا ہے۔ تم اب بھی حقیقت کو جھٹلاؤ گی ہاں! اس کا نہیں تو اس کی معصوم بچی کا ہی خیال کر لیتی جس نے ابھی تو اس دنیا میں آنکھ کھولی اور تم نے ساتھ ہی اس کے سر سے ماں کا سایہ چھین لیا۔میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ذلیل عورت۔ ابھی پولیس کو کال کر کے لاک اپ میں بند کرواتا ہوں تمہیں اور ایک جان لینے اور فراڈ کے جرم میں پھانسی پر نہ بھی چڑھی تو ساری عمر جیل کاٹو گی۔”
وہ تیش کے عالم میں اسے اس کی حقیقت باور کرواتا جیب سے اپنا فون نکال کر کال ملانے لگا۔ اس سے پہلے کے وہ کال کر پاتا وہ ایک دم اس پر جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے فون چھین گئی۔
“ہاں ہاں کیے ہیں میں نے یہ جرم۔ میں نے ہی اس کی جان لی پر کیا ثبوت ہے تمھارے پاس اس بات کا۔ کوئی بھی نہیں۔ تم واحد گواہ ہو نہ پر جب تم ہی نہیں رہو گے تو کون سا ثبوت اور کہاں کا ثبوت۔ ہاہاہا۔ بائے بائے ڈیئر ہبی!”
وہ مکروہ ہنسی ہنستی ایک دم سائیڈ ٹیبل پر پڑا گلدان جهپٹ کر پکڑتی اس کے سر میں مار گئی۔ وہ بیچارہ آدمی ابھی پہلے وار سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ اس عورت نے اس کے سر پر پے در پے کئی وار کر دیے۔ دماغ پر کاری ضربیں لگنے سے وہ آخری دفعہ اپنی پری کا چہرہ دیکھنے کی حسرت لئے موقع پر ہی دم توڑ گیا جب کہ بیڈ کے نیچے چھپا وجود اپنے سائبان کا خون میں لت پت وجود دیکھ کر خوفو حراس کی آخری حد کو چھوتا ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔
°°°°°°°°°
حاشر اور نوریہ کی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ نوریہ کا تعلق ایلیٹ کلاس سے تھا۔وہ ملک کے جانے مانے بزنس مین شیخ سکندر کی اکلوتی اولاد تھی۔ ماں کا انتقال اس کی پیدائش کے وقت ہی ہو گیا تھا۔ شیخ سکندر ایک مثالی باپ ثابت ہوا تھا جس نے ماں اور باپ دونوں بن کر نوریہ کو پالا اور اس کی آعلیٰ تربیت کی۔ ایلیٹ کلاس سے تعلق ہونے کے باوجود نہ تو کبھی اسے ماڈرن ڈریسنگ کے نام پر بیہودہ ڈریسنگ کروائی نہ ہی کبھی سر سے حجاب اترنے دیا۔ یونیورسٹی میں داخلے کے بعد بھی نوریہ نے کسی لڑکے سے کام کے علاوہ بات نہ کی تھی پر پھر اس کی زندگی میں حاشر کی انٹری ہوئی ۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا خوش شکل حاشر جو اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اتنی بڑی اور اچھی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر پایا تھا۔ حاشر نے جب لائبریری میں بیٹھی گلابی حجاب اور سفید سوٹ میں ملبوس نوریہ کو دیکھا تو اس پر اپنا دل ہار بیٹھا۔ بلا شبہ وہ بہت حسین تھی۔اس کے موہنے چہرے پر سب سے خوب صورت اس کی ہلکی سنہری آنکھیں تھی جن پر سایہ فگن گھنیری خم دار پلکیں انھیں مزید دلکش بناتی تھیں۔ حاشر بری طرح سے نوریہ کی خوبصورتی اور معصومیت پر فریفتہ ہو چکا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے چکر نوریہ کے ڈیپارٹمنٹ میں بڑھنے لگے۔ ہلکی پھلکی سلام دعا اچھی خاصی باتوں میں بدلنے لگی یہاں تک کہ بات رشتے تک جا پہنچی۔ شیخ سکندر نے حاشر کے متعلق ساری چھان بین کروائی تو یہی معلوم ہوا کہ اکلوتا ہے ماں باپ کی وفات ایک حادثے میں ہو چکی ہے شریف اور سلجھا ہوا لڑکا ہے ایک درمیانے گھر میں اکیلا رہتا ہے۔ شیخ سکندر اکلوتی لاڈلی بیٹی کے لئے اتنے معمولی رشتے پر خوش تو نہ تھا پر یہی سوچ کر مطمئن ہو گیا کہ وہ اس کی بیٹی کی پسند ہے اور اس کا جو کچھ بھی ہے اس کی بیٹی کا ہی تو ہے۔ نوریہ اور حاشر کی شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں اس بنگلے میں شفٹ ہو گئے جو شیخ سکندر نے نوریہ کے نام کیا تھا۔ حاشر کو تحفے میں نیو ماڈل کی گاڑی دی گئی تھی۔ شادی کے بعد دونوں ہنی مون کے لئے پیرس چلے گئے۔ یہ ہنی مون ٹرپ بھی شیخ سکندر نے سپانسر کیا تھا۔ شادی کے بعد حاشر شیخ سکندر کی ایک فیکٹری سنبهال چکا تھا۔ نوریہ کی زندگی میں بھونچال تب آیا جب ایک رات اچانک شیخ سکندر کی ہارٹ اٹیک سے موت واقع ہو گئی۔ شیخ سکندر کی وفات کے بعد سے ہی نوریہ کی زندگی بدل گئی اور وہاں سے شروع ہوئی اصل کہانی!
°°°°°°°°°°
باسم آفریدی پاکستان کی سرزمین پر دوبارہ اپنے قدم جما چکا تھا۔ وہ صبح کی فلائٹ سے آ چکا تھا اور ناشتہ سب کے ساتھ ہی کیا۔ وہ جو حجر کی آگ میں جلتی آئی تھی اب صبح سے کمرے میں بند اس ستمگر کے ایک دید کے لئے ترس رہی تھی۔ اس کی ماں کافی دفع کمرے کا دروازہ بجا کر جا چکی تھی پر وہ سونے کا ناٹک کرتی بستر میں پڑی رہی۔ تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے گاڑی کی آواز سنی تھی پھر ایک ملازمہ کو کمرے میں بلا کر پوچھا تو پتا چلا باسم صاحب باہر گئے ہیں۔ وه دوپٹہ اوڑھتی باہر نکل آئی۔ وہ کچن کی طرف جا رہی تھی جب کسی بچے کے رونے کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ آواز سنتی لاؤنج میں آ گئی جہاں صوفے کے پاس نیچے زمین پر چھوٹی سی بچی بیٹھی رو رہی تھی۔ اسے صرف ایک سیکنڈ لگا تھا یہ جاننے میں کہ سامنے بیٹھی بچی کون تھی۔ اگلے ہی لمحے وہ بھاگتی ہوئی اس بچی تک پہنچی تھی۔
“پاپا۔۔۔۔پاپا ۔۔۔!”
وہ بچی روتی بس ایک ہے لفظ دہراتی جا رہی تھی۔
“مینو!”
وه اس بچی کو پکارتی اسے اپنی باہوں میں تھام گئی اور اسے کندھے سے لگا کر تهپتھپانے لگی۔
اس کی باہوں کا حصار پاتے ہی وہ چپ ہو گئی۔ اس کی گردن میں سر چھپا کر انگوٹھا منہ میں ڈال چکی تھی۔
“بھوک لگی ہے میری گڑیا کو؟ ابھی ہم بےبی کی بھوک مٹانے کا انتظام کرتے ہیں۔” وہ اسے ساتھ لے کر کچن میں آ گئی۔اس کو توقع کے عين مطابق سامنے شلف پر ہی اس کا فیڈر رکھا تھا۔
اس نے اسے کندھے پر اٹھاۓ ہی فیڈر دھو کر دودھ تیار کیا پھر مینو کو شیلف پر بیٹھا کر اس کا منہ چومنے لگی۔
“میری پالی شی مینو کو بھوک لگی ہے؟”
وہ اس کے گال چومتی توتلی زبان میں پوچھنے لگی۔
“می ہنگی!”
وہ زور و شور سے سر ہلا کر بتانے لگی کہ میں ہنگری (بھوکی) ہوں۔
“آا ! میرا بےبی ہنگی ہے۔ ہم ابھی دودھ پئییں گے پھر ہماری ٹمی فل ہو جاۓ گی۔”
اس نے کہنے کے ساتھ اسے گدگدایا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
مومل نے ایک بار پھر اس کا گال چوم کر سنك میں لگی ٹوٹی سے ہاتھ گیلا کر کے مینو کا منہ صاف کیا پھر اس کا گیلا منہ اپنے دوپٹے سے تهپتهپا کر خشک کرتی اسے لئے لاؤنج میں آ گئی۔
وہ قریبی اسٹور سے مناہل کا سامان لے کر آیا تھا۔ مناہل کافی دیر سے سو رہی تھی۔ اب اس کے اٹھنے کا وقت تھا اور اٹھتے ہی اسے دودھ پینا ہوتا تھا ورنہ آسمان سر پر اٹھا لیتی رو رو کر۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھ رہا تھا جب اندر سے آتی آوازوں پر متعجب ہوتا رک گیا۔ لاؤنج کے دروازے میں کھڑا وہ ساکت نظریں سامنے نظر آتے منظر پر جما گیا جہاں وہ حسین دوشیزہ اس کی گڑیا کو گود میں لئے بیٹھی تھی۔
مناہل ایک ہاتھ سے فیڈر پکڑ کر دودھ پی رہی تھی جب کہ اس کا دوسرا ہاتھ مومل کے ہاتھ میں تھا جسے وہ بار بار چوم رہی تھی۔ اس کے چومنے پر اس کی گود میں پڑی مناہل فیڈر منہ سے باہر نکال کر کھلکھلانے لگتی اور پھر دوبارہ فیڈر منہ میں واپس ڈال لیتی۔
مومل کو دیکھ کر وہ چونک سا گیا تھا۔ گزرے ماہ و سال نے اس کے رنگ و روپ کو بہت نکھار دیا تھا۔ یہ وہ خود سے لاپروا یہاں وہاں اڑتی پھرتی چھوٹی سی مومل تو نہیں تھی جسے وہ جاتے ہوئے چھوڑ کر گیا تھا۔ یہ تو سنہری رنگ و روپ والی دلکش دوشیزہ تھی۔
اگلے پل ہوش میں آتے ہی غصہ اس کے رگ و پے میں سرائیت کر گیا۔ اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے قدم بڑھاتا اس کی گود سے مناہل کو چھین گیا۔اس کے چھیننے پر وہ ڈرتی ایک دم اونچی آواز میں رونے لگی۔
“پاپا بیڈ۔۔۔۔پاپا بیڈ!”
وہ فیڈر زمین پر پهينكتی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ باسم کے منہ پر مارنے لگی۔
اس کے رونے پر مومل آگے ہو کر اس کے ہاتھ سے مناہل کو لینے لگی جب وہ اس کے ہاتھ جھٹک گیا۔
“خبردار اگر ہاتھ بھی لگایا میری بیٹی کو!”
وہ غصہ ضبط کرتا دانت پیس کر بولا تھا۔
“دیکھیں پلیز مینو رو رہی ہے آپ مجھے پکڑا دیں۔”
اس نے بولتے ہوئے دوبارہ اس کا چہرہ دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔ اس کی ایک جھلک دیکھتے ہی سینے میں موجود دل دھک دھک کرتا سینے سے نکلنے کو بیتاب ہوا تھا۔ دھڑکتے دل کا شور کانوں میں سنائی دینے لگا تھا۔
اسے لگتا تھا کہ اتنا حجر کاٹتے اس کا دل اس شخص کی محبت سے قطرہ قطرہ کر کے خالی ہوتا جا رہا ہے پر آج اسے یوں رو برو پا کر دل اول روز سے بھی زیادہ شور مچانے لگا تھا۔ دل بار بار سرگوشی کر رہا تھا کہ ایک نظر مزید اس کے خوبرو چہرے پر ڈال لو پر وہ بار بار اپنے دل کو ڈپٹ کر چپ کروا رہی تھی۔
“یہ میری بیٹی ہے۔مناہل نام ہے اس کا سنا تم نے۔ خبردار اگر تم نے آج کے بعد میری بیٹی کے پاس آنے کی کوشش بھی کی تو۔ میں نہیں چاہتا تم جیسی دوغلی عورت کا سایہ بھی میری بچی پر پڑے اور کل کو اس کی سوچ بھی تمہاری طرح ہو۔دور رہنا سمجھی !”
وہ نفرت سے کہتا روتی ہوئی مناہل کو لئے وہاں سے ہٹ گیا جب کہ وہ ساکت آنکھیں زمین پر جمائے وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی