No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
وه سامنے بیٹھے انسان کی نظروں کی تپش سے خاصی بے چین ہو رہی تھی ۔ اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہاں سے اٹھ کر بھاگ جاتی۔
اسے دیکھنے کے لئے فیملی آ چکی تھی۔ایک مرد ایک عورت اور ان کے ساتھ ان کا بیٹا فاران ! دیکھنے میں اور بول چال سے وہ لوگ کافی مہذب لگ رہے تھے۔ پر سامنے بیٹھے اس لڑکے کی نظروں سے مومل کافی پریشان ہو رہی تھی۔
اس نے کب سوچا تھا کہ کسی ستمگر کو دل میں بساۓ کسی اور کے لئے سج سنور کر بھی بیٹھنا پڑے گا۔
ہاں! باسم آفریدی اتنے سالوں کے بعد بھی مومل آفریدی کے دل میں پوری شان سے براجمان تھا۔ چار سالوں کے ہجر نے مومل آفریدی کے دل میں باسم آفریدی کا خاکہ اور بھی مضبوط کر دیا تھا۔ وه چاہ کر بھی اس ستمگر کی محبت سے پہلو نہ چھڑوا پا رہی تھی۔
باسم ابھی آفس سے واپس آیا تھا۔ ڈرائنگ روم سے آتی آوازوں پر اس کے قدم خود بخود ہی اس طرف بڑھ گئے تھے۔
اندر داخل ہوتے ہی اس کے ماتھے پر شکنوں کا جال بچھ چکا تھا۔
بڑے سب اپنی باتوں میں مصروف تھے۔
سنگل صوفے بیٹھے نو جوان لڑکے کو دیکھتے اس کا پارہ ایک دم ہائی ہوا تھا۔ وه بے شرمی سے سامنے بیٹھی مومل کو نہارنے میں مصروف تھا جو اس کی نظروں سے كنفیوز ہوتی کندھے پر پھسلتا دوپٹہ بار بار سہی کر رہی تھی۔ اس کے لباس کو دیکھ کر باسم کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ وه آگے بڑھتا مناہل کی آواز اس کے بڑھتے قدم روک گئی۔
“پاپا! “
مومل اسے تیار کر کے سلا چکی تھی۔ اٹھنے پر جب اسے اپنے پاس کوئی نہ دکھا تو کمرے سے باہر آ گئی۔
اس کی آواز پر باسم نے جھک کر اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔
“پاپا کی جان!
وه اس کے دونوں گال چوم گیا۔
“باسم بیٹا آؤ ان سے ملو یہ ہماری مومل کو دیکھنے آۓ ہیں۔”
فریحہ آفریدی کی پکار پر وه اندر آتا سب سے سلام لے کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ مناہل اس کی گود میں ہی تھی۔
“جی وہ تو مجھے نظر آ رہا ہے کہ بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے۔”
اس کی سرد آواز سنتے فاران نے حلق تر کرتے نظریں چرائیں اور بے وجہ ہی کمرے میں نظریں دوڑانے لگا۔
“ماما! مینو کو ماما پاس جانا ل۔ “
مناہل مومل کی طرف ہاتھ بڑھا کر رونی آواز میں بولی تو سب کے سامنے اس کے منہ سے یہ لفظ سنتے مومل کا رنگ اڑ گیا۔
آنے والے تینوں لوگ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
“وه در اصل یہ ہمارا بڑا بیٹا ہے باسم اور یہ اس کی بیٹی ہے مناہل۔ اس کی ماں کا انتقال اس کی پیدائش پر ہی ہو گیا تھا اس لئے اسے مومل ہی سنبھالتی ہے۔ مومل کے ساتھ کافی اٹیچ ہے۔ اس لئے مومل کو کبھی كبهار ایسے پکار لیتی ہے۔
ایشا آفریدی کی تفصیل پر وه سر ہلا گئے۔
باسم مناہل کو لئے وہاں سے اٹھ گیا۔مینو کی ماما والی رٹ جاری ہو چکی تھی۔ سو کر اٹھنے کے بعد اسے بس مومل چاہئے ہوتی تھی۔
باسم بغیر اس کی ایک بھی پکار پر کان دھرے اسے لئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اس کے مسلسل رونے کی آواز سے بے چین ہو کر مومل وہاں سے اٹھ پڑی۔
“وہ ۔۔۔مناہل رو رہی ہے بہت۔ مم ۔۔۔میں دیکھ کر آتی ہوں۔”
بغیر کسی کا جواب سنتی وه تیزی سے وہاں سے نکل آئی ۔
باسم کے کمرے میں جاتے اس کے قدم بھاری ہو رہے تھے۔ دروازہ لاک نہیں تھا۔ اللّه کا نام لیتی وه دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہو گئی۔ کمرے میں صرف مناہل تھی جو روتے روتے سو چکی تھی۔
کمرے میں ایک تفصیلی نظر ڈال کر وه تیز تیز قدم اٹھاتی بیڈ کے پاس کھڑی وہ مومل کو دیکھنے لگی۔گلابی پھول دار فراک پہنے وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔ اس کے گال چومنے کی غرض سے وه مسکراتی ہوئی اس کی طرف جھکی جب پیچھے سے وه اپنے سخت ہاتھ کی گرفت میں اس کی نازک کلائی جکڑتا اسے اپنی طرف کھینچ گیا۔
اس اچانک افتاد پر مومل کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا اور وه اس کی کشاده سینے سے ٹکرا گئی۔
ادھ کھلے بال لہراتے ہوئے باسم کے چہرے پر پل بھر کے لئے سایہ کر گئے۔ آرگنزا کا آسمانی رنگ کا دوپٹہ کندھے سے پھسل کر مومل کے بازو پر آن اٹکا تھا۔
آسمانی رنگ کی شارٹ شرٹ اور کیپری میں ملبوس اس کا نازک سراپا باسم کے دل میں آگ ہی لگا گیا تھا۔
وه اتنی دیر سے اس گھٹیا شخص کے سامنے بیٹھی اس کی غلیظ نظروں کے حصار میں تھی۔ ایسا باسم کا سوچنا تھا۔
“یہ کیا ہیہودہ لباس پہن رکھا ہے تم نے؟ بہت شوق ہے کیا اپنے حسن کی نمائش کرنے کا؟ اسی لئے اس غیر مرد کے سامنے اس حلیے میں بیٹھی تھی تب سے۔”
یہ سب بول کر اپنے اندر کی آگ کی تپش کم کرنا چاہ رہا تھا یوں اس کا دل جلا کر ورنہ اس انسان کی نظروں سے مومل کا بے چین ہونا اس نے بخوبی دیکھا تھا۔
اس کی تلخ بات پر مومل کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔
“پپ۔۔۔پلیز چھوڑیں۔”
وه اس کی سخت گرفت سے خود کو آزاد کروانے کی تگ و دو کرنے لگی پر وه اس پر اپنی گرفت کمزور کرنے کی بجاۓ اور بہت مضبوط کر گیا۔
“میرے سوال کا جواب دو!”
وه دانت پیستا اس سے محو سوال تھا۔
“آپ کون ہوتے ہیں مجھ سے یہ سوال کرنے والے۔ آپ کے پاس ایسا کوئی حق نہیں جس کے باعث آپ یوں باز پرس کریں مجھ سے۔”
جی کڑا کر کے بول تو گئی پر اس کے چہرے کو سرخ پڑتا دیکھ کر دل ہی دل میں خوف زدہ ہو گئی۔
“آؤٹ!”
وه ایک دم اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا چیخا۔ سرخ پڑتا چہرہ غصّے اور ضبط کی انتہا کو ظاہر کر رہا تھا۔
اس کی تیز آواز سن کر جہاں وه خوف سے کانپنے لگی وہیں بیڈ پر سوئی مناہل اٹھ کر اونچی آواز میں رونے لگی۔
اپنے خوف کو بھولتی وه تیزی سے مناہل کی طرف لپكی اور اسے اٹھا کر اپنے کندھے سے لگا گئی۔
وہ کچی نیند سے جاگی تھی اس لئے سسكتی جلد ہی اس کے کندھے میں منہ چھپا کر سو گئی۔
اس کی طرف سے دھیان ہٹتے جیسے ہی اس کی نظر باسم پر پڑی تو وه نظریں چراتی ہوئی یہاں وہاں دیکھنے لگی کیوں کہ وه سخت تیوروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا پر اس بات کی بہت دل میں تسلی تھی کہ وه اب مناہل کے معاملے میں اسے کچھ نہ بولتا تھا۔
مناہل کو یوں ہی کندھے سے لگائے وہ دھیرے دھیرے اپنے قدم پیچھے لینے لگی اور دروازے کے کچھ قریب پہنچتے ہی بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
“سلی گرل!”
وه بیڈ کے قریب گرا اس کا دوپٹہ دیکھتے ہوئے ضبط سے لب بھینچ کر رہ گیا ورنہ دل کر رہا تھا کہ اس کی لاپرواہی پر ایک آدھ تھپڑ جڑ دے اسے اوپر سے اس کی وجود پر پڑتی وه انجان نظریں یاد آتے دیکھ کر اس دماغ مزید خراب ہو رہا تھا۔
“ڈیم اٹ!”
وه بالوں میں ہاتھ پهيرتا اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگا جو کہ فلحال مشکل ہی لگ رہا تھا۔
°°°°°°
آج ارمش کو ہسپتال سے ڈسچارج ہونا تھا۔ دواؤں کے زیر اثر وه سو رہی تھی جب کہ ارسم پاس بیٹھا گہری سوچ میں گم تھا۔ وه تین دن سے یہاں ارمش کے پاس ہی تھا۔ ارمش تھوڑی بہت اس سے مانوس ہو چکی تھی۔ وه اسے بالکل چھوٹے بچوں کی طرح ڈیل کر رہا تھا۔ وه بھی اس سے خوف نہیں کھاتی تھی بلکہ اگر وه فارمیسی تک یا پھر فریش ہونے بھی باہر جاتا تو وه بے چین ہو جاتی تھی۔ اس کے لوٹ آنے کا انتظار کرنے لگتی تھی اور پھر اسے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں سکون کی لہر دوڑ جاتی تھی۔
یہ بات ارسم بھی محسوس کر چکا تھا۔
اسے پریکٹس کے لئے جانا تھا پر فلحال اس کے لئے سب سے اہم ارمش تھی۔
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولتے ہوش کی دنیا میں قدم رکھا تو اسے اپنے بلکل سامنے ہی پایا۔
“گڈ مارننگ سوفٹی!”
وه ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ بولا۔
“گڈ مارننگ!”
وه ون سٹینڈرڈ کے بعد کبھی اسکول نہیں گئی تھی اس لئے اسے انگریزی تو نہیں آتی تھی پر زین سے کچھ الفاظ سن کر جان گئی تھی۔ اور یہ الفاظ بھی ان میں سے ہی تھے۔
“کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ؟”
اس کے پوچھنے پر ہاں میں سر ہلا گئی .
“اتنی پیاری آواز ہوتے ہوئے بولنے میں کنجوسی کیوں؟”
وه اسے نرم نگاہوں سے تكتا ہوا بولا .
“مم۔۔۔میں اب ۔۔۔اب سہی محسوس کر رہی ہوں۔”
وه بولتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو وه تیزی سے اس کی طرف آیا۔
“دھیان سے!”
وه اسے احتياط سے بیٹھنے میں مدد کرنے لگا۔
“مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔”
ارسم کی بات پر وه سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگی۔
“آج آپ کو ڈسچارج کیا جا رہا ہے۔ مانا کہ آپ کی کنڈیشن اتنی سٹیبل نہیں ہے ابھی پر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ آپ کی کیئر گھر میں زیادہ اچھے طریقے سے ہو سکتی ہے۔ بس ویکلی چیک اپ ہوا کرے گا آپ کا اور دوائیاں بھی ابھی ریگولرلی کھانی پڑیں گی آپ کو۔ٹھیک ہے نا۔”
وه الجھی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کی ساری بات کے دوران بولے گئے انگریزی الفاظ اس کے دماغ کے اوپر سے گزر گئے تھے۔
“آپ مجھے اپنے گھر کا اڈریس بتا دیں پلیز تا کہ میں آپ کے گھر والوں سے رابطہ کر کے آپ کو ان تک پہنچا سکوں۔”
اس کی بات سنتے ارمش کی آنکھوں میں وحشت اتر آئی تھی۔
“نہیں ہمیں نہیں جانا۔ ہمیں نہیں جانا گھر۔ کبھی نہیں جانا۔ ہم ۔۔۔ہم یہیں رہ لیں گے پلیز پر ہمیں نہیں جانا گھر۔ پلیز ہمیں کہیں چھپا دیں ہمیں نہیں جانا۔”
وه وحشت سے بولتی آنسو بہاتی جا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر رقم وحشت اور خوف دیکھ کر ارسم آفریدی بہت سی سوچوں میں گم ہو چکا تھا۔ وه پھر سے پینک کرنے لگی تھی۔ ایسی کیا وجہ ہو سکتی تھی جو وه گھر کے نام سے اس قدر خوف زدہ تھی۔
پہلے پہل ارسم کے دل میں خیال آیا کہ شاید وه اس بات سے خوف زدہ تھی کہ اس حادثے کے بعد اس کے گھر والے اسے قبول نہیں کریں گے پر دوسرے ہی لمحے وہ اپنی ہی سوچ کی نفی کر گیا۔
وه ابھی بہت چھوٹی تھی اور بہت زیادہ معصوم۔ وه کہاں ان باریکیوں کو جانتی ہو گی۔ پر اگر ایسی بات نہیں تھی تھ وه کیوں ایسے بیہیو کر رہی تھی۔
“ہسپتال بلا وجہ تو نہیں رہ سکتے نا۔ یہ صرف مریضوں کے لئے ہے اور گھر آپ جانا نہیں چاہ رہیں۔ پھر کہاں رہنا ہے آپ کو۔”
سوال واضح تھا۔
“مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے۔”
جواب بر جستہ تھا۔
“میرے ساتھ؟”
لہجے کے ساتھ آنکھوں میں بھی حیرت در آئی تھی۔
“جی ہمیں بس آپ کے ساتھ رہنا ہے اور کسی کے پاس بھی نہیں جانا۔”
چہرے کے ساتھ لہجہ بھی معصومیت بھرا تھا۔
“پر آپ یوں تو میرے ساتھ نہیں رہ سکتی نا!”
لہجہ کافی دھیما تھا۔
“پر کیوں نہیں؟”۔
خوب صورت چہرے پر مایوسی کی سائے لہرا گئے تھے۔
“کیوں کہ ہمارا ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے نا!”
انداز سمجھانے والا تھا۔
“ساتھ رہنے کے لئے رشتہ ہونا ضروری ہے کیا؟”
سوال میں امید تھی۔
“ہاں بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر تو ایسا ممکن نہیں۔”
اس کی بات پر اس معصوم چہرے کی آنکھوں میں نمی ابھر آئی۔
“پر آپ چاہیں تو رشتہ بن بھی سکتا ہے۔”
معصوم چہرے پر بے یقینی سی خوشی آئی تھی اس بات پر۔
“کیا سچ میں!”
بلکل بچوں کی سی معصومیت سے امید بھرا سوال پوچھا گیا تھا۔
“بالکل سچ!”
ہلکی سی مسکان ہونٹوں پر سجاۓ جواب دیا۔
“تو پھر ہم بنا لیتے ہیں نا رشتہ!”
اس کی بات پر ارسم آفریدی کا دل بہت زوروں سے دھڑکا تھا۔
“ساتھ رہنے کے لئے تو ہمیں ہسبنڈ وائف والا رشتہ بنانا پڑے گا۔ کیا آپ کو کوئی اعتراض نہیں؟”
اس کے سوال پر وہ جھٹ سے انکار میں سر ہلا گئی۔
“آپ بہت اچھے ہیں اور ہمیں آپ کے ساتھ رہنا ہے گھر نہیں جانا۔ ہمیشہ آپ کے پاس رہنا ہے۔”
اس کی بات پر وه فیصلہ کرتا ایک دم اپنی جگہ سے اٹھا۔
“آپ ریسٹ کریں میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں بس۔ پھر ہمیں ہمارے گھر بھی تو جانا ہے نا۔”
وه اس کے سر پر ہاتھ رکھتا جیب سے موبائل نکال کر باسم کا نمبر ملا کر کمرے سے نکل گیا۔
پھر ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد ہسپتال کے اس کمرے میں سر پر لال دوپٹہ اوڑھے تکیوں کے سہارے بیٹھی ارمش، ارمش حسین سے ارمش ارسم آفریدی بن چکی تھی۔ یہ ساری کروائی بہت خفیہ طریقے سے کی گئی تھی۔
نکاح کے بعد کریم آفریدی اور ارسل آفریدی ارمش کی سر پر ہاتھ رکھ کر گواہوں کے ساتھ کمرے سے نکل گئے۔اب اس کمرے میں صرف ارمش ارسم اور باسم بچے تھے۔
ارمش خوف زدہ سی ارسم کا بازو سختی سے تھامے بیٹھی تھی۔ غیر مردوں کو دیکھتے اس کے اندر موجود خوف پھر سے باہر نکل آیا تھا۔
ارسم تھوڑی دیر پہلے کال کر کے باسم کو ساری سچائی اور اگلہ لائحہ عمل بتا چکا تھا۔ باسم نے باپ اور چچا سے کس طرح بات کی کس طرح منایا یہ ارسم نہیں جانتا تھا پر ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وه کچھ گواہوں اور نکاح کے ضروری سامان کے ساتھ ہسپتال موجود تھے۔ اگر وه اتنے خوش نہ تھے تو نا خوش بھی نہ تھے۔
باسم آ کر بیڈ کے قریب کھڑا ہوا تو وه ارسم کا بازو اور بھی سختی سے دبوچے آنکھیں مینچ گئی۔
“ارمش بیٹا! کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو۔ آج سے میں ارسم کا نہیں بلکہ آپ کا بڑا بھائی ہوں۔ اگر یہ ذرا سا بھی ڈانٹے میرے بیٹے کو تو آپ فورا میرے پاس آییں گی۔ پھر دیکھئے گا کیسے کان کھینچتا میں اس کے۔”
وه نرمی سے ارمش کے سر پر ہاتھ رکھتا بہت نرم لہجے میں اس سے بات کر رہا تھا۔ اس کے یوں نرم لہجے اور شفیق انداز پر ارمش کا خوف کچھ زائل ہوا۔
“ہم گھر کب جائیں گے اینجل؟”
وه باسم کو جواب دیے بغیر ارسم کی طرف دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو ارسم خجل ہو کر شرمندگی سے داڑھی کھجا کر رہ گیا۔
“ارسم تم اسے کے کر آ جاؤ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔”
“جی بھائی”
اس کا جواب سنتے باسم کمرے سے باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہونے کے بعد ارسم اس کی طرف مڑا۔
اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑوایا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھ میں تھام کر جھک کر عقیدت سے اس کا ماتھا چوم گیا۔
“نکاح مبارک سوفٹی!”
ارمش کی پلکیں لرز اٹھیں۔
“چلیں گھر چلتے ہیں اب۔ ہمارے گھر!”
وه جھک کر اسے باہوں میں اٹھا گیا کیوں کہ ابھی اس کی حالت ایسی نہ تھی کہ اتنا چل سکتی۔ گرنے کے خوف سے وه جلدی سے اس کی گردن کے گرد اپنے بازو حمائل کر گئی۔
“ڈریں نہیں۔ آپ کو کبھی بھی کسی بھی موڑ پر گرنے نہیں دوں گا۔”
اس کے پر یقین لہجے پر وه سکوں محسوس کرتی آنکھیں موند گئی۔ وه بھی مسکراتے ہسپتال کے اس کمرے سے نکلتا پارکنگ کی طرف بڑھ گیا جہاں ارسم ان کا انتظار کر رہا تھا۔
°°°°
