Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
دن بہت ہی سبک رفتاری سے گزر رہے تھے۔ راجہ کے سنگ زندگی بہت حسین ہو گئی تھی۔ اس نے حاشر کا باب اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لئے بند کر دیا تھا۔ کہتے ہیں کہ عورت کبھی اپنی پہلی محبت نہیں بھولتی۔ پہلی محبت کی كسك ہمیشہ اس کے دل میں رہتی ہے پر میں کہتی ہوں کہ یہ بات غلط ہے۔ عورت تو بہت بھلکڑ مخلوق ہوتی ہے۔ اگر عزت، احترام اور قدر کرنے والا دوسرا مرد زندگی میں آ جاۓ تو وه ذلّت، تذلیل اور بے قدری کرنے والے پہلے مرد کے نقش کو بھی یاد نہیں رکھتی۔ اس کے حافظے میں صرف مان، محبت اور عزت دینے والے مرد کا خاکہ ہی نقش ہو جاتا ہے اور وه بھی ہمیشہ کے لئے۔ عورت محبت کی بھوکی ضرور ہوتی ہے پر اس محبت سے بھی ذیادہ عورت عزت کی بھوکی ہوتی ہے اور یہ بات بہت کم مرد سمجھ پاتے ہیں۔
نوریہ بھی راجہ کی صحبت میں ہر چیز پا چکی تھی۔ مان محبت قدر اور عزت۔ اس کا محرم، اس کا ہمسفر اس پر جان لٹاتا تھا، اس کی سانسوں سے سانسیں بھرتا تھا اسے اور کیا چاہیے تھا۔ راجہ کو پا کر وه سر خرو ہو چکی تھی۔
شروع میں اس کے دل میں جو ڈر تھا کہ راجہ کے ساتھ زندگی کے چند دن کس طرح گزر سکیں گی یہ ڈر اب نہ جانے کہاں جا سویا تھا۔
دو مہینے پہلے جب ان دونوں نے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا تھا تب نوریہ نے راجہ سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھا تھا جس پر اس نے بتایا کہ اس کے ماں باپ کا انتقال ہو چکا ہے اس کے بچپن میں ہی اور اس کا کوئی بہن بھائی بھی نہیں یوں وه اس دنیا میں بلکل اکیلا ہے۔
اس نے راجہ کو کاروبار کا بھی کہا تھا کہ اس کے باپ کا بزنس سنبھال لے لیکن وه صاف کہہ چکا تھا کہ نہ ہی اس کی اتنی تعلیم ہے کہ وه یہ سب سنبھال سکے نہ ہی اسے اس بزنس میں انٹرسٹ ہے۔ یہ نوریہ کا بزنس ہے وه جس طرح چاہے اسے مینیج کرے اسے کوئی اعتراض نہیں۔ نوریہ کے بہت زور دینے پر بھی وه نہیں مانا تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ اسے ایک فیکٹری میں اچھی جاب مل گئی ہے اس کے علم کے مطابق اور وه اپنی آمدنی سے اپنی بیوی کی ہر خواہش پوری کرنے کی بھر پور کوشش کرے گا۔
وه صبح نو بجے گھر سے جاتا اور شام چھے بجے واپس آتا۔
نوریہ نے آج اس کی پسندیدہ بریانی بنائی تھی اور اب خود بھی ہلکا پھلکا تیار ہو کر کب سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ گھڑی سات کا ہندسہ عبور کر چکی تھی پر راجہ کا کوئی اتا پتہ نہ تھا۔ اس کا نمبر بھی بند جا رہا تھا۔
وه کمرے میں چکر لگا لگا کر تھک چکی تھی۔ اسے اپنی طبعیت بھی خراب ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ تنگ آ کر وه بیڈ پر بیٹھ گئی اور اپنا سر ہاتھوں میں گرا گئی۔
“ٹرن!!!”
موبائل کی آواز پر اس کے جلدی سے موبائل پکڑ کر اوکے کا بٹن دباتے موبائل کان سے لگایا۔ جلدی میں وه نام دیکھنا بھی بھول گئی تھی۔
“ہیلو راجہ کہاں ہیں آپ کب سے انتظار کر رہی ہوں آپ کا وقت دیکھیں کیا ہو گیا۔”
وه بنا اگلے کی سنے بولتی چلی گئی۔
“نوریہ یہ میں ہوں۔ حاشر!”
کانوں میں پڑتی آواز سن کر وه چونک گئی۔
“حاشر!”
اس کے منہ سے سرگوشی کی مانند یہ نام نکلا تھا۔
“نوریہ پلیز کال بند نہ کرنا پلیز میری ایک بات سن لو بس پلیز۔”
اس سے پہلے کہ وه کال بند کرتی حاشر کی التجائیہ آواز اس کے کانوں سے ٹکراتی اسے اس کی بات سننے پر مجبور کر گئی۔
“جلدی بولو جو بھی بولنا ہے۔”
وه لہجہ سخت کر گئی۔
“نوریہ میں تمہیں بہت مس کرتا ہوں۔ تم مجھے کس چیز کی سزا دے رہی ہو۔ جب کہ ہم دونوں کے درمیان یہ طے ہو چکا تھا کہ ہمارا مقصد پورا ہوتے ہی تم واپس آ جاؤ گی۔ اب تم نے اپنی راہ الگ کر لی ہے اور مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتی۔ پلیز نوریہ میرے ساتھ ایسا مت کرو۔”
اپنی بات کر کے وه خاموش ہو چکا تھا جب کہ اس کی آواز میں آنسوؤں کی آمیزش محسوس کرتی وه ساکت بیٹھی رہ گئی۔ حاشر اس کے لئے رو رہا تھا؟ وه سہی ہی تو کہہ رہا تھا۔ وه دونوں یہ سب باتیں پہلے ہی ڈیسائیڈ کر چکے تھے پر راجہ کی محبت دیکھتے نوریہ نے اپنا راستہ بدل لیا تھا.
“تم مجھے صرف اس لئے چھوڑ رہی ہو کہ میں باپ نہیں بن سکتا پر نوریہ اس میں میرا کیا قصور ہے اگر اللّه نے مجھ سے یہ طاقت چھین لی ہے تو۔ مجھے اس بات کی سزا کیوں دے رہی ہو تم جس میں میرا کوئی قصور ہی نہیں۔ پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو نوریہ۔”
وه نم آواز میں کہتا آخر میں باقاعدہ رونے لگا۔
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر نوریہ ہوش میں آئی۔
“راجہ آ گئے میں آپ سے بعد میں بات کروں گی۔”
وه تیزی سے کال بند کر کے موبائل سائیڈ پر رکھ گئی۔
“السلام علیکم! کیسی ہے میری رانی؟”
وه کمرے میں داخل ہو کر سب سے پہلے حسب معمول جھک کر اس کا ماتھا اپنے لمس سے سجا گیا۔
“وعلیکم السلام۔”
جواب دے کر وه دوپٹہ سہی کرتی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“لیٹ ہو گئے آپ آج۔”
وه کہہ کر باہر جانے لگی جب وه کھینچ کر اسے اپنے سامنے کر گیا۔
“کیا ہوا میری رانی ناراض ہے کیا؟” وه اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھا کر پوچھنے لگا۔
“نہیں میں کیوں ناراض ہوں گی۔”
وه کہہ کر اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگی۔
“اچھا نا سوری میری جان آج کے بعد پوری کوشش کروں گا کہ لیٹ نہ ہوں۔ اب مان جاؤ نا۔ چلو اپنی پیاری سی مسکراہٹ دکھاؤ مجھے۔”
اس کے اتنے پیار سے کہنے پر وه زبردستی مسکرانے لگی۔
“چلو کھانا لگاؤ میں بس ہاتھ منہ دھو کر آتا ہوں۔”
وه اس کا چہرہ ہاتھ میں تھام کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا باتھ روم کی طرف چلا گیا تو وه بھی گہری سانس بھرتی کچن کی طرف قدم بڑھا گئی۔
°°°°°
ارسم کو گئے ڈیڑھ ہفتہ ہو چکا تھا۔ اس کے میچ چل رہے تھے اور اس کا جانا ضروری تھا۔ اس کے جانے پر ارمش نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا۔ ایشا آفریدی اور مومل نے بہت مشکل سے اسے سنبھالا تھا۔ مومل زیادہ وقت اس کے ساتھ ہی گزارتی تھی۔ مناہل بھی دن میں اس کو دھیان لگائے رکھتی۔ دن تو گزر ہی جاتا تھا پر اس کے لئے رات گزارنی بہت مشکل ہو جاتی تھی۔
اس کی رات ہوتے ہی گزرتی تھی۔
آج بھی اتنا وقت گزر چکا تھا پر اس کی کوئی کال نہ آئی تھی۔ ارسم اسے موبائل لے کر دے کر گیا تھا اور مومل نے اسے استعمال کرنا بھی سکھا دیا تھا۔
وه ابھی باتھ روم سے نہا کر نکلی تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا۔
وه جانتی تھی کہ کس کی کال ہے کیوں کہ اس کے موبائل میں بس گھر والوں اور ارسم کا نمبر ہی تھا۔
وه آہستہ سے چلتی سائیڈ ٹیبل کے پاس آئی جہاں موبائل پڑا ہوا تھا۔ اس کی توقع کے مطابق ارسم کی ہی کال تھی۔
اس نے کال اٹھا کر موبائل کان کے ساتھ لگایا۔
“السلام علیکم!”
بھاری گھمبیر آواز اسے کانوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
“وعلیکم السلام!”
دھیمی آواز میں جواب دے کر وه لب کاٹنے لگی۔
“کیسی ہیں سوفٹی آپ؟”
وه نرمی سے استفسار کرنے لگا۔
“میں ٹھیک ہوں؟”
وه لب کاٹتی ہوئی جواب ده ہوئی۔
“پکّا نا؟”
وه یقین دہانی کرنے لگا۔
“جج۔۔۔جی پکّا؟
وه لب بھینچ کر خود پر قابو پانے لگی۔
“پھر آپ کی آواز سے مجھے کیوں نہیں لگ رہا کہ آپ بالکل ٹھیک ہیں۔”
وه اب کہ تھوڑا فکر مند ہوا۔
“مجھے کیا معلوم!”
آواز میں خفگی شامل تھی۔
“تو اور کسے معلوم ہے پھر؟ ہاں! لگتا ہے کوئی اپنے ہسبنڈ کو بہت بری طرح مس کر رہا ہے۔”
وه شرارت سے چمکتی آنکھیں لئے سوال کرنے لگا۔
“جی نہیں میں بلکل بھی مس نہیں کر رہی آپ کو۔”
وه سختی سے اس کی بات کی نفی کر گئی۔
“پر میں نے آپ کا نام کب لیا۔ میں نے تو یہی کہا نا کہ لگتا ہے کوئی اپنے ہسبنڈ کو بری طرح مس کر رہا ہے یہ تو نہیں کہا کہ آپ مجھے مس کر رہی ہیں۔”
وه چھیڑنے سے باز نہ آ رہا تھا۔
“آ۔۔۔آپ۔۔۔”
اسے سمجھ نہ آئی کہ کیا بولے۔
“کیا میں؟”
وه تھا کہ اس کی حالت سے انجان بولی جا رہا تھا یا شاید اس کا دھیان بھٹکانا چاہ رہا تھا۔
دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی۔
“سوفٹی؟”
“ہیلو کیا میری آواز نہیں آ رہی؟”۔
چند سیکنڈ بعد موبائل کے سپیکر سے سسکیوں کی آواز ابھرنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ سسکیاں ہچکیوں میں بدل گئیں۔
سات سمندر پار بیٹھا وجود بوکھلا گیا۔
“ارمش کیا ہوا جان رو کیوں رہی ہیں آپ؟ پلیز مجھ سے بات تو کریں۔”
اس کے بے طرح رونے پر ارسم آفریدی بے قرار ہو اٹھا تھا۔
“آپ کب آئیں گے ہسبنڈ میں بہت مس کرتی ہوں آپ کو۔ مجھے رات کو نیند بھی نہیں آتی اکیلے۔ مجھے آپ کے بازو پر سر رکھ کر ڈھیر سارا سونا ہے آپ کب لوٹیں گے۔ پلیز جلدی آ جائیں۔”
اس کے رونے اور مطالبے پر ارسم آفریدی کا بس نہ چل رہا تھا کہ اڑ کر اس کے پاس پہنچ جاۓ۔
“اچھا آپ چپ تو کریں یار جانتی ہیں نا کہ آپ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا میں۔ کیا آپ مجھے تکلیف دینا چاہتی ہیں؟”
اس کے پوچھنے پر وه جھٹ سے نفی میں سر ہلا گئی جیسے وه سامنے بیٹھا اسے دیکھ رہا ہے۔
فون کے دوسری طرف موجود بھی جان چکا تھا اس کے عمل کو۔ وه اس کی رگ رگ سے واقف ہو چکا تھا۔
“تو پھر جلدی سے رونا بند کریں اور اپنے آنسو صاف کریں۔”
اس کے کہنے پر وه اپنے آنسوؤں پر قابو پاتی قمیض کی آستین سے آنسو پونچھنے لگی۔ چند منٹ کے بعد اس کی سسکیوں کی آواز تھم چکی تھی۔
“گڈ گرل! اب سائیڈ ٹیبل پر پڑے جگ سے گلاس میں پانی ڈال کر پئییں ۔”
اس کے کہنے پر اس کا دوسرا ہاتھ میکانکی انداز میں جگ کی طرف بڑھا اور پانی گلاس میں انڈیل گیا۔ جب وه پانی پی کر گلاس واپس رکھ چکی تو موبائل سے آواز ابھری۔
“اب بات کریں۔ مجھے بالکل بھی اچھی نہیں لگتی آپ جب روتی ہیں۔”
اس کی شکایت پر وه تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔
“کیوں؟ کیوں نہیں اچھی لگتی میں آپ کو۔ آپ تو کہتے تھے کہ ارمش سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے آپ کو۔”
آنکھوں میں پھر سے نمی چمکنے لگی تھی۔
“جی بالکل میں نے ایسا کہا تھا اور میں اب بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں۔ ارمش آفریدی سے زیادہ ارسم آفریدی کو کوئی بھی اچھا نہیں لگ سکتا۔ پر جب آپ گندے بچوں کی طرح روتی ہیں تب تو ذرا بھی اچھی نہیں لگتیں۔”
وه اس کی نفسيات سے کھیل رہا تھا۔
“میں اب نہیں روؤں گی بالکل بھی۔”
وه اس کے ساتھ ساتھ خود کو بھی باور کروانے لگی۔
“گڈ گرل!”
اس کی اتنی سے تعریف کرنے پر وه فخر سے مسکرا دی۔
وه اس سے چھوٹی چھوٹی یہاں وہاں کی باتیں کرتا اس کا دھیان بھٹکانے لگا۔
ہسبنڈ آپ کا میچ کب لگے گا۔”
بات کے دوران اچانک وه پوچھ گئی۔
“آٹھ بجے شروع ہوگا۔ آپ کیوں پوچھ رہی ہیں۔”
وه چونک کر پوچھنے لگا۔
“کیوں کہ میں بھی دیکھوں گی۔”
وه پر جوش ہو کر بولی تو وه ہنس دیا۔
“پر آپ تو کرکٹ کے متعلق کچھ جانتی ہی نہیں پھر آپ کیا دیکھیں گی۔”
وه اس کے ہنسنے پر ناک سکیڑ گئی۔
“کرکٹ کے متعلق کچھ نہیں جانتی پر آپ کو تو جانتی ہوں نا۔ میں آپ کو دیکھوں گی۔”
اس کی جواب پر وه طمانیت سے مسکرا دیا۔
“چلیں ٹھیک ہے رات بات ہو گی اب مجھے پریکٹس کے لئے جانا ہے۔”
وه اپنے ٹیم میٹس کی پکار سنتا اس سے بولا تو وه پھر سے اداس ہونے لگی۔
“اوکے اپنا خیال رکھئے گا۔ میں نماز پڑھ کے دعا کروں گی کہ آپ ہی جیتیں۔”
وه اس کے خلوص پر مسکرا کر رہ گیا۔
“شکریہ میری جان! آپ بھی اپنا خیال رکھئے گا۔ اللّه حافظ۔”
فون بند ہونے کے بعد وه اٹھ کر لاؤنج میں چلی آئی جہاں سب کی باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ پھر اسے رات کو میچ بھی تو دیکھنا تھا۔
°°°°°
“باسم!!!!”
اس کی چیخ نما آواز سن کر وه کانوں میں انگلیاں ٹھونس گیا۔
“بج گیا الارم بس”
وه منہ میں بڑبڑا کر رہ گیا۔
“یہ۔۔۔یہ کیا کیا آپ نے۔ پتا بھی ہے کتنا وقت لگایا تھا میں نے کمرہ صاف کرنے میں۔”
وه روہانسی ہو کر بولی جب کہ اس کی شکل دیکھ کر باسم بامشکل ہی خود کو ہںسننے سے باز رکھ رہا تھا۔
“کیا کیا میں نے ہاں جو اس قدر شور مچا رہی ہو۔ “
وه اب تک باتھ روم کے دروازے پر کھڑا تھا۔
“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس قدر گندے انسان ہیں آپ۔ کمرے کو کباڑ خانہ بنا دیا تھا میری غیر موجودگی میں آپ نے۔ میں نے دو گھنٹے لگا کر سب سہی کیا اور آپ نے پھر سے سب خراب کر دیا۔”
اس کا دکھ ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔
“میں تو ایسا ہی ہوں۔ گزارا تو کرنا ہی پڑے گا اب تمہیں۔”
وه لا پرواہی سے کہتا جا کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
اس کے گیلے سلیپرز سارا فرش گیلا کر گئے جب کہ وه خود ٹاول بیڈ پر پهينکتا برش اٹھا کر بالوں میں پھیرنے لگا۔ وه صدمے کی حالت میں سارا پھیلاوہ دیکھنے لگی۔
“آپ۔۔۔آپ۔۔۔”
وه کچھ کہنے کی کوشش کرنے لگی پر اس کے الفاظ اس کی زبان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔
“ہاں میں جانتا ہوں کہ میں بہت صفائی پسند، ہینڈسم اور نیک انسان ہوں۔ شرماؤ مت یار کھل کر تعریف کرو۔”
وه اس کو چڑانے کی خاطر شوخ ہوتا بولا تو وه واقعی چڑ گئی۔
“خوش فہمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مسٹر باسم آفریدی۔”
وه تڑخ کر کہتی کمرے میں بکھرا سامان سمیٹنے میں جت گئی۔
“ایسے تو مت کہو۔ یوں ہی تو نہیں فدا تھی مجھ پر تم۔”
اس کی بات پر مومل کے چلتے ہاتھ ایک دم ساکت پڑ گئے۔
” سہی کہا۔ واقعی یوں ہی تو نہیں فدا ہوئی تھی آپ پر بلکہ میری قسمت میں ذلت لکھ دی گئی تھی اور قسمت سے کون لڑ سکا ہے آج تکمیری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی یہ۔”
“اچھا! تو مجھ سے محبت کرنا تمہیں ایک غلطی لگتی ہے۔”
وه اس کے سر پر پہنچتا اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنے سامنے کر گیا۔
“محبت! ہاہاہا میری ہنسی نہیں رک رہی سیریسلی۔ میں تو ایویں ہی آپ کی کھڑوس سمجھ رہی تھی آپ تو اچھے خاصے جولی ہیں۔”
اس کی بات پر وه بھڑک اٹھا۔
“کون سا مذاق کیا ہے میں نے تمہارے ساتھ۔”
وه اس کے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کر گیا۔
“یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔ محبت اور وه بھی آپ سے! خوش فہمی سے نکل آئیں۔ سہی کہتے تھے آپ۔وه محبت نہیں وقتی اٹریکشن تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ مجھ پر آشکار ہو گئی۔ اب میرے دل میں آپ کے لئے کوئی جذبہ موجود نہیں سمجھے آپ!”
وه سرد مہری سے کہتی اپنا بازو چھڑوا کر کمرے سے باہر نکل گئی جب کہ اس قدر کاری وار پر وه بلبلا اٹھا۔
°°°°°
