Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

راجہ شام سے کہیں گیا تھا۔ اب رات کے گياره بج رہے تھے پر اس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔وه پریشانی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔ راجہ کا نمبر بھی بند جا رہا تھا۔ وه تھک ہار کر بیڈ پر بیٹھی ہی تھی کہ باہر سے کھڑاک کی آواز آئی۔
“شکر آ گئے!”
وه خوشی سے کہتی اٹھ کر تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔ وه بیڈ روم کا دروازہ کھول کر جیسے ہی باہر نکلنے لگی سامنے نظر آتے شخص کو دیکھ کر اس کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ وه اس وقت یہاں کیا کر رہا تھا۔
“کیسی ہو ڈارلنگ؟”
طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنساۓ وه اس سے چند قدم کی دوری پر کروفر سے کھڑا تھا۔
“آپ۔۔آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں حاشر! آپ پلیز جائیں یہاں سے راجہ ابھی گھر نہیں ہیں۔”
وه ہچکچا کر کہتی نہ محسوس انداز میں قدم پیچھے کر گئی۔
“اوہ! راجہ گھر نہیں ہیں۔ واہ بھئی بڑی عزت دی جا رہی ہے ایک گلی کے ٹٹ پنجی کو۔”
اس کے کہنے پر وه ناگواری سے چہرہ موڑ گئی۔
“مائنڈ یور لینگویج حاشر! شوہر ہیں میرے وہ! مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا اگر کوئی میرے شوہر کے متعلق برے الفاظ استعمال کرے ۔ آپ پلیز اس وقت چلے جائیں یہاں سے راجہ کی موجودگی میں آئیے گا۔”
حاشر تو حیرت سے اس کے بدلے ہوئے روپ کو دکھ رہا تھا۔
“بہت زبان چل رہی ہے تمہاری ہاں! واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے تمہیں ۔”
اس کی بات پر وه سر جھٹک گئی۔
“اچھا یہ بتاؤ کام کہاں تک پہنچا؟”
وه اب کام کی بات کی طرف آیا۔
“کون سا کام؟”
اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔
“وہی کام جس کے لئے اس موالی سے شادی کی اور کون سا کام؟ اتنے دن گزر گئے ابھی تک کوئی گڈ نیوز نہیں ملی کیا؟ دیکھنے میں تو اچھا خاصہ ہٹا کٹا ہے وه موالی؟”
اس کی گھٹیا بات سنتے نوریہ کا چہرہ غصے اور ضبط سے سرخ پڑ گیا۔
“آپ ابھی اور اسی وقت نکل جائیں یہاں سے راجہ بس آنے ہی والے ہیں مجھے کال کر کے بتا چکے ہیں کچھ دیر پہلے کہ میں بس پہنچ رہا ہوں۔”
وه بہت ضبط کرتے جھوٹ بول گئی۔ اسے حاشر کا یوں راجہ کی غیر موجودگی میں آنا بلکل بھی مناسب نہیں لگا تھا۔
“میں ویسے بھی جا رہا ہوں بس پر جلد از جلد مجھے یہ خوش خبری چاہئے اب سمجھی!”
وه ہرگز اس بد تمیز گنڈے کے منہ لگ کر اپنا منہ نہیں تڑوانا چاہتا تھا اس لئے اپنے خوف کو ظاہر کے بغیر اس پر چڑہائی کرتا وہاں سے نکلنے لگا۔ راجہ کی غیر موجودگی کو یقینی بنا کر آیا تو دیوار پهلانگ کر تھا پر اب واپس دروازے سے جا رہا تھا۔
اس کے باہر نکلتے ہی نوریہ نے تیزی سے دروازہ بند کیا اور کمرے میں جا کر دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔
اب وه بیڈ پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ اسے حاشر سے بالکل بھی ایسی امید نہیں تھی۔ کتنی بد تمیزی کر کی گیا تھا وه آج۔
وه یوں ہی آنسو بہانے میں مگن تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا۔ اب کہ وه جانتی تھی کہ کون ہو اس لئے نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اس کی خوشبو ہی اس کی آمد کا پتا دیتی تھی۔
وه کمرے میں داخل ہوا تو سامنے نظر آتے منظر کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا جہاں وه دشمن جاں آنسو بہاتی جا رہی تھی۔ وه اپنی حالت کی پرواہ کیے بغیر تیزی سے اس کی طرف لپكا۔
“میری جان!”
اس کی میٹھی پکار کانوں میں پڑی تو نوریہ کا دل کیا کہ بھاگ کر اس کی پناہوں میں خود کو چھپا لے پر خود پر ضبط کرتی بیٹھی رہی۔
وه آ کر اس کے سامنے بیٹھتا اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام گیا۔
“کیا ہوا میری رانی کی آنکھوں میں یہ آنسو کیوں؟”
وه بے قراری سے پوچھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں بس میرا دل کر رہا تھا۔”
وه تھوڑا سا كسمسا کر بولی۔
“رونے کا دل بھی کرتا ہے کیا؟”
لہجے میں حیرت واضح تھی۔
“جی کرتا ہے رونے کا دل۔ ہم لڑکیوں کاکرتا ہے۔ کیوں کہ ہمارا دل نازک ہوتا ہے۔ آپ مرد کیا جانیں یہ دل کی باتیں کیوں کہ آپ کے سینے میں نازک دل کی جگہ سخت پتھر فٹ ہوا ہوتا ہے۔”
وه خفگی سے بولتی اسے حیران کر رہی تھی۔
“پر بیگم وجہ تو پتا چلے کہ اس سخت پتھر دل والے انسان نے ایسا کون سا جرم سر زد کر دیا ہے کہ نازک دل والی حسینہ آنسو بہانے پر مجبور ہو گئی۔”
وه محبت سے پوچھتا اس کے گیلے گال اپنے ہاتھوں سے صاف کرنے لگا۔
“رہنے دیں بس ۔ آپ کو بتانے سے کیا فائدہ ہونا۔ غلطی میری ہی نکلنی ہے۔”
وه اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹانے لگی پر راجہکی گرفت مزی مضبوط ہو گئی۔
“نہیں بھئی میں تو اپنی زندگی میں یہی سیکھا ہوں کہ غلطی ہمیشہ مرد کی ہوتی ہے۔ نازک دل عورت بھلا کہاں کوئی غلطی کر سکتی ہے۔ خاص طور پر بیوی نامی ہستی تو کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی۔ سارا قصور شوہر نامی مخلوق کا ہی ہوتا ہے۔”
اب کہ اس کی آنکھوں میں شرارت چمک رہی تھی پر نوریہ اس کی باتوں کو سنجیدہ لیتی اثبات میں سر ہلانے لگی جسے دیکھ راجہ سے اپنی مسکراہٹ پر قابو پانا مشکل لگنے لگا پر ظاہر کروا کر اسے مزید ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹ گیا۔
وه اسے کہنی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ گیا۔
“میں جانتا ہوں کہ میری جان میرے لیٹ آنے پر رو رہی ہے۔”
وه اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اس کا سر اپنے سینے سے ٹکا گیا۔
“اگر اپنا کارنامہ جانتے ہیں تو مجھ سے پوچھ کیوں رہے ہیں پھر؟”
اس کے انداز میں خفگی سمٹ آئی۔
“اچھا نا میری جان! کام سے گیا تھا۔ آئينده کبھی اتنی دیر تک گھر سے باہر نہیں رہوں گا رات میں۔ اب تو معاف کر دے میری رانی!”
اس کے یوں مناننے پر نوریہ کی پیٹ میں تتلیاں اڑنے لگیں۔ کتنا اچھوتا اور دلفریب احساس تھا کہ کوئی اسے منا رہا تھا۔ حاشر اس کام کو فضول سمجھتا تھا اور اس کے بقول اس کے پاس ان بچوں والے چونچلوں کے لئے وقت نہیں تھا فضول۔
اس کی خاموشی پر راجہ نے اس کے گرد باہوں کا گھیرا تنگ کرتے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
“ٹھیک ہے پر یہ پہلی اور آخری دفعہ تھا۔ آئينده آپ کی یہ غلطی معاف نہیں کی جاۓ گی۔ سمجھے آپ؟”
اس کے رعب سے پوچھنے پر وه آنکھوں میں شرارت لئے معصوم بچوں کی طرف ہاں میں سر ہلا گیا جب کہ اس کی ایسی شکل دیکھ کر نوریہ مشکل سے ہی اپنی ہنسی پر قابو پا سکی۔
“پیچھے ہٹيں اب سونا ہے مجھے کافی رات ہو چکی آپ بھی سو جائیں اب ۔”
وه اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے پیچھے ہٹنے کا بولنے لگی کیوں کی اس کی قربت نوریہ کی جان نکال رہی تھی۔
“سونے کو بھول جاؤ میری رانی! اتنی سرد رات ہو اور حق حلال کا محبوب پاس ہو تو کون کافر سونے کے بارے میں سوچے گا۔”
کانوں میں پڑتی اس کی شریر سرگوشی نوریہ کے رونگٹے کھڑے کر گئی۔
اس سے پہلے کہ وه کوئی جواب دیتی راجہ کا فون بجنے لگا۔ موقع پاتے ہی نوریہ اس کی گرفت سے نکل کر بیڈ کی طرف بھاگی۔ اس کی پھرتی حیرت سے دیکھتا وه موبائل کی طرف متوجہ ہوا اور پھر اس کا خیال کرتے موبائل لے کر کمرے سے باہر نکل گیا۔
کال ختم کرنے کے بعد وه کمرے میں واپس آیا تو اسے كمبل میں دبکے سوتے ہوئے پایا۔ وه اس کے نزدیک ہو کر غور سے دیکھنے لگا تو معلوم ہوا کہ وه سچ میں سو رہی ہے۔ اس کی چالاکی پر وه اسے گھور کر رہ گیا پھر گہرا سانس بھرتے لائٹ بند کرتا خود بھی كمبل میں گھس کر اسے نرمی سے اپنی طرف كهينچ کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھتا اسے خود میں بھینچ گیا۔ نازک بدن کا احساس جذبات کو بیدار کر رہا تھا۔
“اف راجہ کیا زندگی ہے تیری! شادی شدہ ہو کر بھی کنوارہ۔”
وه خور پر افسوس کرنے کے بعد اپنی آنکھیں سختی سے بند کیے سونے کی نا کام سی کوشش کرنے لگا۔
°°°°°
یوں ہی وقت گزرتے مومل آفریدی کی شادی کا دن بھی آن پہنچا تھا۔ ارمش کی طبعیت سنبھلتے ہی مومل کی شادی اور ارسم کا ولیمہ فکس کر دیا گیا تھا۔
سنہری عروسی لباس میں سر تا پير سجی وه بیڈ پر بیٹھ کر اپنے حنائی ہاتھوں کی لکیروں کو گھورنے میں گم تھی۔
وه جو کہتا تھا کہ تمہاری شادی فاران سے نہیں ہونے دوں گا اب بہت مزے سے اس کی شادی کی تیاریاں کر رہا تھا۔
اس نے بہت سال باسم کی بے رخی برداشت کی تھی پر اب اس سے بچھڑنے کی تکلیف حد سے سوا تھی۔ آج وه کسی اور کے نام ہو جاتی تو باسم آفریدی کی سوچ اس کا خیال بھی مومل آفریدی پر حرام ہو جاتا۔ وه کسی کے نکاح میں رہ کر کسی اور کی یاد کو دل و دماغ کی زینت نہیں بنا سکتی تھی۔
پر اس کے لئے سب سے زیادہ تکلیف ده مناہل سے بچھڑنا تھا۔ وه اس کی بغیر کیسے رہے گی؟ اور مناہل اس کے بغیر کیسے رہے گی؟
یہ سوچتے ایک آنسو اس کی آنکھ سے بہتا بے مول ہوتا چلا گیا۔
“مما”
میٹھی سی آواز پر مومل نے دروازے کی طرف دیکھا تو سامنے ہی اس کی چھوٹی سی شہزادی کھڑی تھی۔ سفید گھیر دار پاؤں تک لمبی فراک پہنے اور کندھے تک آتے نیم گهنگھریالے بالوں پر تاج لگائے وه سچ میں شہزادی ہی لگ رہی تھی۔
“آ جاؤ میری جان۔”
وه دھیرے سے مسکراتی اس کی طرف ہاتھ بڑھا گئی تو مناہل بھاگتے ہوئے اس کے حصار میں سما گئی۔
“مما یو لک ویلی بیوتیفل”
(مما آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں)
اپنی توتلی زبان میں اس کی تعریف کرتی وه مومل کو اتنی پیاری لگی کہ وه بے ساختہ اس کے گالوں پر اپنے لب رکھ گئی۔
“مما کی جان آپ مما سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہیں”
اس کی بات پر مناہل اپنے خرگوش والے دانت دکھا کر ہنسنے لگی۔
“مناہل!”
بهاری گھمبیر آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وه تیزی سے اپنی بھیگی آنکھیں صاف کر گئی۔
“يس پاپا”
(جی پاپا)
مناہل کا جواب سنتے وه مضبوط قدم اٹھاتا کمرے میں داخل ہوا اور بلکل اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“جان دادو بلا رہی ہیں آپ کو۔ جاؤ شاباش دادو کی بات سنو جا کر۔”
وه نرمی سے اس کے بال سہلاتا ہوا بولا۔
“اوکے پاپا”
وه باسم کو جواب دے کر مومل کی طرف پلٹی اور اس کا ہاتھ چوم کر تیزی سے باہر بھاگ گئی۔
اس کو موجودگی اور گہری نظریں خود پرمحسوس کر کے مومل کی سینے میں ساکت پڑا دل پھر سے شور مچانے لگا۔
“کیسی ہو؟”
اس کے سوال پر مومل نے آنکھیں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھیں باسم آفریدی کی آنکھوں سے جا ٹکرائیں۔
“بہت خوش!”
ہونٹوں کو مسکراہٹ میں ڈھال کر اک ادا سے بولی۔
“ہاں وه تو نظر آ رہا ہے۔ تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔”
اس کی طنزیہ بات پر وه پھر سے اس کی جانب دیکھنے لگی جو مسکرا کر اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔
“خیر۔ بربادی مبارک! اوپس میرے کہنے کا مطلب کہ شادی مبارک!”
وه اس کے کان کے نزدیک جھکتا اس کی سماعت میں زہر انڈیلنے لگا۔
اس کی بات پر مومل کا رنگ فق ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وه کوئی جواب دے پاتی فریحہ آفریدی کمرے میں داخل ہوئیں۔
“باسم بیٹا بارات آ گئی ہے جلدی سے آ جاؤ آپ اب ارسم اکیلا تو مہمانوں کو اٹینڈ نہیں کر سکتا۔”
ان کی بات پر وه سر ہلا گیا۔
“جی چھوٹی امی میں دیکھتا ہوں۔”
وه مسکرا کر کہتا کمرے سے باہر نکل گیا جب کہ مومل آفریدی کا دل پھر سے تاریکی میں ڈوب گیا۔
°°°°°