Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ارسم اسے لیے کمرے میں داخل ہوا اور اسے نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔اسے بیڈ پر لٹانے کے بعد وہ دروازے کی طرف گیا اور آہستگی سے دروازہ بند کر دیا۔وه واپس بیڈ کی طرف آیا تو وه آنکھیں موند چکی تھی۔ وہ اس کی بالکل قریب بیٹھ کر ہولے ہولے اس کا سر دبانے لگا۔وه محبت بھری نظروں سے اس کی معصوم چہرے کو دیکھ رہا تھا پر اس کی آنکھوں کی کونوں سے نکلتی نمی کو دیکھتے تڑپ گیا۔
“میری جان! کیا ہوا کہیں درد ہے کیا؟”
اس کی متفكر آواز پر وه دھیرے سے آنکھیں وا کر گئی۔
“بتائیں سوفٹی! کہیں درد ہو رہا ہے کیا میری جان کو؟”
وه اس کی گالوں پر پهيلی نمی کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتا اس کی ازیت بھری آنکھوں میں دیکھتا پھر سے پوچھنے لگا۔
اب کے وه شرمسار ہوتی دھیرے سے سر ہلا گئی۔
“کہاں درد ہے؟ مجھے بتائیں آپ۔”
وه اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر گیا۔
“پپ۔۔۔پیچھے کمر۔۔۔پر۔”
وه اٹک اٹک کر بولی تو اس کی بات سنتے ہی وه اسے کندھوں سے تھام کر بیٹھا گیا۔
وه اس وقت ہسپتال کی مخصوص لباس میں تھی۔ سفیدکھلی سی شرٹ اور پجامے میں اس کا نازک کمزور سا وجود چھپ سا گیا تھا۔
ارسم اس کے پیچھے آ بیٹھا اور اس کی شرٹ پکڑ کر دھیرے سے اوپر اٹھائی۔ وه جھجھک رہا تھا پر اس کی کمر پر نظر پڑتے ہی وہ تڑپ اٹھا۔ اس کی روح لرز گئی تھی۔
کمر کے وسط سے لے کر نیچے تک سگریٹ سے داگے جانے کے نشان تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے جلتا ہوا سگریٹ بہت بری طرح مسلا گیا ہو۔ زخموں کے اوپر جلد بھی چھیلی ہوئی تھی۔
وه سرخ ہوتی نم آنکھیں بند کر کے خود پر ضبط کرنے لگا۔اس نازک وجود کی تکلیف محسوس کرتے اس کا کلیجہ مسلا جا رہا تھا۔اس نے دونوں ہاتھ چہرے پر پهير کر اپنے تاثرات پر قابو پایا اور وہاں سے اٹھ کر الماری کی طرف بڑھ گیا ۔ وه واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں مرہم کی ڈبی تھی۔
بغیر ایک لفظ بھی بولے اس نے ارمش کو پیٹ کی بل لٹایا اور اس کی شرٹ كهسكا کر زخموں پر مرہم رکھنے لگا۔
“سسس!”
اس کا ہاتھ زخم پر لگتے ہی وه سسک اٹھی۔
“ریليكس میری جان سب ٹھیک ہے۔ ہو گیا بس!”
وه اسے پچکارتا نرمی سے اس کے زخموں کی مسیحائی کرنے لگا۔
مرہم لگ چکی تو وه سائیڈ ٹیبل پر رکھتا خود ہاتھ دھونے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
وه واپس آیا تو وه نڈھال سی کروٹ کے بل لیٹی ہوئی تھی۔ وه اس کی مقابل بیٹھ گیا۔ ابھی وه بیٹھا ہی تھا کہ کمرے کا دروازہ ناک ہونے لگا۔
“یس!”
اس کی اجازت پر دروازہ کھلا اور ایشا آفریدی ہاتھوں میں ٹرے تھامے اندر داخل ہوئیں۔
“ارے ماما آپ! آئیں نا پلیز!”
وه جلدی میں اپنی جگہ سے اٹھتا انہیں جگہ دے گیا۔
“بیٹھی بیٹا میں تو اپنی بیٹی کے لئے سوپ بنا کر لائی تھی۔ تمہارے لئے کھانا بھی لائی ہوں کھا لو کمرے میں ہی۔”
اسے بتاتی وه ٹرے بیڈ پر رکھ گئیں۔
ارمش اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو ارسم نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بٹھایا۔
ایشا آفریدی بہت غور سے ارمش کے چہرے پر پهيلی پریشانی کو دیکھ رہی تھیں۔ شاید وه اب تک ان سے خوف زدہ تھی۔
“ارسم تم کھانا کھاؤ میں اپنی بیٹی کو خود سوپ پلاتی ہوں۔”
وه ارمش کے گال پر ہاتھ رکھتی پیار سے بولی تو ارسم جی اچھا کہہ کر کھانا شروع کر گیا۔ایشا آفریدی ارمش کے قریب بیٹھ کر سوپ کی پیالے میں سے چمچ بھرتی اس کی منہ کے پاس کر گئیں۔ ارمش فورا ارسم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
ارسم کی طرف سے مثبت اشارہ ملنے پر وه آہستہ سے منہ کھول گئی۔
جب تک وه سوپ ختم کرتی ارسم بھی کھانا کھا چکا تھا۔
ایشا آفریدی نے ارمش کا ماتھا چوما اور ارسم کو اس کا خیال رکھنے کی تاکید کرتی کمرے سے چلی گئیں۔
“سس۔۔۔سنیں!”
وه جھجھکتی ہوئی اس سے مخاطب ہوئی۔
“جی سنائیں!”
وه مسکرا کر گویا ہوا .
“یہ آنٹی پیار کیوں کر رہی تھیں؟”
لہجے کے ساتھ آنکھوں میں بھی معصومیت بھری تھی۔
“کیوں کہ یہ آنٹی نہیں ماما ہیں۔ ارسم اور ارمش کی ماما۔ اور ماما تو پیار ہی کرتی ہیں نا۔”
وه اس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے سہلانے لگا۔
“کیا سچ میں ماما پیار کرتی ہیں؟”
اس کی آنکھیں میں موجود حسرت ارسم کو بہت چبھی۔
“جی میری جان سچ میں۔ ابھی دیکھا نا ماما پیار کر رہی تھیں اور ارمش تو ہے ہی بہت پیاری اس لئے ارمش سے سب پیار کرتے ہیں۔”
اس کی بات سنتی ارمش کی آنکھوں میں اب اداسی چھا گئی۔
“سب تو نہیں کرتے۔”
اب کی بار آواز اتنی کم تھی کہ اس کی اپنے کانوں تک بھی نہ پہنچ پائی۔
“چلیں میری جان کچھ دیر سو جائیں اب آپ ریسٹ کریں۔
وه اسے احتیاط سے لٹا کر اس پر کمبل اوڑھ گیا اور اس کے پاس ہی بیٹھ کر ہولے ہولے اس کا سر تهپتهپانے لگا۔
جب اس کے سونے کا یقین ہو گیا تو اٹھ کر ٹیرس کی طرف بڑھ گیا تا کہ ضروری كالز کر سکے۔
°°°°°°°
جہاں آرا غم و غصّے سے پاگل ہو رہی تھی۔ اتنے دن گزر چکے تھے مگر ارمش کا کہیں پتا ہی نہیں چل پا رہا تھا۔زین بھی مارا مارا پھر رہا تھا پولیس بھی ڈھونڈ رہی تھی ۔ ابھی تو جہاں آرا کا شوہر اس سب سے لا علم تھا کیوں کہ وه ملک سے باہر تھا۔ نہ جانے جب اسے علم ہوتا تو کیا قیامت آتی۔
“زین کچھ پتا چلا؟”
وه لاؤنج میں داخل ہوتے زین کی طرف لپكی۔
“نہیں ماما”
وه تھکا ہارا آیا تھا آتے ہی صوفے پر گر کر آنکھیں بند کر گیا۔
“نہ جانے آسمان نگل گیا یا زمین۔”
وه اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکا تھا پر وه نا جانے کہاں جا چھپی تھی کہ مل ہی نہ رہی تھی۔
“اب کیا ہو گا زین؟ کیسے ڈھونڈیں گے ہم اسے اب۔اتنے دن گزر چکے اب تمہارے ڈیڈی بھی آنے والے ہیں۔”
وه سر ہاتھوں میں گرا کر بیٹھ گئی تھیں۔
“میں ڈھونڈ لوں گا اسے۔ ہاں ڈھونڈ لوں گا ضرور میں۔”
وه آنکھیں مسلتا کوٹ کندھے پر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°
وه تیش میں اس کے کمرے کی طرف بڑھا۔اپنے غصّے میں وه یہ بھی بھول چکا تھا کہ کسی کے کمرے میں جانے سے پہلے دروازہ ناک کیا جاتا ہے۔
وه دروازے کا ہینڈل پکڑ کر ایک دم دروازہ کھول گیا پر سامنے نظر آتے منظر پر اس کی نظریں ٹھہر سی گئی تھیں۔
وه دشمن جاں ہلکی نیلی پلازو پینٹ اور سفید ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے اور بالکل ایسی ہی ڈریسنگ اس کی بیٹی نے کی ہوئی تھی۔ مومل نے کمر کی دائیں طرف مناہل کو اٹھا رکھا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ مناہل کے گرد مضبوطی سے اسے پکڑے ہوئے تھا جب کہ دوسرے ہاتھ میں اس کا موبائل موجود تھا جس سے وه دونوں سیلفیاں لینے میں مصروف تھی۔
اسے تو اپنی بیٹی پر حیرت ہو رہی تھی جو چوں چراں کیے بغیر بہت مزے سے پیارے پیارے پوز دے رہی تھی۔
“اف یہ لڑکی میری معصوم بیٹی کو بگاڑ رہی ہے۔”
وه مومل کی حسین صورت دیکھتا بڑبڑا کر رہ گیا جب کہ اس کی بالوں کی آبشار پر نظر پڑتے باسم کا دل پھر سے بے خود ہونے لگا۔ لمبے بال تو ہمیشہ سے ہی باسم آفریدی کی کمزوری رہے تھے اور سامنے موجود مومل آفریدی اس کی نفرت کا پرچار کرنے کے باوجود باسم آفریدی کی دلی خواہش کو اپنے وجود کا حصّہ بناے کھڑی تھی۔
“شی از آ ٹرو راپنزل (She is a true rapunzal)”
باسم آفریدی کے دل نے پھر سے سرگوشی کی تھی پر وه ڈپٹ کر دل نامی فسادی کو خاموش کروا گیا۔
نظریں گھماتے مناہل کی نظر اس پر پڑی تو چہچہا اٹھی۔
“پاپا!”
اس کی پاپا کی پکار پر مومل آنکھیں گھما کر رہ گئی۔
“مینو میری جان! میرا اتنا سارا پیار کافی نہیں کیا جو تم اپنے ڈریکولا پاپا کو یاد کر رہی ہو ہاں اسی لئے نا تا کہ وه اپنی سرخ آنکھوں اور منہ سے آگ نکال کر مجھے بهسم کر دیں۔”
وه مصنوعی غصّے سے اسے گھورتی ہوئی بولی تو مینو کھلکھلا کر ہنس دی جیسے اس نے اس بات کو بہت انجوۓ کیا ہو جب کہ دروازے کے پاس کھڑے باسم آفریدی کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔
وه مٹھیاں بھینچتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے سر پر پہنچ گیا۔
“تو میں ڈریکولا ہوں وه بھی آگ اگلنے والا۔ انٹرسٹینگ! ویری انٹرسٹینگ! “
اس کی سرد آواز اپنے بالکل نزدیک محسوس کرتی مومل کا رنگ ایک دم بدلا تھا۔
“جج ۔۔۔۔جی؟”
اس کے سوالیہ لفظ کو اقرار سمجھتے باسم کا میٹر ایک دم ہی شارٹ ہوا تھا۔ وه اس کے ہاتھ سے مناہل کو لیتا زمین پر اتار گیا۔
“جاؤ میری جان باسم چاچو سے چاکلیٹ لے کر آؤ۔ وه لاۓ ہیں آپ کے لئے۔”
چاکلیٹ ملنے کی خوشی میں وہ سب کچھ بھولتی خوشی سے باہر کی طرف بھاگی۔ اس کی یوں بےوفائی پر مومل بچارگی سے منہ بنا کر رہ گئی۔
“باسم کا دھیان کمرے سے نکلتی مناہل پر پاتے وه تیزی سے باتھروم کی طرف بڑھنے لگی پر اس سے بھی زیادہ تیزی سے باسم آفریدی اسے اپنی طرف کھینچ گیا۔ اس کے ایک دم جھٹکا دینے پر اس نے اس کے سینے پر ہاتھ جماۓ بمشکل خود کو اس کے کشاده سینے سے ٹکرانے سے روکا۔
دل کی دھڑکن رفتار پکڑ چکی تھی۔ دھڑکنوں سے ادھم ہی مچا دیا تھا۔
“اب بتاؤ کیا کہہ رہی تھی مجھے تم؟”
وه سخت نظریں اس کے چہرے پر گاڑے کھڑا تھا۔
“کک۔۔۔کچھ بھی تو نن.۔۔۔۔نہیں۔ہاں یاد آیا! میں آپ۔۔۔آپ کی تعریف۔۔۔ہاں تعریف کر رہی تھی۔”
گڑبڑا کر بولتی وه آخر میں ہونٹوں کو زبردستی مسکراہٹ میں ڈھال گئی۔
“ہاں جھوٹ بولنا تو تمہارا محبوب مشغلہ ہے۔ کیوں سہی کہہ رہا ہوں نا؟”
اس کی طنز سے بھر پور بات پر وه تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔جانتی تھی اس کی محبت کی اقرار کو جھوٹا کہہ رہا ہے۔
باسم جانتا تھا کہ ابھی وه جواب دے گی کہ نہیں اس نے باسم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔
“جی سہی پہچانا آپ نے بالکل۔ نادان تھی نا تو کچھ بھی بول دیتی تھی جذبات میں آ کر۔ بچکانہ جذبات یو نو!”
دل کے درد کو چھپاتی ہونٹوں پر مسکان سجاۓ بولی تو وه اس قدر کاری وار سے بلبلا اٹھا۔
اس سے پہلے کہ وه کوئی جواب دیتا دروازے پر ہونے والی دستك نے دونوں کا دھیان اپنی طرف سمیٹا۔
“مومل بی بی نیچے فارن صاحب آ چکے ہیں۔ چھوٹی بی بی کہہ رہی ہیں کہ ان کے ساتھ لنچ پر جانے کے لئے اگر آپ تيار ہو چکی ہیں تو نیچے آ جائیں ۔ وه انتظار کر رہے ہیں۔”
ملازمہ فریحہ آفریدی کا پیغام دے کر وہاں سے چلی گئی۔
جب کہ مومل ایک دم کچھ سوچتی اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑوا گئی۔
“سوری آپ سے مزید بات نہیں کر سکتی کیوں کہ مجھے اپنے ہسبنڈ ٹو بی کے ساتھ لنچ پر جانا ہے۔”
دل جلاتی مسکان سمیت گویا ہوتی شیشے کی طرف متوجہ ہوئی تو دل کیا زمین پھٹے اور وه اس میں سما جاۓ۔ وه تب سے اس حلیہ میں باسم کے سامنے کھڑی تھی۔ شرم سے زمین میں گڑتی وه بھاگتی ہوئی باتھ روم میں بند ہوئی جب کہ اس کی آخری بات پر اس کا خون کھول اٹھا۔
غصّے سے بھناتا وه کمرے ص س نکل گیا۔ اب اس کا رخ ڈرائنگ روم کی طرف تھا۔
°°°°
وه فاران سے ملتا اس کے سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھا تھا۔ اسے یہ فاران نامی بلا سے اچھی وائیبز نہیں آ رہی تھیں۔پتا نہیں اس کے گھر والے اس قدر ماڈرن کیوں ہو گئے تھے کہ اکیلی جوان لڑکی کو ایک انجان مرد کے ساتھ بھیج رہے تھ۔ بیشک دونوں کا رشتہ طے ہو چکا تھا پر فاران کو وه اتنی اچھی طرح بھی نہ جانتے تھے کہ اس کے کہنے پر اپنی بیٹی کو چپ چاپ اس کے ساتھ بھیج دیں۔
اسے رہ رہ کر اپنے گھر والوں پر غصہ آرہا تھا پر اس کے پاس ایسا کوئی حق محفوظ نہیں تھا جو اس کو روک پاتا۔
“السلام علیکم!”
مومل کی آواز پر وه چونک کر اپنی سوچوں سے باہر آتا اس کی جانب دیکھنے لگا
کچے پیلے رنگ کی لونگ شرٹ اور كیپری پر ہم رنگ دوپٹہ ایک کندھے پر رکھے لمبے بالوں کو جوڑے میں قید کیے ہلکے سے میک اپ میں وه حسین ترین لگ رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی فاران ٹرانس میں اپنی جگہ سے اٹھ کر اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا۔ وه اس کی خوب صورت سراپے سے نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا جسے دیکھتے باسم بے چین ہونے لگا۔
“وعلیکم السلام! کیسی ہیں آپ؟”۔
اس کے پوچھنے پر وه مسکراتی ہوئی سر ہلا گئی۔
“چلیں؟”
اس کی پوچھنے پر وه پھر سے سر ہلاتی باہر کی طرف بڑھ گئی تو وه بھی باسم سے ہاتھ ملتا اس کے پیچھے چل دیا۔
باسم اپنا ماتھا مسلتا وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔
اسے وہاں بیٹھے گھنٹہ ہو چکا تھا۔ دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی۔ اسے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اسے سامنے سے مناہل آتی دکھائی دی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وه جلدی سے مناہل کو اپنی گود میں اٹھا گیا۔
“پاپا! میلی ماما تہاں؟”
وه روہانسی آواز میں بولی تو اس کے منہ سے مومل کے لئے ماما کا لفظ سن کر نا جانے کیوں پر دل دھڑکا ضرور تھا۔
“بیٹا وه تو میری جان کو اکیلا یہاں چھوڑ کر ایک گندے انکل کے ساتھ چلی گئی۔”
اس سے توقع کے عین مطابق وه زور و شور سے رونا شروع ہو چکی تھی۔ بغیر اسے چپ کروائے اس نے جیب سے موبائل نکال کر جلدی سے مومل کے نمبر پر کال ملائی۔ پہلی بیل پر ہی کال اٹھا لی گئی تھی۔
“کہاں ہو تم اور کب تک واپس آؤ گی۔ اسی لئے میں اپنی بیٹی کو تمہارے نزدیک نہیں آنے دیتا تھا کیوں کہ تمہارے دل میں تو محبت صرف کچھ عرصے کے لئے جاگتی ہے اور تم پھر سے سب بھول جاتی ہو۔ پر تم نے میری ایک بھی نہ سنی اور میری بیٹی کو اپنے قریب کر لیا۔ اب اسے اپنا عادی بنا کر خود سیر سپاٹے پر نکل گئی ہو۔”
وه موبائل کان سے لگاتا شروع ہو چکا تھا جب کہ اس کی باتیں سنتی مومل دھک سے رہ گئی۔
وه باسم کو چڑانے کے لئے فاران کے ساتھ گھر سے نکل تو آئی تھی پر اب سخت پچھتا رہی تھی۔ بھلا باسم کو کیا فرق پڑتا اس سب سے۔ اپنی بیوقوفی پر جی بھر کے تاؤ آ رہا تھا۔ زیادہ ملال تو اس بات کا تھا کہ مناہل کو اکیلا چھوڑ آئی تھی گھر پر۔
راستے میں اس کے اور فاران کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی پر اس کی گہری نظریں خود پر پاتے وه جهنجھلا سی گئی تھی۔ عجب سنكی بندہ تھا!
ریسٹورنٹ پہنچ کر وه پہلے سے ریزرو ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھ گئے۔
مومل کا سامنے بیٹھے بندے میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا پر سامنے بیٹھے بندے کا سارا انٹرسٹ صرف مومل میں ہی تھا۔
ابھی ان کی بات پکی نہ ہوئی تھی بلکہ دونوں گھر والوں کا کہنا تھا کہ پہلے دونوں بچے ایک دوسرے کو مل کر جان لیں تب ہی بات آگے بڑھائی جاۓ۔ اسی لئے وه دونوں آج ایک ساتھ یہاں موجود تھے۔ لنچ آرڈر کرنے کے بعد فاران مومل سے اس کی پسند نا پسند کے متعلق چھوٹے چھوٹے سوال پوچھنے لگا جن کے وه بیزاری سے جواب دے رہی تھی۔
جیسے ہی ٹیبل پر پڑا اس کا موبائل بجا وه نام دیکھے بغیر جلدی سے موبائل اٹھا کر کان سے لگا گئی پر مقابل کی آواز اور باتیں سن کر وه دھک سے رہ گئی۔ رہی سہی کثر پیچھے سے آتی مناہل کی روٹی آواز نے پوری کر دی تھی۔
وه بغیر کوئی جواب دیے تیزی سے اپنا بیگ پکڑتی وہاں سے اٹھی واور باہر نکلتی چلی گئی جب کہ فاران اسے آوازیں دیتا رہ گیا۔ وه بھی جلدی سے پیسے ٹیبل پر رکھتا اس کے پیچھے لپكا پر اس کے پہنچنے سے پہلے ہی وه رکشے میں بیٹھی وہاں سے چلی گئی جب کہ اس کی حرکت پر وه لب بھینچ کر رہ گیا۔
وه گھر پہنچی تو مناہل لاؤنج میں باسم کے پاس منہ بسور کر بیٹھی تھی۔ اسے دیکھتی وه تیزی سے اس کی طرف بھاگی۔
مومل نے اسے اپنی باہوں میں بھینچے اس کے پھولے پھولے گالوں پر زور دار قسم کے بوسے دے جس پر مناہل ہنستی ہوئی اس کی گردن میں منہ چھپا گئی۔ اس نے سامنے بیٹھے باسم کو اگنور کیا اور مناہل کو اٹھاۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
باسم صوفے پر پر سکون انداز میں بیٹھا ان دونوں کی طرف دیکھ رہا جہاں مناہل منہ بسورتے ہوئے مومل سے شکایت کر رہی تھی جس کہ جواب میں یہ اسے گدگدا کر کھلکھلانے پر مجبور کر رہی تھی۔ دھیرے دھیرے وه دونوں اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔
°°°°°°
