Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
یہ ایک کلب کا منظر کا منظر تھا جہاں رات کے وقت بے غیرتی عروج پر تھی۔ نیم عرياں لباس میں شوخ گانوں پر نا محرم مردوں کے ساتھ جھولتی لڑکیاں۔
وہاں کا ماحول کسی بھی طرح سے ایک مسلم ملک مسلم ریاست کا نہیں لگ رہا تھا۔ لڑکیوں کے جسم کو ڈھانپنے کے لئے ناكافی کپڑے ہاتھوں میں موجود حرام مشروب اور انگلیوں کے بیچ دبا سگریٹ ان کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ وه افسوس بھری نظروں سے لڑکوں کے پھٹی ہوئی پینٹس دیکھ رہا تھا۔ عجیب ہی فیشن تھا۔
اس کی عقابی نظریں اس رنگین ماحول سے مستفید ہوتے ایک وجود کو ڈھونڈ رہی تھیں جو اس بھیڑ میں کہیں غائب ہو چکا تھا جیسے۔
پھر جلد ہی اس کی متلاشی نظریں ایک وجود پر ٹک گئیں ۔ اس کی بھوری آنکھیں چمک اٹھیں۔
اس نے لبوں میں دبا سگریٹ نکال کر فرش پر پھینکا اور پھر اس پر اپنا جوتا رکھ کر اسے مسل دیا۔ وه چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنے تاثرات نارمل کرنے لگا پھر ایک تفصیلی نگاہ اپنے حلیے پر ڈال کر اپنے شکار کی طرف بڑھ گیا۔
وه “پینتھر” تھا۔ اپنے شکار کو اتنی باریکی اور ہوشیاری سے دبوچتا تھا کہ وه بھی دنگ رہ جاتا۔
وه اپنے شکار کی طرف بڑھا اور اس کے بلکل پیچھے جا کھڑا ہوا۔
وه لڑکا حرام محلول حلق میں اتارتا سامنے تھرکتی ہوئی بے ہودہ لباس میں موجود لڑکیوں کو مستی بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا جب کسی نے پیچھے سے اس کا کندھا تهپتهپایا۔ وه بد مزہ ہوتا پیچھے مڑا اور سوالیہ نظروں سے اس شخص کو دیکھنے لگا۔
“مدد چاہئے!!!”
پینتھر سرد آواز میں صرف دو الفاظ ہی بولا۔
“کیسی مدد چاہئے بھائی۔ میری مان تو سارے کام چھوڑ اور شراب اور شباب سے لطف اٹھا۔ ہر پریشانی بھول جاۓ گا۔ ہاہاہا!!!”
وه خباثت سے کہتا آخر میں آنکھ مار کر ہنس دیا۔
“تو میری مدد کر بدلے میں میں بھی تجھے ایسا لطف دوں گا کہ تو بھی سب کچھ بھول جاۓ گا۔”
اس کی بات پر وه لڑکا نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“ایسا کیا کام ہے بے!!”
وه چیخ کر پوچھنے لگا کیوں کہ کلب میں پارٹی سونگز پورے شور سے بج رہے تھے۔
“تجھے میرے ساتھ پچھلے روڈ پر جانا ہو گا۔ گاڑی سے کچھ سامان نکال کر لانا ہے بس۔ منہ مانگی قیمت!!!”
اس کی آفر سن کر اس لڑکے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“جتنے زیادہ جیب میں پیسے اتنی ہی زیادہ عیاشی!!!”
وه دل میں سوچتا اس کا کام کرنے کو تیار ہو گیا۔
اس کی بیوقوفی پر هنستا پینتھر اس کی عقل پر افسوس کر کے رہ گیا۔
وه اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اسے اپنے ساتھ لئے کلب سے نکل آیا۔
“کہاں کھڑی ہے گاڑی؟؟”
وه آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگا جو نشے کی وجہ سے بند ہونے کے در پے تھی۔
گاڑی کے پاس پہنچ کر وه پچھلا دروازہ کھول کر اندر کو جھکا تو پینتھر نے اس کی گردن کی مخصوص رگ دبا کر اس کے بیہوش وجود کو اندر دھکیل دیا ۔
“اب مزے کر جہنم میں جا کر!!!”
وه ہاتھ جھاڑ کر نا دیدہ ڈسٹ جھاڑتا ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°°
وه لب بھینچ کر آنکھوں کے سامنے بجتے فون کو دیکھ رہی تھی۔ پانچ دفعہ بج کر فون بند ہو گیا تو اس نے گہرا سانس خارج کیا۔ ابھی ایک منٹ ہی گزرا تھا کہ فون پھر سے بجنا شروع ہو گیا۔
اس نے تھک ہار کر فون پکڑا اور کال اٹھا کر موبائل کان سے لگا لیا۔
“ہیلو!!”
اس نے آنکھیں بند کر کے سر پیچھے کو گرا دیا۔
“ہیلو نوریہ کیسی ہو یار تم نے کہا تھا کہ مجھے خود کال کرو گی اب دو ہفتے ہو گئے پر تمہاری کال نہیں آئی تو میں نے پریشان ہو کر خود ہی کال کر لی۔ تم ٹھیک ہو نا؟؟؟”
اس کی پریشان آواز سن کر نوریہ کے اعصاب پر بھاری بوجھ پڑا۔
“نوریہ کیا تم سن رہی ہو؟؟”
اس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو وه پھر سے اسے پکار گیا۔
“ہاں۔۔ہاں میں سن رہی ہوں۔ میں ٹھیک ہوں حاشر!!! بس وقت نہیں مل سکا۔”
وه آنکھوں کے کونوں کو دبا کر ان کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“تم کب واپس آؤ گی نوریہ!!! چار ماہ گزر چکے ہیں آخر اب تک کوئی نیوز کیوں نہیں ملی۔ تم نے ڈاکٹر کو چیک کروایا؟؟”
اس کی باتیں نوریہ کو کافی ناگوار گزری تھیں۔
“راجہ آ گئے ہیں بعد میں کروں گی!!!”
وه ناگواری سے کہتی فون بند کر گئی۔
“یا اللّه کب آزمائش ختم ہو گی میری!!!”
وه نم آنکھیں خشک کرتی سر دونوں ہاتھوں میں گرا گئی۔
°°°°°°°
“دریہ کہاں ہو بیٹا؟؟؟”
وه غم ناک سی بیٹھی ہاتھ میں پکڑے ریمورٹ سے سامنے لگی ایل ای ڈی پر چینل سرچ کر رہی تھی جب اسے اپنی ماما ذرا شاہ کی آواز سنائی دی جو اسے پکار رہی تھیں۔
“جی ماما آ جائیں آپ!!”
انہیں اندر آنے کا کہتی ایل ای ڈی بند کر گئی۔
“بیٹا ریڈی نہیں ہوئی ابھی تک آپ؟؟ میں نے بتایا بھی تھا کہ مسز حامد آرہی ہیں اپنی فیملی کے ساتھ۔”
اپنی ماں کی بات پر وه گہرا سانس بھر کے رہ گئی۔ وه جانتی تھی کہ مسز حامد اپنے بیٹے کے رشتے کے لئے آ رہی ہیں پر وه بالکل بھی ان کے سامنے نہیں آنا چاہتی تھی۔
یہ بات ٹھیک تھی کہ وه ارسم آفریدی کو بھلا رہی تھی۔ ارسم آفریدی کا باب دریہ کی زندگی میں ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا تھا اور یہ باب بند کرنے والی دریہ خود تھی۔
پہلے وه سوچا کرتی تھی کہ ارسم کے لئے اس کی چاہت میں زرہ برابر بھی کھوٹ نہیں وه پورے دل سے اسے چاہتی تھی۔ وه اس کی ہر نماز کے بعد مانگی جانے والی پہلی دعا تھا۔ وه اس کے تہجد میں کیے گئے سجدوں میں رو رو کر مانگی گئی دلی خواہش تھا۔ وه دریہ کا سب کچھ تھا پر اس کا نصیب نہ تھا۔
دیر سے ہی سہی پر ارسم کی شادی کے بعد یہ بات اسے بہت اچھے سے سمجھ آ چکی تھی کہ نصیب کی ڈور تب جڑتی ہے جب دونوں دل صدق سے ایک دوسرے کا ساتھ نبھائیں۔ محبّت کو منزل تب ملتی ہے جب دونوں طرف سے نبھانے کی لگن سچی اور عہد پختہ ہو۔
ایسے میں اس کی یک طرفہ محبت کس کھاتے میں جاتی۔
اسے ہمیشہ سے اس تیسرے انسان پر رشک آیا کرتا تھا جسے بن مانگے ہی سب مل جاتا ہ پر وه کہاں جانتی تھی کہ ایک ایسا ہی تیسرا کردار اس کی کہانی میں بھی جنم لے لے گا۔
وه یہ سب نصیب کا لکھا سمجھ کر صبر کر چکی تھی پر صبر کرنا بھی اتنا آسان کہاں ہوتا ہے۔ اتنا ہی آسان ہوتا اگر تو اس کے بدلے جنت کہاں ملتی!!!
“ماما مجھے مارکیٹ جانا ہے کچھ شاپنگ کرنے۔ میں بس نکلنے والی تھی۔ کوشش کروں گی جلدی واپس آ سکوں۔”
وه جھٹ پٹ گھر سے نکلنے کا بہانہ کرتی انھیں اپنے پلان سے آگاہ کرنے لگی۔ فلحال وه اس سب کے لئے تیار نہیں تھی اس کا دم گھٹ رہا تھا پر وه اپنی ماں کی ضد کو بھی جانتی تھی اس لئے بہانہ بنا گئی۔
“ٹھیک ہے بیٹا جاؤ آپ اور جلد از جلد آنے کی کوشش کرنا۔”
زارا شاہ جلدی میں تھی اس لئے اسے جلدی واپس آنے کی تاکید کرتی کمرے سے چلی گئیں تو وه بھی بے دلی سے شیشے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
بال اونچی پونی میں باندھے دوپٹہ گلے میں ڈال کر چہرے پر کالا ماسک چڑھایا اور کبڑڈ کی طرف چلی گئی۔ کبڑڈ سے بیگ اور شال نکال کر بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کی طرف آئ۔ وہاں پڑا اپنا موبائل اٹھا کر بیگ میں رکھا، شال کندھوں کے گرد اوڑھی اور بیگ کی لمبی چین کندهے پر لٹکا کا کمرے سے باہر نکل آئی۔
کچن میں ایک سرسری سی نظر ڈالی تو خاصہ اہتمام ہوتا نظر آیا۔
وه اداسی سے گاڑی میں بیٹھتی گھر سے نکلتی چلی گئی۔
دریہ مال آ گئی تھی اور اب بے دلی سے ونڈو شاپنگ کر رہی۔ اس یہاں آئے تقریباً دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ وه یہاں وہاں دیکھتی آگے بڑھ رہی رہی جب اس کے کندھے پر پڑے بیگ میں موبائل بجا۔ اس نے تھوڑا جھک کر پرس کھولا اور اس میں سے موبائل نکالا۔سکرین پر ماما کالنگ لکھا آ رہا تھا۔ وه موبائل دیکھتی ساتھ ہی ساتھ چلتی بھی جا رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وه کال اٹھا پاتی کوئی بہت زور سے اس کے ساتھ ٹکرایا تھا۔
“آہ!!!!”
اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا ماتھا کسی مضبوط چٹان سے جا ٹکرایا ہو۔ وه درد سے سسكتی ماتھے پر ہاتھ رکھ کر جھک گئی جب کہ ادھ کھلے پرس میں سے چیزیں نکل کر زمین پر بکھرتی چلی گئیں۔
“محترمہ آپ ٹھیک ہیں؟؟؟”
بھاری مردانہ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرا کر اسے ہوش کی دنیا میں واپس لے آئی۔ درد کے باعث آنکھوں میں نمی ابھر آئی تھی۔
غیر شناسا مردانہ آواز پر اس نے ہولے سے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو ماسک میں چھپے اس کے چہرے پر سجی نم خیز کالی اداسی مائل آنکھیں دیکھ کر مقابل کا سانس سینے میں اٹکا۔ گہری اداس کالی آنکھیں درد کی وجہ سے نم ہو گئی تھیں۔
زین گردیزی کی آنکھوں نے صرف ایک لمحے کے لئے سامنے موجود حسینہ کی قاتل آنکھوں میں دیکھا تھا اور یہ ایک لمحہ ہی اس کی زندگی پر بھاری پپڑ چکا تھا۔ ایک لمحہ اس لئے کیوں کہ سامنے کھڑی نقاب پوش حسینہ دوسرے ہی لمحے اپنی آنکھیں پهير چکی تھی۔
“آئی ایم سوری میرا دھیان نہیں تھا۔ آپ کو زیادہ تو نہیں لگی؟؟؟”
اس کے نرمی سے پوچھنے پر وه تیزی سے نفی میں سر ہلاتی نیچے جھک کر بکھرا پڑا اپنا سامان اٹھا پرس میں ٹھونسنے لگی اور پھر تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ وه نا سمجھی سے اس کی پھرتی دیکھتا رہ گیا۔ جب وه نظروں سے اوجھل ہو گئی تو وه بھی وہاں سے جانے لگا۔ ابھی اس نے ایک قدم ہی مزید رکھا تھا جب اسے اپنے پیروں کے نیچے کوئی چیز محسوس ہوئی۔
اس نے جھک کر دیکھا تو وہ ایک آئیڈینٹیٹی کارڈ تھا۔
“دریہ علی شاہ!!!”
وه کارڈ پر لکھا نام زیر لب دہراتا ایک دفعہ پھر مڑ کر اس سمت میں دیکھنے لگا جہاں وه گئی تھی پر وه حسینہ ہوا کے جھونکے کی طرح غائب ہو چکی تھی۔
“شاید قدرت چاہتی ہے کہ ہم دوبارہ ملیں!!!”
وه زیر لب مسکراتا کارڈ اپنی جیب میں ڈال گیا۔
°°°°°°
ارسم کمرے میں داخل ہوا تو خالی کمرہ سائیں سائیں کر رہا تھا۔
“سوفٹی کہاں ہیں آپ؟؟”
وه كبرڈ کے پاس جا کر اس کے باہر لٹکا ہوا اپنا شلوار سوٹ پکڑ کر ارمش کو آواز لگانے لگا۔
“ہم یہاں ہیں!!!”
دروازہ کھلنے کی آواز پھر اس کی نرم سی میٹھی سی آواز سن کر ارسم نے پلٹ کر دیکھا تو وه جلدی سے رخ موڑ گئی جس کی وجہ سے اب اس کی پیٹھ ارسم کی جانب تھی۔
“نو!!!! آپ ایسے ہمیں نہیں دیکھ سکتے!!!”۔
ارمش کے بوکھلا کر کہنے پر وه نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“کیوں جی ؟؟ کیوں نہیں دیکھ سکتا میں ایسے آپ کو؟”
وه قدم بڑھاتا اس کی طرف جانے لگا تو اس کے قدموں کی چاپ سن کر وه آنکھیں مینچ گئی۔
“وہیں رک جائیں ہسبنڈ پلیز!! ہم نے مومل آپی سے میک اپ کرنا سیکھا ہے اور اب ہم آپ کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں۔ اس لئے پلیز آپ ابھی مت دیکھیں۔”
اس کے التجائیہ لہجے میں کہی گئی بات پر ارسم کو اس پر بے ساختہ پیار آنے لگا۔
اسے یاد تھا کہ اس نے ہی ایک دن ارمش کو کہا تھا کہ میں آپ کو سجا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔
اس نے ایسا اس لئے کہا تھا کیوں کہ اس نے ارمش کو صرف ولیمے والے دن تیار ہوئے دیکھا تھا ورنہ وه ہے وقت سادہ حالت میں ہی رہتی تھی کیوں کہ اسے تیار ہونا نہیں آتا تھا اور نہ ہی بھاری کپڑے سمبھالے جاتے تھے اس نازک جان سے۔
اب جب وه اس کی خواہش پر تیار ہونا سیکھ گئی تھی اور اسے تیار ہو کر دکھانا چاہتی تھی تو ارسم کو کس طرح اس پر پیار نہ آتا۔
“اوکے اوکے میں نہیں دیکھ رہا آپ بس ذرا سائیڈ پر ہو جائیں مجھے باتھ روم جانا ہے تا کہ میں بھی وقت پر تیار ہو سکوں۔”
اس کے کہنے پر وه فرمان برداری سے یوں ہی اس کی طرف پیٹھ کیے ایک طرف ہو گئی تو وه بھی شرافت سے باتھ روم میں بند ہو گیا۔
“شکر!!!”
ارسم کے باتھ روم میں جانے کے بعد وه جلدی سے اپنا لباس سنبھال کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ گئی۔
وه دونوں ارسم کی فرمائش پر لونگ ڈرائیو پر جا رہے تھے پھر ڈنر بھی باہر ہی کرتے۔ ارسم آج کے لئے اس کا اسپیشل ڈریس لا کر اس کے حوالے کر چکا تھا جسے وه خوشی خوشی پہن چکی تھی۔
اس نے خود کو ایک نظر شیشے میں دیکھا۔
سیاہ ٹخنوں تک آتا فراک جس کے بازوؤں اور گلے پر ملٹی رنگ کی دیدہ زیب کڑھائی ہوئی تھی اس کے ساتھ آرگنزا کا ملٹی دوپٹہ ایک کندھے پر رکھے وه میک اپ کے بغیر بھی خود کو اچھی لگ رہی تھی۔
اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی میٹل کی چوڑیوں پر پڑی تو وه انہیں اپنی دونوں کلائیوں کی زینت بنا گئی۔ ساتھ پڑی چھوٹی چھوٹی جھمکیاں جن کے نیچے بہت چھوٹے موتی لٹک رہے تھے ، انہیں بھی اٹھا کر کانوں میں ڈال گئی۔
وه زیادہ ہیوی جیولری نہیں پہن سکتی تھی اسی لئے اس کی پسند کو سامنے رکھ کر اس کے لئے خریداری کی تھی اس کے پیارے سے شوہر نے۔
سب سے پہلے اس نے تھوڑا سا فاؤنڈیشن چہرے پر اچھے سے فکس کیا اس کے بعد بلش آن سے گال تھوڑے گلابی کیے پھر لپ سٹکس کے شیڈز چیک کرنے لگی۔ ایک گلابی رنگ کی نیوڈ لپ سٹک اسے کافی پسند آئی لہٰذا وه اسے ہی پکڑ کر بہت احتیاط سے اپنے چھوٹے چھوٹے گلابی لبوں پر لگانے لگی۔
وه اس کام میں ماہر تو نہ تھی پر مومل کے سیکھانے پر کچھ نا کچھ سیکھ ہی چکی تھی۔
سنہری بال جو کہ اب تک سوکھ چکے تھے انھیں كیچر میں قید کیا اور سامنے سے بالوں کی دو لٹیں باہر نکال لیں جو اس کے گالوں کو چومنے لگیں۔
اس نے ایک جانچتی ہوئی نظر اپنے چہرے پر ڈالی تو کچھ ادھورا پن محسوس ہوا۔ اس کی سنہری آنکھیں خالی خالی محسوس ہو رہی تھیں۔
اس کو متلاشی نظریں ڈریسنگ ٹیبل کا جائزہ لینے لگیں۔ مطلوبہ چیز ملتے ہی اس کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔
اس نے کاجل اٹھایا اور اپنی سنہری آنکھوں میں ڈالنے لگی۔
“اب لگ رہی ہوں نہ مسز ارسم آفریدی!!!”
اپنے عکس کو دیکھ کر کہتی وه شرما کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔
باتھ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی اس کا دل تیز رفتار پکڑ چکا تھا۔
وه جھک کر کالی سینڈلز اپنے پاؤں میں ڈالنے لگی۔ جوتا پہن کر وه اٹھ کھڑی ہوئی تو ارسم آفریدی کی نگاہ اس کے حسین كمسن سراپے پر پڑی۔
وه مبہوت سا اسے تكتا چلا جا رہا تھا۔ اس کی گہری نظریں ارمش کو مزید سرخ کر گئیں۔
“اچھا تیار نہیں ہوئی کیا؟؟”
اس کے مسلسل چپ رہنے سے وه پریشان ہو گئی۔
وه مسکرا کر آگے بڑھا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی پیشانی پر لب رکھ گیا۔
“ما شاء اللّه بہت حسین لگ رہی ہیں آپ!!!”
وه اس کے کندھے کے گرد بازو رکھ کر اسے اپنے سینے سے لگا گیا۔ وه آنکھیں بند کر کے پر سکوں سی اس کے دھڑکتے دل کی موسیقی سن رہی رہی۔
کچھ دیر یوں ہی ایک دوسرے کا حصّہ بنے رہنے کے بعد وه دھیرے سے تھوڑا فاصلہ بنا گئے۔
وه برش اٹھا کر اپنے بال بنانے لگا۔ بال بنانے کے بعد اس نے اپنی پسندیده پرفیوم خود پر بے دریغ چھڑکنے کے بعد اپنا موبائل اور والٹ قمیض کی جیب میں رکھا پھر اس کی طرف مڑا۔
“چلیں؟؟”
وه تھوڑا سا اس کے سامنے جھک کر اپنی کشاده ہتھیلی اس کے سامنے پهيلا گیا۔
وه سر ہلا کر اس کے مضبوط ہاتھ میں اپنا نازک ہاتھ تهما گئی۔
وه اسے لئے قدم باہر کی طرف بڑھانے لگا جب وه اس کا ہاتھ دبا کر خود کی طرف دیکھنے پر مجبور کر گئی۔
“ہسبنڈ!!!”
اس کی آواز پر وه ہمہ تن گوش ہوا۔
“آپ ۔۔۔آپ بھی بہت پیارے لگ رہے ہیں۔”
ارمش کے تعریفی جملے پر وه پہلے چونکا پھر حیران ہوا اور پھر دھیرے سے ہنس دیا۔
وه کالی شلوار قمیض میں واقعی بہت خوب صورت لگ رہا رتھا۔
“شکریہ دل جان!!!”
وه اس کا وہی ہاتھ جو اس کے ہاتھ میں دبا تھا، اسے چوم کر اسے اپنے سنگ لئے ایک حسین سفر کے لئے چل پڑا۔
°°°°°°
اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنا مت بھولیں۔
