Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
“میں اس رشتے پر ایک فیصد بھی رضا مند نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی رشتہ مجھے قبول ہے۔”
وه بلند آواز اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنا فیصلہ سناتی کسی ریاست کی شہزادی کی طرح ہی معلوم ہو رہی تھی۔ آفریدی ولا کر ہر فرد ہی سکتے میں تھا جب کہ وه اپنا فیصلہ سنا کر واپسی کے لئے مڑ گئی۔
ابھی اس نے ایک قدم ہی بڑھایا تھا کہ باسم آفریدی لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے سر پر پہنچتا اسے کہنی سے پکڑ کر جھٹکا دے کر گھما گیا۔ وه اچانک اس کے پھرتی بھرے کارنامے پر سنبھل نہ سکی اور اس کے سینے سے ٹکرا گئی۔
“آہ”
اس کی پیشانی اس کے مضبوط سینے سے ٹکرائی تو مومل کی منہ سے سسكی نکل گئی۔ دونوں آنکھیں سختی سے میچے سرخ لب باہم پیوست کیے دونوں مٹھیوں میں باسم آفریدی کا کوٹ دبوچے وه اس کے حصار میں کھڑی تھی۔
“چلو میرے ساتھ۔”
اس کے دونوں ہاتھوں سے کوٹ چھڑا کر وه اسے بازو سے تھام کر اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا۔
“چھوڑیں مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ۔ آپ کو سمجھ نہیں آ رہی چھوڑیں مجھے۔”
وه اس گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی پر باسم آفریدی کے حصار سے نکلنا آسان تو نہ تھا۔
“مجھے تم سے صرف ایک بات کرنی ہے اور ہر حال میں کرنی ہے۔ اس کے بعد تمہیں چھوڑ دوں گا۔”
اس کی بات پر وه لب بھینچ گئی۔ آخری الفاظ نا معلوم اذیت سے دوچار کر گئے تھے۔
“باسم آفریدی تم میرے تھے ہی کب جو کہ اب مجھے چھوڑ دو دے۔”
وه دکھ سے سوچ کر رہ گئی۔
آفریدی ولا کے کسی فرد نے انھیں روکنے کی کوشش نہ کی تھی کیوں کہ جانتے تھے کہ باسم آفریدی سب ٹھیک کر دے گا۔
وه اسے لئے ڈریسنگ روم میں آیا اور اپنے پیچھے دروازہ بند کرتے اس کا بازو اپنی گرفت سے آزاد کر دیا۔
“جو بھی بات کرنی ہے جلدی کریں مجھے واپس جانا ہے۔”
وه چہرہ موڑ کر سنجیدگی سے بولی۔
“چلی جانا۔ ضرور چلی جانا۔ تمہیں عمر بھر سامنے بیٹھا کر تمہیں تکتے رہنے کا ارادہ بھی نہیں میرا .”
اس کی بات مومل آفریدی کے سینے میں موجود گوشت کے لوتھڑے پر بہت بری طرح چبھی تھی۔
“ہنہ ! مجھے ایسا کوئی گھٹیا شوق لاحق بھی نہیں۔”
دل پر قابو پاتی وه اس کے سامنے ہنکار بھر کر رہ گئی۔
“دیکھو لڑکی! گھما پھرا کر بات کرنے کا عادی نہیں ہوں میں۔ جو بھی بات کرتا ہوں سینہ ٹھوک کر کرتا ہوں۔ اب بات یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لئے مجھے ایک عدد بیوی اور میری بیٹی کو ایک عدد ماں کی ضرورت ہے۔ کسی نہ کسی کو تو یہ ذمہ داری دینی ہی ہے تو سوچا تم کیوں نہیں۔ میرے خیال میں تم یہ ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا لو گی۔ کیا خیال ہے؟”
وه پینٹ کی جیبوں میں دونوں ہاتھ پھنسائے بے فکر مگر سرد لہجے میں کہتا اس کو دن میں تارے دکھا گیا۔
“سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے مجھے ہاں! جب چاہا تذلیل کر دی دھتکار دیا اور جب چاہا اپنے فائدے کے لئے استعمال کر لیا۔چاہتے کیا ہیں آپ؟”
اس کی بات پر وه چٹخ اٹھی۔
“میں جو چاہتا ہوں تمہیں بتا چکا ہوں۔ تم پر کوئی زبردستی نہیں۔ میں نے کہا نا کہ مجھے ایک بیوی اور میری بیٹی کو ایک ماں کی ضرورت ہے۔اب ظاہر سی بات ہے تم اگر انکار کرو گی تو میں رک تو نہیں جاؤں گا م۔ دنیا میں بہت سی اور لڑکیاں ہیں جو ہنستے ہنستے باسم آفریدی پر جان دے سکتی ہیں۔ ان کے لئے یہ آفر تو سونے میں تولنے والی ہے۔ باسم آفریدی کے لئے وه اس کی بیٹی کو بہت ہنسی خوشی قبول بھی کریں گی اور سنبھال بھی لیں گی۔ سمجھی!”
اس کی بات پر مومل کو تو سکتہ ہی ہو گیا۔ آخر کیا چیز تھا یہ انسان۔
“میری بلا سے ایک چھوڑ دس سے شادی کریں میرے جوتے کو بھی نہیں پرواہ۔”
نخوت سے کہتی وه سر جھٹک گئی البتہ دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔
کیا وه باسم آفریدی کے پہلو میں پھر سے کسی اور کو برداشت کر پائے گی؟ پر اس کے سامنے بے مول نہیں ہونا چاہتی تھی دل کا راز کہ کر۔
“چلو ٹھیک ہے۔ مجھے لگتا ہے دریہ بیسٹ رہے گی شادی کے لئے۔ اس جیسی سویٹ اور پولائیٹ لڑکی مجھے اور میری بیٹی کو اچھے سے سنبھال لے گی۔ آئی بیٹ!”
اس کی بات پر مومل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کتنا شاطر انسان تھا۔ اس کی دوست کو اس کے مقابل لانا چاہتا تھا.
“اور ایک بات میں اور کلئیر کر دوں۔ میری شادی کے بعد تمہارا مناہل سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ میں اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر واپس چلا جاؤں گا۔ ناؤ چوائس از یورز!( فیصلہ اب تمہارا ہے) اوپس سوری! تم تو اپنا فیصلہ سنا چکی ہو نا۔ چلو ریسٹ کرو تم میں جا کر دریہ کے پیرنٹس کو اپروچ کرتا ہوں۔”
مزے سے بات پوری کرتا وه سیٹی کی دھن بجاتا دروازے کی طرف بڑھ گیا جب کہ مومل کا سر چکرانے لگا۔ دل کی دھڑکن سست پڑ گئی۔
“رکیں پلیز!”
اس سے پہلے کہ وه دروازے سے باہر قدم رکھتا وه اسے آواز دے کر روک گئی۔ مناہل اس کی جان تھی وه کس طرح اس سے دور رہ سکتی تھی۔ مومل کی جان بستی تھی اس میں۔ وه تبسم چہرے پر سجاۓ رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھنے لگا جو نم آنکھیں اور سرخ رنگت لئے نا جانے ضبط کی کس انتہا پر تھی۔
“میں مومل سے دور نہیں رہ سکتی پلیز! مجھے۔۔۔۔میں مناہل کی ماں کا عہدہ سنبھالنے کے لئے تیار ہوں۔”
اس کی بات پر وه دو قدم چل کر آگے آیا۔
“اور میری بیوی کا کیا؟”
اس کے سوال پر وه ایک پل کے لئے اس کی سرد آنکھوں میں دیکھتی جھرجهری لے کر نظریں پھیر گئی۔
“آپ سے نکاح کے بعد ہی مجھے مومل کی ماما کھلاۓ جانے کا قانونی لائیسنس ميسر آئے گا۔”
اس کی بات پر وه سمجھتے ہوئے سے ہلا گیا۔
“چلو سب انتظار کر رہے ہوں گے۔”
وه لہنگا تھام کر اٹھی جب کہ وه اس پر ایک گہری نظر ڈال کر موبائل نکالتا کسی کو میسج کرنے کے ساتھ ہی اسے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا باہر گھر والوں کی طرف بڑھ گیا۔ وه بھی سن ہوتے دماغ کے ساتھ اس کی تقلید میں باہر کی طرف بڑھ گئی۔
سب گھر والوں کو خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہو رہی تھی مومل کے یوں آسانی سے مان جانے پر۔
وه اسٹیج پر بیٹھی تو اسے دریہ اپنی طرف آتی دکھائی دی۔ وه ساری صورت حال سے واقف اب مومل کے اقرار کی وجہ پوچھ رہی تھی۔ مومل پوری بات اسے بتا کر اس کا ذکر خوب صورتی سے گول کر گئی۔
اور پھر بالاخر چار سال کا لمبا اور ازیت بھرا ہجر کاٹنے کے بعد مومل آفریدی کو باسم آفریدی کا ساتھ ميسر آ چکا تھا۔ وه باسم آفریدی کے نام لکھ دی گئی تھی۔ نکاح کے بعد دونوں کپلز اسٹیج پر بیٹھے تھے۔
باسم آفریدی کے چہرے سے کسی بھی بات کا اندازہ لگانا مشکل ہو رہا تھا جب کہ مومل کے چہرے پر آسودگی نظر آ رہی تھی۔ وه پاس بیٹھی مناہل کے چہکنے پر آسودگی سے مسکراتی اس کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی۔
دریہ ارسم کے اشارے پر اس کی طرف بڑھی۔ اس نے اب تک ارسم کی بیوی کو نہ دیکھا تھا . وه دل مضبوط کرتی ان دونوں کی طرف بڑھی۔
“السلام علیکم! کیسے ہیں آپ؟”
وه دونوں کو مشترکہ سلام کرتی ارسم سے حال دریافت کرنے لگی۔
“اللّه کا شکر! آپ کسی ہیں؟”
“جی ٹھیک!”
کہنے کے ساتھ ہی اس نے نظر اٹھا کر بہت ضبط سے ارمش کی طرف دیکھا اور اسے یہ ماننے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی کہ ارسم آفریدی ارمش آفریدی جیسی لڑکی ہی ڈیزرو کرتا تھا۔ معصومیت اس کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔ وه اسے چھوٹی سی موم کی گڑیا لگ رہی تھی۔
“ارمش آفریدی! میری بیوی!”
ارسم اسے ارمش کی طرف تكتا دیکھ کر اس کا تعارف کروانے لگا۔
“بہت پیاری ہیں ما شاء الله۔ اللّه پاک آپ دونوں کو ہمیشہ۔۔ہمیشہ ساتھ خوش رکھے۔ آمین!”
وه بہت محبت اور خلوص سے کہتی ارمش کا ہاتھ تھام کر اس کی پشت پر عقیدت سے لب رکھ گئی۔
وه بھلا ارسم آفریدی کی محبت کے لئے کس طرح اپنے دل میں نفرت رکھ سکتی تھی۔ ہاں اس نے ارسم آفریدی کی آنکھوں میں وہی جذبات دہکتے ہوئے دیکھے تھے جو وه اپنی آنکھوں کے عکس میں دیکھا کرتی تھی۔ اس نے ارسم آفریدی کے چہرے پر وہی روشنی پھوٹتی ہوئی دیکھی تھی جو روشنی اس کے اپنے چہرے پر پھوٹتی تھی جب وه ارسم آفریدی یا اس کے خیال سے روبرو ہوتی تھی۔
ارسم دنگ سا اس کی عقیدت کو دیکھ رہا تھا۔ ایک لمحہ پورا ہونے سے پہلے ہی اس کے چہرے سے نظر ہٹا کر ارمش کے چہرے پر جما گیا۔ ہاں! یہ حق صرف اور صرف ارمش کا ہی تھا۔
خود پر مزید ضبط نہ کر پاتے دریہ انہیں جلدی سے الوداع کہتی تیزی سے اسٹیج سے اتر گئی۔ اس کے آنکھوں کی نمی اور سرخی سوچتے ارسم آفریدی کا دل بوجھل ہو گیا پر اپنی جان حیات پر نظر پڑتے ہی دل سر شار ہو گیا۔
“آپ کو کچھ چاہئے جان؟ ایزی ہیں نا آپ؟”
وه اس کا سرد پڑتا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر دھیرے دھیرے سہلاتا فکر مندی سے پوچھنے لگا جس پر وه مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلا گئی۔
°°°°°°°
“یا اللّه!”
اس کے منہ سے دلسوز پکار نکلی تھی۔ آنسوؤں سے گال تر تھے آنکھیں پر نم تھیں۔ آنسو لڑیوں کی صورت بہتے ہے چلے جا رہے تھے۔ اس کی دل سوز پکار پر در و دیوار کانپ اٹھے تھے۔
“یا اللّه کیوں؟”
وه زمین پر بیٹھی اپنے بال مٹھیوں میں جکڑ گئی۔
“یا اللّه تو جانتا تھا کہ وه میرا نصیب نہیں پھر کیوں اس کی الفت میرے دل میں ڈالی۔ کیوں میرا دل اس کی طرف راغب کیا۔ کیوں میری آنکھوں کو اس کے خواب دکھاۓ۔ اور اللّه تو تو بے پرواہ ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے۔ ہر چیز تیرے ایک کن کی منتظر ہے۔ یا اللّه میرے دل سے اس انسان کی محبت نوچ لے۔ اگر یہ نہیں ممکن تو میرا دل نوچ لے۔ مجھے سراب کے پیچھے نہیں بھاگنا۔ مجھے شر سے بچا لے۔ مجھے غاسب بننے سے بچا لے۔”
وه تڑپ تڑپ کر روتی اپنے خالق سے فریاد کر رہی تھی۔
“یا اللّه مجھے صرف اپنا بنا لے۔ مجھے شر سے بچا لے۔”
سسکتی ہوئی دریہ پر نیند کا غلبہ غالب آنے لگا اور نیند کی دیوی نے اسے اپنے پروں میں چھپا کر تهپكی دینی شروع کر دی۔
بیشک یہ اللّه کی رحمت ہی ہے ہم پر کہ جب ہم بہت سا رو لیتے ہیں تو ہمارا ذہن پر سکون ہو جاتا ہے اور نیند کی دیوی ہمیں اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔ بیشک رحمان بہت ہی رحيم ہے۔
°°°°°
