Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

(Basim and Momal special)
وه کب سے الماری میں منہ دیے نہ جانے کیا تلاش کر رہی تھی جب کہ وه دونوں باپ بیٹی بیڈ پر لیٹے جانے کن راز و نیاز میں مصروف تھے۔
“مومل! کم ہیئر!”
اس کی گھمبیر آواز مومل کے کانوں تک بخوبی پہنچی تھی پر وه کان لپيٹے کھڑی رہی۔
“مومل!”
اب کے لہجے میں تھوڑی سختی آن سمائی تھی پر وه اس کی کسی بھی بات پر کان نہ دھرنے کا پکا ارادہ کر چکی تھی۔
اس کے انکار کے بعد ایک دم خاموشی چھا گئی تو مومل نے شکر کا كلمہ پڑھا۔
“تمہیں کیا میری ایک بات سمجھ نہیں آتی؟”
وہ اچانک غصے سے کرخت لہجے میں بولا۔
“آہ۔۔”
مومل اس کی اچانک گرجدار غصیلی آواز پر جیسے اچھلی اگلے لمحے دھڑام سے زمین بوس ہوئی۔
“ماما!!!”
مناہل کی چیخ نکل گئی۔
نیچے پڑی شرمندگی کی انتہا سے سرخ چہرے والی مومل کی آنکھیں نم ہوگئیں۔نا جانے یہ آنسو درد کی وجہ سے تھے یا شرمندگی کی وجہ سے۔
“اٹھو!!”
وہ بیٹھ کر وہیں رونا شروع کردیتی جب وہ پھر سے غصے سے گویا ہوا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔دل ہی دل میں بےانتہا گالیوں سے نوازا اسے۔
نائیٹ بلب کی روشنی میں اسکا چہرہ بالکل واضح تھا۔
جسے دیکھتے مومل کا دل اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گیا۔
جب اس نے اپنا بھاری ہاتھ اسکی طرف بڑھایا۔وہ حیرت سے کبھی باسم کو دیکھتی تو کبھی اسکے پیچھے سے دیکھتی اپنی بیٹی کو۔
“سو گئی ہو؟؟”
اسے خاموشی سے تکتا دیکھ کر اس نے طنز کیا۔
“نن۔۔نہیں۔۔”
وہ بوکھلا کر نفی میں سر ہلاتی شرمندہ سی اس کا بڑھایا ہوا ہاتھ نظرانداز کرکے خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
باسم نے اپنا ہاتھ بھینچ کر پیچھے کرلیا۔
وہ واپس اپنی جگہ پر لیٹا، ناچار مومل سبکی سے لال چہرے کے ساتھ بیڈ پر چڑھ کر بیٹھی۔
“ماما آپ کو چوٹ لگی ہے نا۔ آپ لیٹ جائیں مناہل پاس۔”
اس چھوٹے پیکٹ کی میسنی آفر پر مومل نے مسکراتے ہوئے دانت پیسے۔
اس چالاک میسنے انسان کے ساتھ رہ کر اسکی معصوم بیٹی بھی کیا بن گئی تھی۔
“لیٹ رہی ہوں۔”
باسم کے دیکھنے پر اس نے مشکل سے اپنے رونے پر ضبط کر دانت کچکچا کر کہا اور اسکے برابر میں لیٹ گئی۔
“کتنے اچھے لگ رہے ہیں نا ہم پاپا۔میں ماما اور پاپا۔”
تینوں کے ایک ساتھ ایک بیڈ پر سونے سے خوش ہوتی وه کھلکھلا کر تالیاں بجانے لگی جب کہ مومل کے سینے پر تو جیسے کسی نے برف انڈیل دی تھی۔
اس نے ٹھنڈی سانس خارج کی۔
“ماما سردی ہے۔ آپ بھی بلنکٹ لے نا۔”
اس چھوٹی میڈم کی طرف سے ایک اور آرڈر جاری ہوا۔ مومل نے سرخ چہرے کے ساتھ ضبط سے اسے دیکھا۔وه معصوم کیا جانتی تھی کہ اپنی معصومیت میں کس طرح اس بیچاری کو پھنسا رہی تھی۔
وہ پھر مسکرائی۔
” ایک بار کہی بات پر عمل کرنے سے تم اپنی توہین سمجھتی ہو کیا؟”
اس کے بےحس وحرکت پڑے رہنے پر باسم نے چبھتے لہجے میں استفسار کیا۔
“نہیں!!”
وہ غصے سے سرخ چہرے کے ساتھ جھٹکے سے کھینچ کر بلینکٹ خود پر اوڑھ گئی۔
وه جلتی بجھتی سامنے ایل سی ڈی پر لگے فروزن کارٹون دیکھنے لگی جو اس چھوٹے پیکٹ کے کہنے پر لگائے گئے تھے۔ کتنا پیار کرتی تھی وه مناہل سے اور اس نے کتنی معصومیت سے اسے اتنی بڑی مشکل میں پھنسا دیا تھا۔
اس کی آنکھوں میں نمی آگئی۔اس نے ابھی سکون کا ایک لمحہ بھی نہیں گزارا تھا تبھی مناہل نے سر اٹھا کر پھر سے مومل کو دیکھا۔مومل کا سانس خشک ہوا۔
“اب جانے کون سا دھماکہ کرے گی۔”
“ماما آپ اتنی دور کیوں لیٹی ہیں پاس آجائیں نا۔”
مناہل نے پریشانی سے کہا۔ وه تو اپنی ماما سے بہت پیار کرتی تھی نا۔
باسم آفریدی کے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ آگئی۔
“بیٹا ماما یہاں ٹھیک ہیں۔”
اور وہ اسے بتا نہیں سکتی تھی وہ کیسا میسنا شخص تھا۔
“وو۔وہ۔۔ ک۔کیا کہہ رہی تھی۔۔بھلا میں۔۔آآ۔آپ” اسنے جھجھکتے ہوئے شرمندہ ہوکر صفائی پیش کی۔
“کیوں میں تمہیں نگل جاؤں گا؟”
وہ اسکی باٹ کاٹ کر طنزیہ بولا۔
“ہیں؟؟”
مومل نے ہونقوں جیسی صورت بنا کر اسے دیکھا۔ باسم سخت گھوری اس پر ڈال کر مناہل کی طرف متوجہ ہوا جو رونے کی تیاری پکڑ چکی تھی۔
“مینو ماما کی جان کیا ہوا؟”
اس کے رونے پر وه تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔
“ماما آپ بھی میری طرح بابا کو ہگ کریں۔” وه باپ کے ساتھ جڑ کر لیٹی نیا شاہی فرمان جاری کر گئی۔
“کیا؟؟”
مومل کو تو جیسے سو وولٹ کا جھٹکا لگا۔وہ بدک اٹھی۔باسم نے جھٹکے سے گردن گھما کر اس کی تیز آواز پر اسے گھورا۔
“کیا ہوا؟؟؟”
وہ سپاٹ لہجے میں استفسار کرنے لگا۔
“کک۔۔کچھ نہیں وو۔۔وہ کارٹون۔۔مناہل ۔۔ہگ۔۔!!”
اسنے ضبط سے مسئلہ پیش کیا جسے باسم نے بہت سکون سےنظرانداز کر دیا۔
“آپ جیسا کہو گی ویسا ہی ہوگا رونا نہیں میری شہزادی نے۔”
اس نے مناہل کو بہلا کر مومل پر جتایا جس کی پوری آنکھیں باہر کو ابل پڑی تھیں۔۔
“پرامس؟”
وہ روتی ہوئی اس کی بات سن کر مسکرائی۔
“پرامس!”
باسم نے مسکراتے کہا اور اس کی پیشانی چومی۔ وہ اسے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔اس کی جان تھی وه۔
جبکہ مومل تو سکتے میں گھری اس مینٹل آدمی کو دیکھ رہی تھی۔
“اب کیا بیٹھے بیٹھے سو گئی ہو؟ سنا نہیں یہاں آؤ؟”
وہ سیدھا ہوکر لیٹ گیا اور اپنا چوڑا مضبوط بازو بیڈ پر پھیلایا۔ جبکہ مومل کی انتہائی حد تک پھیلی آنکھیں اسکے بازو پر ٹکی تھیں۔
وہ اسے اپنی طرف بلا رہا تھا۔
“مم۔۔ میں کک۔۔کیسے۔۔۔”
ہوش میں آتے اس نے بےیقینی سے کہا پر وه کہاں اس کی بات سن رہا تھا۔ اس نے اپنا حلق تر کیا اور پیچھے کی جانب کھسکی۔
دفعتاً روم کی فضا میں مناہل کی ہچکیاں سنائی دیں۔۔ مومل کا چہرہ زرد پڑ گیا۔وه خود کہاں دیکھ سکتی تھی اسے روتے۔
“مینو ماما کی جان!”
وہ تڑپ کر اس کی طرف لپکی مگر وہ باسم کے بازوؤں میں کروٹ بدل گئی۔
مومل نے ہراساں نظروں سے باسم کو دیکھا جو ضبط سے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“مم۔۔میں سو رہی ہوں۔۔۔”
وہ مدھم آواز میں جھجھکتی خفت زدہ ہوئی بولی اور بغیر باسم کی آنکھوں میں دیکھے آہستگی سے اپنا سر اسکے چوڑے کندھے پر رکھا اور اپنا حلق ترکیا۔ جیسے ہی اس کے کلون کی سحرانگیز خوشبو، اسکے نتھنوں سے ٹکرائی اس کی دھڑکنیں زور پکڑ گئیں۔
اس کے چہرے کے مساموں سے پسینے پھوٹ پڑے۔
“مینو!”
اس کے چوڑے سینے سے ہاتھ بڑھا کر اسنے مناہل کے سر کو چھوا۔ مناہل نے خفا نظروں سے پلٹ کر دیکھا مگر مومل کو اتنا پاس پاکر اس کی خوشی سے چیخ نکل گئی۔
“کتنا اچھا لگ رہا ہے نا ماما پاپا!!”
اس نے چہک کر مومل کے ہاتھ کو پکڑا اور اپنی طرف کھینچا۔
“مینو۔۔”
مومل کے منہ سے اچانک افتاد پر مدھم سی کراہ نکلی۔
باسم کی گھنی مونچھوں تلے گہری مسکراہٹ آگئی۔اس کی بیٹی بھی اس پر ہی گئی تھی۔
مناہل کے ہاتھ کھینچتے پر تمام تر فاصلے سمٹ چکے تھے اور وہ سامنے اسکرین کو دیکھنے کا ڈرامہ کرتا اس کی خوفزدہ دھڑکنوں کو سن رہا تھا۔
مومل ہڑبڑا کر دور ہونے لگی لیکن اسی لمحے باسم نے اس پر بھی بلینکٹ کھینچا اور مومل کی کمر میں اپنا مضبوط بازو حائل کرکے اس کی کوشش ناکام بنا دی۔
“سس۔۔۔” وہ کانپ کر سٹپٹائی۔
“کیا ہوا ماما؟”
مناہل نے اس کا سرخ تپا تپا چہرہ دیکھ کراور اس کی كراه سن کر پریشانی سے پوچھا۔
“کک۔۔کچھ نہیں۔۔”
وہ جبراً مسکرا کر کہتی ایل ای ڈی کی طرف دیکھنے باسم کی نظروں کو نظر انداز کرنے لگی۔
“کتنا اچھا لگ رہا ہے نا؟”
مناہل نے پھر سے اپنا جملہ دہرایا۔ وہ اپنے کارنامے پر تعریف چاہتی تھی مگر مومل ضبط سے پڑی تھی۔
“جواب دو اسے۔۔”
باسم نے جھٹکا دی کر اسے ہوش دلایا۔
“اچھا لگ رہا ہے؟”
اس۔نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر معنی خیزی سے پوچھا۔
“ہاں۔۔” وہ بوکھلا کر بولی اس کے جھٹکے سے مزید قریب ہوچکی تھی اس کے سینے کے۔
معاً اسے اپنی کمر پر کچھ سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔
کمر پر موجود باسم کے ہاتھ میں حرکت آئی۔ اسکی نازک پتلی سی کمر وہ اپنی مضبوط کھردری انگلیوں سہلانے لگا۔
“آہ۔۔”
دفعتاً مومل بری طرح اچھل پڑی۔
“کیا ہوا ماما ؟؟”
مناہل نے ہراساں ہوکر اسے دیکھا۔
“کچھ نہیں۔۔”
دھک دھک دھڑکتے دل کے ساتھ مومل نے ضبط سے اپنا حلق تر کیا۔اس کا چہرہ حیا شرم سے گلنار تھا۔ جبکہ اس کی کمر پر سرکتی رینگتی باسم کی انگلیاں اسکا حلق خشک کر گئیں۔
وہ نہ مناہل سے کچھ کہہ پا رہی تھی اور نہ ہی اپنا بچاؤ کر سکتی تھی۔ باسم نے زیرلب مسکراتے مومل کو دیکھا جو سکڑی سمٹی ہوئی پڑی تھی۔
اس نے بمشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا۔ شادی کے دن سے کیسے شیرنی بنی پھر رہی تھی اور اب کیسے ڈری سہمی پڑی تھی۔
“مم۔۔میں مناہل کا دو۔۔ودھ لیکر آتی ہوں۔۔”
وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھ گئی۔ اس کا وجود آہستہ آہستہ کانپ رہا تھا۔ اسے اپنے وجود سے آگ سی تپش نکلتی محسوس ہوئی۔
“پر میں نے دودھ پی لیا ماما ۔۔۔”
مناہل نے چہک کر اپنا کارنامہ بتایا۔
“اچھا۔۔”
مومل نے حلق تر کیا اس کی بس رونے کی کثر رہ گئی۔اس نے چور نظروں سے باسم کو دیکھا جو لاتعلق سا سامنے دیکھ رہا تھا۔
“لیٹ جاؤ!”
معاً باسم نے متوجہ ہوکر نرمی سے اس سے کہا۔ وہ اسے گھورنے لگی۔
“لگتا ہے تمہاری ماما کو ہمارے ساتھ سونا اچھا نہیں لگ رہا۔۔ویری سیڈ مناہل!”
اس کی گھوری پر باسم نے افسوس سے کہا۔مناہل نے اداس ہوکر مومل کو دیکھا۔۔
“ماما؟” اسنے رونے کیلئے نچلہ لب پھیلا کر سوالیہ پوچھا۔ وہ گڑبڑا گئی۔
“اچھا لل۔لگ۔۔رہا ہے میری جان۔۔۔۔” اس نے جھجھکتے ہوئے مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہا۔ باسم کی پرتپش نگاہیں اس پر ہی ٹھہری تھیں۔
“تو لیٹ جاؤ!”
وہ مسکراتی آواز میں بولا۔
“اللہ تو آپ سے پوچھے ہی گا پر میں بھی اچھے سے پوچھوں گی آپ سے۔ مناہل کے سامنے شیر بنے ہیں نا ذرا الگ ہو لیں۔”
وہ دل میں کوستی ہاتھ مسلتی اپنا لب کاٹنے لگی۔
“کوئی مسئلہ ہے؟؟”
اسے یونہی کشمکش میں بیٹھا دیکھ کر محظوظ ہوتا بولا۔
“نہیں تو!”
وه دانت پیس کر زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولی۔
*اکیلے میں ملیں ذرا مجھے!”
وه اسے گھورتی ہوئی بڑبڑا۔
“مناہل کو اسکی دادی کے پاس چھوڑ آؤں پھر ؟”
وه آنکھوں میں شرارت لئے اس کے کان میں سرگوشی کر گیا۔
وه اسے غصّے سے سرخ چہرے کے ساتھ گھور کر آنکھیں بند کر گئی تو وه بھی مسکراتا ہوا سکون سے آنکھیں موند گیا۔
°°°°°
وه نڈھال سی بیڈ پر آری ترچھی لیٹی تھی۔ اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی۔ صبح بھی اسے اپنی طبعیت خراب محسوس ہو رہی تھی پر اس نے اس بات کو خاص سیریس نہیں لیا۔ راجہ بہت ضروری کام کا کہہ کر صبح سے نکلا تھا۔
اس نے سوچا راجہ کو کال کر کے بلا لے پر پھر سوچا اس کو ضروری کام تھا ایسے چھوڑ کر گھر دوڑا آئے گا۔
اب تو الٹیاں کر کر کے بالکل ہی نڈھال ہو چکی تھی۔
“مجھے راجہ کو کال کر دینی چاہئے۔”
روتے ہوئے سوچ کر اس نے جیسے ہی موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا پھر سے متلی والی کیفیت محسوس کر کے باتھروم کی طرف بھاگی۔
“یا اللّه!!!”
وه بیسن پر ہاتھ رکھ کر جھکتی رو دی۔
یہ سب اس کی برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔
“میری رانی!!!”
اس کی پکار نے نوریہ کے بے جان جسم میں جیسے جان ڈال دی تھی۔
“راجہ!!!!”
وه اس کو پکارتی سسكنے لگی۔پر اتنی ہمت نہ ہو رہی تھی کہ دو قدم بڑھا کے باہر چلی جاتی۔
“کہاں ہو میری رانی!”
وه اسے کچن اور لاؤنج میں نہ پاتا کمرے میں آیا پر اس کی رونے کی آواز باتھ روم سے آتی محسوس کر وه تیزی سے باتھ روم کی طرف بھاگا۔
وه باتھ روم کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوا تو وه بیسن پر جھکی الٹی کر رہی تھی۔
وه ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر سہارا دیتا دوسرے ہاتھ سے اس کی پشت پر ہولے ہولے تهپكی دینے لگا۔
وه جب کلی کر کے فارغ ہوئی تو راجہ سائیڈ سے تولیہ پکڑ کر اس کا منہ صاف کرنے لگا۔ وه نڈھال سی اس کے سینے پر سر رکھ کر اپنا سارا وزن اس پر ڈال گئی۔
وه اسے سہارا دے کر کمرے میں لایا اور اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا ہ طبیعت کو؟ اتنی طبیعت خراب ہے اور تم نے مجھے کال بھی نہیں کی۔”
وه اس کے گالوں سے چپکے بال کان کے پیچھے اڑستا ہوا اس کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھنے لگا۔
“طبیعت کافی دن سے گری گری محسوس ہو رہی تھی پر آج آپ کے جانے کے بعد زیادہ بگڑ گئی۔ پہلے میں کال کرنے والی تھی آپ کو پر پھر میں سوچا آپ۔۔آپ ضروری کام سے گئے ہیں اس لئے۔۔۔۔”
وه آنسو صاف کرتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی جب وه اس کے کندھوں پر ہاتھ سے دباؤ ڈالتا اسے واپس بیڈ پر لٹا گیا۔
“کام سے ہی گیا تھا مرا تو نہیں تھا نا۔ اور تم سے زیادہ کچھ ضروری تو نہیں میری زندگی میں جو تم میرے کام کو خود پر فوقیت دے رہی ہو۔”
اس کی بات ختم ہوتے ہی وه گھٹ گھٹ کر رونے لگی تو راجہ کو اپنے لہجے کی سختی کا احساس ہوا۔
وه اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنے سینے سے لگا گیا تو اس کے رونے میں مزید تیزی آ گئی۔
“کیا ہوا ہے یار زیادہ درد ہے کیا۔ مجھے بتاؤ تو سہی کچھ کہ کہاں تکلیف ہے؟؟؟”
وه اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتا فکر مندی سے پوچھنے لگا پر وه مسلسل روتی ہی چلی جا رہی تھی۔
“میں دوست کو کال کر کے گاڑی منگواتا ہوں ہسپتال چلتے ہیں چپ ہو جاؤ شاباش۔”
وه اسے بچوں کی طرح پچکارتا جیب سے موبائل نکالنے لگا۔
“نن۔۔نہیں مجھے نہیں جانا ہسپتال راجہ! مجھ سے بیٹھا بھی نہیں جا رہا میں نہیں جا پاؤں گی۔”
وه اس کی فکر دیکھتی بے بسی سے اپنی حالت بتانے لگی۔
“ٹھیک ہے میں ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں۔ چپ کرو شاباش میں بس یوں گیا اور یوں آیا۔”
وه اسے بیڈ پر واپس لٹا کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا اٹھ کھڑا ہوا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا جب کہ وه تکیے میں سے چھپاتی رونے لگی۔
نہ جانے اسے اس قدر رونا طبیعت خرابی پر آ رہا تھا یا اپنی ذہنی حالت پر۔
پورے دس منٹ بعد راجہ واپس آیا تو وه یوں ہی بیڈ پر پڑی تھی جس طرح وه چھوڑ کر گیا تھا۔
*رانی!!! اٹھو میری جان ڈاکٹر صاحبہ آئی ہیں۔”
وه اسے نرمی سے پکارتا خود اس کے پاس بیٹھ کر اس کا رخ موڑ گیا۔ اس کی سرخ سوجی آنکھیں اور بھیگے گال دیکھ کر تکلیف محسوس کرتا لب بھینچ گیا۔
“مسٹر راجہ آپ پلیز باہر جائیں مجھے ان کا چیک اپ کرنا ہے۔”
ڈاکٹر نے اسے متوجہ کیا جو اپنی رانی میں گم ہو چکا تھا۔
“تو کرو میں نے کب روکا ہے۔ میں کہیں نہیں جانے والا جو بھی کرنا ہے میرے سامنے کرو۔”
اس کی ہٹ دھرمی پر ڈاکٹر سر پیٹ کر رہ گئی۔
“دیکھیں مسٹر آپ پلیز باہر جائیں بس پانچ منٹ کے لئے اور مجھے تفصیل سے ان کی حالت کا معائنہ کرنے دیں۔”
وه مزید عاجز ہوئی۔
“یہ بیمار ہے تکلیف میں ہے اور کچھ بول نہیں رہی روئی جا رہی ہے بس یہ کیسے بتائے گی کہ اسے کیا تکلیف ہے۔ اور آپ میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو نظر نہیں آ رہا اسے کتنی تکلیف ہے۔ جلدی سے علاج شروع کرو۔”
وه سختی سے بولا تو ڈاکٹر بے بسی سے نوریہ کی طرف دیکھنے لگی۔
“مسٹر آپ مجھے راستے میں ہزار دفعہ بتا چکے ہیں کہ انہیں کیا تکلیف ہے اس لئے پلیز باہر جائیں اور مجھے میرے حساب سے ان کا معائنہ کرنے دیں۔”
اس سے پہلے کہ وه کچھ اور بولنے کے لئے منہ کھولتا نوریہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دباتی آنکھیں سے اسے باہر جانے کا اشارہ کرنے لگی۔
وه ایک بے بس نگاہ اس پر ڈال کر بے چینی سے داڑھی کھجاتا کمرے سے باہر چلا گیا تو ڈاکٹر آگے بڑھتی اس کے منہ پر دروازہ بند کر گئی جب کہ وه کھلے منہ سے اپنی تازہ ترین عزت افزائی دیکھتا رہ گی