Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

قسط نمبر 26
چہرے پر سپاٹ تاثرات لئے وه ہسپتال کے کورڈور میں موجود بینچ پر بیٹھا تھا۔مسلسل ہلتی ایک ٹانگ ذہنی خلفشار کا صاف پتا دے رہی تھی۔ کچھ ہی فاصلے پر ارسل آفریدی کمر پر ہاتھ باندھے بے چینی سے یہاں وہاں چکر لگا رہے تھے جب کمرے کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آیا۔ باسم اپنی جگہ پر ہی رہا۔ ارسل آفریدی جلدی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھے۔
“دیکھیں مسٹر ارسل میں آپ کو کوئی جھوٹی تسلی یا دلاسا نہیں دوں گا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی وه ٹروما میں تھی ان کا نروس بریک داؤن ہوتے ہوتے بچا۔ میں نے آپ لوگوں کو انفارم بھی کیا تھا کہ ان کی ذہنی حالت اچھی نہیں انھیں صرف سکوں چاہیے پر اب پھر سے کچھ دن بعد ان کی ذہنی حالت اس قدر ابتر ہونا اور کلائی کاٹ لینا، یہ کوئی اچھا سائن نہیں۔ آپ ان سے ان کا مسلہ پوچھیں اور اسے حل کریں۔ خون زیادہ نہیں بہا جسکی وجہ سے ان کی جان بچ گئی پر ضروری نہیں کہ ہر بار ایسا ہو۔ ان کو ہوش آ چکا ہے اور ان کی زبان پر باسم نام کی ہی گردان ہے بس۔ آپ مل سکتے ہے ان سے۔”
ڈاکٹر کی بات کے جواب میں ایک بے بس باپ کیا کہتا۔ ارسل آفریدی فقط سر ہلا گئے اور باسم کی طرف دیکھنے لگا۔
ان کی اشارے پر وه کمرے کی طرف بڑھنے لگا جب اس کی جیب میں موجود موبائل بج اٹھا۔ ان نے موبائل جیب سے نکالا تو سکرین پر نظر آتے نمبر کو دیکھ کر لب بھینچ گیا۔
اس کی بڑھتے قدم پیچھے کو اٹھنے لگے۔
“میری فلائٹ ہے چاچو مجھے جانا ہے اب۔”
وه ایک سانس میں کہتا دو پل کے لئے ارسل آفریدی کے گلے لگا اور پھر تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
°°°°°°°
وه آنکھیں بند کیے جہاز کی سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اس دشمن جاں کی حالت کا سوچتے دل پر برچھیاں چل رہی تھیں۔ گزرے ایک مہینے کی روداد کسی فلم کی طرح اس کے دماغ میں چلنے لگی۔
مومل کے ساتھ لڈو كهيلنے کے بعد وه آرام کی غرض سے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا اس کا فون بج اٹھا۔ واٹس ایپ پر روزینہ کی کال آرہی تھی۔
روزینہ ارسم کی یونیورسٹی فیلو اور اچھی دوست تھی۔ ایم بی اے کمپلیٹ کرنے کے بعد وه یو-ایس چلی گئی تھی اس کے بعد دونوں کا رابطہ بہت کم ہو گیا تھا۔
باسم نے کال اٹینڈ کی اور صوفے پر جا بیٹھا۔
“السلام علیکم کیسی ہیں میڈم اس نا چیز کو آج کیسے یاد کر لیا۔”
اس کا لہجہ کافی خوش گوار تھا۔
“باسم!!!!!”
اس کی بھیگی آواز سن کر باسم چونک اٹھا۔
“کیا ہوا روزینہ تم رو کیوں رہی ہو؟ سب ٹھیک ہے نا؟؟؟”
اس کی آواز میں فکر محسوس کر کے روزینہ اونچی آواز میں رونے لگی جس پر باسم گھبرا گیا۔
“باسم آئی ایم پریگننٹ !!!”
اس کی بات پر باسم ایک مرتبہ پھر سے چونک اٹھا۔
“روزینہ تم نے شادی کب کی؟؟؟”
وه واقعی حیران تھا۔
“میں نے۔۔۔میں نے شادی نہیں کی باسم۔ مم۔۔۔میں جیک کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی۔ اس نے بولا ہم جلد شادی کر لیں گے پر۔۔۔پر باسم!!!”
اتنا کہہ کر وه پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اس کی بات سنتا باسم جھٹکوں کی زد میں تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ روزینہ جیسی سلجھی ہوئی لڑکی ایسی حرکت کر سکتی ہے۔
“پر کیا روزینہ؟؟؟”
اب کی دفعہ اس کا لہجہ کافی سنجیدہ تھا۔
“پر جب جیک کو پتا چلا کہ میں پریگننٹ ہوں تو پہلے اس نے کہا کہ میں ابارشن کروا لوں اور جب میں نے انکار کر دیا تو وه اس بچے سے ہی انکاری ہو گیا۔ وه کہتا ہے کہ یہ اس کا بچا نہیں ہے میں نے پتا نہیں کس کے ساتھ۔۔۔۔”۔
اس کی ادھوری بات سمجھتا وه لب بھینچ گیا۔
“اب کیا چاہتی ہو؟؟”
“مجھے بلڈ کینسر ہے باسم!!!”
ایک اور جھٹکا!!!!!
“نیکسٹ منتھ میری ڈیلیوری ہے۔ میں نہیں جانتی باسم کہ میں زندہ بچوں گی کہ نہیں۔میرے پیرنٹس نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ میں مر گئی تو میرے بچے کا کیا ہو گا باسم۔ پلیز میرے بچے کو اپنا لو باسم۔ وه رل جاۓ گا باسم۔ مجھ پر یہ احسان کر دو۔ ایک مرتی ہوئی عورت تم سے بھیک مانگ رہی ہے۔”
باسم کا دماغ سن ہو چکا تھا۔ اس نے کچھ کہے بغیر کال بند کر دی۔
اگلے دن ہی اس کے ماں باپ تک یہ بات پہنچ چکی تھی کہ وه اپنی کلاس فیلو روزینہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ جانتا تھا وہ کبھی نہیں مانیں گے اور ایسا ہی ہوا تھا۔ پندره دن کے اندر اندر باسم یو ایس جانے کا سارا انتظام کر چکا تھا پر اس دوران وه کام ہوا جس کا وه تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
*مومل کا باسم سے اظہار محبت!!!!”
باسم نہیں جانتا تھا اس کی چھوٹی سی سویٹی کب اس کے دل کی مکین بن گئی۔ وه اس کی محبت نہیں عشق تھا۔ پہلا اور بچپن کا عشق!!! وه جانتا تھا کہ وه اس کے لئے کوئی فیلنگز نہیں رکھتی۔ وه اپنی محبت ہمیشہ دل میں دفنا کر رکھ سکتا تھا۔ اس کے لئے محبت کو دل میں چھپانا اور اسی کے سہارے زندہ رہنا ہی خوش کن تھا۔ پر مومل کے اظہار کے بعد سب بدل گیا۔
وه نہیں چاہتا تھا کہ مومل کا اظہار قبول کر کے وه ایک مرتے ہوئے انسان کو توڑ دے۔
ایک مرتی ہوئی عورت کی آخری خواہش پر وہ مومل کی محبت قربان کر گیا۔
اسے لگتا تھا کہ یہ وقتی جذبہ ہے پر چار سال کے بعد جب وه واپس لوٹا تو اس کی آنکھوں میں موجود لافانی محبت باسم آفریدی کو غلط ثابت کر گئی تھی۔ وه چاہتا تو مومل کو واپس حاصل کر سکتا تھا پر وه اب اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ مناہل بھی تھی۔ روزینہ کی بیٹی!!! جس کی پیدائش کے وقت اس کی ماں چل بسی۔ باسم کے لئے بہت مشکل وقت تھا وہ پر اس نے سب سنبھال لیا تھا۔ جب مناہل دس ماہ کی ہوئی تب باسم نے گھر بتایا کہ اس کے ہاں بیٹی ہوئی ہے اور روزینہ کی وفات ہو گئی۔ اس دن سے ہی اس کے ماں باپ واپس آنے پر اسرار کر رہے تھے پر وه نہ آیا اور جب آیا تب سب بدل گیا۔
باسم آفریدی کی محبت پر شدّت کا خول چڑھ گیا اور مومل آفریدی کی محبت پر نفرت کا۔
°°°°°°°
(حال )
وه ہسپتال سے واپسی پر وقت گزارنے اور ذہن کو پر سکون کرنے بیچ پر چلی آئی۔ ٹھنڈ کے موسم میں شام کے وقت بیچ پر اکا دکا لوگ ہی موجود تھے۔ اس نے گاڑی کے پاس ہی جھک کر اپنی سینڈلز اتاری اور ننگے پاؤں گیلی ریت پر چلنے لگی۔
وه رونا چاہتی تھی۔ بہت زیادہ رونا چاہتی تھی پر آنسو آ ہی نہ رہے تھے آنکھوں میں۔ اس نے ارسم آفریدی کو مانگتے ہوئے اپنے رب کے سامنے اتنے آنسو بہاۓ تھے کہ اب آنکھیں خشک پڑ گئی تھیں۔
وه سوچوں میں گم پانی کی طرف بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ اسے اندازہ بھی نہ ہوا کب وه اتنی آگے نکل آئی کہ پانی اس کی کمر کو چھونے لگا۔ احساس تو تب ہوا جب کسی نے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے كهينچا۔ ابھی وه سنبھلی بھی نہ تھی جب کسی نے اسے زور سے جهنجھوڑ کر رکھ دیا۔
زین کو ارمش بہت یاد آ رہی تھی آج۔ دل بہت اداس ہوا تو وه بیچ پر چلا آیا۔ یہ اس کی پسندیده جگہ تھی جہاں آ کر وه ہمیشہ پر سکون ہو جایا کرتا تھا۔
وه پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے گیلی مٹی اپنے پیروں تلے روندتا آگے بڑھ رہا تھا جب اس کی نظر ایک منظر پر ٹھٹھک کر رک گئی۔
سفید سادہ لباس پہنے کالی زلفیں بکھراۓ ایک پتلی لمبی سی دوشیزہ پانی میں اترتی چلی جا رہی تھی جس کا سفید ریشمی دوپٹہ اور کالی زلفیں ہوا کے دوش پر اڑتی جا رہی تھیں۔ وه سر جھٹک کر نظریں پهير گیا۔ چند سیکنڈ کے بعد اس کی نظریں بے ساختہ دوبارہ اس لڑکی کے طرف اٹھی تھیں پر اب کی بار وه نظریں نہ ہٹا سکا بلکہ تیزی سے اس کی طرف بھگا جو کمر تک پانی میں ڈوب چکی تھی۔
اس کے قریب پہنچ کر وه ایک جھٹکے سے اپنی طرف كهينچ کر اسے پیچھے كهينچ گیا۔ وه لچکیلی ڈال کی مانند اس کے ساتھ كهينچی چلی جا رہی تھی۔اس کے بال اس کے چہرے کو ڈھانپ چکے تھے۔ وه اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ گیا۔
“پاگل ہیں آپ؟؟؟ مرنے کا اتنا ہی شوق ہے اگر تو اپنے گھر جا کر ایسی کوشش کریں یہاں اس شفاف پانی کو کیوں گندا کرنا چاہ رہی ہیں۔”
وه سر جھٹک کر بال چہرے سے پیچھے ہٹا گئی اور ہونق پن سے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھنے لگی۔
زین کی نظر جب اس ظالم لڑکی کے چہرے پر پڑی تو بری طرح ٹھٹھک گیا۔ یہ تو وہی مال والی لڑکی تھی۔ اس کا بھیگا چہرہ دیکھ کر زین کا دل دھڑک اٹھا۔ چھوٹا سا ناک لال پڑ چکا تھا جب کہ نیلے پڑتے ہونٹ ہلکے ہلکے كپكپا رہے تھے۔
وه جو اپنی پہلی نظر کی محبت کے نقوش میں گم تھا اس کی حرکت یاد کرتے بھڑک اٹھا۔
“مرنا ہے نا؟؟؟ خود کشی کرنے کا بہت شوق چڑھا ہے نا رکیں!!!!”
اسے حق دق چھوڑ کر وه تیز تیز قدم بڑھاتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا اور کچھ ہی سیکنڈز میں واپس آ گیا۔
“یہ پکڑیں اور کر لیں اپنا شوق پورا!!!”
وه اس کا سرد ہاتھ تھام کر اس میں پسٹل رکھ گیا جسے دیکھ کر دریہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور ہاتھ لرزنے لگے جب کہ جسم كپكپا اٹھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے پسٹل نیچے پهينكا اور كپكپاتے ہوئے ہاتھ ہونٹوں پر جما گئی جب کہ آنسو گالوں پر پھسلتے جا رہے تھے ۔
زین نے ایک افسوس بھری نظر دریہ پر ڈالی پھر جھک کر نیچے گری پسٹل اٹھا کر پینٹ کی پچھلی پاکٹ میں اڑسی۔
“بس ہو گیا مرنے کا شوق پورا؟؟؟”
زین کی طنزیہ بات پر دریہ نے ایک جھٹکے سے اس کی طرف دیکھا۔
“میں سوسائیڈ نہیں کر رہی تھی۔”
اس کی بار بار مرنے کی گردان سن کر وه بھڑک اٹھی۔
“اچھا!!!! پھر کیا پانی میں اتنا آگے جا کر سمندر کی گہرائی ماپ رہی تھی؟؟؟”
اس کی بات پر وه جل کر رہ گئی ہاں مانا کہ وه سوچوں میں اس قدر گم تھی کہ اندازہ نہ کر سکی کہ اتنا آگے بڑھ گئی ہے پر یہ بندہ تو صاف صاف بہتان باندھ رہا تھا اس پر۔
“نہیں کبڈی کھیل رہی تھی!!!”
جل کر کہتی وه سرد ہاتھ آپس میں رگڑتی بولی۔
“آپ تو كبڈی کھیل رہی تھیں پر کچھ ہی دیر کے بعد سمندری مخلوق آپ کے طعام خاص پر پارٹی کر رہی ہوتی۔”
وه ایک بیزار نظر اس پر ڈال کر وہیں نیچے گیلی ریت پر بیٹھ گئی۔ زین بھی اس کی پیروی کرتا اس سے چار قدم کے فاصلے پر بیٹھ گیا۔
“زندگی سے اس قدر بیزار کیوں ہیں؟؟”
وه گردن موڑ کر اس کے چہرے کو دیکھتا پوچھنے لگا۔
“بیزار نہیں ہوں۔ اداس ہوں بس!!!! خود سے!! ہر چیز سے!!!”
وه سہی کہہ رہی تھی۔ زین اس کے لہجے سے چھلکتی اداسی اور آنکھوں میں نظر آتی ویرانی صاف دیکھ سکتا تھا۔
پھر کافی دیر وه دو اجنبی ایک دوسرے کی خاموش مگر پر سکوں صحبت میں ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھے اپنے خاموش دکھ ایک دوسرے کے قلب تک پہنچانے لگے۔کون جانتا تھا کہ یہ ساتھ کہاں تک چلتا!!!!
°°°°°°°
وه بیڈ پر لیپ ٹاپ اپنے سامنے رکھ کر بیٹھا آفس کا کچھ کام نبٹا رہا تھا جب مناہل اس کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی۔
“پاپا!!”
وه اس کی ہلکی بیرڈ کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے چھیڑتی لاڈ سے اسے پکار گئی۔
“جی پاپا کی جان!!!”
باسم اس کے ننهے ننهے ہاتھ اپنے بھاری ہاتھوں میں تھام کر چوم گیا جس پر وه کھلکھلا اٹھی۔
مومل جو کہ وارڈ روب سیٹ کرنے میں لگی ہوئی تھی، اس نے مڑ کر ایک نظر دونوں باپ بیٹی کو دیکھا پھر واپس اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
“پاپا آپ کی اور ماما کی ڈشم ڈشم ہوئی ہے کیا؟؟؟”
اس کے سوال پر جہاں باسم کو جھٹکہ لگا وہیں مومل کا سانس بھی سینے میں اٹک گیا۔
“نن۔۔۔نہیں بیٹا آپ کو ایسا کس نے بولا؟؟؟”
وه اس کے بال سنوار کے پیار سے پوچھنے لگا۔ مومل اس کا جواب سننے کو بے چین تھی۔
“مجھے کسی نے نہیں بولا۔ آپ اور ماما دونوں اینگی(غصہ) رہتے ہیں ایک دوسرے سے۔ چاچی کی طرح ماما ہیپی ہیپی نہیں رہتی اور آپ بھی کل اینگی تھے۔تاتو اور تاتی (چاچو اور چچی) کی طرح ہم ایک ساتھ باہر بھی نہیں جاتے۔”
اس کے گہرے مشاہدے پر وه دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔ ان کی خاموش جنگ کو ان کی معصوم بچی بہت محسوس کر رہی تھی اور یہ بلکل بھی خوش آئند بات نہیں تھی۔
مومل کی آنکھوں میں تفكر کے بادل چھاۓ تو باسم نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی۔
“نو بیٹا ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔پاپا بہت بزی ہیں نا آفس سے بھی لیٹ آتے ہیں۔ اور آپ کے لئے ماما پاپا نے سرپرائز پلان کیا ہے ایک جو آپ کو کل پتا چلے گا۔ ہیں نا مومل؟؟؟”
وه خوش گواری سے کہتا آخر میں مومل سے یقین دہانی کرنے لگا تو وه بھی مسکرانے کی کوشش کرتی سر ہلا گئی جس پر مناہل خوشی سے چیخ اٹھی۔
“یے!!! مناہل کو سرپرائز ملے گا۔ میں ابھی تاتو کو بتاتی ہوں۔”
وه چہکتی ہوئی بیڈ سے اتر کر کمرے سے باہر بھاگی۔
“مومل!!! کم ہیئر!!!”
اس کی پکار پر وه نہ چاہتے ہوئے بھی مڑ کر اس کی طرف آئی اور کچھ فاصلے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئی۔
مہرون رنگ کا سادہ جوڑا اور پیروں میں سوفٹ چپل پہنے لمبے بالوں کو توڑ موڑ کر جوڑے کی شکل میں لپیٹے میک اپ سے پاک چہرے کے ساتھ وه باسم کو ایک گھریلو عورت اور بیوی لگ رہی تھی۔ اسے بے ساختہ ہی مومل پر پیار آنے لگا جس کر اظہار کر کے وه اپنی شامت نہیں بلوانا چاہتا تھا اس لئے بے قابو ہوتے دل پر قابو پانے کی کوشش کرتا چپ ہی رہا۔
“تھوڑا قریب تو آؤ!!!”
اس کے شوشے پر مومل نے تیوری چڑھا کر اس کی طرف دیکھا۔
“کیوں؟؟؟ دور کی نظر کمزور ہے کیا؟”
اس کے جواب بلکہ سوال پر وه ستائشی انداز میں ابرو اچکا گیا۔
” تمہارے معاملے میں تو سب کچھ ہی بہت کمزور ہے۔ چاہے پھر وه دور کی نظر ہو یا میرا بیچارہ دل!!!”
اس کے چھچھورے پن پر وه دانت پیس کر رہ گئی جو دن با دن بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔
“اپنا چھچھورا پن قابو میں رکھیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”
وه انگلی اٹھا کر تنبیہی انداز میں بولی تو باسم اس کی جرات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
“ویل!! اس وقت تو میرے اندر کا چھچھورا پن مجھے بار بار اکسا رہا ہے کہ۔۔۔۔”
وه جملہ ادھورا چھوڑ کر اسے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ کر اس کے چہرے پر جھک گیا۔ مومل جو اس سب کے لئے تیار نہ تھی، اس کی حرکت پر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وه اس کے سینے پر دونوں ہاتھ مارتی اسے پیچھے کرنے کی کوشش کرنے لگی پر باسم آفریدی اس کی قربت کے نشے میں بری طرح گم تھا۔ اس کے مزاحمت کرتے ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں قید کر گیا۔ اپنی من مرضی پوری کرنے کے بعد وه پیچھے ہٹا اور دلکشی سے مسکراتا اس کے لال بھبھوکا ہوتے چہرے کو نظر بند کرنے لگا۔
“تمہارے یہ پھڑ پھڑاتے ہوئے ہونٹ قید کر لوں۔”
جملہ مکمل کرنے سے پہلے وه اپنی کاروائی بھی مکمل کر چکا تھا۔
مومل غصے اور خجالت کے باعث مزید سرخ پڑتی ایک جھٹکے پیچھے ہٹی اور دوڑتی ہوئی تیزی سے باتھ روم میں بند ہو گئی جب کہ اپنے پیچھے سنائی دیتے قہقہے کو سنتی ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔
وه جو مناہل کے متعلق بات کرنے والا تھا ، بلکل غیر متوقع کارنامہ سر انجام دیتا روح تک سرشار ہو چکا تھا۔
“جسٹ ویٹ اینڈ واچ مائی سویٹی!!! باسم آفریدی اپنی سویٹی کو پھر سے محبت کے رنگوں سے آشنا کروا کر اس پر محبت کی برسات کر دے گا!!!”
وه خود سے کہتا کچھ پل پہلے ہوئے حسین حادثے کو یاد کرتا سکون سے آنکھیں موند گیا۔