Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
دروازہ کھٹکنے کی آواز پر ایک دم راجہ کی آنکھ کھلی۔ اس کی نظریں سیدھا نوریہ کی حسین چہرے سے جا ٹکرائیں جو نیم وا لبوں کے ساتھ نیند کے مزے لے رہی تھی۔وه اب تک اس کے سینے پر سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔ راجہ نے اپنا سر دھیرے سے اٹھایا نوریہ نیند میں دھیرے سے کسمسائی۔
“اٹھا جاؤ میری جان بھوک نہیں لگ رہی کیا؟ اٹھو شاباش۔”
وه اس کے گال پر بکھرے بال پیچھے کرتا نرمی سے پچکارنے لگا۔
وه دھیرے سے مسکراتی اٹھ بیٹھی۔
“کیا ٹائم ہوا؟”
وه بال سمیٹتی جھجھک کر پوچھنے لگی کیوں کہ وه اس کے بالکل ساتھ جڑ کر بیٹھا تھا۔
“رات کے نو بج رہے ہیں۔”
اس کے بتانے پر نوریہ کی آنکھیں کھل گئیں۔
“اف! اتنا وقت ہو گیا اور پتا ہی نہیں چلا مجھے تو کھانا بنانا تھا۔ آپ کا سر درد کیسا ہے؟”
اس کے یوں بوکھلایا دیکھ کر اس کے ہاتھ تھام گیا۔
“بس بس میری رانی کیا ہو گیا۔ میرا سر درد تو تمہاری قربت پاتے ہی فرار ہو گیا۔”
اس کی بوجھل سرگوشی پر وه سرخ پڑتی پلکیں جھکا گئی۔
“اور رہی بات کھانے کی، وه میں ابھی باہر سے لے آتا ہوں۔”
وه کہنے کے ساتھ ہی خود تخت سے اٹھتا اس کی طرف ہاتھ بڑھا گیا۔
وه شرماتی ہوئی اپنا نازک ہاتھ اس کے مضبوط مردانہ ہاتھ میں تهما گئی۔
وه اسے ساتھ لئے کمرے میں آیا۔
“ہاتھ منہ دھو کر برتن لگاؤ میں بس یوں گیا اور یوں آیا۔
وه اپنے ہاتھ میں دبے اس کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیتا کمرے سے باہر نکل گیا۔وه بھی مسکراتی ہوئی انگڑائی لیتی باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
کھانا کھانے کے بعد وه برتن کچن میں رکھنے لگی تو وه بھی اس کے روکنے کے باوجود اس کی مدد کرنے لگا۔
فارغ ہو کر وه باہر نکلنے لگی تو وه اس کی کلائی تھام گیا۔ وه دھڑکتے دل اور گلابی پڑتی رنگت کے ساتھ دھیرے سے پلکوں کی جھالڑ اٹھا کر اس کی چہرے کی طرف دیکھنے لگی جن کی معنی خیزی اور آنکھوں سے جھلکتے جذبات کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے تھے جن سے وه آنکھیں چرانے لگی۔
“میری رانی!”
اس کی جذبات سے بوجھل آواز نے نوریہ کی خم دار پلکوں کو لرزنے پر مجبور کر دیا۔
“جی!”
وه کانپتے ہوئے ہاتھ سے بالوں کی آوارہ لٹ کو کانوں کے پیچھے اڑسنے لگی جو اس کے گالوں کو چھیڑتی شرارت خانی کر رہی تھی۔
“میری ایک فرمائیش مانے گی۔”
وه کی اس کی کلائی پر اپنی انگلیاں پهيرتا اسے مسلسل کانپنے پر مجبور کر رہا تھا۔
“بول!”
وه اس کی چپی کر اپنے دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کا چہرہ اونچا کرتا اس کی لرزتی جھکی پلکوں پر پھونک مار گیا۔
“جج۔۔۔۔جی مانوں گی۔”
اس کے كترانے شرمانے پر وه زیر لب مسکرا دیا۔
“میں چاہتا ہوں کہ آج کی رات ہماری تکمیل کی رات ٹھہرے۔ روحوں کے ملاپ کی رات ٹھہرے۔ تم بن سنور کر میرے جذبات میں تغیانی پیدا کرو اور پھر اپنے قرب کی ٹھنڈک سے میرے بھڑکتے ہوئے دل پر پهوار برسا دو۔ کرو گی میری فرمائیش پوری؟”
اس کے بوجھل اور شریر الفاظ نوریہ کے جسم میں چیونٹیاں دوڑا گئے۔ زبان گنگ تھی۔ اس کے ہاتھ کا دباؤ محسوس کر کے وه اقرار میں سر ہلاتی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی۔ اس کے اقرار نے راجہ کے وجود میں سر شاری بھر دی۔
“تو پھر جاؤ الماری میں ایک کالے رنگ کا بیگ دھرا ہے۔ وه دیکھ لو اور اپنا پور پور سجا دو۔”
وه اسے کہتا دھیرے سے اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا چھت کی طرف بڑھ گیا جب کہ وه لبوں پر شرمیلی مسکان سجاۓ چھت کو جاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
گھنٹہ گزر جانے کے بعد اس نے کمرے میں پیر رکھا تو کمرے کا ماحول دیکھتا ٹھٹھک کر دہلیز پر ہی رک گیا۔ ہوش تھوڑے بحال ہونے پر اس نے پشت پر موجود دروازہ دھیرے سے لاک کر دیا اور قدم قدم بڑھاتا بیڈ کی طرف بڑھنے لگا جہاں وه سرخ لباس میں خود بھی لال پڑ رہی تھی۔ لال لباس پہنے لبوں پر سرخی بکھیرے، قاتل آنکھوں میں کاجل کی دھار ڈال کر انھیں مزید قا تل بناۓ ، کالی زلفوں کو درمیان سے مانگ نکال کر کھلا چھوڑے اور کانوں میں سنہری آویزے پہنے وه راجہ کا تن من دھڑکا گئی تھی۔ اس کا ہوش ربا حسن اور توبہ شکن سراپا اس کے اعصاب پر بہت شدت سے اثر انداز ہوا تھا۔ نائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی میں بھی اس کا زاہد شکن سراپا دمک رہا تھا۔وه اس پر بھر پور نظر ڈال کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف قدم بڑھا گیا۔ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنی کلائی پر پہنی مردانہ بریسلٹس انگلیوں میں پہنی انگوٹھیاں اور گلے میں پہنی چینز اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیں۔ اس سب سے فارغ ہونے کے بعد اس نے بالوں میں بندهی پونی اتار کر باقی چیزوں کے ساتھ پهينكی اور اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھا گیا۔
“واللّه! تمہارا یہ دلکش ترین روپ کہیں راجہ کی جان ہی نہ لے لے اوپر سے تمہارا یوں شرمانا اف! تمہاری ہر ادا قاتلانہ ہے۔”
وه اس کے نزدیک تر بیٹھتا اپنے الفاظ کے لمس سے اسے جھینپنے پر مجبور کر گیا۔وه دھیرے سے اس کے نزدیک نیم دراز ہو کر اس کے سرخ پڑتے چہرے پر نظریں جما گیا۔
“اجازت ہے؟”
اس کی معنی خیز سرگوشی پر وه شرم سے دوہری ہوتی بالاخر اثبات میں سر ہلا گئی۔
“شکریہ۔۔۔”
راجہ نے اسکے ہاتھ کو تھاما اور اسکی پشت پر ہونٹ رکھے۔۔۔
“لائیٹ بھجا دوں؟” وہ اس سے پوچھنے لگا۔۔ نوریہ کا چہرہ مزید سرخ ہوگیا۔۔۔
“کھڑکی بند کردیں ۔۔۔ سردی ہے۔۔” وہ نظریں چراتی بولی۔۔
پر اگلے لمحے روم میں ایکدم اندھیرہ محسوس کرکے وہ سراسیمگی سے کمرے میں دیکھنے لگی۔۔۔
“مجھ پر یقین رکھو میری جان!”
وه اس کا گال سہلا کر بولا تو نوریہ اپنا حلق تر کرتی اثبات میں سر ہلا گئی۔
“اجازت ہے؟” وہ اسکے کان پر جھکا اجازت طلب کر رہا تھا۔۔
وہ آہستہ سے بہت ہمت مجمع کرکے سر اقرار میں ہلاتی اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر اسکے چوڑے سینے میں سمٹ گئی۔
اسکی گھنی مونچھوں تلے چھپے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔
وہ اسے تکیے پر آہستہ سے منتقل کرتا اس پر سایہ بن گیا۔
وہ اس کی پیشانی پر جھکا اور وہاں اپنی محبت کی مہر ثبت کردی۔
اس کے مضبوط بانہوں کے تحفظ کو محسوس کرتی وہ جھینپتی ہوئی اس کی باہوں میں چھپ گئی۔
رات قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی جس کے ساتھ ہی نوریہ راجہ کی قربت اور مضبوط حصار میں موم بن کر پگھلنے لگی۔
چاند بھی شرما کر بادلوں کی اوٹ میں جا چھپا اور سرد تاریک رات دونوں پر مہربان ہو گئی۔
°°°°°
“اف بہت تھک گئی میں۔”
وه بیڈ پر گرتی آنکھیں موند گئی۔ فنکشن کے آخر پر جب باسم نے رخصتی مانگ لی تو مومل نے کافی ہنگامہ کھڑا کیا۔ وه کسی صورت بھی رخصتی کے لئے رضا مند نہ تھی پر سب کے بہت زیادہ سمجھانے اور دباؤ پر لب بھینچتی اپنا سر اس فیصلے پر جھکا گئی۔
اس سارے میس میں کافی وقت لگ گیا تھا اس لئے ارمش کافی تھک چکی تھی۔ اس کی تھکاوٹ دیکھتے ارسم اسے کمرے میں چھوڑ گیا اور خود اسے کچھ دیر میں واپس آنے کا کہہ کر کمرے سے چلا گیا کیوں کہ اس کے دوست آئے ہوئے تھے جن کہ ساتھ کچھ وقت گزارنے کا خواہش مند تھا وه۔
ارمش نے کبھی اتنے بھاری کپڑے اور زیور پہنے نہ تھے اس لئے کافی بے چین ہو رہی تھی پر پھر سستی سے وہیں پڑی رہی۔ اس میں اتنی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اٹھ کر چینجنگ روم تک ہی چلی جاۓ اور جا کر خود کو اس سارے بوجھ سے آزاد کروا لے۔
دوستوں سے فارغ ہوتے ہوتے اسے کافی وقت لگ گیا۔ دو گھنٹے بعد جب وه با مشکل جان چھڑوا کر کمرے میں آیا تو وه اسے غیر آرام ده حالت میں بستر پر آڑھی ترچھی لیٹی سوتی ہوئی دکھی۔
وه اپنا ماتھا مسلنے لگا۔ بھاری قدم اٹھاتا ہوا اس کی طرف بڑھا اور اسے بازو سے پکڑ کر نرمی سے اسے سیدھا کر کے لٹایا۔
“سوفٹی! اٹھیں شاباش! کپڑے وغیرہ چینج کر کے ایزی ہو جائیں پھر سو جائیے گا۔”
وه اس کے پاس بیٹھتا ہولے سے اس کا گال تهپتهپانے لگا۔
“ممم۔۔۔”
وه نیند میں كسمسائی اور اس کی موجودگی محسوس کرتی دھیرے سے مسکرا دی اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے گال کے نیچے رکھ کر اس پر اپنا چہرہ ٹکا گئی۔
وه اس کی معصوم سی ادا پر دل پر قابو کھوتا اس کے معصوم اور دلکش چہرے پر جھکا اور اس کی پیشانی کو اپنے لمس سے معتبر کرنے لگا۔اس کا لمس محسوس کرتی وه پھر سے كسمسائی تھی۔
“اٹھ جائیں میری شہزادی اب!”
وه پھر سے اس کے گال تهپتهپانے لگا تو اب کی بار وه دھیرے سے آنکھیں کھول گئی۔
“مجھے نیند آ رہی ہے ہسبنڈ میں سونا چاہتی ہوں۔”
وه منہ بسور پھر سے آنکھیں بند کرنے لگی۔
“سو جائیے گا پر پہلے فریش ہو جائیں۔ اٹھیں شاباش۔”
وه کہنے کے ساتھ ہی اٹھ کر اسے بھی بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کر گیا اور اسے اپنے ساتھ لئے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا۔ اسے چیئر پر بیٹھانے کے بعد ایک ایک کر کے اس کا زیور نرمی سے اتارنے لگا۔ زیور اتارنے کے بعد اس نے اس کے بالوں میں لگی پنز کو دھیرے س الگ کرنا شروع کر دیا۔ اس کے سنہری بال کندھوں پر بکھیر کر وه ایک مسکراتی نظر اس کے چہرے پر ڈالتا الماری کی طرف بڑھ گیا۔
الماری سے اس کا نائٹ ڈریس نکال کر باتھ روم میں ہینگ کر کی آیا اور شو اسٹینڈ سے اس کے سلیپرز پکڑے اور پھر اس کی طرف بڑھا۔ اس کے قریب پہنچ کر اس کے دونوں پاؤں باری باری اپنے گھٹنے پر رکھتے اس کے گلابی خوب صورت پیروں میں پہنی گئیں سینڈلز اتارنے لگا۔ سینڈل اتار کر اس نے ارمش کے پاؤں میں سلیپرز پہنا دیے اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا۔
شروع پر ارمش کو اس کی یہ حرکت بلکل اچھی نہیں لگتی تھی کہ وه اس کے پیروں کو ہاتھ لگائے پر ارسم کا کہنا تھا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے کاموں میں شرم کیسی؟ وه اس کی بیوی ہے۔ اس کے پیروں کو ہاتھ لگانے سے اس کا درجه چھوٹا نہیں ہو جاۓ گا۔ اب تو ارمش کو بھی جیسے عادت ہو گئی تھی اس سب کی۔
وه فریش ہو کر باہر آئی تو تب تک وه بھی ڈریسنگ روم میں کپڑے بدل کر باہر آ چکا تھا اور اب بیڈ پر بیٹھا موبائل میں مصروف تھا۔ وه ہلکا سا مسکراتی بیڈ کی دوسری طرف آ کر بیٹھ گئی۔
ارسم موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتا پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔
“کیا ہوا میری سوفٹی کو؟ اداس کیوں ہیں۔”
وه اس کی آنکھوں سے جھلکتی گہری اداسی کو دیکھتا تشویش سے استفسار کرنے لگا .
“نن۔۔نہیں تو۔ اداس تو نہیں ہوں۔ دیکھیں! خوش ہوں۔”
وه ہڑبڑا کر کہتی پھر سے مسکرانے لگی۔
وه اسے گہری نظروں سے تكتا رہا۔
“آپ قلب ہیں ارسم آفریدی کا۔ آپ اداس یا پریشان ہوں گی تو مجھے کیسے پتا نہیں لگے گا کہ میرا قلب تکلیف میں ہے۔بتائیں شاباش۔”
اس کا جملہ پورا ہوتے ہی وه ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ارسم آفریدی اس کا ری ایکشن دیکھتا ایک دم بوکھلا گیا۔
“کیا ہوا ہے میری جان کیوں رو رہی ہیں۔”
وه اس کے ہاتھ زبردستی چہرے کے آگے سے ہٹاتا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر بے چینی سے پوچھنے لگا۔
“کچھ بھی تو نہیں۔”
وه ہچکی دبا کر بولی۔
“کچھ بھی نہیں تو پھر یہ پیاری سی آنکھیں اتنے قیمتی آنسو کیوں بہا رہی ہیں؟ ہاں !”
وه انگلی کی پور سے اس کا آنسو چن کر اس کی آنکھوں کے سامنے کر گیا۔ وه خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔
“بتائیں میری جان اپنے ہسبنڈ کو بھی نہیں بتائیں گی کیا۔؟”
اس کے یوں بے انتہا پیار سے پوچھنے پر وه بے ساختہ اس کے سینے پر سر گئی اور آنسو بہانے کا عمل جاری رکھا۔
“ہسبنڈ!”
اس کی تکلیف سے پر بھیگی آواز میں اپنے نام کی پکار سنتے ارسم آفریدی کا دل ڈولنے لگا .
“جی ہسبنڈ کی جان بولیں! میں سن رہا ہوں۔ آپ اپنے دل کی ہر بات مجھ سے کہہ ڈالیں آج۔
“آپ کی ماما آپ سے کتنا پیار کرتی ہیں نا۔ آپ سے بھی اور باسم بھائی سے بھی۔ چھوٹی ماما بھی مومل سے کتنا پیار کرتی ہیں اور آپ کی ماما بھی۔”
وه اس کی شرٹ مٹھی میں دبوچ گئی۔
“وه آپ کی بھی ماما ہیں اور آپ سے بھی بہت پیار کرتی ہیں۔”
وه اس کا دوسرا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا گیا۔
“پر میری ماما مجھ سے پیار کیوں نہیں کرتی؟ میں تو ان سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں۔ ان کی ہر بات بھی مانتی ہوں اور تنگ بھی نہیں کرتی۔ پھر وه مجھ سے پیار کیوں نہیں کرتی ہسبنڈ؟”
وه اس کے سینے میں منہ دے سسكنے لگی تو اس کی تکلیف اپنے دل میں محسوس کرتا ارسم لب بھینچ کر ہولے ہولے اس کی کمر سہلانے لگا۔
“آپ کو کس نے کہا کہ وه آپ سے پیار نہیں کرتی؟ ماں تو محبت کا دوسرا نام ہے اور جتنا پیار ماں اپنے بچوں سے کرتی ہے اتنا پیار اس روۓ زمین پر کوئی کسی سے نہیں کر سکتا۔ آپ کی ماما بھی آپ سے بہت پیار کرتی ہوں گی۔”
اس کی بات سنتے وه دھیرے سے اس سے الگ ہوئی۔
سرخ چہرہ، متورم آنکھیں، گلابی گالوں پر پھسلتے شبنمی قطرے، سرخ ناک اور کچلنے کے باعث سرخ پڑتے ہونٹ ۔ وه اس حالت میں بھی ارسم آفریدی کا دل بری طرح دھڑکا گئی تھی۔ کیا کوئی روتے ہوئے اس قدر حسین بھی لگ سکتا ہے؟ وه سوچ کر رہ گیا۔
وه اس سے الگ ہوتی دو ہاتھ کے فاصلے پر ہو گئی۔
ارسم اسے نا سمجھی سے دیکھنے لگا۔ وه اس سے نظریں چراتی خود پر ضبط کرتی اپنی دائیں ٹانگ سے شلوار اوپر کر گئی۔
اس کی ٹانگ کر نظر پڑتے ارسم کی آنکھیں بے یقینی سے پھیل گئیں۔ گھٹنے سے نیچے ٹانگ پر جگہ جگہ کاٹے جانے کی نشان تھے یوں جیسے تیز دھاری چھری سے گہرے کٹ لگائے گئے ہوں اور لگ بھی کافی پرانے رہے تھے ۔
“یہ۔۔۔”
ارسم کے الفاظ ہی گم ہو چکے تھے۔وه آنسو ایک ہاتھ سے صاف کرتی مڑی اور ارسم کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گئی۔ ارسم کے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی وه ہاتھ پیچھے لاتی اپنی شرٹ کی زپ کھول گئی تو شرٹ دونوں کاندھوں کی طرف ڈھلک گئی اور اس کی کمر پر نظر پڑتے ہی ارسم کی روح فنا ہونے لگی۔ سفید کمر نیلے نشانوں سے بھری پڑی تھی۔ کچھ زخم نئے جب کہ باقی پرانے تھے۔ اسے پتا ہی نہ چلا اور اس کی آنکھوں میں چپکے سے نمی اتر آئی۔ اسے ساکت خاموش بیٹھے دیکھ کر وه زپ بند کرتی اس کے مقابل آ بیٹھی۔
“آپ اب بھی کہیں گے کہ میری ماما مجھ سے پیار کرتی ہیں۔”
وه آنسو بہاتی ياسیت سے پوچھنے لگی۔
“یہ تمہاری۔۔۔”
بے یقینی ایسی تھی کہ وه اپنا جملہ بھی نہ پورا کر پایا۔ الفاظ کیسے حلق میں اٹک گئے تھے۔ وه جو یہ سوچ رہا تھا کہ یہ ان درندوں کی حیوانیت ہوگی جنہوں نے اس معصوم کو توڑا تھا وه اس کی آنکھوں کا پیغام اور الفاظ کا مطلب سمجھ کر ششدر رہ گیا تھا۔
کیا کوئی انسان اس قدر سنگ دل ہو سکتا ہے؟ بلکہ کیا کوئی ماں اس قدر ظالم ہو سکتی ہے۔
وه اسے كهينچ کر اپنے سینے سے لگا گیا تو وه پھر سے بلک بلک کر رونے لگی۔ اس کے کندھے بھی ارسم آفریدی کے آنسوؤں سے بھیگ رہے تھے۔
وه دونوں رو رہے تھے۔ ایک اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر تو دوسرا اپنی محبوب ہستی کی تکلیف اور ازیت پر۔
“شش! سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ میں ہوں نا!”
وه بھاری نم آواز میں اسے تسلی دیتا اس کی پیٹھ تهپتهپانے لگا۔ کچھ دیر بعد جب ارسم آفریدی کو اس کے وجود کی ہلچل محسوس نہ ہوئی تو وه جان گیا کہ وه معصوم اپنی تکلیف زدہ سوچوں سے لڑتی نیند کی وادی میں جا چکی ہے۔
وه اسے کسی نازک آبگینے کی طرح خود میں سمیٹ کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا اسے نرمی سے بیڈ پر ڈال گیا۔
دل میں محسوس ہوتی اس دشمن جان کی تکلیف ارسم آفریدی کی نیند چرا لے گئی اور شاید اسے آج کی طویل رات جاگ کر گزارنی تھی۔
°°°°°
