No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
وہ دونوں اس وقت نائٹ کلب میں بیٹھے تھے۔ کانوں کو چیرتا تیز آواز میں میوزک، اسٹیج پر لڑکوں کی باہوں میں تھرکتی نیم وعرياں لباس پہنے لڑکیاں، حرام شے نوش کرتی وہ بے حیا عوام کوئی بھی ان دونوں کی بحث میں خلل نہیں ڈال پا رہا تھا۔
“آخر کب تک تمہارا کام ہوگا؟ ہر دفعہ ہی انکار سننے کو ملتا ہے۔”
کالے رنگ کا چست لباس پہنے اپنے ہونٹوں کو لال رنگ سے رنگے وه لڑکی برہمی سے پاس بیٹھے لڑکے سے مخاطب تھی۔
“بس تھوڑا اور انتظار بےبی۔ جہاں اتنا لمبا انتظار کیا ہے وہاں چند دیر اور سہی!”
کہنے کے ساتھ ہی وہ لڑکا جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک ڈبی نکال گیا۔ سرخ مخملی ڈبی دیکھتے لڑکی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ یقیناً اس میں اسی کے لئے کوئی تحفہ تھا۔
“ہاتھ دو بےبی!”
وہ لڑکا ڈبی کھول کر اس میں سے انگوٹھی نکال کر دوسرا ہاتھ لڑکی کی آگے پهيلا گیا۔ لڑکے نے اس کا ہاتھ تھام کر وہ نازک سی انگوٹھی اس کے تیسری انگلی میں پہنا دی۔ لڑکی اب چمکتی ہوئی آنکھوں سے لڑکے کو اپنا ہاتھ چومتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“تم جانتے ہو بےبی میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں اور تمہیں اس چڑیل کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی۔ میرا یہ سوچ سوچ کر دم گھٹتا ہے کہ وہ تمھارے ساتھ ہر پل گزارتی ہے۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ تم جلد از جلد سارے معاملات نمٹا لو۔”
وه اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی گود میں بیٹھتی اپنی باہوں کا ہار اس کی گردن میں ڈال گئی۔
“بس کچھ دیر اور بےبی پھر بس ہم دونوں ہوں گے اور ہماری پیار بھری دنیا۔”
وہ مدہوشی سے کہتا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا جس میں وہ اس کا بھر پور ساتھ دینے لگی جب کہ یہ سارا منظر دیکھتی دو نفرت آنکھیں لال انگارہ ہوئی تھیں۔
°°°°°°°°°°
وہ ٹانگوں کے گرد بازو لپيٹ کر بیڈ پر بیٹھی سامنے کھڑکی سے باہر لان کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس کی ماں اور اس کا شوہر دونوں لنچ پر گئے ہوئے تھے۔
“میشا! کہاں ہو یار!”
وہ اونچی آواز میں اسے پکارتا اس کے کمرے کی طرف ہی آ رہا تھا۔ اس کی آواز سنتے ہی ارمش مسکرا دی۔ اس بھری دنیا میں صرف وہی تو تھا اس کا اپنا۔ پر اس نے دنیا دیکھی ہی کہاں تھی۔ اس کی دنیا تو اس کے بچپن میں ہی اجڑ چکی تھی۔ اب ایک ہی شخص تو تھا اس کی دنیا۔
“مجھے پہلے ہی پتا تھا یہیں چھپ کر بیٹھی ہو گی تم۔ کبھی تو اس پنجرے سے باہر نکل آیا کرو یار۔ چلو جلدی سے باہر لان میں آؤ میرے ساتھ اور دیکھو کتنا حسین موسم ہے آج۔”
وہ روانی سے بولتا اس کے کندھے کے گرد بازو پهيلا گیا۔
“نہیں بھائی سچی میرا بالکل بھی دل نہیں ہے۔ کیا میں آپ کے موبائل میں گیم کھیل سکتی ہو ببلز والی جو پچھلی دفعہ کھیلی تھی پلیز!”
وہ کے کندھے پر سر رکھتی بولی تو وہ مسکرا کر سر ہلا گیا۔
“ہاں ضرور مل سکتی ہے پر اس شرط پر کہ تمہیں لان میں میرے ساتھ چل کر بیٹھنا ہوگا۔ تم وہاں بیٹھ کر گیم کھیل لینا اور میں تمہیں دیکھ کر موسم انجونے کر لوں گا۔ بولو منظور ہے؟”
وہ اس کا ناک دبا کر استفسار کرنے لگا تو وہ اس کی حرکت پر کھلکھلا کر ہنستی ہاں میں سر ہلا گئی۔جب کہ وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لئے کمرے سے نکل کر لان میں آ گیا۔
°°°°°°°°°°
وہ دونوں لاؤنج میں پڑے صوفے پر بیٹھے تھے۔ خاموشی ایسی تھی کہ سوئی گرنے کی آواز بھی واضح سنائی دیتی۔ اس خاموشی کو توڑنے میں نوریہ نے پہل کی تھی۔
“حاشر!”
اس نے دھیرے سے پکارا پر حاشر نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ بری طرح کسی سوچ میں غرق تھا۔
“حاشر!”
نوریہ نے اس کا بازو پکڑ کر ہلایا۔
“ہا۔۔ہاں کیا کہہ رہی تھی تم؟”
وہ ایسے بولا جیسے ایک دم کسی خواب سے جاگا ہو۔
“حاشر پلیز آپ پریشان نہ ہوں۔ شاید اللّه نے ہماری قسمت میں یہ نعمت نہ لکھی ہو یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی معجزہ کر کے ہمیں نواز دے ۔ اس پاک ذات کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ پلیز آپ نا امید ہو کر اس طرح پریشان نہ ہوں۔ اللّه پر اور اس کی رحمت پر بھروسہ رکھیں۔”
وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے نرم لہجے میں میٹھے الفاظ اس کے کانوں میں اتار رہی تھی پر وہ کہیں اور ہی پہنچا ہوا تھا۔
وہ دونوں ابھی ہسپتال سے واپس آۓ تھے۔ حاشر جاتے ہوئے بہت خوش تھا۔اسے پختہ یقین تھا کہ اس کی ریپورٹس سو فیصد درست آئیں گی۔ بھلا مرد میں بھی کوئی خامی ہو سکتی تھی۔ مرد تو اس حوالے سے بالکل پرفیکٹ ہوتا ہے۔ خامی تو عورتوں میں ہوتی ہے اور نوریہ کی ساری ریپورٹس بالکل ٹھیک تھیں۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ ڈاکٹر علاج شروع کر دے گی اور انہیں جلد ہی خوش خبری مل جاۓ گی۔ پر ریپورٹس ملنے کے بعد ڈاکٹر کی بتائی گئی بات نے اس کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی۔
وہ لیب سے ریپورٹس لینے کے بعد ڈاکٹر کے کمرے میں گئے تھے۔
“دیکھ لیجئے ڈاکٹر صاحبہ میری ریپورٹس بالکل کلئیر ہیں۔ آپ كنفرم کر سکتی ہیں۔”
حاشر کرسی پر بیٹھتا بہت اکڑ کر بولا تھا۔ ڈاکٹر نے اسے جواب دینے کی بجاۓ ریپورٹس کھول کر پڑھنی شروع کر دیں۔ حاشر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھا مسکرا کر نوریہ کو دیکھ رہا تھا جب ڈاکٹر کی آواز نے ان دونوں کو اپنی طرف متوجه کیا۔
“مجھے بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے مسٹر حاشر کے آپ لوگ اولاد کی نعمت سے فیض یاب نہیں ہو سکتے۔”
ڈاکٹر کے الفاظ پر جہاں نوریہ کا رنگ زرد پڑا تھا وہیں حاشر جھٹکے سے آگے ہو کر بیٹھا۔
“یہ ۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ڈاکٹر صاحبہ آپ نے خود کہا کہ نوریہ کی ریپورٹس کلئیر ہیں اور اب میری بھی کلئیر ہیں پھر ہم ماں باپ کیوں نہیں بن سکتے۔”
وہ سامنے پڑے شیشے کے میز پر ہاتھ جما کر سرخ نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھتا گویا تھا۔
ڈاکٹرنے اس کی بات پر افسوس سے سر ہلایا۔
“آپ کو کس نے کہا مسٹر حاشر کے آپ کی ریپورٹس کلئیر ہیں۔؟ یہ لیں اور غور سے پڑھیں۔ اس پر صاف واضح ہے کہ آپ میں باپ بننے کی صلاحیت نہیں۔ آپ کبھی باپ نہیں بن سکتے۔”
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ہاتھوں میں موجود ریپورٹس پڑھ رہا تھا۔ جب کہ نوریہ آنکھوں میں آنسو لئے خود پر ضبط کرتی بیٹھی تھی۔ اس کے پاس الفاظ ختم ہو چکے تھے۔
“دیکھیں مسٹر اینڈ مسز حاشر عورت میں ٹریپل ایکس کروموسومز ہوتے ہیں اور مرد میں ڈبل ایکس اور ایک وائے کروموسوم۔ ریپروڈکشن میں عورت کے ایکس اور مرد کے وائے کروموسوم کا عمل دخل ہوتا ہے۔ جب اس کروموسوم میں خرابی آ جاۓ تو یہ پراسیس نہیں ہو پاتا اس میں خرابی آ جاتی ہے۔ باز کیسز ایسے ہوتے ہیں کہ علاج سے مسلہ حل ہو جاتا ہے مگر باز کیسز لا علاج ہوتے ہیں۔ مجھے بہت افسوس سے پھر سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ بھی ان میں سے ایک ہیں۔ بیشک اس پاک ذات کے ہر فیصلے میں بہتری اور بھلائی شامل ہے۔ اس کے فیصلے پر یقین کے ساتھ سر جھکا دیں سکون پائیں گے۔”
اس کے ذہن میں بار بار ڈاکٹر کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔
نوریہ گھر آنے کے بعد باتھروم میں بند ہو کر بے تحاشہ روئی تھی۔ کون عورت چاہتی تھی کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو ۔ اس کی گود سونی رہے۔ اس کا آنگن خالی رہے۔ اس کا باغ سنسان رہے۔ اسے بھی اولاد کی خواہش تھی۔ وہ بھی ننھے فرشتوں کی کلکاریاں سننا چاہتی تھی۔ پر وہ رب کے فیصلے کے خلاف تو نہیں جا سکتی تھی۔ اسے صبر کر کے رب کی رضا میں راضی ہونا تھا۔ اپنے شوہر کو حوصلہ دینا تھا۔ اس کا سہارا بننا تھا۔ اس کٹھن وقت میں ان دونوں کو ایک دوسرے کی محبت اور خیال کی ضرورت تھی۔ انھیں ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا۔ وہ منہ دھو کر باہر اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔ کافی دیر جب وہ کچھ کا بولا تو خود ہے اسے پکار گئی۔ اسے حوصلہ دینے لگی۔ پر اس کی بات سن کر بھی اس نے کوئی جواب نہ دیا اور گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکل گیا۔ جب کہ وہ بے بسی سے اس کی پشت دیکھتی آنکھوں میں اتری نمی صاف کرنے لگی۔
°°°°°°°°°°
ماحول پر اس وقت تناؤ چھایا ہوا تھا۔ سٹیڈيم میں اس وقت ہڑبونگ مچی ہوئی تھی۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان فائنل میچ تھا آج۔ آج جس کو فتح ملتی ورلڈ کپ ٹرافی اس ٹیم کے ساتھ جاتی۔ پاکستان کھیل چکا تھا اور اب انگلینڈ بیٹنگ کر رہا تھا۔ مقابلہ انتہائی سخت تھا۔سٹیڈيم میں جہاں پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی بے چین تھے اور عوام پریشان چہرے لئے بیٹھی تھی وہیں انگلینڈ کی ٹیم اور عوام پرجوش سی ہوٹنگ کر رہی تھی قہقہے لگا رہی رہی۔انگلینڈ کا منجها ہوا بلے باز بیٹنگ کر رہا رہا اور چوکے چھکے مار رہا تھا۔ اب بھی پاکستان کا بولر نسیم آؤٹ ہوا تو پاکستانی عوام رونے والی ہو گئی۔ اب تو ہار پکی تھی۔ تین گیندوں پر چھے سکور چاہئے تھی جو کہ انگلینڈ کے لئے بہت آسان ہدف تھا جس طرح وہ کھیل رہے تھے۔ پھر جو کھلاڑی میدان میں اترا اسے دیکھتے ہی پاکستانی عوام میں جیسے کسی نے روح پھونک دی تھی۔ سیٹیوں اور پرجوش چیخوں کے درمیان وہ میدان میں اتر کر پوزیشن سنبهال گیا۔ بہت سے لوگ اب بھی پریشان بیٹھے تھے کیوں کے یہ گیم کا ٹرننگ پوانٹ تھا۔ لیکن مقابل بھی ارسم آفریدی تھا۔ پاکستان کا جانا مانا اور فاسٹ بولر۔ وه پچھلے تین میچ جیتوا چکا تھا۔ اب ہر طرف سے اس کے نام کے نعروں کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔ پاکستانی ٹیم کافی پریشانی اور تناؤ کا شکار تھی۔ ارسم آفریدی نے بسم اللہ پڑھی اور بھاگتے ہوئے گیند کروائی۔ بیٹ مین نے شاٹ لگائی تو بال ہوا کو چیرتی ہوئی مخالف سمت میں گئی تھی اور اگلے ہی لمحے پاکستانی کرکٹر جو کہ فیلڈنگ کر رہا تھا وہ کلا بازی کھاتے ہوئے گیند کیچ کر چکا تھا۔ سٹیڈم ایک مرتبہ پھر شور سے گونج اٹھا۔ اب دو گیندیں باقی تھیں۔ انگلینڈ کو جیتنے کے لئے چھکے کی ضرورت تھی تب ہی وہ جیت سکتے تھے۔
پاکستانی کھلاڑی میدان میں ارسم آفریدی کے گرد جما ہوتے اس کے گلے لگتے اسے مبارک اور شاباشی دے رہے تھے ساتھ اس کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔
بیٹ مین نے آ کر اپنی پوزیشن سنبھالی تو وہ بھی گیند کروانے لگا۔ گیند ہوا کو چیرتی جا رہی تھی۔ وہاں موجود ہر انسان کی نظر گیند کے کے ساتھ سفر طے کر رہی تھی۔ دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب تھیں۔ ہر لب دعا گو تھا۔ دو پاکستانی کھلاڑی تیز ترین رفتار سے گیند کی سمت بھاگے تھے۔ گیند باؤنڈری کے پاس گرنے سے پہلے ہی ایک کھلاڑی گیند پر جهپٹا تھا۔ گیند آخر کار اس زمین کو چھونے سے پہلے ہی اس کے ہاتھ میں آ چکی تھی۔ وہ گیند سمیت زمین پر جا گرا پر اگلے ہی لمحے وہ اٹھ کر خوشی سے اپنے ساتھیوں کی طرف بھاگا تھا۔ ہر طرف جیت کا شور تھا۔سب کھلاڑی ایک دوسرے پر گرتے ایک دوسرے کو گلے لگاتے خوشی کی انتہا پر تھے۔ غیر یقینی جیت سے پھولے نہ سما رہے تھے۔
ٹرافی لیتے وقت ان کے چہروں کی چمک اور ہونٹوں کی مسکان قبل دید تھی۔ وہاں سے فارغ ہوتے وہ سب بس میں سوار ہوئے اور بس ہوٹل کی جانب چل دی۔ ان سب کو اس وقت صرف آرام کی طلب تھی ۔
وہ سب بس میں سوار ہو چکے تھے اور بس منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
ارسم آفریدی ہونٹوں پر پر سکون مسکراہٹ سجاۓ آنکھیں موندے اپنے جگری یار وامق کے کندھے پر سر رکھے لیتا تھا۔ شہد رنگ آنکھیں اس وقت پلکوں کے پردے تلے چھپی ہوئی تھیں۔ کھڑی ہوئی مغرور ناک اس وقت سردی کے باعث تھوڑی سرخ ہو رہی تھی۔ عنابی ہونٹوں پر دھیمی مسکان سجی تھی۔ کشاده پیشانی پر کالے سلکی بال بکھرے پڑے تھے۔ چہرے پر سجی ہلکے داڑھی اور مونچھیں اس کی وجاهت میں مزید اضافہ کرتی تھیں۔
اس نے جب کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تب وہ معصوم سا شرمیلا سا لڑکا تھا۔ پر گزرے چار سالوں میں اس میں بہت تبدیلی آئی تھی۔ اب وہ ایک خوبرو نوجوان میں بدل چکا تھا جس پر آدھے سے زیادہ پاکستان کی لڑکیوں کو کرش تھا۔ دوسرے ملک کے مداح بڑی تعداد میں اس کی خاطر میچ دیکھنے آتے تھے۔اس نے اس مقام تک آنے کے لئے دن رات محنت کر کے اپنا ایک نام بنایا تھا اور آج واقعی دنیا اسے جانتی تھی۔
“ہاں تو بھائی انٹر نیشنل کرش! کس حسین دوشیزہ کے خیالات میں گم مسکرا رہے ہو؟”
ولی اس کی طرف دیکھتا شرارت سے پوچھ رہا تھا۔
“میرے خیالوں پے چھائی ہے
اک صورت متوالی سی
نازک سی , شرمیلی سی
معصوم سی ،بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دور کہیں
اتا پتہ معلوم نہیں
کوکو کورینہ
کوکو کورینہ
اس کے گانے کے ساتھ ہی باقی سب بھی زور و شور سے اس کا ساتھ دینے لگے۔ گانا ختم ہوتے ہی سب ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اونچی آواز میں ہنسنے لگے۔
“لگتا ہے موصوف کے دل پر کوئی پری وش ٹھا کر کے لگ چکی ہے اور یہ اس کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکے ہیں جبھی تو الفاظ خود بخود ہونٹوں سے پھسلتے ہی چلے جا رہے تھے۔”
وصی کی بات پر وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“کمینو خود بھی تو میرے ساتھ مل کر سب گا رہے تھے۔ اب سارا نزلہ مجھ معصوم پر پهينك دو۔ ویسے بھی ابھی تک اس دل کو ایسی کوئی لگی ہی نہیں ۔ پر جس دن میرے خوابوں کی ملکہ حقیقت کی دنیا میں کہیں تكرا گئی نا بس اسی دن تمہارے بھائی نے اسے اپنے قلب کے زور آور شکنجے میں ہمیشہ کے لئے قید کر لینا ہے اور تا عمر اس کے گرد اپنی باہوں کا تلسمی حصار بناے رکھنا ہے۔”
وه خواب کی سی کیفیت میں بول رہا تھا۔
“آہاں ہمارا منڈا تو بڑی گہری باتیں کرنے لگا۔ سچ سچ بتا دے ارسم اب تو مجھے تجھ پر پکا شک ہہو رہا ہے۔”
ولی مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگا تو اس کی شکل دیکھتے اس کی ہنسی چھوٹ گئی پر اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا اس کے موبائل پر انے والی باسم کی کال نے اس کی توجہ اپنی طرف مبزول کر لی۔ وہ پر سکون سا مسکراتا کال سننے لگا۔
°°°°°°°°
وہ گاڑی سے نکلتا دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالتا مخصوص گلی میں داخل ہوا۔ گلی میں موجود ایک کریانے کی دکان کی باہر اسے آج پھر سے وہی ہٹا کٹا آدمی کھڑا نظر آیا۔ کالی شلوار قمیض پہنے بازو کہنیوں تک موڑ رکھے تھے۔ گلے میں کالی ہی چادر تھی جو میلی ہو رہی تھی۔ ہلکی داڑھی اور بڑی بڑی مونچھیں، لمبے بال جو پیچھے سے پونی میں مقيد تھے۔ بھاری ہاتھوں میں مختلف رنگ برنگی انگوٹھياں اور كلائی میں کافی سارے بینڈز اور ایک کالا موٹا دھاگہ باندھ رکھا تھا۔ جب کہ پیروں میں کالی ہی چپل پہن رکھی تھی۔
حاشر اس کے پاس سے گزرنے کی بجاۓ وہاں کھڑا اس کے حلیے کا جائزہ لے رہا تھا جب وہ آدمی ایک دم اس کے بلکل سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
“لے اب دیکھ لے سکون سے۔ اتنی دیر سے دیدے پھاڑ کر دیکھ رہا ہے پھر بھی تیری تسلی نہیں ہو رہی نا۔ لے تیرے سامنے کھڑا ہوں اب دیکھ لے میرے کو اور حفظ کر لے کیوں کہ تیرے کو تو انعام ملنے والا ہے نہ میرے کو تاڑنے کا۔”
حاشر جو کھڑا اس آدمی کو دیکھ رہا تھا ایک دم اس کے پاس آنے اور اس کی زبان سن کر سٹپٹا گیا۔
“کیسی باتیں کر رہے ہو؟ میں نے اکثر تمہیں یہاں اسی جگہ فارغ کھڑے دیکھا ہے بس یہی دیکھ رہا تھا کوئی کام نہیں کرتے کیا؟”
وہ جو ذہنی پریشانی میں تھا، ایک راہ چلتے انسان کے ساتھ ہی باتوں میں لگ چکا تھا۔ سوچیں کچھ دیر ہی سہی پر پیچھا تو چھوڑ دیتیں۔
“کیوں میرے اس جگہ پر کھڑے ہونے سے تیرے کو بل آ رہا ہے کیا؟ اور راجا کسی کے باپ کا نہیں کھاتا اپنا کما کر کھاتا ہے اور تو دو منٹ میں یہاں سے کھسک لے اس سے پہلے کہ راجا کا دماغ گرم ہو جاۓ۔ چھو منتر ہو جا یہاں سے۔آیا بڑا هنه!”
وه اسے دیکھ کر غصے سے کہتا ہنکار بھر گیا جب کہ حاشر اس راجا نامی عجیب و غریب بلا کو دیکھ کر رہ گیا۔
پہلے تو جواب دینے کا خیال اس کے دماغ میں آیا پھر یہ سوچ کے چپ ہو گیا کہ کھسکے ہونے دماغ کا عجیب سا بندا ہے اوپر سے اس کا حلیہ بھی عجیب ڈراؤنا سا تھا کہیں ایک آدھ جڑ ہی نہ دے غصے میں ۔
وہ راجا پر ایک آخری نظر ڈالتا اپنے مطلوب گھر میں داخل ہو گیا۔
°°°°°°°°°°
