Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
اس نے جیسے ہی گاڑی کو بریک لگائی، اس کی گاڑی کے پیچھے تین چار گاڑیوں کے ٹائرز چڑچڑانے کی آواز صاف سنائی دی۔ وه ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ایک جست میں گاڑی سے اترا اور سامنے کھڑی عمارت کے کھلے ہوئے گیٹ سے اندر داخل ہو گیا۔ پیچھے موجود گاڑیوں سے نکلے افراد تیز تیز قدموں سے اس کی پیروی کرنے لگے۔
وه مضبوط اور پھرتیلے قدم اٹھاتا اس کھلے میدان کی طرف بڑھ گیا جہاں بہت سے لوگ پہلے سے موجود تھے۔ وه تیز تیز قدم اٹھاتا سامنے رکھے ڈائس کی طرف بڑھ گیا۔
سامنے موجود افراد اسے اپنے سامنے دیکھتے ہی تیزی سے سلیوٹ کر گئے۔ وہ سر سے اشارہ کرتا اپنی جیب سے کچھ نکالنے لگا۔اپنی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکرا نکال کر سامنے موجود ڈائس پر رکھنے کے بعد اس نے ایک جانچتی ہوئی نظر سامنے کھڑے افراد پر ڈالی۔
ایک سائیڈ پر انسپکٹر حسن اپنی ٹیم کے ساتھ کھڑا تھا جس کی تمام افراد اپنی مخصوص پولیس کی وردیوں میں موجود تھے اور دوسری جانب تیس افراد اور کھڑے تھے جو انٹیلیجنس کے بندے تھے اور اس وقت سول کپڑوں میں تھے۔
اس نے ایک تفصیلی نظر دوبارہ اس کاغذ کے ٹکرے پر ڈالی پھر اسے اپنے ہاتھ میں لئے چل کر تھوڑا آگے آیا۔
“ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ہمیں جو بھی کرنا ہے ابھی ہی کرنا ہے اور بہت ہوشیاری سے کرنا ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں ہم اس گینگ کے پانچوں خفیہ اڈوں کا پتا لگا چکے ہیں۔ ہمیں اب ان کے ہر اڈے پر ایک ساتھ حملہ کرنا ہیں۔ اگر ہم ان کے کسی ایک اڈے پر حملہ کریں کے پھر دوسرے اڈے کی طرف بڑھیں گے تو وه پہلے حملے سے محتاط ہو کر باقی جگہوں سے رو پوش ہو جائیں گے۔ دشمن کو کبھی کمزور سمجھ کر موقع نہیں دینا چاہئے۔ جب تک آپ اپنے دشمن پر پنجے نہ گاڑھ لیں آپ کبھی اس کی طاقت کے بارے میں راۓ قائم نہیں کر سکتے۔ دشمن کبھی کمزور نہیں ہوتا بلکہ ہمیں خود کو اس سے زیادہ مضبوط بنانا پڑتا ہے۔ ہم ان کے تمام اڈوں پر ایک ساتھ حملہ کریں گی ایسے میں ان کو فرار کا موقع نہیں ملے گا اور وه بوکھلا جائیں گے۔ یہی ان کا ویک پوانٹ ہو گا جس سے ہمیں بھر پور فائدہ اٹھانا ہے۔ آپ سب میری بات سمجھ رہے ہیں۔”
وه بھاری مضبوط آواز میں کہتا ان سب سے سوال کر گیا۔
“یس سر”
وه سب یک زبان ہو کر بولے تو مرتسم نے اپنی بات جاری رکھی۔
“حسن تم اپنی ٹیم کو دو گروپس میں تقسیم کرو اور علی حیدر تم اپنی ٹیم کو تین گروپس میں۔ تم پانچوں گروپس ایک ہی وقت میں ان کے پانچوں اڈوں پر حملہ کرو گے۔ وسیم,عباس ،حیدر، ولی اور توقیر میرے ساتھ جائیں گے۔ یاد رہے ہم سب کو ایک مخصوص وقت میں ایک ساتھ ہر دشمن پر حملہ آور ہونا ہے۔ از دیٹ کلئیر؟؟؟”
اس کی پر وقار اور گھمبیر آواز خاموشی میں ایک الگ ہی جادو برپا کر رہی تھی۔
“یس سر!!!”
ان کی یقین دہانی پر وه سر ہلاتا “تھمز اپ” کا اشارہ کرتا اپنے مخصوص آدمیوں کے ساتھ وہاں سے نکلا تو باقی سب بھی اپنے اپنے گروپ کے ساتھ اپنے مطلوبہ ٹارگٹ کی طرف بڑھ گئے۔
@@@@@
اسے دھمکی دیتا وہ اس کی کرسی کے پیچھے کھڑا ہوتا اس کو گود میں پیپرز پهينك گیا تو نوریہ لرزتے ہاتھوں سے پین پکڑ گئی۔ آنسو تواتر سے بہتے جا رہے تھے۔ وه اس وقت خود کو دنیا کی بے بس ترین لڑکی تصور کر رہی تھی۔
یہ جائیداد اس کے لئے اپنے بچے سے پیاری نہیں تھی۔ لرزتے کانپتے ہاتھوں سے جیسے ہی اس نے سائن کیے حاشر اس کے ہاتھ سے پیپرز جھپٹ کر چار قدم پیچھے ہوتا کرسی کو ایک زور دار ٹھوکر سے گرا گیا۔
سنسان اور ویران کمرہ نوریہ کی دل دہلاتی چیخ سے گونج اٹھا تو حاشر کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ ڈیرہ جما گئی۔
نوریہ جو کرسی نیچے گرنے کی وجہ سے خود بھی منہ کے بل گرنے والی تھی وه بروقت تیزی سے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر جماتی خود کو زمین پر گرنے سے روک گئی۔
جھٹکا لگنے کی وجہ سے کمر میں تکلیف اٹھ گئی۔
“آہ!!! راجہ !!!!
وه اس مشکل وقت میں راجہ کو پکارتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اسے احتیاط سے زمین پر بیٹھ کر روتے دیکھ کر حاشر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا اور پیروں کے بل اس کے قریب بیٹھ گیا۔
اسے یوں اپنے نزدیک آتے دیکھ کر نوریہ اپنے گرد لپٹی چادر میں مزید خود کو چھپاتی خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو وحشی بنا اسے مارنے کے در پر تھا۔
“دد۔۔۔دیکھو ۔۔۔میں نے اپنی ۔۔۔ساری جائیداد تمہارے نا۔۔۔نام کر دی ہے۔پپ۔۔۔پلیز مجھے یہاں سے جانے دو اب۔!!!”
وه لرزتی کانپتی اس کے آگے ہاتھ جوڑ گئی۔ اس وقت اسے اپنے بچے کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں تھی۔ اس سے پہلے کہ حاشر اس کا کوئی ناقابل تلافی نقصان کر دیتا وه کسی بھی طریقے یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی۔
“ابھی تو بس جائیداد حاصل کی ہے۔ اپنے ساتھ کیے گئے دھوکے کا بدلہ تو ابھی باقی ہے۔ راجہ کے کیے گئے ظلم کا بدلہ تو ابھی کافی ہے۔ اچھا نہیں کیا اس نے میرے ساتھ۔”
وه راجہ کا ظلم یاد کرتا ایک دم سیخ پا ہوتا نوریہ کو بالوں سے پکڑ گیا۔
“آہ!!! چھوڑو مجھے ذلیل انسان۔”
وه روتی ہوئی اس کی ظالم گرفت سے اپنے بال چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔
“گالی دیتی ہے ہاں!!!!! مجھے!!! حاشر کو گالی دیتی ہے دیکھ اب میں تیرے ساتھ کرتا کیا۔”
وه چیختا ہوا نوریہ کی منہ پر زور دار تھپڑ رسید کر گیا۔ تھپڑ کی شدت اتنی تھی کہ نوریہ منہ کے بل زمین پر گری۔ سر ایک جھٹکے سے زمین پر لگا اور وہاں سے نکلتا خون زمین کو رنگنے لگا۔
“مم۔۔۔۔میں نے تمہیں معاف کیا حاشر!!!! میں نے تمہیں اپنے ساتھ کیے گئے ہر ظلم کے لئے معاف کیا کیوں کہ ۔۔کیوں کہ میں نہیں چاہتی کہ ہمیں روز قیامت بھی معافی تلافی کے لئے ایک دوسرے کے روبرو ہونا پڑے۔”
اس کے لہجے اور الفاظ میں چھپے کرب نے پل بھر کے لئے حاشر کا دل لرزا دیا پر وه سر جھٹک کر خود کو لاپرواہ کر گیا۔
وه نازک سی لاڈوں پلی لڑکی اتنی تکلیف نہ برداشت کرتے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی چلی گئی۔
حاشر سرخ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وه مزید کوئی ظلم کرتا کمرے کا دروازہ ایک دم کھٹاک کی آواز سے ٹوٹا اور پانچ چھے افراد سیلاب کی طرح تیزی سے کمرےمیں داخل ہوئے۔
اس سے پہلے کہ وه اس اچانک ہوتے حملے سے سنبھلتا، مرتسم آندھی طوفان کی طرح تیزی سے آگے بڑھتا اس پر جھپٹ پڑا اور اس پر گھونسوں اور لاتوں کی برسات کر دی۔ اسے سنبھلنے کا موقع دیے بغیر مرتسم اسے مارتا جا رہا تھا۔
اس کی نظریں حاشر سے ہٹتی زمین پر خون میں لت پت نوریہ پر گئیں تو اسے لگا وه اگلا سانس نہیں لے سکے گا۔
حاشر کو پاس کھڑے اپنے ایک آدمی کی طرف پهينكتے ہوئے وه نوریہ کی طرف لپكا۔
“نور میری جان اٹھو۔ ويك اپ یار!!!”
وه نوریہ کا سر اپنی گود میں رکھتا اس کے گال تهپتهپانے لگا۔نظر ایک دم اس اس کے جسم پر لگے خون پر گئی تو وه پاس پڑی اس کی چادر پکڑ کر تیزی سے نوریہ کے وجود کے گرد لپیٹنے لگا۔
“عبّاس گاڑی سٹارٹ کرو جلدی!!!”
عبّاس کو چیخ کر حکم دیتا وہ نوریہ کو گود میں اٹھاۓ باہر کی طرف بھاگا۔ اس کے گاڑی تک پہنچنے سے پہلے ہی عبّاس گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔ جیسے ہی مرتسم نوریہ کو لئے گاڑی میں بیٹھا آگے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے عبّاس نے تیزی سے گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی۔
“نوریہ میری جان ہمت کرو پلیز آنکھیں کھولو !!!!”
وه بے بسی سے اسے خود میں بھینچ گیا جو آنکھیں موندے پڑی اس کا ضبط آزما رہی تھی۔
گاڑی جسے ہی ہسپتال کے باہر رکی عبّاس نے تیزی سے باہر نکل کر دروازہ کھولا تو مرتسم نوریہ کو باہوں میں لئے اندر کی طرف دوڑا۔
نوریہ کو اسی وقت ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کر لیا گیا تھا۔
وه بے چینی سے کمرے کے باہر چکر لگاتا پریشان حال کھڑا تھا۔ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر وه بجلی کی سی تیزی سے کمرے سے باہر نکلتی ڈاکٹر کی طرف لپكا۔
“ڈاکٹر میری مسز کیسی ہیں اور میرا بےبی؟؟؟”۔
بی چینی اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔
“دیکھئے سر میں آپ کو کوئی جھوٹی تسلی نہیں دوں گی پر مسز مرتسم کی حالت کافی نازک ہے۔ ایسے میں ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کہ بےبی کو بچا سکیں گے یا نہیں۔ آپ کی مسز کا بی پی کنٹرول نہیں ہو رہا۔ ابھی کچھ ٹیسٹس اور الٹراساؤنڈ کریں گے ہم اور کوشش کریں گے ان کی حالت کچھ نارمل ہو سکے پر آپ کو اپنا دل مضبوط رکھنا پڑے گا۔”
وه ڈاکٹر مرتسم کو اچھے سے جانتی تھی۔ وه تو اسے بتا کر چلی گئی پر مرتسم کا دل ڈوب گیا۔ وه دهپ سے پاس رکھے بینچ پر بیٹھتا سر دونوں ہاتھوں میں تھام گیا۔
“یا اللّه میں تیرا بڑا گناہگار ہوں پر مجھے اتنی بڑی آزمائش میں مت ڈال میرے مولا میری مشکل آسان فرما دے۔”
وه یوں ہی سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا اور عبّاس ہاتھ باندھے اس کے پاس ہی کھڑا تھا جب ایک دم افراتفری میں ڈاکٹرز کا آنا جانا بڑھ گیا۔ وه بے چین ہوتا ایک دم کھڑا ہو گیا۔
وه ضبط کی حدوں کو چھوتا جانے کس طرح برداشت کیے کھڑا تھا جب ڈاکٹر ہما کمرے سے باہر آئیں۔ ان کے چہرے پر چھائے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر مرتسم کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑک اٹھا۔
“ڈاکٹر ہما از ایوری تھنگ اوکے؟؟؟”
وه بے تحاشہ دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھنے لگا تو ڈاکٹر ہما اس کی بے چینی دیکھ کر اداسی سے سر نفی میں ہلا گئی۔
“آئی ایم سوری سر!!! آئی ایم رئیلی سوری!!!”
اس کی بات سن کر مرتسم کو لگا ساتوں آسمان ایک ساتھ اس کے سر پر ٹوت پڑے ہیں۔ وه ایک دم دھڑام سے اپنے پورے قد سمیت ہسپتال کے یخ ٹھنڈے فرش پر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ اسے لگا اس کے پیروں تلے سے زمین كهينچ لی گئی ہے۔
ڈاکٹر اب شاید تسلی بھرے جملے بول رہی تھی پر وه اپنے ہوش میں ہی کہاں تھا۔ ایسا انسان ہوش میں ہو بھی کس طرح سکتا تھا جس سے ایک جھٹکے میں اس کی پوری دنیا چھین لی جاۓ۔
محبت سے زیادہ محبت کا انجام ظالم ہوا کرتا ہے یہ بات اسے آج پتا چلی تھی۔
@@@@@
وه دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے شاپنگ کرنے میں مگن تھے۔ ارمش کا موڈ آج کافی اچھا تھا اور ارسم کو بھی دو دن بعد واپس جانا تھا پریکٹس کے لئے اس لئے وه دونوں یہ دو دن ایک دوسرے کی سنگت میں بھر پور انداز میں بتانا چاہتے تھے۔سب سے پہلے وه اسے شاپنگ کروانے مال لے آیا۔ شاپنگ کے بعد ان کا ارادہ باہر ہی لنچ کا تھا۔
ارسم ارمش کو ساتھ لئے ایک لیڈیز شاپ کے سامنے رکا تو شاپ کے اندر نظر ڈال تے ارمش کا چہرہ لال سرخ پڑ گیا۔ ارسم کو معنی خیزی سے پہلے شاپ اور پھر خود کو دیکھتے ارمش نے تیزی سے اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھ دیا۔ اس کی معصوم حرکت پر ارسم قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“چھی!!!! شرم کریں ہسبنڈ!!!”
شرم اور خفت کے مارے اس کے چہرے سے دھواں اٹھنے لگا۔
“جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم!!! اپنا تو یہی اصول ہے بھئی۔اور اپنی خاص الخاص اور پرسنل بیوی یا اس کی چیزوں سے کیا شرم۔”
ارمش اس کی آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی جو چہرے پر شرارتی مسکان سجائے شریر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“توبہ استغفار!!!!”
وه خفت سے زیر لب بولتی آنکھیں چراتی یہاں وہاں دیکھنے لگی تو اس کی معصومیت پر وه پھر سے قہقہہ لگاتا مسرور ہو اٹھا۔
“آپ۔۔۔آپ یہیں رکیں ہم ابھی آتے ہیں۔”
وه التجائیہ نظروں سے اسے دیکھتی بولی کہ کہیں اس کے ساتھ جانے پر ہی بضد نہ ہو جاۓ۔
“اوکے اپ جائیں ایزی ہو کر شاپنگ کریں میں یہاں ساتھ والی شاپ میں جا رہا ہوں آپ کے فری ہونے تک آ جاؤں گا۔”
ارسم کے جواب پر ارمش نے سکون بھرا سانس لیا۔
“اوکے”
وه سر ہلاتی شاپ کے اندر گئی تو ارسم بھی دوسری شاپ میں چلا گیا۔
دس منٹ کے بعد جب ارمش اپنی مطلوبہ چیزیں خریدنے کے بعد باہر آئی تو ارسم وہاں موجود نہ تھا۔ وه وہیں کھڑی اس کا انتظار کرنے لگی۔
اپنے قریب کسی ک موجودگی محسوس کرتے ارمش نے جیسے ہی گردن موڑ کر دیکھا تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر اس کا رنگ سپید پڑ گیا۔ ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز زمین بوس ہو گئے۔ خوف و حراس سے ارمش کا پورا وجود لرزنے لگا۔
“سویٹ ہارٹ گزشتہ چند مہینوں نے تو تم پر بہت خوشگوار اثرات چھوڑے ہیں۔ مجھے کہنا پڑے گا کہ تم مزید حسین ہو گئی ہو۔ غلطی کر دی جو تمہیں ہاتھ سے جانے دیا ورنہ تم ایسی چیز تو ہرگز نہیں جس سے پیچھا چھڑوایا جا سکے۔”
اس کے چہرے سے ٹپکتی خباثت اور لہجے سے جھلکتی حوس نے ارمش کے وجود کو انگاروں پر گھسیٹ لیا تھا۔ وه سن پڑتے وجود کے ساتھ ایک دم زمین بوس ہوئی تو سامنے کھڑا وجود پراسرا سا مسکراتا اس کی طرف ہاتھ بڑھا گیا۔
@@@@@
ارسم شاپ سے باہر نکلا اور ارمش کو دیکھنے لگا پر اسے وه کہیں نظر نہ آئی۔ اس کی نظر شاپ کے باہر زمیں پر گرے شاپنگ بیگز اور ایک کالے رنگ کے ہینڈ بیگ پر پڑی تو وه ٹھٹھک گیا۔
تیزی سے ان چیزوں کی طرف لپكتے اس نے سب چیزیں چیک کی تو اس کا شک یقین میں بدل گیا۔ یہ تمام چیزیں ارمش کی تھیں۔ پر ارمش کہاں تھی خود؟؟؟
ارسم کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
موبائل جیب سے نکالتے اس نے ارمش کا نمبر ڈائل کیا تو اس کے ہاتھ میں موجود بیگ میں اس کا فون بجنے لگا۔
“شٹ شٹ شٹ!!!!! میں اتنا لاپرواہ کس طرح ہو گیا!!!!”
ٹینشن کی وجہ سے اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔ وه ہمت کرتا پورے مال میں اسے دیکھنے لگا پر وه وہاں ہوتی تو ملتی۔
ارسم سیدھا مال کی انتظامیہ کے پاس پہنچا اور ان سے “سی سی ٹی وی” فوٹیج دکھانے کی گزارش کرنے لگا۔ مانا وه ایک جانا مانا کھلاڑی تھا پر وه اس طرح کسی کے لئے رولز نہیں توڑ سکتے تھے اس لئے ارسم سے معذرت کر گئے۔
وه غصّے سے پاگل ہونے کے در پر تھا۔ پورے دو گھنٹے گزر چکے تھے پر ارمش کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔
پریشانی اور بے بسی سے اپنے بال نوچتے ایک دم اس کے دماغ میں ایک خیال آیا جسے عملی جامہ پہنانے لئے اس نے تیزی سے جیب سے موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔
“آئی نیڈ یو یار۔۔۔رائیٹ ناؤ۔”
( مجھے ابھی اسی وقت تمہاری ضرورت ہے یار!!!!)
اس کے جملے کے جواب میں نہ جانے کیا کہا گیا تھا جس کے جواب میں وه ساری بات اس کے گوش گوار کرنے لگا۔
ٹھیک دس منٹ کے بعد وه مال کے کنٹرول روم میں کھڑا سرخ آنکھوں سے سامنے لگی ایل-سی- ڈی پر سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ رہا تھا۔
@@@@@
دریہ کافی دیر سے زین کا نمبر ملا رہی تھی پر وه کال اٹھا ہی نہ رہا تھا۔ آخری دفعہ کال کرتی وه جهنجھلا کر کال کاٹنے ہی والی تھی جب وه کال اٹھا گیا۔
“السلام علیکم!کیسی ہیں؟”
اس کی نرمی بھری آواز پر وه ایک پر سکون سانس خارج کر گئی۔
“وعلیکم السلام!!! کہاں ہیں آپ کب سے کال کر رہی تھی؟؟”۔
وه دھیمے لہجے میں سوال کرتی آنکھیں موندے خود میں سکون اترتا محسوس کر رہی تھی۔
“میں ایک بہت ضروری کام سے مال آیا ہوا ہوں اور ہاں مجھے بہت ضروری کام سے تین دن کے لئے شہر سے باہر جانا پڑ رہا ہے۔ آپ پریشان مت ہوئیے گا وقت نکال کر آپ سے رابطہ کرتا رہوں گا۔ چلیں ابھی مجھے جلدی ہے باقی بات بعد میں ہوتی ہے۔ اپنا خیال رکھئے گا۔ اللّه حافظ!!!”۔
ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کرتا وه کال کاٹ گیا تو دریہ کے دل کو مایوسی نے گھیر لیا۔ اس نے باہر جانے کا پلان بنایا تھا۔
“چلو کوئی نہیں جب زین آئیں گے تب سہی!!!”
وه خود سے کہتی کافی بنانے کی غرض سے کچن کی طرف بڑھ گئی۔
@@@@@
راجہ نے کھو دیا اپنی رانی کو !!!! نوریہ کے بغیر کیا زندگی گزار پائے گا مرتسم؟؟؟ ارمش کا مجرم کون؟؟؟ کیا ارسم بچا پائے گا ارمش کو یا اس دفعہ پھر وه اپنی نسوانیت کھو بیٹھے گی؟؟؟جھٹکے پر جھٹکا 👀😱 مزید کہانی کے لئے ہم سے جڑے رہئے اور اپنی رائے کا اظہار کرنا مت بھولیں!!!!
