Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
second_last_episode
“ڈاکٹر!!! کیا ہوا دریہ کو وہ کیسی ہیں اب؟”
اس کے بے چین انداز پر ڈاکٹر نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔
“شی ہیز بلڈ کینسر!!!!”
ڈاکٹر کے الفاظ پہاڑ بن کر سامنے کھڑے اس لڑکے کے سر پر ٹوٹے تھے جو عشق کی تمام منازل طے کر چکا تھا۔
“نو!!!!!یہ جھوٹ ہے!!!!”
اس کے منہ سے سرگوشی نما چند الفاظ ہی نکل سکے تھے۔
دھڑام کی آواز کے ساتھ کچھ گرنے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو دریہ کی ماں بیہوش ہو کر زمین بوس ہو چکی تھیں۔دریہ کے پاپا تیزی سے ان کی پاس بیٹھ کر ان کا چہرہ تهپتهپانے لگے تو وہ بھی اپنی تکلیف پس پشت ڈالتا نرس کو آواز دیتا ان کی طرف بڑھا۔
ہوش میں آنے کے بعد سے ہی دریہ کی ماما بس روۓ چلی جا رہی تھی۔ اس کی پاپا کی آنکھوں میں بھی آنسو ٹھہر گئے تھے۔
وہ شکستہ قدموں سے آگے بڑھتا دریہ کی ماما کے قدموں میں جا بیٹھا۔
“آنٹی!!!!*
اس کی پکار پر دریہ کی مام نے بھیگی آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
“تمہارا کیا رشتہ ہے دریہ کے ساتھ جو ایسی نازک حالت میں بھی اس کے لبوں پر تمہارا نام تھا۔”
ان کی بات پر زین ٹھٹھک کر انہیں دیکھنے لگا۔
“میرا!!!”
وه بے یقین ہی تو تھا ان کی بات پر۔
“ہاں تمہارا۔ زین ہو نا تم!!! وه۔۔۔وه تمہیں پکار رہی تھی اس نے کہا کہ میں تمہیں بلاؤں اور ہوش کھونے سے پہلے یہ آخری جملہ ہی ادا کر سکی وه جو خالص تمہارے لئے تھا!!!”
وه زین کو مزید حیران کر رہی تھیں۔اس نے ایک گہری سانس بھری اور ان کے دونوں ہاتھ تھامے۔
“دیکھیں انٹی میں ہمیشہ سہی موقع کا انتظار کرتا رہا پر مجھے نہیں لگتا مزید تاخیر اچھی ہو گی۔میں بہت محبت کرتا ہوں آپ کی بیٹی سے۔باخدا ان کے لئے میرے جذبات بلکل کھرے ہیں۔میرے جذبات میں کوئی کھوٹ نہیں۔ دریہ تو میرے جذبات سے بھی انجان ہیں۔ وہ مجھے صرف اچھا دوست سمجھتی ہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ میں نے ہمیشہ ان کو عزت کی نظر سے دیکھا اور اپنے جذبات سے بھی انجان رکھا کیوں کہ میں انھیں اپنی محرم بنا کر اپنے جذبات ان کے سامنے آشکار کرنا چاہتا تھا پر اچانک یہ سب۔۔۔۔”
اس کے حلق میں آنسوؤں کا گولہ اٹکا تو وه لب بھینچ کر خود پر قابو پانے لگا۔ضبط کے مارے آنکھیں لال انگارہ ہو گئیں۔ اس سے پہلے کہ وه مزید اپنے ضبط کا امتحان لیتا ڈاکٹر نے وہاں آتے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔
“پیشنٹ کو ہوش آ چکا ہے آپ ان سے مل سکتے ہیں پر خیال رہے کہ وه زیادہ نہ بولیں۔”
ڈاکٹر کہتا وہاں سے چل دیا تو دریہ کے ماں باپ تیزی سے اس کے کمرے کی طرف بڑھے۔ان کے جانے کے بعد زین قریب پڑے بینچ پر ڈھے گیا۔
“یا اللّه!!!!!”
وه سر دونوں ہاتھوں میں گرا کر دل سوز آواز میں اپنے مالک کو پکار گیا۔
اسے یوں ہی بیٹھے کافی وقت گزر گیا۔ وہ اپنی سوچوں میں گم تھا جب کندھے پر پڑتے ایک ہاتھ نے اسے سوچوں کی دنیا سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں پٹخا۔
وه چونک کر سر اٹھا گیا تو سامنے ہی دریہ کی والدہ کھڑی تھیں۔
“جاؤ بیٹا جا کر اس سے مل لو!!!!”
ان کی بات پر وه سر ہلاتا ہوا اٹھا اور لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ دشمن جاں موجود تھی۔
وہ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے گلاس ڈور دھکیل کر جیسے ہی اندر داخل ہوا تو نظر سیدھا بیڈ پر پڑے اس وجود پر پڑی جس نے پہلی نظر میں ہی اس کے دل کو دھڑکا دیا تھا۔ اس کے دل کی بنجر زمین پر قدم جمائے تھے۔
وه اسے دیکھتا دھیرے دھیرے قدم اس کی طرف بڑھانے لگا۔
وه ہسپتال کے بستر پر بے حال پڑی تھی۔ ہر وقت گلابی رہنے والی رنگت میں زردیاں گھلی ہوئی تھیں۔ نازک لب پیٹری زدہ ہو رہے تھے۔ہاتھوں کی نیلی نسیں واضح دکھ رہی تھیں ۔ ہر وقت اونچی پونی میں قید رہنے والی گھنی زلفیں سرہانے پر بکھری پڑی تھیں۔ پورا وجود نالیوں میں جکڑا ہوا تھا۔
اس کی حالت دیکھ کر زین کا دل سو ٹکروں میں بٹا تھا۔ اسے لگا اس کا دم گھٹ جاۓ گا اسے اس حالت میں دیکھ کر۔
“نہیں میں انہیں اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔ میں اتنا بہادر نہیں۔”
خود سے کہتا وه جیسے ہی واپسی لے لئے قدم اٹھانے لگا اس کی موجودگی محسوس کرتی دریہ دھیرے سے آنکھیں کھول گئی۔
“زین!!!!”
اس کی نحیف سی پکار پر وه ہر سوچ جھٹکتا تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
“ہاں میں یہاں ہی ہوں!!!!”
وه اس کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا پر اس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔
“زین!!!”
“ہممم!!!”
اس کی پکار پر وه ہنکار بھر گیا البتہ نظریں اب بھی جھکی تھیں۔
“نظر اٹھا کر۔۔۔مجھ سے۔۔۔بات کریں!!!”
وه اٹک اٹک کر بولتی اسے نئی تکلیف میں مبتلا کر گئی تھی۔
“پلیز!!!!”
اس کے کہنے پر وه لب بھینچ کر اپنی تکلیف پر قابو پاتا نظریں اٹھا کر اپنی نم آنکھیں دریہ کی بوجھل آنکھوں پر جما گیا۔
اس کی نم آلود سرخی مائل آنکھیں دیکھ کر دریہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے کہاں دیکھا تھا زین گردیزی کو ایسی شکستہ حالت میں۔
“زین!!!! میں ٹھیک ہوں!!!”
اس کی بات کے جواب میں زین نے جن نظروں سے اسے سے تا پیر دیکھا وه شرمندہ ہو کر نظریں جھکا گئی۔ وه اسے دیکھتا رہا پھر ایک دم اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔اسے باہر جاتے دیکھ کر وه آنکھیں موند گئی۔ دو آنسو خاموشی سے بند آنکھوں کی پلکوں کی باڑ پهلانگ کر كنپٹی پر بہہ گئے۔
دو منٹ کے بعد اسے کمرے میں پھر سے قدموں کی چاپ سنائی دی تو وه آنکھیں کھول کر دیکھنے لگا جہاں پہلے زین کمرے میں داخل ہوا اور پھر اس کے پیچھے ہی ہاتھوں میں وہیل چیئر پکڑے ایک نرس۔ وه نرس وہیل چیئر لے کر اس کے قریب آئی پھر احتیاط سے اس کے ہاتھوں پر لگی نالیاں اتارنے لگی۔
دریہ الجھ کر یہ سب دیکھ رہی تھی جب نرس پیچھے ہٹی اور زین چلتا اس کے قریب آیا۔ وه سوالیہ نظروں سے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی پر وه ایک لفظ کا جواب دیے بغیر اس پر جھکتا اسے اپنی باہوں میں اٹھا گیا۔ اس سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو دریہ کو كپكپانے پر مجبور کر گئی۔ وه ہونق بن کر اسے دیکھنے لگی جو اب اسے احتیاط سے وہیل چیئر پر بیٹھا رہا تھا۔
اسے وہیل چیئر پر بیٹھانے کے بعد زین اس کے پیچھے آیا اور وہیل چیئر کو کمرے سے باہر لے جانے لگا۔
“زین یہ سب۔۔۔۔”
“ہشش!!!!”
اس سے پہلے کہ وه اپنا جمله مکمل کر پاتی وه اسے خاموش کروا گیا۔
اسے لئے وه کوریڈور میں آیا جہاں دریہ کے ماں باپ بیٹھے تھے اور آتے جاتے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔
دریہ کے ماں باپ نا سمجھی سے ان دونوں کی طرف دیکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
وہیل چیئر کی کوریڈور کے وسط میں روکتا وہ گھوم کر اس کے سامنے آیا۔
“انٹی انکل مجھے آپ لوگوں کی موجودگی میں دریہ سے کچھ کہنا ہے!!!”
دریہ کے والدین کی طرف رخ کر کے ان کو کہتا وه واپس دریہ کی طرف رخ پهير گیا۔
دریہ کی آنکھیں پهيل گئیں جب زین گردیزی اس کے عین سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“دریہ جس دن پہلی دفعہ آپ کو دیکھا میں اسی دن جان گیا تھا کہ آپ میرے وجود کا وہ گمشدہ حصّہ ہیں جس کی بغیر میں ادھورا ہوں۔ کیا آپ مجھے مکمل کریں گی؟میں چاند تارے توڑ لانے کے وعدے نہیں کر سکتا پر اتنا ضرور کہوں گا کہ زندگی کے آخری سانس تک آپ کے ہمقدم رہوں گا پھر وه سانسیں چاہے آپ کی ہوں یا میری۔آپ اپنے باپ کی شہزادی ہیں پر میں آپ کو اپنے دل اور زندگی کی ملکہ بنانا چاہتا ہوں۔ کیا آپ میرے دل کی ملکہ بنیں گی؟؟ اپنے تمام حقوق مجھ ناچیز کو سونپ کر مجھے معتبر کریں گی؟ دریہ کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟”
ہسپتال کے کوریڈور میں موجود افراد آنکھوں میں اشتیاق اور استعجاب لئے ایک شہزادے کو ایک شہزادی کے قدموں میں جھکا دیکھ رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے ہاتھوں میں پکڑے موبائل میں تیزی سے وڈیو بنانی شروع کر دی تو کوئی “سے یس!!!” کے نعرے لگانے لگا لگا پر اس سب سے بے نیاز وہ حیرت سے بڑی ہوتی آنکھیں اس پر جمائے دونوں کانپتے ہاتھ ہونٹوں پر جما گئی۔ آنسو تیزی سے گالوں سے پھسلتے جا رہے تھے۔اس نے نظر گھما کر اپنے ماں باپ کی طرف دیکھا جو خوشی کے آنسو لئے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کر اسے ہاں کرنے کو بول رہے تھے۔
اس نے گردن موڑ کر اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا جو اس کے طلبگار اور سوالی بنا بیٹھا تھا۔ دریہ نے ہاتھ منہ سے ہٹائے اور پھر دھیرے سے اس کے لب ہلنے لگے۔
وہاں موجود کر انسان بے صبری سے اس کے بولنے کا منتظر تھا پر جب وہ بولی تو سب کی سانسیں اٹک گئیں۔
“آئی ایم سوری!!! آئی ایم سوری!!!”۔
وه بار بار یہی الفاظ دوہرانے کے ساتھ نفی میں سر ہلانے لگی۔
وہاں موجود ہر انسان کی آنکھوں کی جوت بجھ گئی اور وه افسوس سے اس شہزادے کو دیکھنے لگے جو اس کے انکار پر بے یقین بیٹھا اسے تكتا ہی چلا جا رہا تھا۔
“آئی ایم سوری ۔۔۔میں۔۔۔ ایسا نہیں۔۔۔ کر سکتی!!!”
وه کہتی ہچکیوں سے رونے لگی تو اس کی طبیعت بگڑنے کے خیال سے زین کا رنگ سپید پڑنے لگا پر ساتھ ہی ذہن کے پردوں پر لہراتا ایک جملا تیر بن کر اس کے سینے میں پیوست ہوا تھا۔
“عورت اپنی پہلی محبت کبھی نہیں بھولتی!!!!”
تو کیا واقعی دریہ اپنی پہلی محبت آج تک نہ بھول سکی تھی؟؟ کیا آج بھی دریہ شاہ کا دل ارسم آفریدی کے لئے دھڑکتا تھا؟؟؟
@@@@@
وه دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔ قدم من من کے ہو رہے تھے۔پلکیں لرز کر بار بار گالوں پر گر رہی تھیں۔
گہرا سانس بھر کر اس نے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی اور ڈور ناب پر ہاتھ رکھا پر اس سے پہلے کے وه دروازہ کھول کر اندر جاتی اندر سے آتی آوازوں نے اس کے قدم جما دیے۔
“تو جانتا ہے مرتسم اس وقت میں نے وہ سب مناہل کے لئے کیا تھا۔مجھے اس وقت کوئی اور راستہ نہیں نظر آیا۔اور اگر میں بھی اس کی مدد نہ کرتا تو وہ کہاں جاتی۔کون اس کا سہارا بنتا۔وه زمانے بھر میں رسوا ہو جاتی۔”
(وه روزینہ کے پاس جانے کی بات کر رہا تھا)
اس کی بات پر مومل کی آنکھیں بے یقینی سے پهيل گئیں۔
“ہاں یار جانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا کبھی كبهار بہت پچھتاتا ہوں یار پر گیا وقت کہاں واپس آتا ہے۔”
(پچھتاوا اس بات کا کہ اس نے مومل کو اعتماد میں نہ لیا اور اس کی محبت کو ٹھکرا کر چلا گیا)
مومل ایک دم لڑکھڑائی۔ سہارے کے لئے اس نے دروازے کو تھاما تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ کال پر مصروف باسم نے چونک کے اس کی طرف دیکھا۔
“بعد میں کال کرتا ہوں مرتسم اللّه حافظ!!!”
اس کی زرد پڑتی رنگت دیکھ کر وه کال بند کرتا تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔
“کیا ہوا سویٹی تم ٹھیک ہو؟؟؟”
وه اسے کندھوں سے تھام کر اپنے قریب کر گیا تو وه غصّے سے اس کے ہاتھ جھٹک گئی۔ باسم نے حیرت اور ناگواری سے اس کی یہ حرکت دیکھی۔
“یہ کیا حرکت ہے مومل؟؟؟”
وه تیوری چڑھا کر بولا تومومل نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔
“مجھے خود پر غصّہ آ رہا ہے کہ آپ جیسے انسان سے محبت کی میں نے۔ دل کر رہا ہے اپنی جان لے لوں!!!”
وه تکلیف سے چیخی تو باسم پریشانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا ہو گیا ہے مومل؟؟ ہوش میں ہو تم یہ کیا بول رہی ہو!!!”
وه پھر سے اس کے نزدیک ہوتا اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامنے لگا تو وه پھر سے اس کے ہاتھ جھٹک گئی۔ باسم نے بہت ضبط سے اس کی یہ حرکت دیکھی تھی۔
“آپ نے مجھ پر ترس کھا کر مجھ سے شادی کی!!! مناہل کی خاطر مجھے اپنایا۔ جب میری شادی والے دن میری شادی ٹوٹ گئی تو آپ نے مجھ پر ترس کھا کر مجھ سے شادی کی تا کہ میں زمانے بھر میں رسوا نہ ہو جاؤں اور آپ کے خاندان کی عزت نہ خراب ہو لوگ باتیں نہ بنائیں۔”
وه چیختی ہوئی آخر میں پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے مومل ایسا کچھ۔۔۔”
وه اپنی صفائی دینے لگا پر وه اس کی بات کاٹ گئی۔
“غلط فہمی سے تو میں اب نکلی ہوں!!! میں بھی کتنی پاگل تھی جو یہ سوچ بیٹھی کہ شاید آپ مجھ سے پیار کرتے تھے پر اس کا اظہار نہ کر سکے تو مجھے کسی اور کا نہ ہونے دیا مجھے اپنا نام دیا۔ پر میں کہاں جانتی تھی کہ آپ مجھ سے شادی کر کے پچھتا رہے ہیں آج تک۔وہ پیار محبت وه سب تو محض ایک ڈرامہ تھا!!! میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا!! میں نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا پھر میرے ساتھ ایسا کیوں؟؟؟؟”
وه زمین پر گری تڑپ تڑپ کر روتی باسم کا دل ہولا رہی تھی۔
“تم بہت غلط سمجھ رہی ہو مومل۔ میرے ساتھ آؤ میں تمہیں ساری حقیقت بتاتا ہوں۔”
وه جان گیا تھا کہ ہر حقیقت سے پردہ اٹھانے کا وقت آ گیا تھا اب۔
“آپ کا بہت شکریہ!!! جتنی حقیقت جان چکی ہوں میرے لئے اسے حظم کرنا ہی بہت مشکل ہے۔ اس سے زیادہ جاننے کی متمنی نہیں میں”
درشتی سے کہتی وہ ایک دم اٹھی اور ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی جب کہ باسم اسے آوازیں ہی دیتا رہ گیا۔
@@@@@
اسے دو دن بعد ہوش آیا تھا۔اس کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک انجان جگہ پر دیکھ کر پریشان ہو بیٹھی۔اٹھنے سے ایک دم کمر میں شدید درد اٹھا تھا۔ خود کے ساتھ ہوا حادثہ یاد آیا تو ایک دم خوف زدہ ہو گئی۔اس کا ہاتھ بے ساختہ اپنے پیٹ پر گیا تھا۔ اپنے وجود کے ساتھ جڑے وجود کو محسوس کر کے اس نے گہری سانس بھری۔ آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہنے لگے تھے۔
خود پر کسی کی گہری نظریں محسوس کر کے اس نے نظریں گھما کر دیکھا تو وه سامنے صوفے پر بیٹھا گہری نظروں سے اسے دیکھتا جا رہا تھا۔اس کا حلیہ دیکھ کر نوریہ بھونچکی رہ گئی۔کوئی اور ہوتا تو اسے نہ پہچانتا پر وه اس کی روح کی ساتھی تھی کیسے نہ پہچانتی۔
سفید شلوار قمیض پر اوف وائٹ چادر کندھوں پر پهيلائے، پیروں میں کالی پشاوری چپل پہنے وه ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا کسی ریاست کا شہزادہ ہی تو لگ رہا تھا۔ ہر وقت پونی یا جوڑے میں بندھے رہنے والے شانوں تک آتے لمبے بال اس وقت فوجی کٹ میں موجود تھے۔ گھنی داڑھی مونچهوں کی جگہ ہلکی داڑھی اور گھنی مونچھیں اسے اس راجہ سے بلکل مختلف بنا رہی تھیں جو ایک سال سے نوریہ کے ساتھ تھا۔ پر وه اپنی اس حالت میں نوریہ کو وجاہت کا شہکار معلوم ہو رہا تھا۔
“ہر روپ میں ہی یہ شخص مکمل ہے اور صرف میرا!!!!”
نوریہ کے دل نے دھیرے سے سرگوشی کی تو وه اسے ڈپٹ کر چپ کروا گئی۔
وه ایک دم اپنی جگہ سے اٹھا اور مضبوط قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھنے لگا پر وه اسے دیکھنے میں اس قدر محو تھی کہ اس کا قریب آنا محسوس ہی نہ کر سکی۔ ہوش تو تب آیا جب وه اس کے پیچھے موجود بیڈ پر اس کے دونوں طرف ہاتھ جمائے اس پر جھک گیا۔
“رر۔۔۔راجہ!!!!”
اس کے سخت تیور دیکھ کر اس کی زبان ساتھ چھوڑ گئی۔ وه مزید جھکتا اس کے کان کی لو دانتوں تلے دبا گیا تو نوریہ سسك اٹھی۔
“آہ!!! راجہ!!!”
وه سسكتی اس کی قمیض کا کالر دونوں ہاتھوں میں دبوچ گئی۔
“آپ کی ہمّت بھی کیسے ہوئی نوریہ مرتسم یزدان کہ آپ اپنی اور میرے بچے کی جان خطرے میں ڈالیں۔”
کان کی لو پر اس کے دانتوں کی گرفت اور گردن پر پڑتی اس کی گرم سانسوں کو محسوس کرتی نوریہ کا سانس اٹکنے لگا۔
“میں تو بس آپ کی خاطر۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه اپنا جملہ مکمل کرتی وه ایک دم اس کے چہرے پر جھکتا اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لے گیا۔ اس کے لمس میں شدّت محسوس کرتی نوریہ کی آنکھیں پهيل گئیں۔ جب وه کافی دیر پیچھے نہ ہٹا تو وه سانس لینے کی تگ و دو کرتی اس کے کندھے پر ہاتھ مارنے لگی تو وه پیچھے ہٹتا اس کا سرخ چہرہ دیکھنے لگا۔
“بہت غلط کیا آپ نے میری جان بہت غلط!!!!”
اس کے لہجے میں چھپے شکوے پر نوریہ تڑپ اٹھی پر وه پیچھے ہٹ گیا۔
