Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

Episode#37
“سنیں باسم!!!”
مومل باسم کے بٹنوں سے كهيلتی اسے پکار گئی.
“جی سنائیے بیگم جان!!!”
اس کے طرز مخاطب پر مومل کا چہرہ گلابی پڑ گیا۔ باسم آفریدی پر شوق نظروں سے اس کے چہرے پر پهيلے حسین رنگوں کو دیکھنے لگا۔
“آ۔۔۔آپ نے بتایا نہیں۔”
اس کی بات پر باسم ناسمجهی سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
“کیا نہیں بتایا؟”
اس کے استفہامیہ انداز پر مومل اسے دیکھ کر رہ گئی۔
“یہی کہ کھانا کیسا بنا ہے۔ میں نے پہلی دفعہ اتنے پیار سے آپ کے لئے بنایا ہے کچھ اور آپ نے بتایا ہی نہیں کیسا بنا ہے!!!”۔
اس کے انداز میں خفگی محسوس کرتے باسم نے مصنوعی سنجیدگی اختیار کی اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“نہیں بتایا تو کیا ہوا ابھی بتا دیتا ہوں۔ میں نے اس لئے نہیں بتایا تا کہ پہلے سکوں سے کھا لوں پھر تفصیل سے تعریف کروں گا۔”
اس نے مومل کے چہرے پر جھولتی لٹ انگلی میں لپيٹنی شروع کی تو اس کے غصّے پر حیا حاوی ہونے لگی۔
“جانتی ہو کھانا کیسا تھا؟”
وه اس کے کان کی لو کو اپنی انگلی کی پور سے چھونے لگا تو مومل لرز اٹھی۔
“کیسا؟؟؟”
مومل نے دھیرے سے پلکوں کی جھالڑ اٹھاتے دھیمی آواز میں پوچھا۔
“ہاٹ!!!! بلکل تمہاری طرح!!!”
وه مومل کے کان کے قریب اپنے لب لے جاتا سرگوشی میں بولا تو مومل کے گال دہک اٹھے۔
“چھی!!! بہت گندے ہیں باسم۔میں نے یہ پوچھا کہ کھانا کیسا بنا تھا”
وه بنا پر زور دیتی ہوئی بولی تو باسم نے “او” کی شیپ میں ہونٹ سکیڑے۔
“تیکھا اور نمکین!!! بلکل تمہاری طرح!!!”
اس کے بے باک جواب پر وه خفت زدہ ہوتی اس کے کندھے پر مکا جڑ گئی تو اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتا باسم قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔ اس کی دلکش قہقہے نے مومل کی سانسیں اتهل پتهل کر دیں .
“بہت بد تمیز ہیں آپ جائیں مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی!!!”
اس کی شریر نظروں سے تنگ آ کر وه بولی تو باسم لب دبا گیا۔
“ابھی کوئی بد تمیزی کی ہی کہاں ہیں۔”
خمار بھری آواز میں کہتا وه جوں ہی اسے اپنی گرفت میں جکڑنے لگا مومل مکھن کی طرح اس کے ہاتھوں سے پهیسلتی دور جا کھڑی ہوئی۔
“سستے شارخ خان بعد میں بنئے گا ابھی فلحال ماما کو کال کر کے پوچھیں کہ وه کب تک واپس آییں گے۔ آپ روم میں جائیں مناہل اکیلی ہے میں برتن سمیٹ کر آتی ہوں۔”
اپنا فرمان جاری کرتی وه کچن کی طرف بڑھ گئی تو اس کی چالاکی پر باسم نفی میں سر ہلاتا مسکراتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
@@@@@
“مجھ پر تھوکے گی؟؟؟ مجھ پر؟؟؟ عالم گردیزی پر!!!! اب دیکھ تیرا کیا حال کرتا۔ تو خود موت کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاۓ گی۔”
وه اس کے ہاتھ کھولتا ایک جھٹکے سے اسے بستر پر پهينك گیا تو ارمش پھوٹ پھوٹ کر روتی کسی کو مدد کے لئے بلانے لگی پر اس اجاڑ میں کون اس کی مدد کو آتا۔ اس کی سسكيوں کو ان دیواروں سے ٹکرا کر وہیں ختم ہو جانا تھا.
اس سے پہلے کہ وه ارمش کی طرف بڑھتا کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور آندھی طوفان بنے دو وجود کمرے میں داخل ہوئے۔ عالم گردیزی کو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع بھی نہ ملا تھا جب کوئی بری طرح اس پر پل پڑا۔
“آہ!!! چھوڑو مجھے کت ے!!!!”
اپنے منہ پر پے در پے پڑنے والے گھونسوں سے وه بلبلا اٹھا۔
اس انسان نے جب اس کے منہ کو چھوڑ کر اس کی گردن دبوچی اور اس کا رخ اپنی طرف کیا تو عالم انجانی نظروں سے اس انجان کو دیکھنے لگا۔
بیڈ پر پڑی روتی موت مانگنے کی دعا کرتی ارمش کی نظر جب عالم گردیزی کے ساتھ بھڑتے ہوئے وجود پر پڑی تو اس کی آنکھوں کی پتلیاں پهيل گئیں۔
“ہسبنڈ!!!!!”
اس کے منہ سے سرگوشی نما اپنا نام سنتا ارسم آفریدی ایک پل کے لئے اس کی طرف مڑا اور اگلے ہی پل اس کی حالت دیکھنے کے باعث سرخ ہوتی آنکھیں پهير کے عالم گردیزی پر ٹکا گیا۔
ہاتھ کیسے لگایا؟؟؟”
اس کی سرد آواز عالم کو كپكپانے پر مجبور کر گئی۔
پیچھے کھڑا زین ارمش کی طرف بڑھا اور زمین پر پڑا دوپٹہ اس کے سر پر اوڑھا کر اسے اپنے ساتھ لگا گیا۔ اس کے ساتھ لگتے ہی ارمش اس کے سینے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
“بھائی!!!”
وه روتی ہوئی اسے پکار گئی تو اس کی ایسی حالت دیکھ کر زین نے خونخوار نظروں سے ارسم آفریدی کی گرفت میں موجود عالم کو دیکھا۔
“بس بھائی کی جان سب ٹھیک ہے۔ چپ ہو جاؤ شاباش سب ٹھیک ہے!!!”
وه ارمش کا سر تهپتهپاتا اسے پیار سے بہلانے لگا۔
“ہاتھ کیسے لگایا؟؟؟”۔
اس کی سرد آواز سے جهرجهری لیتے عالم نے خود کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کی پر ناکام ٹھہرا۔
“میں نے پوچھا ہاتھ کیسے لگایا!!!!”۔
ارسم غصّے سے دھاڑتا اس کے منہ پر زور دار مکّا رسید کر گیا۔اس کے مکے کی شدّت سے عالم کو اپنا جبڑا ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔
“تو نے میری ارمش کو ہاتھ بھی کیسے لگایا۔”
وه جنونیت سے کہتا اس کے منہ پر تھپڑ اور مکے مارتا جا رہا تھا۔ جب عالم کا منہ لہو لہان ہو گیا تو ارسم اسے نیچے پهينكتا اپنے پاؤں سے اس کے پیٹ میں ضربیں لگانے لگا۔ وه تکلیف سے چیختا جا رہا تھا پر ارسم اس کی کسی بھی آہ و فریاد پر کان دھرنے کی بجاۓ دیوانہ وار اسے اپنے عتاب کا نشانہ بناتا رہا۔
اس کی جنونیت بھری دیوانگی دیکھ کر ارمش خوف سے زین کے سینے میں منہ چھپا گئی۔ اس نے ارسم کا یہ روپ آج تک نہ دیکھا تھا۔ وه سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ ہمیشہ کول مائنڈ رہنے والا انسان اس قدر جنونی بھی ہو سکتا ہے .
“ارسم چھوڑ دو یار ابھی بعد میں دیکھ لیں گے۔”
اسے اپنی طرف متوجہ کر کے زین نے اس کا دھیان لرزتی كانپتی ارمش کی طرف کروایا تو ارسم نے بہت مشکل سے خود پر ضبط کرتے ادھ مری حالت میں عالم کو پیچھے دهكيلا تو وه بے جان ہوتا ڈھے گیا۔
اپنے چہرے پر ہاتھ پهير کر خود کو نارمل کرتا وه زین کی طرف بڑھا اور اس کے سینے میں چھپی ارمش کو بازو سے پکڑ کر زین سے الگ کرتے اپنے سینے میں بھینچ گیا۔
اس کی حرکت پر زین نے گھور کر اس بے شرم کو دیکھا جو اس کے سامنے ہی اس کی بہن کو یوں سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اس کی گھوری کو کسی خاطر میں نہ لاتے ارسم روتی ہوئی ارمش کی پیٹھ تهپتهپانے لگا تو زین نے نفی میں سے ہلاتے کمرے سے باہر کا رخ کیا پر باہر نکلنے سے پہلے ہی اس کی نظر زمین پر پڑے عالم پر پڑی تو اسے ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتا کمرے سے باہر لے گیا۔
“سوفٹی!!!!”
ارسم نے اپنے سینے سے لگی ارمش کے بال سہلاتے نرمی سے اسے پکارا پر وه چپ رہی۔
“ارمش!!!!”
وه پہلی دفعہ اسے اس کے نام سے پکار رہا تھا پر جواب ندارد۔
“میری طرف دیکھیں تو سہی یار!!!”
وه بے بسی سے کہتا اسے خود سے الگ کرنے لگا پر وه مزید اس میں گھسنے لگی۔
“ارمش میں پریشان ہو رہا ہوں یار پلیز سمجھیں!!!!”
اس کے کہنے کی دیر تھی کہ وه جو اللّه اللّه کر کے چپ ہوئی تھی پھر سے رونے لگی۔
“ہم بہت ڈر گئے تھے ہسبنڈ اگر آپ نہ آتے تو؟؟؟”
اس کی آواز سے ارسم اس کے خوف کا اندازہ لگا سکتا تھا۔
“کیسے نہ آتا؟ اللّه نے آپ کی حفاظت کا ذمہ مجھے دیا ہے پھر کیسے وه مجھے آپ کی حفاظت کے لئے نہ بھیجتا۔مجھے تو آنا ہی تھا۔”
وه نرمی سے کہتا اس کے سر پر بوسہ دے گیا۔
“پر اس نے مجھے کہا کہ آپ۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه اپنا جملا مکمل کرتی ارسم جھک کر اس کے لبوں پر انگلی رکھ گیا۔
“ہشش!!!! سب بھول جائیں بس اتنا یاد رکھیں کہ ارسم آفریدی زندگی کے ہر موڑ پر ہر نشیب و فراز میں آپ کے ساتھ ہے۔”
اپنے خوب صورت الفاظ اس کے کانوں میں اتارتا وه اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی پیشانی کو اپنے لمس سے معطر کر گیا۔
“ہم۔۔۔ہم آپ سے ۔۔بب۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔پیار کرتے ہیں!!!”
وه کانپتی ہوئی آواز میں کہتی ایڑیوں کے بل اوپر ہوئی تو ارسم میكانکی انداز میں اس کی طرف جھکا۔ وه اپنے نازک لب اس کے شیو زدہ گال پر رکھ گئی تو ارسم آفریدی کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی سے تپتے ہوئے کوئلوں پر ٹھنڈی پهوار برسا دی ہو۔
شادی کے آٹھ ماہ میں اس نے پہلی دفعہ ایسا اظہار کیا تھا جو ارسم کے قلب کو شاد کر گیا تھا۔
وه پھر سے اس کے سینے پر سر رکھے آنکھیں موند گئی تو ارسم نے جھک کر اس کی نم پلکوں سے سجی خوب صورت سنہری آنکھوں پر اپنے تپتے ہوئے لب رکھتے اس کی گرد اپنی گرفت مضبوط کر دی۔
“بس کر دو تم لوگ باقی کا گھر جا کر کنٹینیو کر لینا ابھی گھر چلو پلیز!!!”۔
زین کی کڑکتی ہوئی آواز پر وه دونوں چونک کر الگ ہوئے پھر اس کی بات سمجھتے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دیے۔
“چلیں؟؟؟”
ارسم نے اپنی کشاده ہتھیلی ارمش کے سامنے پهيلاتے مان سے پوچھا تو وه مسکراتی ہوئی سر اثبات میں ہلاتی اس کی ہتھیلی پر اپنا نازک ہاتھ رکھ گئی۔ایک دوسرے کے قدم سے قدم ملاتے وه اپنی منزل کی جانب چل دیے۔
@@@@@
“ہسبنڈ آپ نے ہمیں کیسے ڈھونڈا؟”۔
زین گاڑی چلا رہا تھا جب کہ ارسم اور ارمش پیچھے بیٹھے تھے جب ارمش ایک دم ارسم سے سوال کر گئی .
“باسم بھائی کی بیسٹ فرینڈ ہیں مرتسم بھائی!!! وه ایس ایس پی ہیں ان کی مدد سے مال کے کیمرے چیک کیے پھر میں نے زین کو کال کی۔ اس ذلیل شخص کو دیکھ کر زین بھی پہلے شاک ہوا پھر اس نے کہا کہ وه اس کی ساری لوکیشنز جانتا ہے۔ بس اسی طرح ہم نے ڈھونڈ لیا آپ کو۔ لگن سچی ہو تو ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے میری جان!!!”۔
“اوکے پر آپ زین بھائی کو کیسے جانتے ہیں؟؟”
وه اب بھی سخت الجھن کا شکار تھی۔
زین یونیورسٹی فرینڈ ہے میرا۔ آپ کے سلسلے میں اس سے میری ملاقات ہمارے نکاح والے دن ہی ہوئی تھی جب میں نے اسے گواہ کے طور پر ہسپتال بلایا۔ وه آپ کو وہاں دیکھ کر بہت شاک ہوا تھا۔ پھر میں نے اسے سب بتایا کس طرف آپ مجھے ملی اور یہ بھی کہ میں آپ سے نکاح کرنے والا ہوں۔”
وه اس کا ہاتھ نرمی سے سہلاتا ایک ایک بات اس کے گوش گزار کر رہا تھا۔
“پھر بھائی مان گئے؟؟”۔
اس کی معصومیت پر ارسم ہنس دیا۔
“نہیں مانتا تو پھر بھی میں نے کون سا منع ہو جانا تھا۔ پیار تھا آپ سے کوئی مذاق نہیں۔ آپ کے لئے تو میں پوری دنیا سے بھی ٹکرا سکتا ہوں!!!”
اس کی گھمبیر آواز پر ارمش کن اکھیوں سے زین کی طرف دیکھنے لگی۔
اس سے پہلے کہ زین ارسم کو کوئی كرارا جواب دیتا اس کا موبائل بجنے لگا۔
اس نے موبائل جیب سے نکال کر آنکھوں کے سامنے کیا تو موبائل کی سکرین پر “دریہ ❤کالنگ” جگمگا رہا تھا۔
وه مسکراتے ہوئے کال اٹھا کر موبائل کان کے ساتھ لگا گیا۔
“السلام علیکم کیسی ہیں آپ؟”۔
اس کی خوش گوار انداز میں لی گئی سلام کے جواب میں نا جانے ایسا کیا کہا گیا تھا کہ اس کے پاؤں بے ساختہ بریک پر پڑے تھے۔
“کیا!!!!! کک۔۔۔کس ہوسپٹل؟؟؟”۔
اس کی حرکت اور بوکھلائے انداز و الفاظ پر ارسم اور ارمش نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“مم۔۔میں آ رہا ہوں!!!”
وه کال کاٹ کر گاڑی سٹارٹ کرتا تیزی سے گاڑی آگے بڑھا گیا۔
“کیا ہوا زین سب ٹھیک تو ہے؟؟”
ارسم نے استفهامیہ انداز میں پوچھا تو زین نے لب بھینچتے سر نفی میں ہلایا۔
“دریہ ہوسپٹل کے آئی سی یو میں ہے!!!”
اس کے جملے پر ارسم نے حیرت جب کہ ارمش نے اچنبے سے اسے دیکھا۔
“یہ دریہ کون ہے اورکیا ہوا اسے؟”
ارمش کے سوال پر ارسم نے ایک نظر ڈرائیو کرتے ہوئے زین پر ڈالی جو لب بھینچ کر ضبط کرنے کی کوشش میں تھا۔
“دریہ زین کی فرینڈ ہے اور اسے کیا ہوا ہے یہ ہسپتال جا کر ہی پتا چلے گا۔”۔
ارسم کے جواب پر ارمش سر ہلا گئی۔
ہسپتال پہنچ کر زین تیزی سے آئی سی یو کی طرف بڑھا جہاں سامنے بنچ پر دریہ کے پیرنٹس بیٹھے تھے۔ وه تیز تیز قدم اٹھاتا دریہ کی ماں کی طرف بڑھا۔
“انٹی دریہ کیسی ہیں؟ کیا ہوا انھیں؟؟”
اس کے بے چینی سے پوچھنے پر دریہ کی ماں روتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔
“بیٹا آپ کون ہیں؟ “
دریہ کے پاپا کے سوال پر اس کی ماما بھی سوالیه نظروں سے اسے دیکھنے لگیں۔
“میں دریہ کا کلاس فیلو ہوں۔آپ پلیز بتایں کیا ہوا انھیں؟!”
وه آنکھیں بند کرتا جھوٹ بول گیا۔
“پتا نہیں بیٹا تھوڑی دیر پہلے تک بلکل ٹھیک تھی۔ میں لنچ کے لئے اسے بلانے جب اس کے کمرے میں گئی تو وه فرش پر بے ہوش پڑی تھی اور اس کے ناک سے بہت خون بہہ رہا تھا۔ ہم اسے جلدی سے ہسپتال لے آئے۔ کب سے وه اندر ہے پر ڈاکٹرز کچھ بتا ہی نہیں رہے۔”۔
دریہ کی ماں بتاتے ہوئے پھر سے رونے لگی تو ساتھ کھڑے ان کے شوہر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے انھیں تسلی دینے لگے.
اس سے پہلے کہ وه مزید کچھ پوچھتا کمرے کا دروازہ کھلا اور تین ڈاکٹرز باہر نکلے۔ دریہ کے ماں باپ سے پہلے ہی زین ڈاکٹر کی طرف لپكا۔
“ڈاکٹر!!! کیا ہوا دریہ کو وہ کیسی ہیں اب؟”
اس کے بے چین انداز پر ڈاکٹر نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔
“شی ہیز بلڈ کینسر!!!!”
ڈاکٹر کے الفاظ پہاڑ بن کر سامنے کھڑے اس لڑکے کے سر پر ٹوٹے تھے جو عشق کی تمام منازل طے کر چکا تھا۔