Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
Writer: Meem Ainn
Episode # 33
راجہ گھر پہنچا تو باہر دروازے پر لگے تالے کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔
“نوریہ کہاں گئی!!!”
تالا کھول کر وه گھر داخل ہوا تو پورا گھر سائیں سائیں کر رہا تھا۔
“رانی!!!! رانی!!!!! کہاں ہو یار!!!”
وه اونچی آواز میں نوریہ کو پکارتا پورا گھر چیک کرنے لگا پر وه کہیں بھی نہیں تھی۔
اس نے جیب سے موبائل نکالا اور نوریہ کا بر ڈائل کیا۔
“Tha dialled number is powered off. Please try back later”
“آپ کا ملایا ہوا نمبر فلحال بند ہے۔ براۓ مہربانی کچھ دیر بعد کوشش کیجئے”
ایک بار۔ دو بار ۔ تین بار۔ وه بار بار نمبر ملانے لگا پر نمبر بند جا رہا تھا اب کی بار وه حقیقتاً کافی پریشان ہو چکا تھا۔
دفعتاً اس کے دماغ میں ایک خیال کوندے کی طرح لپكا۔
“حاشر!!!! شٹ شٹ میں اتنا لاپرواہ کیسے ہو گیا۔”
وہ دونوں ہاتھ وں سے بال نوچتا خود کو احمق ترین انسان سمجھ رہا تھا۔
اس نے جیب سے موبائل نکالا اور تیزی سے ایک نمبر ڈائل کیا۔
“ہیلو! ایس یس پی مرتسم یزدان سپیکنگ!!! حاشر پر اٹیک کا وقت آ گیا ہے۔ جلدی سے فورس ریڈی رکھو۔ ہمیں اگلے ایک گھنٹے میں اٹیک کرنا ہے۔ فورس تیار کرو اور میرے اگلے حکم کا انتظار کرو۔ اوور!!!”
با رعب انداز میں حکم صادر کرتا وه اپنا لب و لہجہ مکمل طور پر بدل چکا تھا۔
“یس سر!!!!”۔
جواب سنتے ہی وه کال کاٹ گیا۔ اس کی انگلیاں تیزی سے ایک اور نمبر ملانے میں مصروف تھیں .
“ہیلو احسن!!! حاشر نے میری وائف کو کڈنیپ کر لیا ہے۔ ہمیں اگلے ایک گھنٹے میں اٹیک کرنا ہے۔ اپنے آدمی تیار رکھو۔ ہری اپ!!!”۔
سرد لہجے میں حکم سناتا کال بند کر کے تیزی سے موبائل پر انگلیاں چلانے لگا۔پانچ منٹ اپنا کام کرنے کے بعد وه کمرے کی طرف بڑھا اور الماری کے نچلے حصّے میں بنے ایک خفیہ لاکر کو کھولنے لگا۔ لاکر کھول کر اس میں پڑی پسٹل اٹھا کر جینس میں اڑسی چاقو پکڑ کر لاکر بند کر دیا اور چاقو کو دیکھنے لگا۔ یہ ایک چمکتا ہوا تیز دھاری چاقو تھا جس کی چھوٹی سی دستی کالے رنگ کی تھی۔ راجہ نے چاقو کی نوک اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھی اور ہلکا سا دباؤ ڈالا۔ دباؤ پڑتے ہو سرخ خون کی ننھی سی بوند چاقو کی نوک پر چمکنے لگی۔اس نے چاقو ہٹا کر شرٹ کے بازو سے صاف کیا اور اپنی ہتھیلی پر لگی کٹ پر انگلی دبائی۔ پانچ سیکنڈز کے بعد خون نکلنا بند ہو گیا۔
“تم نے یہ اچھا نہیں کیا حاشر۔ اب دیکھو مرتسم يزدان تمہارے ساتھ کیا کرتا۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ!!!”
لال انگاره ہوتی آنکھوں کو غیر مرئی نقطے پر جماتے راجہ نے سوچا اور سپاٹ چہرہ لئے گھر سے نکلتا چلا گیا۔
@@@@@
گھر سے نکل کر وه گلی کے باہر کھڑی گاڑی کی طرف بڑھا اور موبائل نکال کر کان سے لگایا۔
“ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں ایک جگہ کا۔ وہاں پہنچو سب جلدی۔”
بات مکمل کر کے موبائل جیب میں رکھتا وه ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا اور گاڑی وہاں سے بهگا لے گیا۔سب نے پہلے اس نے گاڑی قریبی مسجد کی طرف موڑی۔ مسجد پہنچ کر وه گاڑی سے باہر نکلا اور جوتا اتار کر مسجد میں داخل ہو گیا۔ سب سے پہلے وضو کیا اور پھر مسجد کے اندرونی حصّے کی طرف چلا گیا۔ دو رکعت حاجت کے نفل کی نیت باندھی اور پڑھنا شروع کر دیا۔رکوع کے لئے جھکا تو آنکھ سے بہتا ایک آنسو قدموں میں جا گرا۔ سجدے میں سر جھکایا تو دل بھر آیا۔ نفل پڑھ کے سلام پهيری اور دعا کے لئے ہاتھ بلند کر لئے۔ اب کی دفعہ آنسوؤں پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ قابو پاتا بھی کیوں؟ آنسو روکتا بھی کیوں؟ اس کی ذات کے آگے رونا ہی تو جچتا ہے۔ وہی تو ہے ایک جو آنسووں کی لاج رکھتا ہے رسوا نہیں کرتا۔ آنسو بہنا شروع ہوئے تو بہتے ہی چلے گئے۔
“یا اللّه میں تیرا بڑا نا فرمان بندہ ہوں۔ بہت گناہگار ہوں پر تو تو رحیم ہے۔ رحمان ہے۔ غفور ہے!!! میرے پروردگار مجھ پر رحم فرم۔ مجھے معاف کر دے۔ انسان گناہوں اور خطاؤں کا پتلا ہے۔میرے گناہوں کی اتنا بڑی سزا نہ دینا مجھے۔ میری بیوی اور بچے کی حفاظت فرمانا۔ یا اللّه میں نے بہت دکھ دیکھے ہیں۔ اپنے ہر عزیز کو کھونے کے بعد اب مجھ میں حوصلہ نہیں کہ میں اپنی رانی کو بھی کھو دوں۔ وه میری زندگی کا کل سرمایا ہے۔ میرے وجود کا حصّہ اس کے وجود میں سانسیں لے رہا ہے۔وه میری زندگی کی راحت ہے۔ وه میری جنّت کی ساتھی ہے۔اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا اور مجھے ہمت دینا کہ میں اس کی حفاظت کر سکوں۔”
آنسوؤں سے تر چہرے پر ہاتھ پهير کر وه وہیں بیٹھا اپنے جذبات پر قابو پانے لگا۔ بظاہر لوہے کی طرح مضبوط دکھنے والا مرد اندر سے کانچ کے بکھرے ٹکروں کی مانند تھا۔ہمیشہ اس سے اس کی سب سے قیمتی چیز چھین لی جاتی تھی اور وه تہی دامن رہ جاتا تھا۔ حالات نے باہر سے اسے جتنا مضبوط بنا دیا تھا اس کی زندگی میں رونما ہوئے واقعات نے اسے اندر سے اتنا ہی کھوکھلا بھی کر دیا تھا۔ پر اب اس نے تہیہ کر لیا تھا وه اب چپ نہیں بیٹھے گا۔ برسوں پہلے بھی ایک جنگ ہوئی تھی اور مرتسم یزدان حسن ہار گیا تھا کیوں کہ تب وه ایک بچہ تھا۔ آج پھر ایک جنگ ہونی تھی جس میں اسے ہارنا نہیں جیتنا تھا کیوں کہ مرتسم یزدان حسن اب ایک بچہ نہیں رہا تھا بلکہ ایک بھرپور توانا مظبوط مرد بن چکا تھا جو سب دشمنوں کے مقابلے کے لئے اکیلا ہی کافی تھا۔ وه اکیلا بھی ان ہزاروں پر بھاری تھا۔سو دن کتوں کے ہوں تو ایک دن شیر کا بھی ضرور آتا ہے اور وه ایک دن بھی کتوں کے سو دنوں پر بھاری ہوتا ہے۔
وه مضبوط اور اٹل ارادے لئے وہاں سے نکل آیا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا جاتا۔
@@@@@
وه سپاٹ چہرہ لیا کرسی پر بندهی بیٹھی تھی ۔ حاشر کی باتوں نے اس کے وجود میں ایک طوفان برپا کر دیا تھا۔وه یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ حاشر کو کیا ضرورت پڑی تھی اس سے اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی۔ کوئی بات تھی تو ہی وه ایسا بول رہا تھا نا۔ اگر حاشر کی بات سچ ہوتی تو؟؟؟ اتنا بڑا دھوکہ!!!
اس کا راجہ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا تھا۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر نوریہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو حاشر کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کی ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے جنھیں رول کر کے ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔
وه قدم قدم چلتا نوریہ کے نزدیک آیا اور پاس پڑی خالی کرسی نوریہ کے سامنے رکھ کر بیٹھ گیا۔
اس کی مکروہ صورت دیکھتی وہ تنفر سے چہرہ موڑ گئی تو اس کی حرکت پر حاشر بھنا اٹھا۔
“بڑی اکڑ ہے نہ تجھ میں۔ آج یہ ساری اکڑ ہوا ہو جاۓ گی۔ چل پکڑ یہ اور سائن کر ان پر .”
وه نخوت سے کہتا ہاتھ میں پکڑے پیپرز اس کی گود میں رکھ گیا۔
اس کی بات کا جواب دیے بغیر وه اسے تنفر بھری نظروں سے دیکھتی رہی۔
“کیا دیکھ رہی ہے۔ سائن کر جلدی!!!”
حاشر کی بات پر وه ایک نظر اس پر ڈال کر دوسری نظر اپنے ہاتھوں پر ڈال گئی جو بندھے ہوئے تھے۔
اس کا اشارہ سمجھتے وه اٹھا اور کرسی کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔
“کھولنے لگا ہوں پر خبردار کوئی چالاکی کی تو یہ سوچ لینا پہلے کہ اس حالت میں نہیں تم کہ کوئی چالاکی کر سکو.”
اس کی دھمکی پر نوریہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ سب نہ تھا کو اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔
اس ہاتھ کھولنے کے بعد وه واپس اپنی کرسی پر جا بیٹھا البته پاؤں اب تک بندھے تھے .
نوریہ نے جوں جوں ان پپیرز پر لکھی تحریر کی پڑھنا شروع کیا توں توں اس کی آنکھیں پهيلتی گئیں۔
“یہ۔۔۔یہ سب کیا ہے!!!”۔
نوریہ بے یقینی سے ان پیپرز کو دیکھتی اس سے استفسار کرنے لگی۔
“نظر نہیں آ رہا یا پڑھنا نہیں آ رہا۔ تمہاری پراپرٹی کے پیپرز ہیں۔ وہی پراپرٹی جس کی خاطر میں نے تم سے شادی کی!!!”۔
اس پر بمب پھوڑتا وه آخر میں مکروہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“جانتی ہو میں نے تم سے شادی کیوں کی؟؟؟”۔
اس کے سوال پر وه آنسو بھری نظروں سے اس ظالم انسان کو دیکھنے لگی۔
“تمہاری جائیداد حاصل کرنے کے لئے!!!!”
اس کے انکشاف پر نوریہ کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا.
“تم سے شادی تو کر لی پر اب سوال تھا اس جائیداد کا جس کی خاطر میں نے تم سے شادی کی۔ تمہارے باپ نے اپنی آدھی جائیداد تمہارے نام لگوا دی جب کہ مجھے تو پوری چاہئے تھی۔ پھر میں نے سوچا وه بڈھا اتنا آسانی سے تو ساری جائیداد تمہارے نام نہیں کرے گا۔ اور اگر تمہاری جائیداد بھی میں اپنے نام لگوا لیتا تو اس بڈھے کو پتا چل جاتا۔ اس لئے میں نے اس بڈھے کو ہمیشہ کی لئے گہری نیند سلا دیا۔ ہاہاہا!!!”۔
ایک اور انکشاف!!! اور یہ انکشاف سب سے زہریلا تھا۔ جس باپ کی موت کو وه آج تک ایک حادثہ سمجھتی آئ ی تھی وه موت حادثہ نہیں بلکہ ایک قتل تھا یہ سوچ کی نوریہ کی روح لرزا گئی تھی۔
“تمہارے باپ کو مار دیا تو اس کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ساری جائیداد تمہارے نام ہو گئی۔ اب میں چاہتا تو تمہیں مار کر ساری جائیداد اپنے نام لگوا لیتا پر جانتی ہو اس سے کیا ہوتا؟انویسٹیگیشن ہوتی تو پولیس کا پہلا شک مجھ پر جاتا۔ پھر میں نے سوچا کہ ہمارا بچا ہو گا تو بچے کی پیدائش کے دوران تمہارا کام تمام کروا دوں گا۔ تم مر جاتی تو تمہاری ساری جائیداد کا مالک کون ہوتا؟ ظاہر ہے تمہاری اولاد۔ پر اس پلان کا بیڑا غرق تب ہوا جب مجھے پتا چلا کہ میں باپ نہیں بن سکتا۔ پھر میری جان من ماہی نے مجھے مشورہ دیا کہ کیوں نہ بچے کے لئے تمہاری دوسری شادی کرا دی جاۓ۔ اب تم سوچ رہی ہو ماہی کون؟ بھئی ماہی میری محبت!!! سچی محبت!!! پھر ایک دن جب میں ماہی سے ملنے گیا تو وہاں مجھے راجہ ملا۔ میں نے اسے سائیں سمجھ کر تمہاری شادی اس سے طے کر دی پر وه سالا کچھ اور ہی نکل آیا۔جہاں اتنا کچھ جان چکی ہو تو ایک بات اور جان لو۔ ڈرگز سپلائی کرتا ہوں میں۔ گینگ ہے ہمارا جہاں ہم یونیورسٹی کے طلبا اور کلبز میں ڈرگز سپلائی کرتے ہیں۔ اس کمینے مرتسم اوپس راجہ!!! ہاں راجہ نے مخبری کر کے ہمارا مال پکڑوا دیا اور پولیس کو پیچھے لگا دیا۔ پر حاشر نے بھی کچی گولیاں نہیں كهيلی اس کا سب سے قیمتی مال چرا لیا ہاہاہا!!!!”
“تم گھٹیا انسان میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم اس قدر گھٹیا نکلو گے۔ میرے باپ کے قاتل ہو تم اور میں تمہیں اپنا مسیحا سمجھتی رہی۔تم نے اتنی گندی پلاننگ کی اور میں تمہیں کیا سمجھتی رہی۔ انسان کی کھال میں چھپے بھیڑیے ہو تم ۔ تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی میں!!!!”
وه ایک دم خود پر ضبط کھوتی چیختی چلاتی حاشر پر جھپٹنے لگے پر اس کے پاؤں اب تک کرسی سے بندھے تھے۔ وه ایک دم کھڑی ہوتی اس پر جھپٹی اور اس کا منہ نوچنے لگی۔ حاشر اس سے یہ امید نہیں کر رہا تھا کہ وه ایسا کرے گی۔ وه ایک دم سنبھلتا پیچھے ہٹا۔
“تمہاری اتنی ہمت!!!”
غصّہ سے دھاڑتا وه آگے بڑھا اور نوریہ کے گال پر زور دار تھپڑ رسید کر گیا۔
“آہ!!!! راجہ!!!”
تھپڑ اتنا شدید تھا کہ وه اس کی شدت سے لڑکھڑاتی پیچھے پڑی کرسی پر گر گئی۔ اسے اپنے منہ میں خون کا ذائقہ گھلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ وه نازوں پلی لڑکی جسے آج تک کسی نے پھول سے بھی نہ مارا تھا اس جابر انسان کے تھپڑ کی شدت برداشت نہ کر پائی تھی اس لئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
“مجھے مارے گی؟؟ حاشر کو مارے گی؟؟ دیکھ میں تیرا حال کیا کرتا۔ جلدی سے ان پیپرز پر سائن کر ورنہ تو اور تیرا بچا سیدھا اوپر پہنچ جاؤ گے میرے ہاتھوں .”
وه پاکٹ سے پسٹل نکال کر اس کی سر پر تان گیا تو نوریہ کا رنگ فق ہو گیا۔
“یہ۔۔یہ میرے پاپا کی زندگی کا۔۔۔کل سرمایا ہے۔۔پلیز ایسا مت کرو۔۔۔میں تمھارے آگے۔۔۔ہاتھ جوڑتی ہوں!!!”
ہچکییوں کے درمیان بولتی وه اس کی منت کرنے لگی پر اس کی سننے والا کون تھا۔
“تیرا بھاشن نہیں سننا مجھے۔ جلدی سے سائن کر وقت نہیں ہے میرے پاس۔ صرف دو منٹ دے رہا ہوں تجھے۔ اگر سائن نہ کیے تو تو کرسی سمیت نیچے جاۓ گی اور تیرا بچا سیدھا اوپر !!!!”
اسے دھمکی دیتا وہ اس کی کرسی کے پیچھے کھڑا ہوتا اس کو گود میں پیپرز پهينك گیا تو نوریہ لرزتے ہاتھوں سے پین پکڑ گئی۔ آنسو تواتر سے بہتے جا رہے تھے۔ وه اس وقت خود کو دنیا کی بے بس ترین لڑکی تصور کر رہی تھی۔
یہ جائیداد اس کے لئے اپنے بچے سے پیاری نہیں تھی۔ لرزتے کانپتے ہاتھوں سے جیسے ہی اس نے سائن کیے حاشر اس کے ہاتھ سے پیپرز جھپٹ کر چار قدم پیچھے ہوتا کرسی کو ایک زور دار ٹھوکر سے گرا گیا۔
سنسان اور ویران کمرہ نوریہ کی دل دہلاتی چیخ سے گونج اٹھا تو حاشر کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ ڈیرہ جما گئی۔
