Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“راجہ کون ہے باہر؟”
وه اس کے پیچھے ہی نیچے آ گئی اور اسے اب تک دروازے کے سامنے کھڑا دیکھ کر پوچھنے لگی۔
“کمرے میں چلو میں آتا ہوں کچھ دیر میں۔”
وه مڑ کر اسے دیکھتا سنجیدگی سے بولا تو وه سر ہلاتی وہاں سے جانے لگی پر کانوں میں پڑتی شناسا سی آواز نے اس کے قدم زنجیر کر دیے۔
“واہ بھئی واہ! نکاح سے پہلے تو رونا دھونا ہی ختم نہیں ہو رہا تھا اور اب یوں ہار سنگھار کیے بڑے عیش سے رہا جا رہا ہے۔ اپنے عارضی شوہر کے ساتھ اتنا دل لگ گیا ہے جو اپنے مستقل شوہر کو بھول بیٹھی!”
وه راجہ کی سائیڈ سے گزرتا نوریہ سے کچھ فاصلے پر آ کھڑا ہوا۔ اس کے زہر میں ڈوبے الفاظ نوریہ کے کان لہو لہان کر رہے تھے۔ اس کا رنگ پیلا پر چکا تھا۔
“ویسے آپس کی بات ہے۔ کسی اور کی قربت میں رہ کر تم مزید حسین۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وهاپنا جملہ پورا کر پاتا راجہ ضبط کھوتا اسے گردن سے دبوچ کر ایک جھٹکے میں پیچھے دیوار کے ساتھ لگا گیا۔
“سالے تجھے کہا تھا نا کہ راجہ سے پنگا مت لینا پر لگتا ہے تجھے اپنی جان پیاری نہیں۔ اور میری ایک بات پہلی اور آخری دفعہ سن لے! جو شخص راجہ کی ملكیت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے تو راجہ اسے پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑتا۔ جان پیاری ہے تو نکل لے یہاں سے۔*
حاشر کی آنکھوں میں اپنی سرد آنکھیں گاڑ کر بولتا وه اسے سچ میں خوف زدہ کر گیا۔
“چھ۔۔۔چھوڑ دیں پلیز!”
نوریہ کی ترنم آواز پر راجہ نے چہرہ موڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ایک جھٹکے سے حاشر کی گردن چھوڑ دی۔ وه سرخ چہرہ لئے اپنی گردن سہلانے لگا۔
“تم اچھا نہیں کر رہے راجہ تم دونوں بالکل اچھا نہیں کر رہے۔”
غم و غصے سے کہتا وه اس گھر سے نکلتا چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی نوریہ بھاگتی ہوئی کمرے میں بند ہو گئی۔
راجہ آنکھیں سكيڑ کر اس سمت دیکھنے لگا جہاں وه غائب ہوئی تھی۔
وه بھاری قدم اٹھاتا کمرے کی طرف بڑھا اور جا کر بیڈ کے پاس کھڑا ہو کر اسے دیکھنے لگا جو سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی تھی۔
“میری رانی!”
اس کی پکار میں محبت ہی محبت تھی۔ اتنی محبت کہ نوریہ بے ساختہ اس کی ایک پکار پر ہی سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگی پر اس کی آنکھوں کی تپش محسوس کرتی اگلے ہی پل آنکھیں جھکا گئی۔
وه ایک گھٹنا فولڈ کر کے بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس کے سرد ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر دھیرے دھیرے رگڑتا انہیں گرم کرنے لگا۔
“تم میری بیوی ہو! میری عزت! میرے نکاح میں ہوتے ہوئے میری بیوی کسی تیسرے انسان کے لئے آنسو بہاۓ یا کسی تیسرے کا تصور بھی ذہن میں لاۓ یہ بات میرے لئے بالکل بھی قابل قبول نہیں۔ سمجھی!”
اس کی سرد آواز پر وه سر ہلا گئی۔ اس نے آج پہلی دفعہ راجہ کا یہ روپ دیکھا تھا جس سے وه سچ میں خوف زدہ ہو چکی تھی۔
اس کے سر ہلانے پر راجہ کے تاثرات بدلے اور وه مسکرا کر اس کے نزدیک ہوا۔
اس کے نزدیک ہوتے ہی وه اپنا مضبوط بازو اس نازک حسینہ کی کمر میں ڈالتا اسے اپنے نزدیک کھینچ گیا۔
اس اچانک افتاد پر وه راجہ کے سینے سے جا ٹکرائی۔ خوشبوؤں میں بسا نازک سراپا راجہ کے حواسوں پر بری طرح چھانے لگا تھا۔ وه نوریہ کے بالوں میں ہاتھ پھنساۓ ہلکا سا جھٹکا دے کر اس کا چہرہ اپنے مقابل کر گیا۔
وه سب کچھ بھول کر اب راجہ کی قربت میں شرم سے دوہری ہو رہی تھی۔ اس کی نگاہیں روح تک اترتی محسوس ہو رہی تھیں۔
“میری رانی!”
اس کی بوجھل آواز میں پکار پر نوریہ کی ہتھیلیاں نم ہو گئیں اور لرزتی پلکیں گالوں پر سایہ فگن ہو گئیں۔
اس کے لرزتے کانپتے گلابی بھرے بھرے لب راجہ کے حلق میں کانٹے اگا گئے۔
دل پر قابو کھوتا وه جھک کر بہت نرمی سے اس کے شربتی لبوں کا جام پینے لگا۔
نوریہ کا دل اچھل کر حلق میں آ چکا تھا .اس کی بے اختیاری نوریہ کی جان پر بن آئی تھی۔
اپنے کندھوں پر نوریہ کی سخت گرفت محسوس کرتے وه خود پر بمشکل قابو پاتا اسے اپنے لمس سے تو آزاد کر گیا پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر گیا۔
وه اتنی سی عنایت پر ہی بے حال ہوتی اس کے سینے پر سر رکھتی اپنی بکھرتی سانسوں کو سمیٹنے لگی۔
“میری جان کا اتنی سی شرارت پر یہ حال ہے تو جب۔۔۔”
راجہ کے جملہ مکمل کرنے سے پہلے ہی وه تیزی سے اس کے لبوں پر ہاتھ جما گئی. اس کی خفت سے سرخ پڑتی رنگت اور لرزتی پلکیں دیکھ وه قہقہہ لگا کر اسے خود میں بھینچ گیا۔
“ارے! ہمارا مقابلہ تو بیچ میں ہی رہ گیا۔”
مالٹوں کی بابت یاد آتے وه اس کے مقابل چہرہ کرتا بولا۔ وجہ نوریہ کی شرم دور کرنا تھی۔
“جی نہیں! کوئی بیچ میں نہیں رہ گیا ۔ میں نے اچھے سے چھیلے تھے جب کہ آپ نے تو جان ہی چھڑوائی تھی بس ۔ اس لئے میں جیتی ہوں اور آپ ہار گئے ہیں۔”
وه بھی شیر ہوتی ناک سکوڑ کر جتا گئی۔
“واقعی میں ہار ہی تو گیا ہوں۔ جانتی ہو کیا؟ تم پر اپنا دل! اور یہ بھی جانتی ہو کہ اس ہار کے بدلے مجھے کیا ملا؟ تم! کیا کسی شکست کا اتنا حسین انجام ہو سکتا ہے!”
اس کی بوجھل آواز کانوں میں پڑتے وه شرم سے لال پڑتی بے وجہ ہی بال کانوں کے پیچھے اڑسنے لگی۔
“چلو اب جا کر ان مالٹوں کو ٹھکانے لگاتے ہیں۔”
وه هنستا ہوا اس کے ہاتھ تھامے اسے ساتھ لئے چھت کی طرف چل دیا۔
°°°°°
“مجھے صرف اس کا نام بتائیں۔ وه کون تھا؟”
وه سنجیدہ چہرہ لئے اس کے سامنے بیٹھا اسے پھر سے اس ازیت میں دھکیل گیا۔
“آپ ہمیں چھوڑنا چاہتے ہیں نا۔ ہم آپ کو گندی لگتی ہیں نا۔ انہوں نے ہمیں گندا کر دیا اس لئے ہم آپ کو اچھی نہیں لگتی۔”
ارسم تو اس کی بات پر تڑپ اٹھا تھا۔وه بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے لگا جو آنسو بہاتی بری طرح اپنے لب کچل رہی تھی۔
“سوفٹی آپ ایسا کیسے سوچ سکتی ہیں؟”
وه اس کی بات پر افسوس کر رہا تھا۔ پر قصور اس معصوم کا بھی نہیں تھا۔ وه حد درجه معصوم تھی۔ اس گرد و پیش سے واقف نہ تھی جس ازیت سے گزرنا پڑا۔
“آپ اگر نہیں بتانا چاہتی آپ نہ بتائیں۔ پر اتنا ہمیشہ یاد رکھئے گا۔ ارسم آفریدی کے لئے دنیا کی سب سے اچھی اور پاک لڑکی ارمش ارسم آفریدی ہے۔ ارمش آفریدی ارسم آفریدی کے لئے سراپا محبت ہے۔ میری محبت ہی اگر میری محبت کی تذلیل کرے یہ میرے لئے بالکل بھی قابل برداشت نہیں۔ سمجھ رہی ہیں آپ؟”
اس کے پوچھنے پر وه تیزی سے سر ہلا گئی۔
وه اس کے پاس سے اٹھ کر جانے لگا تو وه پھرتی سے اس کا بازو اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑ گئی۔ وه سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“مت جائیں پلیز ہمیں ڈر لگتا ہے۔”
اس کی آواز میں بے بسی محسوس کرتا وه لب بھینچ گیا۔اس کی گرفت سے نرمی سے اپنا بازو چھڑوایا اور بیڈ کی دوسری طرف بڑھ گیا۔ اپنی جگہ لیٹنے کے بعد وه اسے نرمی سے کھینچتا اپنے سینے پر گرا گیا۔
“سب کچھ ذہن سے نکال کر صرف اپنے ہسبنڈ کے بارے میں سوچیں اور سو جائیں۔ میں ہوں نا سب ٹھیک کر دوں گا۔”
وه اس پر بلینكٹ سہی کرتا اس کے بالوں میں دھیرے سے انگلیاں چلا کر اس کے دماغ کو سکوں پہنچانے کی کوشش کرنے لگا جو کہ کامیاب ٹھہری تھی۔ چند منٹ کے بعد ہی وه اس کے سینے پر سر رکھے اور دونوں بازو اس کے گرد باندھے نیند کی وادی میں اتر چکی تھی۔
اس کی پیشانی کو چھوتا وه بھی اپنی آنکھیں موند گیا۔
°°°°°
شام کے سائے پر پھیلانے لگے تو اس نے گھڑی پر نظر ڈال کر وقت دیکھا۔ اس نے گھنٹہ بھر پہلے دریہ کو کال کر کے بلایا تھا جو اب تک نہ آئی تھی۔ ابھی وه یہی سوچ رہی تھی جب دریہ کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
“السلام علیکم! کیسی ہو چڑیل؟”
اس کے شرارت سے پوچھنے پر مومل اسے گھور کر اس کے گلے لگ گئی۔
“وعلیکم السلام! دری بہت بد تمیز ہو تم! ارسم بھائی کی زبان بولنے لگی تم بھی۔”
اس کا اشارہ چڑیل کہنے کی طرف تھا۔ اس کے چڑنے پر دریہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
“پہلے یہ بتاؤ کہ ہماری چھوٹی سی پرنسس کہاں ہے بھئی میں نے تو اسے بہت مس کیا۔ اتنی پیاری باتیں کرتی ہے یار۔”
اس کے یوں اشتياق سے بولنے پر مومل اسے گھور کر رہ گئی۔
“ما شاء اللّه نہیں بولا جاتا کیا۔ نظر لگاؤ گی میری جان کو تم۔”
وه اس کے بازو پر تھپڑ مار گئی جس کے جواب میں دریا اسے گھورنے لگی۔
“ویسے وه سو رہی ہے کچھ دیر پہلے ہی سلایا میں نے اسے۔”
اس کے بتانے پر وه سر ہلا گئی اور بغور اس کے چہرے کو دیکھنے لگی۔
“مومل کیا پریشانی ہے اب۔ اتنی اپ سیٹ کیوں لگ رہی ہو؟ اس رشتے سے خوش نہیں ہو کیا؟”
دریہ کی فکر مندی سے پوچھنے پر وه گہری سانس بھر کر رہ گئی پھر اسے باسم کی ساری گفتگو بتانے لگی۔
“وہاٹ! یہ سب کیا ہے اب یار! باسم بھائی چاہتے کیا ہیں اب۔ جب تم نے محبت کا اظہار کیا تب نفرت کا اظہار کر کے چلے گئے۔ اب جب تم اپنی لائف میں سیٹل ہونا چاہ رہی ہو تو یہ نیا ڈرامہ شروع کر کے بیٹھ گئے۔”
وه باسم کی باتیں سنتی بھڑک ہی اٹھی تھی۔
“مجھے بھی یہی سمجھ نہیں آ رہا یار کہ وه چاہتے کیا ہیں اب۔ محبت تو وه مجھ سے مر کے بھی نہیں کر سکتے پھر یہ سب کیوں کے رہے ہیں۔”
وه خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔
“تم کیا چاہتی ہو مومل۔کیا تم اب بھی باسم بھائی سے محبت کرتی ہو؟”
وه کھوجتی ہوئی نگاہیں اس کے چہرے پر ٹکا کر مستفسر ہوئی۔
“جانتی ہو دریہ! محبت ایک ایسی آگ ہے جو ہمارے قلب کی دیمک زدہ لکڑی کو بھی ہمیشہ سلگائے رکھتی ہے۔ ان کی محبت کی کوئی نہ کوئی چنگاری آج بھی میرے راکھ زدہ دل میں موجود ہے۔ میں اس حقیقت کا نہ اقرار کر سکتی ہوں اور نہ اظہار! پر اس شخص نے میرا دل بہت بری طرح توڑا ہے دریہ۔ اگر میں ان ٹکروں کو سمیٹنے بیٹھوں تو میرے اپنے ہاتھ ہی لہو لہان ہو جائیں۔میں کیا کروں دریہ!”
اس کی آنسو بھری آنکھوں کو دکھ سے دیکھتی دریہ اسے اپنے ساتھ لگا گئی۔
“میں اب جو کہوں گی مومل تمہیں ویسا کرنا ہے بس۔ سمجھی؟”
اس کے سر ہلانے پر دریہ دھیرے دھیرے اس کے کانوں میں ساری بات کھولنے لگی۔
بات مکمل کرتے وه پیچھے ہٹ کر مومل کا چہرہ دیکھنے لگی جو تذبذب کا شکار تھا۔
“آر یو شیور دریہ؟”
وه کچھ كنفیوز سی تھی۔
“يس آئی ایم ہنڈریڈ پرسنٹ شیور!”
وه یقینی بھرے لہجے میں بولی۔
اس سے پہلے وه کچھ اور بات کرتی ارسم وہاں چلا آیا۔
وه سلام کرتا ان کے سامنے صوفے پر بیٹھ گیا جب کہ اسے روبرو پاتے دریہ کا دل بے طرح دھڑکنے لگا۔اداس چہرہ ایک دم کھل اٹھا تھا۔ وه اسے دیکھنے کی طلب لے کر وہاں آئی تھی پر یہ نہیں جانتی تھی کہ دل کی حسرت یوں بھی پوری ہو جاۓ گی۔
“مومل یار تمہاری کچھ ہیلپ چاہیے تھی۔”
وه دریہ سے سلام دعا کے بعد مومل سے مخاطب ہوا۔
“جی کہیں ارسم بھائی کیا ہیلپ چاہئے؟”۔
وه اپنا غم سائیڈ پر کرتی اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“کیا تم میرے ساتھ مارکیٹ چل سکتی ہو ابھی؟ ایکچولی مجھے ارمش کے لئے ڈریسز اور باقی ضرورت کی چیزیں لینی ہیں۔ مجھے تو ان چیزوں کا اتنا آئیڈیا نہیں اگر تم ساتھ چلو تو اچھا ہو جاۓ گا۔ ابھی وه سوئی ہیں تو میں نے سوچا ہم جلدی سے مارکیٹ سے ہو آتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟”
اس کے یوں ہچکچا کر پوچھنے پر وه بخوشی سر ہلا گئی۔
“یاہ شیور وائے ناٹ! مناہل بھی سوئی ہی دو گھنٹے سے پہلے تو نہیں اٹھے گی تب تک ہم واپس آ جائیں گے ایزیلی۔”
اس کے جواب پر وه مطمئن ہوتا سر ہلا گیا جب کہ دریہ الجھن بھری نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
“ارے دریہ میں تمہیں بتانا بھول ہی گئی۔ ارسم بھائی نے شادی کر لی ہے اور دریہ ان کی مسز کا نام ہے ۔ بہت پیاری سی اور چھوٹی سی ہے وه۔ ابھی تو سو رہی ہیں ورنہ میں ملواتی ان سے تمہیں۔”
وه اپنی دھن میں ہی بولتی جا رہی تھی جب کہ دریہ کا وجود زلزلوں کی زد میں آ چکا تھا۔ اس کے سر پر سارے آسمان ایک ایک کر کے ٹوٹ چکے تھے۔ وه بے یقین سی ساکت کھڑی تھی۔
ارسم کی نظر اس پر پڑی تو وه لب بھینچ کر رہ گیا۔ اس کی چہرے سے وه اس کے اندر کی حالت جان گیا تھا پر وه اس معاملے میں بالکل بے بس تھا۔ وه اس پیاری سی لڑکی کی چاہت سے واقف تھا پر دل پر کس کا زور چلتا ہے۔ وه زبردستی اسے اپنے دل کی مکین نہیں بنا سکتا تھا۔ اس کا دل تو ارمش کی امانت تھا ازل سے ہی۔ پھر کیسے اس کی امانت میں خیانت ہوتی۔
“دریہ تم بھی چلو ہمارے ساتھ۔”
مومل کے کہنے پر وه چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
دری تم ٹھیک ہو؟”
اس کی پیلی پڑتی رنگت دیکھ کر مومل پریشانی سے استفسار کرنے لگی۔
“ہاں ۔۔۔ہاں میں ٹھیک ہوں بس ایک دم سر درد کرنے لگ گیا۔ تم لوگ جاؤ مجھے ابھی گھر پہنچنا ہے رات ہونے والی ہے۔ پھر ملیں گے۔ اللّه حافظ!”
دل کی درد پر قابو پانا مشکل لگنے لگا تو وه ایک دم الوداع کہتی وہاں سے نکل آئی جب کہ مومل حیران پریشان سی اس کی ایک دم بگڑتی حالت کو سوچنے لگی۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی آنسوؤں کا طوفان امڈ آیا۔ دل درد سے پھٹ رہا تھا۔
“یا اللّه!”
تکلیف بھری پکار میں اس قدر تڑپ تھی کہ ارسم آفریدی اگر جان جاتا تو جان سے جاتا۔
گھومتے ہوئے سر کو جکڑ کر حواس قابو میں لاتی وه گاڑی کا رخ گھر کی طرف کر گئی۔ اسے جلد از جلد گھر پہنچنا تھا ورنہ اس کی حالت کہیں پہنچنے کی قابل نہ رہتی۔
شام کو الوداع کرتی رات نے بہت دکھ سے اس پیاری سی لڑکی کو دیکھا تھا۔
°°°°°