Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
وه سارے راستے روتی آئی تھی۔ ہسپتال پہنچ کر اس کا دل خوف کی شدّت سے تیزی سے دھڑکنے لگا۔ ریسیپشن پر راجہ کا پوچھتے وه ایک کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
کمرے کے سامنے پہنچ کرنوریہ نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا تو سامنے ہی بستر پر وه دشمن جاں سفید پٹیوں میں جکڑا پڑا تھا۔
سر پر سفید پٹی کی گئی تھی جو خون بہنے کی وجہ سے لال ہو رہی تھی۔ دائیں گال پر رگڑ لگی تھی۔ داہنا بازو اور ٹانگ پٹیوں میں بندھے تھے۔
اسے ایسی حالت میں دیکھ کر نوریہ کا كلیجہ منہ کو آ گیا۔ وه دونوں ہاتھ سختی سے منہ پر رکھتی اپنی سسكیوں کا گلا گھونٹنے لگی۔ آنسو تیزی سے گالوں پر پھسلتے جا رہے تھے۔
راجہ جو کہ آنکھیں بند کیے بیڈ پر لیٹا تھا کسی کی موجودگی محسوس کرتا چونک کر ایک دم آنکھیں کھول گیا۔اس کی آنکھیں سیدھا اس معصوم لڑکی سے ٹکرائیں جس میں راجہ کی جان بستی تھی۔
“رانی۔۔۔۔آہ!!!!”
وه اسے پکارتا ایک دم اوپر کو اٹھا تو ٹانگ میں لگی چوٹ نے كراه نکال دی۔
نوریہ دوڑ کر اس کی طرف لپكی اور اسے سہارا دے کر پیچھے لٹانے لگی۔اس کا سر سرہانے پر سہی سے رکھتی وه پیچھے ہٹنے لگی تو وه اس کی کلائی تھام کر اسے خود سے نزدیک کر گیا۔اسے چوٹ لگنے کے خوف سے نوریہ تیزی سے اپنا ہاتھ راجہ کے سر کے پاس بیڈ پر جما گئی۔
“مارنا چاہتی ہے؟؟؟”
اس کی بات پر نوریہ رونا بھول کر ہونق بنی اسکی شکل دیکھنے لگی۔
“کک۔۔۔کیا مطلب؟؟؟”
ہونق پن صرف چہرے پر ہی نہیں لہجے میں بھی واضح تھا۔
“جان سے مارنا چاہتی ہے نا مجھے؟”
اس کے سوال پر وه بے یقین نگاہوں سے اسے تكتی تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔ آنسو پھر سے رواں ہو چکے تھے۔
وه اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتا اس کا چہرہ جھکا کر اسے اپنے قریب تر کر گیا کہ نوریہ اپنی سانسیں روک کر رہ گئی۔
“اگر مجھے مارنا نہیں چاہتی تو پھر یہ آنسو کیوں بہا رہی ہو جو میرے دل پر خنجر کی طرح تیز وار کر کے میری جان لے رہے ہیں؟ جان چاہئے تو صاف بولو اف کیے بغیر یہ جان تمہاری ہتھیلی پر رکھ دوں گا۔ یہ آنسو بہا کر کیوں تڑپا رہی ہو؟ کافی ظالم ہو تڑپا کر مارنا چاہتی ہو۔”
اس کی ظالم بات پر وه ضبط کھوتی بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی تو راجہ اپنا ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا کر بازو اس کی کمر میں ڈالتا اسے نرمی سے اپنے ساتھ لگا گیا اور سر جھکا کر اسے دیکھنے لگا جو اب اس کے زخموں سے چور وجود پر نیم دراز اس کے سینے پر سر رکھے رو رہی تھی۔ وه لب سختی سے آپس میں پیوست کرتا اپنی تکلیف پر قابو پانے لگا۔
“ترس کھا لو مجھ پر!!! اس طرح یہ قیمتی آنسو بے مول کر کے اور ان حسین آنکھوں پر ستم ڈھا کر کیوں میرے کمزور دل کو مزید کمزور کرنے پر تلی ہو۔”
اس کے بے بسی بھرے لہجے پر وه نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگی اور پھر دیکھتی ہی رہی۔
“غور سے سنو!!!”
وه اس کا سر اپنے سینے میں موجود دھڑکتے ہوئے دل کے مقام پر رکھ گیا۔
“محسوس کر سکتی ہو؟؟؟”
وه اس کا گال سہلا تا نوریہ سے پوچھنے لگا جو ساکت سی اس کے بے تحاشہ دھڑکتے ہوئے دل کی دھڑکن صاف محسوس کر رہی تھی۔
“یہ حالت کر دیتی ہو تم میری۔ بستر پر بے بد پڑا ہوں۔ ایسے میں کیوں میرے ضبط کا امتحان لے رہی ہو۔”
لہجے میں بے بسی ہی بے بسی تھی۔ نوریہ کو مزید زور کا رونا آنے لگا۔ وه اونچا لمبا مضبوط مرد واقعی اس نازک کلی کے سامنے ہار جاتا تھا۔
“میں بہت ڈر گئی تھی۔”
وه اپنا ناک اس کی شرٹ سے صاف کرتی بتانے لگی۔
“میں محسوس کر سکتا ہوں!!!!”
وه سر ہلا کر بتلانے لگا۔
“مجھے لگا آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی میری جان نکل جاۓ گی۔”
وه اس کی شرٹ سختی سے اپنے ہاتھ میں جکڑ کر اس کے سینے میں سر چھپا گئی ۔
“ایسے کیسے نکل جاتی تمہاری جان۔ فکر مت کرو ہمارا ساتھ ازل سے ابد تک ہے۔”
وه اس کا سر چومتا یقین دہانی کروانے لگا۔
“ہاں ہم صرف ایک دوسرے کے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔”
وه ضدی لہجے میں جتانے لگی تو وه دھیرے سے ہنس دیا۔
“میں جانتا ہوں۔”
یقین بھرے لہجے میں مسکراہٹ کی آمیزش تھی۔
“کتنا روتی ہو یار!!!! میرے بےبی کو بھی اپنی طرح روندو بنا دو گی تم تو!!!
اس کی شرارت پر وه جھٹکے سے سر اٹھا کر ماتھے پر تیوری چڑھاۓ اسے گھورنے لگی۔
“جی نہیں!!! میرا بےبی روندو نہیں ہوگا۔ وه میری طرح معصوم اور بریو ہو گا۔”
اس کے گردن اکڑا کر کہنے پر وه متاثر ہوتا سر ہلا گیا۔
“پر مجھے میرا بےبی میرے جیسا چاہئے!!!!”
وه مسکرا کر اپنی فرمائش ظاہر کرتا اس کے گال پر جھولتی لٹ کانوں کے پیچھے اڑسنے لگا۔
“کیا؟؟؟؟ مجھے اپنا بےبی ٹھرکی نہیں چاہئے!!!”
اس کے یوں چیخ کر بولنے پر راجہ بھونچکا رہ گیا۔
“میں ٹھرکی ہوں؟؟؟”
وه خود سے بڑبڑا کر رہ گیا وه نوریہ اس کی بڑبڑاہٹ اچھے سے سن چکی تھی۔
“تو نہیں ہیں کیا؟ ہر وقت تو ٹھرک جھاڑتے رہتے ہیں میرے ساتھ۔”
وه ناک سے مکھی اڑاتی بولی تو اس کی بہادری پر راجہ عش عش کر اٹھا۔
“وه ٹھرک نہیں میرا پیار تھا بیگم!!!!!”
اس بیچارے کو تو صدمہ ہی لگ گیا تھا اس کی بات سے۔
“اچھا تو میں ٹھرکی ہوں نا!!! ابھی دکھاتا ہوں اپنا ٹھرک پن۔”
وه اسے كهينچ کر احتیاط اپنے اوپر گرا گیا۔
“راجہ نہیں!!! ہم ہوسپٹل میں ہیں”
وه چیخنے لگی پر وه اس کی ایک بھی سنے بغیر اس کی سانسیں خود میں قید کر گیا جب کہ اس کی شرارت پر وه خود کو کوس کر رہ گئی۔
°°°°°
وه جهنجھلائی سی اپنے پیروں میں موجود ہیلز کے ساتھ الجھ رہی تھی۔
باسم کی کوئی بزنس پارٹی ہے جس میں مومل کو ساتھ کے جانے کا شوشا وہ سب کے سامنے چھوڑ چکا تھا اور مومل کی ایک بھی سنے بغیر اسے پارٹی میں جانے پر فورس کر دیا گیا تھا۔
وه مناہل کو ساتھ لے جانا چاہتی تھی پر باسم سب کے سامنے ہی کہہ چکا تھا کہ رات آنے میں کافی دیر ہی سکتی تھی اس وجہ سے مناہل کی نیند خراب ہو گی تو اسے ساتھ لے جانا مناسب نہیں جس کے جواب میں مومل صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئی۔
رات کے آٹھ بج چکے تھے اور باسم اب تک آفس سے واپس نہ لوٹا تھا۔
“لارڈ صاحب خود کہاں غائب ہیں اب!!!!”
ابھی اس کا بڑبڑانا جاری رہتا اس سے پہلے ہی دروازہ دھیرے سے کھلنے کی آواز مومل کو چوکنا کر گئی۔
چاہے جتنا مرضی نفرت کا پرچار کرتی پر اس ستمگر سے محبت تو آج بھی تھی اور بے تحاشہ تھی۔ یوں سج سنور کر اس کے سامنے جانے سے مومک کے دل کی حالت غیر ہونے لگی۔ دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی پر وه دھڑکتے دل پر قابو پانے کی کوشش کرتی یوں ہی جھک کر ہیلز کی سٹرپ سے الجھنے لگی جو بند ہی نہ ہو رہی تھی۔
بھاری قدموں کی چاپ مومل کی اپنے نزدیک ہوتی محسوس ہوئی تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
باسم آفریدی جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا اندر پهيلی مسحورکن خوشبو اس کے حواسوں پر خوش گوار اثر چھوڑ گئی۔ وه آنکھیں بند کرتا گہری سانس بھر کر اس خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا جب چوڑیوں کی کھنک اس کے حواس بیدار کر گئی۔ وه چونک کر آنکھیں کھول گیا۔
اس کی نظریں بے ساختہ سامنے نظر آتے دلکش منظر پر گئیں اور پھر وہیں جم کر رہ گئیں۔
سامنے ہی وه اپسرا بلڈ ریڈ كلر کی ساڑھی پہنے اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہی تھی۔ ریڈ كلر کی نیٹ کی سلیوز میں اس کے دودھیا بازو مزید دمك رہے تھے۔
لمبے (ارسم کے بقول چڑیلوں والے) ناخن بھی لال رنگ سے رنگے اس کی مخروتی انگلیوں کو چار چاند لگا رہے تھے۔
جھکنے کی وجہ سے گھٹاؤں سی زلفیں آدھی کندھے پر بکھری تھیں جب کہ آدھی چہرے پر پڑتی اس کا چہرہ ڈھک گئی تھیں۔
بوٹ گلے سے جھانکتی اس کی دودھیا گردن اس کو بہکانے لگی تھی۔ اس کے کانوں میں پہنے جھمکوں کے ساتھ باسم آفریدی کا دل بھی ڈولنے لگا تھا۔
وه ٹرانس کی کیفیت میں قدم بڑھاتا اس کی طرف بڑھنے لگا۔ بے قرار دل ہمک ہمک کر اس دلنشین کی طرف جانے کی ضد کر رہا تھا۔
وه اس کے قریب پہنچ کر اپنے قدم روک کر اپنا ہاتھ بڑھاتا اس کی ٹھوڑی تھام گیا تو مومل لرز اٹھی۔ باسم اس کی ٹھوڑی تھام کر اس کے چہرہ اٹھا گیا۔
کاجل سے لبریز نین کٹورے، گالوں کی لالی اور ہونٹوں کی سرخی باسم آفریدی پر خمار طاری کر گئے۔ ان کی نظریں آنکھوں سے پھسلتی لال ہونٹوں پر گئیں تو حلق میں کانٹے اگ گئے۔ وه دوسرے ہاتھ سے گلے میں پہنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرنے لگا۔اس کی نظروں کا مرکز دیکھ کر مومل گڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک سائیڈ سے گزرنے لگی پر س کی ہیلز اسے عین موقع پر دھوکہ دے گئیں۔
“آہ!!!!!”
اس سے پہلے کہ وه لڑکھڑا کر گرتی باسم تیزی سے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسے اپنی طرف کھینچ گیا۔
وه دھک دھک کرتے دل کے ساتھ اس کے دونوں کندھوں پر اپنے ہاتھ جمائے خود کو اس کے اوپر گرنے سے روک گئی۔
“انٹرسٹنگ!! ویری انٹرسٹنگ!!!!”
اس کی گھمبیر سرگوشی سے وه ہوش میں لوٹی۔
“چھوڑیں!!!”
وه ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹتی اس کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا گئی تو اس کی حرکت پر وه لب بھینچ کر رہ گیا پھر جانے کیا سوچ کر بے ساختہ مسکرا دیا۔
اس کی مزاحمت کی پرواہ کیے بغیر وه اسے کندھوں سے تھام کر پیچھے سٹول پر بیٹھا گیا اور خود ایک گھٹنا زمین پر ٹکاۓ اس کے سامنے بیٹھ کر اس کی ٹانگ تھام کر اس کا پاؤں اپنے گھٹنے پر رکھ گیا۔
وه حق دق سی اس کے عمل کو دیکھ رہی تھی۔وه كسمسا کر اپنا پاؤں پیچھے کرنے لگی تو وه اس کی پنڈلی تھام کر اسے گھور گیا جس پر وه چپکی بیٹھی رہ گئی۔
باسم نے ساڑھی اس کے پاؤں سے اوپر کی جانب كهسكائی تو اس کی گوری پنڈلیاں باسم آفریدی کا دل بے ایمان کرنے لگیں۔ باسم نے ہاتھ ہولے سے اوپر كهسكاتے اس کی پنڈلیوں کو دھیرے سے چھوا تو وه کانپ اٹھی۔ اس کی سرخ پڑتی رنگت باسم کو مزید گستاخی پر اکسا رہی تھی پر وه جانتا تھا اس کے نتیجے میں وه بھڑک اٹھے گی اسی لئے اپنے دل کو تھپک کر چپ کروانے لگا۔ وه باری باری اس کے دونوں پاؤں میں ہیلز پہنا کر سٹرپس بن کر گیا تو وه تیزی سے اٹھتی ڈریسنگ ٹیبل کے آگے جا کھڑی ہوئی جب کہ وه اس کی پھرتی دیکھتا رہ گیا۔
گھڑی پر نظر پڑتے ہی اسے ديری کا احساس ہوا تو الماری کے باہر ہینگ ہوئے کپڑے تھام کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
وه تیار ہو کے باہر آیا تو مومل بیڈ پر بیٹھی ہاتھ میں پکڑے موبائل پر کسی سے بات کر رہی تھی۔وه اسے ایک نظر دیکھتا ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑے ہو کر بال خشک کرنے لگا۔ اس کی نظریں بھٹک بھٹک کر اس اپسرا کی طرف ہی جا رہی تھیں جو اس سے بے نیاز بیٹھی تھی۔
ایک دم وه اٹھی اور سہج سہج کر چلتی اس کی طرف آئی۔ اس کا خوبصورتی سے تراشا گیا بدن ایک دفعہ پھر سے باسم آفریدی کے حواس سلب کرنے لگا تھا۔
مومل اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوتی اپنا موبائل اس کی طرف بڑھا گئی۔
“آپ کال نہیں پک کر رہے بڑے پاپا کی۔ یہ لیں بات کریں۔”
سپاٹ انداز میں کہتی وه اپنا موبائل اس کی طرف بڑھا گئی۔ وه موبائل اس کے ہاتھ سے تھام کر کان سے لگا گیا تو مومل ڈریسنگ ٹیبل پر بکھرا سامان سمیٹنے لگی۔
وه بات کر چکا تو کال بند کر کے اس کا موبائل اپنے ہاتھ میں گھمانے لگا۔ مومل اسے کمرے کے وسط میں کھڑے اپنے موبائل کے ساتھ سركس کرتے دیکھ کر آنکھیں گھماتی اس کی طرف بڑھی اور اپنا ہاتھ سامنے پھیلا گئی۔
اس کی شفاف ہتھیلی دیکھ کر وه دلکشی سے مسکرا دیا۔
باسم نے دوسرا ہاتھ جیب سے نکالا اور اپنے سامنے پھیلا مومل کا نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑ کر اسے اونچا کر کے گھما گیا۔ اس کے گھومنے سے اس کی ساڑھی کا پلو بھی اس کے ساتھ رقص کرنے لگا تھا۔ مومل حیران پریشان سے یہ صورت حال سمجھنے سے قاصر تھی۔ باسم نے مومل کو گھما کر اسے اپنے بازو پر ڈالا تو مومل چکراتے سر کے ساتھ اس کا کالر دونوں ہاتھوں میں سختی سے دبوچ کر آنکھیں سختی سے میچ گئی۔ باسم آفریدی بے خود ہوتا اس کے چہرے پر جھک کر اس کے نشیلے لبوں پر اپنی محبّت کی چھاپ چھوڑنے لگا۔ اسکی اکھڑتی سانسیں محسوس کرتا وه خود پر ضبط کرتے ہوئے پیچھے ہٹا اور اس کے بھیگے لبوں کو دیکھ کر پھر سے مدہوش ہونے لگا پر اس کی حالت دیکھ کر خود پر قابو پاتے اپنے عنابی لب اس کی خم دار پلکوں سے سجی آنکھوں پر جما گیا۔
“میرے لئے نشے کی بند بوتل ہو تم!!!!”
اس کی گھمبیر بے باک سرگوشی سن کر مومل ہوش میں آتی جھٹکے سے پیچھے ہٹی اور خفت سے ڈریسنگ روم میں جا بند ہوئی۔ اس کے كترانے پر وه سر نفی میں ہلا کر رہ گیا۔
“بیٹا اور بن تیس مار خان اور چھوڑ کر جا اپنی محبت کو۔ شادی شدہ ہو کر بھی کنورارہ رہے گا تو شاید ساری عمر۔
وه خود سے بڑبڑاتا اپنی تیاری کرنے لگا۔
