Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

وه کافی دیر سے ایک ہی پوزیشن میں سٹل بیٹھی تھی۔ حاشر مسلسل میسجز کر رہا تھا۔اس کا دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔ اس کا دل کر رہا تھا سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دے۔ وه حاشر کے ساتھ واقعی بہت زيادتی کر گئی تھی۔ وه تو صرف اولاد چاہتا تھا نوریہ سے۔ اولاد کی خاطر اس نے اتنی بڑی قربانی دی تھی ورنہ ایسی قربانی کون دیتا ہے۔ اپنی محبت اپنی بیوی کو کسی اور کے لئے چھوڑنا آسان کام تو نہیں۔ اس کام کے لئے بہت جگرا چاہئے ہوتا ہے۔ وه جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی اس کا سر درد بڑھتا جا رہا تھا۔
اس کی طبیعت کافی دنوں سے گرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی پر وه اپنی پریشانی میں اپنی طبیعت پر دھیان نہیں دے رہی تھی۔
“میری رانی!”
راجہ کی محبت بھری پکار پر وه تمام سوچوں کو جھٹکتی خود کو نارمل کرنے لگی۔
“جی!”
وه اس کی پکار کا جواب دیتی بیڈ سے اٹھی تو ایک دم اس کا سر چکرایا۔
وه گرنے کے انداز میں واپس بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“کیا ہوا؟”
وه تیزی سے اس کی طرف آیا اور اس کے پاس کھڑے ہو کر جگ سے گلاس میں پانی ڈالتا اس کے منہ سے لگا گیا۔
“یہ پانی پیو پہلے!”
وه اسے پانی پلانے کے ساتھ دوسرے ہاتھ سے اس کا سر سہلانے لگا۔
“بس!!!”
وه دو گھونٹ بھر کر گلاس پیچھے کر گئی۔
“کیا ہوا ہے طبیعت کو ؟ تمہاری طبیعت خراب تھی اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں۔ چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔”
وه اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر نہایت فکر مندی سے پوچھنے لگا۔
“مجھے کہیں نہیں جانا میں ٹھیک ہوں بلکل۔”
وه اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا گئی۔
“نہیں ٹھیک۔ اگر ٹھیک ہوتی تو یوں چکر نہیں آتے۔”
وه اب کی بار اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دبا گیا۔
“میرے سر میں کافی درد ہے۔”
وه اس کی فکر میں اس کے سرد تاثرات محسوس ہی نہ کر پایا تھا۔
“تو پہلے کیوں نہیں بتایا میری جان۔ چلو دوائی لے کر آتے ہیں۔”
اس کی فکر مندی کسی صورت کم نہ ہو رہی تھی۔
“نہیں میں صرف کچھ دیر ریسٹ کروں گی۔”
وه کہنے کے ساتھ اپنے ہاتھ چھڑوا کر لیٹنے لگی۔
“نہیں لیٹو مت میں کھانا لے کر آتا ہوں کھا کر پھر سو جانا۔”
وه اس کے گال تهپتهپا کر بولا۔
وه بلکل بھی کچھ کھانا نہیں چاہتی تھی پر جانتی تھی کہ وه نہیں مانے گا اس لئے چپ رہی۔ اسے چپ بیٹھے دیکھ کر وه اٹھ کر کچن کی طرف چلا گیا۔ کچھ دیر بعد کمرے میں آیا تو اس کے ہاتھ میں ٹرے موجود تھی جس میں کھانا رکھا گیا تھا۔ وه بہت مشکل سے اسے تھوڑا سا کھانا ہی کھلا پایا بس۔
جب وه کھانا کھا چکی تو وه اس کا ماتھا چوم کر کمرے کی لائٹ بند کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی جو سات بجنے کا پیغام دے رہی تھی۔ اسے بہت ضروری کام سے ایک آدمی سے ملنا تھا۔ نوریہ کی طبیعت دیکھ کر وه جانا تو نہ چاہ رہا تھا پر کام بہت ضروری تھا۔ دس منٹ کے بعد وه دبے پاؤں کمرے کے دروازے پر آیا تو وه کمبل منہ تک لئے سو رہی تھی۔ وه گہری سانس بھرتا دبے قدموں سے گھر سے باہر نکل گیا۔ اسے امید تھی کہ وه گھنٹے سے پہلے ہی واپس آ جاۓ گا۔
کچھ دیر یوں ہی لیٹے رہنے کے بعد اسے گھر کا مین دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز سنائی دی۔ وه سمجھ گئی کہ راجہ باہر گیاہے۔ اس نے کمبل سر سے سرکا کر دیکھا تو وه کہیں نظر نہ آیا۔
خود کو اکیلا پاتے ہی آنسو بھل بھل کرتے گالوں پر بہنے لگے تھے۔
“یا اللّه!”
خود کو مشکل گھڑی میں پا کر وه کوئی سہارا نہ پاتے اللّه کو یاد کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ وہی تو ہے جو دلوں کے حال سے واقف ہے اور اپنے بندے کی ہر پکار سنتا ہے۔ وہ اپنے مولا کو یاد کرتی آنسو بہاتی سہی راستہ دکھانے کی دعا کرتی رہی۔ دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا تو وه کچھ پر سکون ہوتی سو گئی۔
گھنٹے کے بعد وه یوں ہی دبی قدموں گھر میں داخل ہوا اور گھر لاک کرتے اندر کمرے میں آ گیا۔ نوریہ اب تک سو رہی تھی۔
وه اپنے ہاتھوں میں موجود بینڈز انگوٹھیاں اور گلے میں پہنی چینز اتار کر بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔ بیڈ پر بیٹھ کر بالوں میں پہنی گئی پونی بھی اتار کر سائیڈ پر پهينک دی۔ وه دھیرے سے کمبل کے اندر گھستا اس کے بلکل پیچھے جا لیٹا۔
اس کے منہ سے آہستگی سے کمبل اتارا تو اس کے چہرے پر مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان نے اسے گہری سوچ میں مبتلا کر دیا۔ وه جانتا تھا کہ وه کسی بات پر پریشان ہے پر اس سے شیر نہیں کر رہی۔ آخر ایسی کیا بات ہو سکتی ہے۔
وه دھیرے سے اسے سیدھا کے کے اس کا سر اپنے بازو پر رکھ گیا اور اس کے چہرے پر جھکتے نرمی سے اس کے گال کو اپنے ہونٹوں کے لمس سے مہکانے لگا۔
“میری زندگی!”
وه اسے نرمی سے اپنے سینے میں بھینچ کر خود بھی سکون سے آنکھیں بند کر گیا۔
°°°°°
“ارمش! بیٹا میں اندر آ جاؤں؟”
وه بیڈ پر بیٹھی موبائل ہاتھ میں پکڑے کینڈی کرش کھیلنے میں مگن تھی جب اسے ایشا آفریدی کی آواز سنائی دی۔
وه چونک کر دروازے کی طرف دیکھنے لگی جہاں ایشا آفریدی کھڑی مسکرا رہی تھیں۔
“ماما آپ پوچھ کیوں رہی ہیں آئیں نا پلیز!”
وه موبائل رکھتی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور کہنے کے ساتھ ہی ان کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے پاس پہنچ کر وه ان کا ہاتھ پکڑ کر چوم گئی۔
“میری پیاری بیٹی!”
ایشا آفریدی اس کی معصوم ادا پر نثار ہوتی اسے اپنے ساتھ لگا کر اس کا ماتھا چوم گئیں . وه ان کے اس عمل پر جهینپ کر مسکرا دی۔
ایشا آفریدی اسے ساتھ لئے کمرے میں ایک طرف پڑے کاؤچ کی طرف بڑھ گئیں۔
“بیٹھو بیٹا یہاں۔ مجھے آج اپنی بیٹی سے ڈھیر سی باتیں کرنی ہیں۔”
وه اسے اپنے سامنے صوفے پر بیٹھا اس کے کمزور ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام گئیں۔ وه بس مسکرا کر رہ گئی۔
“کیسی ہو تم؟ خوش تو ہو نہ ارسم کے ساتھ؟ ارسم میری بیٹی کا خیال بھی رکھتا ہے کہ نہیں ۔”
وه نرمی اور محبت سے اس سے استفسار کرنے لگیں۔
“ارسم بہت بہت بہت زیادہ اچھے ہیں ماما اور میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ رات مجھے اکیلے سونے سے ڈر لگتا تھا پر آپ کو پتا ہے ارسم مجھے اپنے بازو پر سلاتے ہیں اور میرے فارہیڈ پر گڈ نائٹ کس بھی دیتے ہیں اور۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه مزید گوہر افشانی کرتی ایشا آفریدی سٹپٹا کر اسے ٹوک گئیں۔
“بس بیٹا! میں جانتی میرا بیٹا میری پیاری سی بیٹی کا بہت خیال رکھتا ہے۔”
وه اس کے جواب پر سٹپٹا ہی تو گئیں تھیں۔ وه بیوقوف لڑکی میاں بیوی کی پرسنل باتیں بھی اپنی ساس کے سامنے کھولنے بیٹھ گئی تھی۔ پر ایشا آفریدی یہ بھی جانتی تھیں کہ وه حد درجہ معصوم تھی۔ انہیں وه اس دنیا کی لگتی ہی نہ تھی۔
بیٹا میری ایک بات دھیان سی سنو! میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ہم راز ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کا آئینہ ہوتے ہیں۔اس روۓ زمین پر سب سے خوب صورت اور اہم رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ اللّه نے جب انسان کی تخلیق کی جوڑے بنائے تو سب سے پہلے ماں باپ کا رشتہ نہیں بنایا۔ بہن بھائی کا رشتہ نہیں بنایا۔ سب سے پہلے رشتہ بنایا تو میاں بیوی کا بنایا۔سب سے اہم اور بنیادی رشتہ میاں اور بیوی کا ہے۔ سب سے پہلا اور آخری رشتہ بھی میاں اور بیوی کا ہے۔ اچھی بیویاں اپنے شوہر کو کبھی بے پردہ نہیں کرتی اور نہ ہی میاں بیوی کی آپس کی باتیں کسی تیسرے شخص کو بتاتی ہیں۔ سمجھی میری بچی؟”
وه بہت نرمی سے اس کی کچے ذہن میں پختہ باتیں بیٹھا رہی تھیں۔
ان کی بات غور سے سنتی اور سمجھتی ارمش اثبات میں سر ہلا گئی۔
“سمجھ گئی ماما!”
وه پر جوش ہو کر بولی تو ایشا آفریدی بے ساختہ اس کی موہنی صورت دیکھتی دل ہی دل میں اس کی نظر اتارنے لگیں۔
“اب میں اپنی بیٹی سے کچھ پوچھنے لگی ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ میری بیٹی مجھے سب سچ بتائے گی۔”
وه اپنے ہاتھ میں دبے ارمش کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر کے بہت نرمی سے استفسار کرنے لگیں جس کے جواب میں وه محض سر ہلا گئی۔
“ارمش اپنے ماما پاپا کے گھر کیوں نہیں جانا چاہتی؟ کیا ماما پاپا یاد نہیں آتے ارمش کو؟”
ان کے سوال پر ارمش کا رنگ تیزی سے بدلا اور چہرے پر خوف کے بادل چھا گئے۔ ایشا آفریدی بہت غور سے اس کے ایک ایک تاثر کو جانچ رہی تھیں۔
“میرے پاپا کو تو اللّه نے اپنے پاس بلا لیا۔تب بہت چھوٹی تھی میں۔”
وه نم آنکھوں کے ساتھ بولی تو اس کی بات پر ایشا آفریدی بھی غمگین ہو گئیں۔
“روتے نہیں میری بچی۔ اللّه کو بہت پیارے ہوں گے وه اس لئے انھیں اپنے پاس بلا لیا۔”
وه اسے نرمی سے پچکارتے ہوئے بولیں تو وه آنکھیں جهپك جهپك کر آنسو روکنے کی کوشش کرتی سر ہلا گئی۔
“اور ماما! ان سے ملنے کا دل نہیں کرتا کیا؟”
ان کے پوچھنے پر ایک درد ناک منظر پورے آب ع تاب سے اس کے ذہن کے پردوں پر نمودار ہوا تھا۔
وہ چھوٹی سی معصوم پری اس وقت خوف سے لرزتی كانپتی بیڈ کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ اپنے ماں باپ کے چیخنے اور چلانے کی آوازوں سے بچنے کے لئے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے تھے جب کہ اپنی چیخیں روکنے کے لئے اپنے ہونٹ سختی سے بند کر کے منہ گھٹنوں پر جما رکھا تھا۔
“تم گھٹیا عورت۔۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اس قدر گھٹیا اور لالچی نکلو گی۔ اپنی حوس پوری کرنے کی خاطر تم نے اس معصوم کی جان لے لی اور خود مظلوم بن کر میرے سامنے آ گئی۔”
وہ کسی مرد کی آواز تھی جو غصے سے چیخ رہا تھا۔
“دد۔۔۔دیکھو تم غلط سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں جیسا تم کہہ رہے ہو۔ تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے کوئی۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس کا الزام مجھ پر لگا رہے ہو تم!”
وہ عورت اس کا ہاتھ پکڑتی منت بھرے لہجے میں بولی۔
“غلط فہمی! تم کہ رہی ہو کہ غلط فہمی ہوئی ہے مجھے۔شک تو پہلےہی ہو گیا تھا مجھے تم پر پر آج میں نے خود اپنے ان کانوں سے تمہیں اپنے گھٹیا کارناموں کا اعتراف کرتے سنا ہے۔ تم اب بھی حقیقت کو جھٹلاؤ گی ہاں! اس کا نہیں تو اس کی معصوم بچی کا ہی خیال کر لیتی جس نے ابھی تو اس دنیا میں آنکھ کھولی اور تم نے ساتھ ہی اس کے سر سے ماں کا سایہ چھین لیا۔میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ذلیل عورت۔ ابھی پولیس کو کال کر کے لاک اپ میں بند کرواتا ہوں تمہیں اور ایک جان لینے اور فراڈ کے جرم میں پھانسی پر نہ بھی چڑھی تو ساری عمر جیل کاٹو گی۔”
وہ تیش کے عالم میں اسے اس کی حقیقت باور کرواتا جیب سے اپنا فون نکال کر کال ملانے لگا۔ اس سے پہلے کے وہ کال کر پاتا وہ ایک دم اس پر جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے فون چھین گئی۔
“ہاں ہاں کیے ہیں میں نے یہ جرم۔ میں نے ہی اس کی جان لی پر کیا ثبوت ہے تمھارے پاس اس بات کا۔ کوئی بھی نہیں۔ تم واحد گواہ ہو نہ پر جب تم ہی نہیں رہو گے تو کون سا ثبوت اور کہاں کا ثبوت۔ ہاہاہا۔ بائے بائے ڈیئر ہبی!”
وہ مکروہ ہنسی ہنستی ایک دم سائیڈ ٹیبل پر پڑا گلدان جهپٹ کر پکڑتی اس کے سر میں مار گئی۔ وہ بیچارہ آدمی ابھی پہلے وار سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ اس عورت نے اس کے سر پر پے در پے کئی وار کر دیے۔ دماغ پر کاری ضربیں لگنے سے وہ آخری دفعہ اپنی پری کا چہرہ دیکھنے کی حسرت لئے موقع پر ہی دم توڑ گیا جب کہ بیڈ کے نیچے چھپا وجود اپنے سائبان کا خون میں لت پت وجود دیکھ کر خوفو حراس کی آخری حد کو چھوتا ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔
“ارمش!!”
ایشا آفریدی فکر مندی سے اسے پکارتی جهنجھوڑنے لگیں جو پیلی پڑتی ساکت ہو چکی تھی وه کب سے اسے پکار رہی تھیں۔
“ارمش!”
ان کے پھر سے جهنجھوڑنے پر وه ہوش کی دنیا میں واپس لوٹی۔
“ہا۔۔۔ہاں کیا ہوا؟”
وه غائب دماغی سے پوچھنے لگی۔ اس کی حالت ایشا آفریدی کو نارمل نہیں لگی۔
“اٹھو بیٹا اٹھو شاباش بیڈ پر چلو۔”
وه اسے اپنے ساتھ لئے بیڈ کی طرف آ گئیں۔ اسے بیڈ پر لٹا کر وه اس کے پاس بیٹھ کر اس کا سر تهپتهپانے لگیں۔
اس کی سانسیں بھاری ہوتی دیکھ کے جب وه پر یقین ہو گئیں کہ وه سو چکی ہے تو وه کمرے کی لائٹ بند کر کے کمرے سے باہر چل دیں۔ انہیں جلد سے جلد ارسم سے بات کرنی تھی۔