Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


وہ چیخ چیخ کر اب تهك چکی تھی۔ آنسو بہا بہا کر آنکھیں خشک کر چکی تھی پر کوئی اس کی پکار سننے یا حالت دیکھنے والا موجود نہ تھا۔ وہ یہ سوچ سوچ کر تھک چکی تھی کہ آخر ایسا کس ظلم کس نے کیا تھا اس کے ساتھ۔ اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟ وہ تو اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی کو جانتی تک نہ تھی۔ تو پھر اس سے کس کی دشمنی ہو سکتی تھی۔ ابھی بھی وہ زمین پر بیٹھی دونوں بازو ٹانگوں کے گرد لپيٹے سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ وہ ڈر کے مارے آنکھیں زور سے بند کر گئی۔ خوف سے تھرتھراتا وہ نازک سا وجود قابل رحم حالت میں تھا۔
آنے والے نے اندھیرے میں ہی سوئچ بورڈ ٹٹولتے کمرے کے ساری لائٹس آن کر دیں۔ تاریکی میں ڈوبا کمرہ روشنی میں نہا گیا۔
“کیسی ہو میری پیاری!”
شناسا آواز سنتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے اپنا سر اوپر اٹھایا اور اسے دیکھتی ہی بھاگتی ہوئی اس کی گلے جا لگی۔
“شکر ہے آپ آ گئے۔ مم ۔۔۔میں بہت۔۔۔بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔مجھے گھر جانا ہے پلیز۔۔۔مجھے یہاں سے لے چلیں!”
وہ روتی كانپتی خوف کے سخت حصار میں تھی پر کسی بہت اپنے کو اس قدر نزدیک دیکھ کر دل ہلکا پھلکا ہو چکا تھا۔ اب اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔
“اگر گھر ہی لے کر جانا ہوتا تو یہاں کیوں لے کر آتا تمہیں میری جان! بہت مشکل سے تو ميسر آئی ہو مجھے تم! آج تو جشن کا انتظام ہوگا۔ ہاہاہا!”
اس کی معنی خیز باتیں اور مکروہ ہنسی سنتی وہ ایک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی اور اس کی آنکھوں میں نظر آتی خباثت دیکھ کر ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی بے یقینی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
وہ کم عمر اور نادان ضرور تھی پر خود پر اٹھنے والی نظروں کا مطلب خوب سمجھ رہی تھی۔ اس کا دماغ کہہ رہا تھا کہ وہ بہت بڑی مصیبت میں پھنس چکی ہے۔ پر دل اتنے بڑے دھوکے کو سہنے پر آمادہ نہ تھا۔
“جانتی ہو کتنا انتظار کیا ہی میں میں نے۔ صرف آج کے دن کے لئے۔ اور دیکھو آخر کار مجھے میرے صبر کا پھل مل ہی گیا۔ اور میں جانتا ہوں یہ پھل نہایت میٹھا اور لزیز ہوگا۔ کیوں سہی کہا نا؟”
اس کی بات کے جواب میں وہ بے ساختہ ہی اپنا ہاتھ اٹھا گئی جو اس فریبی اور گھٹیا انسان کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔
“یوو! ہمت کیسے ہوئی تیری مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ہاں! بول!”
وہ تیش میں آتا اس کے بال مٹھی میں جکڑ گیا۔
“اب دیکھ تیرا کیا حال کرتا ہوں۔ میں نے سوچا تھا کہ نازک سی ہو تم پیار پیار سے ہی کام نکلوا لوں گا پر اب سمجھ میں آیا کہ پیار والی اوقات نہیں تمہاری۔ بس دیکھتی اور سہتی جاؤ اب!”
وہ اسے بالوں سے ہی کھینچتا لے جا کر بیڈ پر دھکا دے گیا اور اس کی آہ و فریاد اور چیخ و پکار کو نظر انداز کرتا وحشیانہ انداز میں اس پر جھکتا اسے نوچتا کھسوٹتا چلا گیا۔
پھر دو دن بعد جب خود کا دل بھر گیا تو اسے اپنے آوارہ دوستوں کے آگے پهينك دیا۔ تیسرے دن جب وو معصوم جان خود پر مزید ظلم نہ سہتی مرنے کے قریب پہنچ گئی تو وہ اسے گاڑی میں ڈال کر ایک سنسان سڑک پر پهينك گئے۔
°°°°°°°°°
وہ کل رات ہی گھر واپس لوٹا تھا۔ باسم کے ساتھ گپ شپ کرنے اور مناہل کے ساتھ بہت سا کھیلنے کے بعد اس نے اپنے کمرے کا رخ کیا۔بیڈ پر گرتے جیسے ہی آنکھیں بند کیں تو ایک نازک جان کا معصوم چہرہ آنکھوں کے پردوں پر لہرا گیا۔ وہ بہت چھوٹی سی تھی۔ اس سے کم از کم سات آٹھ سال چھوٹی لگ رہی تھی دیکھنے میں پر اس کے دل کو بری طرح دھڑکا چکی تھی۔ رات اسے سوچتے سوچتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا ہی نہ چل سکا۔
اب بھی وہ سب کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد لاؤنج میں مومل اور مناہل کے ساتھ بیٹھا تھا پر ان کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی وہ وہاں موجود نہ تھا۔
“السلام علیکم ایوری ون!”
سلام کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے دريه کھڑی تھی۔
وعلیکم السلام ! کسی ہو دريه؟ بڑے لمبے عرصے کے بعد نظر آئی؟”
وہ خوشگوار لہجے میں بولا تو اس کے حسین چہرے کو دیکھتی دریہ کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ وہ کہاں جانتی تھی کہ اسے اتنا اچھا سرپرائز مل جاۓ گا۔ اپنے دلدار کو اتنی دیر بعد روبرو دیکھ کر سکون کی ایک لہر پورے وجود میں سرايت کر گئی۔
“ہم تو یہاں ہی ہوتے پر آپ ہی غائب رہتے ہیں۔ بھئی اتنے بڑے سٹار جو بن چکے ہیں آپ اب۔ اب تو لگتا ہے کہ آپ سے ملنے کی خاطر باقاعدہ اپائنٹمنٹ لینی پڑے گی ہم غریب لوگوں کو۔”
اس کی بات پر وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا جب کہ دریہ اپنے بے قابو ہوتے دل کو سنبھالنے کے جتن کرنے لگی۔
“نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے تم جانتی تو ہو ابھی تو کرکٹ سے بریک ملی ہے۔ میرا ارادہ تو دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا تھا پر اس مومل چڑیل نے کالز کر کر کے جان کھا لی ہوئی تھی میری!”
وہ شرارت سے کہتا مومل کی گود میں بیٹھی مناہل کو اٹھا کر واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا۔
“ارسم بھائی! میں چڑیل نہیں ہوں بلکہ آپ ہوں گے جن۔”
اس کے چیخنے پر ارسم اور دریہ ہنسنے لگے پر ان کی ہنسی بوکھلاہٹ میں تب بدلی جب مناہل ایک دم گلا پھاڑ کر رونے لگی۔
مومل اس کے کے رونے پر بے تاب ہوتی ایک دم اٹھ کر اس کی طرح بڑھی پر اگلے ہی لمحے اس لے قدم اپنی جگہ پر تھم گئے اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“ماما۔۔۔۔مینو کو ماما پاس جانا۔۔۔ماما۔۔۔۔”
مناہل روتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھ مومل کی طرف بڑھا چکی تھی جب کہ وہاں موجود تینوں نفوس ساکت ہو چکے تھے۔
سب سے پہلے ارسم اس ٹرانس سے باہر نکلا تھا۔
“پکڑ بھی لو اس کو چڑیل! رات کو تو میرے ساتھ اتنا کھیل رہی تھی اور اب دیکھو تمہیں سامنے دیکھتے ہی مجھے بھول گئی۔”
وہ اس کی بات کا اثر کم کرنے کی خاطر شرارت سے بولا۔
“آ جاؤ میری جان۔ مینو کو میلے پاش آنا تھا۔ میلے شاتھ كهيلی کرنی تھی۔”
وہ اسے گود میں لے کر گدگدی کرنی تو وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی جب کہ ارسم بہت غور سے مومل کی آنکھوں کی چمک دیکھ رہا رہا اور دریہ ارسم کو !
پھر کچھ دیر مزید ان کے ساتھ بیٹھنے کے بعد وہ وہاں سے نکل پڑا کیوں کہ اسے کچھ دوستوں سے ملنا تھا۔
دریہ بھی گھر سے کال آنے کے بعد وہاں سے چلی گئی تو مومل مناہل کو لئے کچن کی طرف بڑھ گئی کیوں کہ اسے شدید بھوک لگ رہی تھی۔
“مینو بےبی آپ یہاں بیٹھ کر ایپل کھاؤ تب تک میں جلدی جلدی اپنے لئے سینڈوچ بنا لوں۔ اوکے؟’
وہ اسے چیئر پر بیٹھا کر ایپل کاٹ کر پلیٹ میں رکھتی اس کے آگے رکھ کر پوچھنے لگی جس پر مناہل زور و شور سے سر ہلاتی اپنے سامنے والے چھوٹے چھوٹے دانتوں کی نمائش کرنے لگی۔
مومل کو اس کی پیاری سی حرکت پر اتنا پیار آیا کہ وہ ایک دم جھکتی اس کے گال چٹا چٹ چوم گئی جس پر مناہل کھلکھلا کر ہنس دی۔ وہ بھی مسکراتی اسے پیار سے دیکھنے لگی۔ یوں ہی مسکراتے اس نے جیسے ہی سر اٹھایا تو نگاہیں کچن کے دروازے کی بیچ و بیچ کھڑے باسم سے ٹکرائیں جو بلیک پینٹ کوٹ پہنے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے کھڑا سرد نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اسے دیکھتے ہی مومل کا رنگ خوف سے سپید پڑ گیا کیوں کہ وہ واشگاف الفاظ میں اسے دھمکا چکا تھا کہ وہ مناہل کے آس پاس بھی نذر نہ آئے۔
مومل نے ایک چور نظر ایپل کھاتی مناہل پر ڈال کر دوبارہ باسم کی طرف دیکھا جو کھا جانے والی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ جلدی سے اس پر سے نظریں ہٹاتی رخ موڑ کر چولہے کی طرح متوجه ہو گئی جب کہ وہ اس کو کمر پر جھولتی لمبی چوٹی کو دیکھتا رہ گیا۔
اسے اچھے سے یاد تھا کہ مومل کو لمبے بال شروع سے ہی پسند نہ تھے بلکہ وہ تو ضد کروا کے بال چھوٹے كرواتی تھی۔ پر اسے یہ بھی یاد تھا کہ وہ ایک دفع مومل کے خوبصورت سیاہ اور گھنے بالوں کی تعریف کر گیا تھا اور ساتھ سے لمبے کرنے کی خواہش بھی!
“باسم بھائی پلیز میرے ساتھ سیلون چلیں گے آپ؟ ارسم بھائی نے جانا تھا پر وہ تو کرکٹ کھیلنے چلے گئے۔ آپ پلیز چلیں میرے ساتھ۔”
وو باسم کے پاس صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی جہاں وہ ليپ ٹاپ سامنے کھولے کام کرنے میں مصروف تھا .
اس کی آواز سنتے ہی وہ ليپ ٹاپ بند کرتا پوری طرح سے اس کی طرف متوجه ہو گیا۔ بھلا ایسا ممکن تھا کہ وہ اپنی گڑیا کو نظر انداز کرتا۔
“کیوں بھئی میری چھوٹی سی گڑیا کو سیلون کس لئے جانا ہے۔”
وہ شرارت سے اس کا ناک دباتا ہوا بولا۔
“مجھے ہیئر کٹ لینا ہے ۔ یہ دیکھیں کتنے لمبے ہو گئے ہیں۔”
وہ ایک دم جوڑے میں بندھے بال کیچر کی گرفت سے آزاد کر گئی تو لمبے سیاہ گھنے بال لہراتے ہوئے اس کے کندھے اور کمر پر پهيل گئے۔
باسم کے منہ سے بے اختیار ما شاء اللّه نکلا تھا۔
اتنے حسین بال ہیں تمہارے۔ کیوں بگاڑنے پر تلی ہو۔ کوئی ہیئر کٹ نہیں لینا چلو بھاگو یہاں سے شاباش اور یہ خیال بھی دماغ سے نکال دو۔”
اس کا کورا جواب سن کر مومل کا منہ بن گیا۔
“پلیز باسم بھائی ہم سب فرینڈز نے سیم ہیئر کٹ ڈیسائیڈ کیا ہے۔ اچھا پلیز اب مان جائیں نا۔”
اس کی منت پر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“جلدی سے ریڈی ہو کر آ جاؤ دو منٹ میں ۔ میں گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔ اور یاد رکھو یہ آخری دفع ہے بس! مجھے تمہارے لمبے بال پسند ہیں۔ آ جاؤ جلدی اب۔”
وہ اس کے بال بگاڑ کا گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر کی طرف بڑھ گیا جب کہ مومل خوشی سے چیختی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی تا کہ اپنا حلیہ درست کر سکے۔
اس سے پہلے کہ باسم مزید سوچوں میں گم رہتا مناہل کی چیخ اسے ہوش میں لے آئی۔ اس نے مناہل کے چیخ کر رونے پر اس کی نظروں کے تعقب میں مومل کی طرف دیکھا تو اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
وہ پین چولہے سے اتار کر شیلف پر رکھے نہ جانے کس سوچ میں گم تھی جب کہ اس کے دوپٹے کا ایک پلو آگ پکڑ چکا تھا جو کہ تیزی سے اوپر تک پھیل رہی تھی پر وہ اس سب سے انجان اپنی ہی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔ وہ تیزی سے بھاگتا ایک ہی جست میں مومل کو اپنی طرف کھینچتا دوسرے ہاتھ سے اس کا دوپٹہ اس سے الگ کر کے زمین پر کچھ فاصلے پر پهينك گیا۔
جب کہ مومل جو باسم کے غصے سے گھبراتی آلتو جلال تو کا ورد کر رہی تھی مناہل کی چیخ سنتی رخ موڑنے لگی پر اس سے پہلے ہی وہ اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا چکا تھا۔ آگ لگے دوپٹے کو دیکھتی اور مناہل کو روتے دیکھتی بری طرح خوف زدہ ہو چکی تھی۔ باسم اس کا خوف سے تھر تھراتا وجود اپنے ساتھ لگائے ہی مناہل کی طرف بڑھا جو روتی ہوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھا رہی تھی۔
باسم اسے اٹھاتا اپنے کندھے سے لگا گیا۔
اب اس کے ایک کندھے سے مناہل لگی تھی جب کہ دوسری طرف مومل خوف کے زیر حصار اس کے دوسرے کندھے سے لگی اس کا کوٹ مٹھیوں میں دبوچے کھڑی تھی۔
مناہل کا رونا بند ہو چکا تھا اور وہ باسم کی گردن میں منہ چھپا کر اپنی طرف سے چھپی ہوئی تھی۔
خوف زائل ہوتے مومل اپنی پوزیشن کا احساس کرتی تیزی سے باسم سے دور ہوئی پر اتنی ہی تیزی سے وہ اس کی کمر میں بازو ڈال کر اسے دوبارہ اپنی طرف کھینچ گیا۔ اس کے مضبوط ہاتھ کی سخت گرفت اپنی کمر پر محسوس کرتی وہ سسك کر رہ گئی۔
“کیا کر رہی تھی تم بیوقوف لڑکی! مرنے کا زیادہ ہی شوق ہے تمہیں کیا؟ اگر میں نہ یہاں ہوتا تو ابھی جل کر مر جاتی۔ اور تمہیں کس پاگل نے کہا ہے یہ اتنا لمبا تھان(دوپٹہ) لے کر چولہے کے آگے کھڑی ہو جاؤ۔ اتار کر سائیڈ پر نہیں رکھ سکتی تھی کیا۔ اب یہ رونا کس بات کا ہے؟ زندہ سلامت بچ گئی ہو اس بات کا سوگ منا رہی ہو کیا؟”
وہ غصے سے فکر میں اس پر برس رہا تھا جب کہ مومل کی آنکھیں اس کے سرد رويے اور سخت باتوں پر برس رہی تھیں۔ محبوب کے سخت الفاظ اور بے اعتنائی کس طرح جان کو عذاب میں ڈالتی تھی یہ مومل سے بڑھ کر کون جانتا تھا!
“دیکھو لڑکی اگر تم دو منٹ کے اندر اندر چپ نہ۔۔۔۔”
“بابا!” اس کے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا مناہل کی غصے بھری پکار پر حیرت سے اپنے کندھے سے لگی اس چھوٹی سی آفت کو دیکھنے لگا۔
“یو شاؤٹ!”
وہ غصے سے چھوٹے سے ناک کے نتھنے پھلاۓ مومل کی طرف اشارہ کر کے اپنے باپ سے پوچھ رہی تھی کہ وہ مومل پر چلا کیوں رہا ہے۔
غصے سے باسم کو دیکھتی وہ دونوں ہاتھ مومل کی طرف بڑھا چکی تھی۔ مومل خود کو باسم کی گرفت سے آزاد كرواتی مناہل کی جھپٹتے تیزی سے کچن سے نکل گئی جب کہ باسم ہونق بنا وہیں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ اس کی انسلٹ ہی نہیں ہو گئی؟
“آخر یہ سب کیا تھا؟”
وہ بے یقینی سے بڑبڑا کر کچن کے دروازے کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے ابھی وہ دونوں بلائیں ابھی گئی تھیں۔
°°°°°°°°°
حاشر آج پھر اسی مخصوص گلی میں داخل ہوا اور حسب معمول اسے وہی راجہ نامی بلا اپنے جیسے چند آوارہ آدمیوں کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ اس سے پہلے کہ وہ راجہ کے قریب سے گزر کر آگے جاتا یک لخت اس کے دماغ میں ایک کوندا لپكا۔
اپنے دماغ میں آنے والے خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ جلدی سے راجہ کی طرف لپكا۔
راجہ جو سگریٹ پیتا ایک آدمی سے بات کرنے میں مصروف تھا اس نے حاشر کو اپنے پاس رکتے دیکھ کر ابرو اچکا کر اس کی طرف دیکھا۔
اس کی سرد نظروں کو محسوس کرتے حاشر سے اپنا حلق تر کیا۔
“راجہ کیا تم سائیڈ پر آ کر صرف دو منٹ کے لئے میری بات سن سکتے ہو؟”۔
حاشر کی بات پر راجہ کے ماتھے پر سلوٹیں پڑ چکی تھیں۔
“کیوں بے؟ راجہ تیرا یا تیرے باپ دادا کا نوکر ہے کیا۔ جو تو راجہ کو ایسے حکم سنائے گا اور راجہ اور راجہ تیری بات مانتا تیری جی حضوری کرے گا۔ راجہ ہوں میں راجہ! جو اپنے علاوہ کسی کی نہیں سنتا۔ اپنے باپ کی بھی نہیں۔ سمجھا ؟”
اس کے بپهرنے پر حاشر گڑبڑا گیا اور اس کے پوچھنے پر تیزی سے ہاں میں سر ہلا گیا۔
“دد۔۔۔دیکھو راجہ میری ۔۔۔میری بات سنو۔ میں تم سے ایک سودا کرنا چاہتا ہوں ۔ تمہارے فائدے کی بات ہے۔ اگر تمھیں منظور ہوا تو ٹھیک ورنہ تم اپنے راستے اور میں اپنے۔ پر یقین کرو تمھیں بہت فائدہ حاصل ہوگا۔”
وہ جیسے راجہ کی منت کر رہا تھا۔
اس کی بات پر راجہ نے جانچتی نظروں سے اسے سر سے پیر تک دیکھا۔
“ویسے تو راجہ کسی کی باپ کی بھی نہیں سنتا پر اگر فائدے والی بات ہو تو راجہ پیچھے بھی نہیں ہٹتا۔”
اس نے رعب سے کہتے پاس کھڑے آدمیوں کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔
“ہاں بول اب ۔ کیا کام ہے اور اس میں میرا کیا فائدہ ہے۔”
راجہ کے سوال پر حاشر گلی میں یہاں وہاں دیکھتا تھوڑا محتاط ہو کر راجہ کے کچھ قریب ہوا۔
“دیکھو راجہ پہلے میری پوری بات غور سے سننا اور سمجھنا۔
“ایک جوان لڑکی ہے شادی شدہ ہے پر اس کا شوہر بچے پیدا نہیں کر سکتا۔ اس لڑکی کو بچوں کی شدید خواہش ہے جب کہ وہ اپنے شوہر سے بہت محبت بھی کرتی ہے۔ اب اولاد حاصل کرنے کے لئے وہ چاہتی ہے کہ وو اپنے شوہر سے طلاق لے کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کر لے اور جیسے ہی اولاد کی خوش خبری ملے وہ دوسرے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لے۔ بچا پیدا ہونے کے بعد طلاق لے کر اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر لے واپس۔ اس سب کے لئے اسے ایک قابل بھروسہ مرد کی ضرورت ہے جو اس کی یہ خواہش پوری کر سکے۔”
اس کے کچھ اور بولنے سے پہلے راجہ ہاتھ اٹھا کر اسے روک گیا جسے دیکھتا حاشر اسی وقت اپنا منہ بند کر چکا تھا۔
“تو یہ ساری رام لیلا مجھے کیوں سنا رہا ہے؟”
“کیوں کہ میں چاہتا ہوں کہ تم یہ کام کرو۔مخصوص مدت کے لئے اس لڑکی کا شوہر بن کر۔اس کام کے لئے تمہیں منہ مانگا معاوضہ دیا جاۓ گا۔
راجہ نے آج تک ایسا کام نہیں کیا نہ ہی راجہ کرے گا۔”
اس کے دو ٹوک جواب پر حاشر کو پریشانی نے گھیر لیا۔ کیوں کہ اتنی جلدی وہ کسی ایسے آدمی کا انتظام نہیں کر سکتا تھا جب کہ وہ یہ کم جلد از جلد کرنا چاہتا تھا۔
“تب بھی نہیں اگر وہ لڑکی بلا کی خوب صورت ہو۔ جسے دیکھ کر تمہارا ایمان ڈگمگا جاۓ۔”
حاشر کہتا ساتھ ہی جیب سے موبائل نکال کر نوریہ کی تصویر اس کے سامنے کر گیا۔”
راجہ آنکھیں پھاڑے سامنے موبائل کی سکرین پر نظر آتی اس پری وش کی تصویر دیکھ رہا تھا۔
چاند جیسے حسین چہرے پر قاتل سنہری آنکھیں جن کی کشش تصویر سے ہی اسے اپنی جناب کھینچ رہی تھی۔ كمان سی ناک پہ چھایا ہلکا گلابی پن بہت دلکش دکھائی دے رہا تھا۔ گلاب سے نازک گلابی پنکھڑیوں سے ہونٹ حسین مسکراہٹ میں ڈھلے اس کی آنکھوں کی چمک بڑھا رہے تھے۔کالی زلفیں چہرے کے دونوں اطراف میں بکھری اسکی موہنی صورت کو گھیرے ہوئی تھیں۔ وہ مجسم حسن تھی۔
“راجہ کو تیری ڈیل منظور ہے۔”
حاشر کو اس کی آنکھوں کی چمک سے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ سڑک چھاپ گنڈا بری طرح سے نوریہ پر فدا ہو چکا ہے۔
“ٹھیک ہے تم مجھے اپنا نمبر دے دو میں جلد سے معملہ نمٹا کر تم سے رابطہ کروں گا اور بتا دوں گا نکاح کس دن کرنا ہے۔”
وہ راجہ سے اس کا نمبر لیتا واپسی کے لئے مڑنے لگا جب پیچھے سے آتی آواز نے پل بھر کے لئے اس کے قدم روک لئے۔
“تیری کیا لگتی ہے یہ؟”
بالاخر راجہ کو یہ سوال پوچھنے کا خیال آ ہی چکا تھا۔
“بیوی!”
یک لفظی جواب دیتا وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°°°°