Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohe Piya Bedardi

By Meem Ain

شہر کے سب سے بڑے اور مہنگے ہسپتال کے اس کمرے میں اس وقت مکمل خاموشی کا راج تھا۔ اگر اس وقت کوئی آواز سنائی دے رہی تھی تو وہ تھی دیوار پر ٹنگی بیش قیمت گھڑی میں موجود سوئیوں کی ٹک ٹک کی آواز ۔ پھر کچھ ہی سیکنڈز میں اس آواز کے ساتھ صفحے پلٹنے کی آواز بھی شامل ہو چکی تھی۔ کمرے میں ڈاکٹر کی سربراہی کرسی کے سامنے موجود کرسیوں پر بیٹھے دونوں نفوس بے چینی سے مقابل بیٹھی قابل اور مشہور ترین ڈاکٹر کے بولنے کے منتظر تھے۔ ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا تو ان کا ہر اعضا آلہ سماعت بن گیا۔ "مسٹر اینڈ مسز حاشر آپ دونوں کی شادی کو کتنا عرصہ گزر چکا ہے؟" ڈاکٹر کے سوال پر نوریہ نے حاشر کی طرف دیکھا۔ "آٹھ ماہ!" حاشر کے جواب پر ڈاکٹر نے عینک کے پیچھے سے دونوں کو گھورا۔ "لائک سیریسلی؟ آپ لوگ شادی کے محض آٹھ ماہ کے بعد ہی اس بات سے پریشان ہیں کہ آپ لوگوں کو اب تک خوش خبری کیوں نہیں ملی۔ لوگوں کی شادی کو کئی کئی سال گزر جاتے ہیں پھر وہ كنسیو کرتے ہیں اور آپ ابھی سے پریشان ہیں۔ یہ دن تو ویسے بھی میاں بیوی کے ایک دوسرے کو سمجھنے کے ہوتے ہیں۔ مسز حاشر آپ کی ساری رپورٹس کلئیر ہیں آپ کی پچھلی ڈاکٹر آپ کو جو دوائی استعمال کروا رہی ہیں بہتر ہے کہ آپ نہ استعمال کریں خدا کے بناے گئے نیچرل سسٹم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔" ڈاکٹر کی بات پر حاشر سیخ پا ہو گیا۔ "دیکھیں ڈاکٹر صاحبہ بہت سے لوگوں کو شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی خوش خبری مل جاتی ہے اور ہماری شادی کو تو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔ پچھلے کئی مہینوں سے ہم کنسیو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں مل رہا۔ مجھے پتا چلا تھا کہ آپ بہت قابل ڈاکٹر ہیں اس لئے میں آپ کے پاس اپنی مسز کو لے کر آیا کیوں کہ مجھے بچوں کی شدید خواہش ہے۔ اگر آپ نہیں علاج کر سکتی تو ہمیں بتا دیں۔" اس کی بات پر ڈاکٹر نے ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالی اور ساتھ ہی ایک رحم بھری نظر پاس بیٹھی معصوم اور خوب صورت سی لڑکی پر جس کے چہرے پر خوف واضح نظر آ رہا تھا . "اوکے مسٹر حاشر یہ تو آپ کی مسز کی رپورٹس ہو گئیں جو کہ بالکل کلئیر ہیں پر آپ کی ریپورٹس کہاں ہیں؟" ڈاکٹر نے نوریہ کی ریپورٹس پر ایک نظر ڈالتے ہوئے حاشر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ "کیا مطلب ہے آپ کا ڈاکٹر صاحبہ میری ریپورٹس کس لئے؟ مجھ میں کیا خامی ہو سکتی ہے بھلا۔" ڈاکٹر کی بات پر وہ ایک دم بھڑک اٹھا تھا جب کہ نوریہ پریشان نظروں سے کبھی ڈاکٹر اور کبھی حاشر کی جانب دیکھ رہی تھی۔ "دیکھیں مسٹر حاشر کوئی بڑے سے بڑا ڈاکٹر بھی اس طرح ایک فرد کی ریپورٹس دیکھ کر علاج شروع نہیں کر سکتا۔ میاں بیوی دونوں کی ریپورٹس دیکھنا ضروری ہے۔ آپ کی مسز کی ریپورٹس ویسے بھی کلئیر ہیں۔ مجھے آپ کی ریپورٹس دیکھنی ہوں گی پھر ہے کوئی علاج شروع کر سکتی ہوں۔ اگر آپ میں کوئی خامی ہوئی تو آپ کا علاج کیا جاۓ گا ورنہ آپ دونوں کو صبر سے کام لیتے ہوئے انتظار کرنا پڑے گا۔ ہمارے معاشرے میں یہ غلط نظریہ پهيلا ہوا ہے کہ اگر اولاد نہیں ہو رہی تو اس میں سارا قصور عورت کا ہے جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارا قرآن کہتا ہے کہ اولاد مرد کے نصیب سے ہوتی ہے پھر عورت کو قصور وار کیوں ٹھہرایا جاۓ۔ آپ لیبارٹری چلے جائیں میں نے یہ ٹیسٹ لکھ دیا ہے آپ یہ ٹیسٹ کروا کر جائیں اور اگلی دفعہ جب آئیں تو ریپورٹس ساتھ لے کر آئیے گا۔" ڈاکٹر کی بات پر جہاں نوریہ نے تشکر بھری نظروں سے ڈاکٹر کی جانب دیکھا وہیں حاشر اپنے غصے پر ضبط کرتا سر ہلا گیا۔ °°°°°°°°°°