Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
Writer:Meem Ainn
“ہس۔۔ہسبنڈ پلیز لاسٹ ٹائم!!!”
اب کے آواز میں تھوڑی نمی بھی گھل گئی تھی پر وه پہلی دفعہ جیسی ہی فرماں برداری کے ساتھ سرہلاتا پہلی سی توجہ کے ساتھ سمجھاتا رہا اور پھر سے گیم کھیلنے لگا۔ کچھ دیر بعد اسے ہلکی ہلکی سسكیوں کی آواز سنائی دی تو وه چونک کر سر اٹھاتا سامنے دیکھنے لگا پر اس پر نظر پڑتے ہی ٹھٹھک گیا۔
وه آنسو بہاتی گود میں پڑے رجسٹر کو گھورتی چلی جا رہی تھی۔ آنسو تواتر سے بہتے رجسٹر کو گیلا کر رہے تھے۔بالوں کی لٹیں بھیگ کر گالوں سے چپکی ہوئی تھیں۔ناک لال ہو رہی تھی اور جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا.
وه موبائل بیڈ پر پهينكتا تیزی سے اس کے نزدیک آتا اسے کندھوں سے تھام گیا۔
“کیا ہوا یار کیوں رو رہی ہیں؟ کہیں درد ہے کیا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے۔”
وه پریشانی سے پوچھتا خود ہی اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتا چیک کرنے لگا پر جسم ٹھنڈہ تھا .
ارمش اس کے استفسار پر منہ سے ایک بھی لفظ نکالے بغیر اس کے کندھے پر سر رکھتی بچوں کی طرح رونے لگی۔ اسے یوں روتے دیکھ وه مزید پریشان ہو گیا پر اب کی بار اس سے کچھ پوچھے بغیر ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھتا دوسرے ہاتھ سے اس کا سر تهپتهپانے لگا۔
کافی منٹ رو لینے کے بعد جب اس کا رونا مدهم سسكیوں میں بدل گیا تو ارسم دھیرے سے اسے خود سے الگ کرتا اپنی انگلیوں سے اس کے بھیگے گال صاف کرتا اس کے سرخ پڑتے چہرے کو تشویش سے دیکھنے لگا۔
“کول ڈاؤن!!! اب چپ کر مجھے بتائیں شاباش کہ کیوں رو رہی تھیں آپ اور خبردار اگر اب ایک بھی آنسو ان حسین آنکھوں سے بہا تو!!!”
وه ارمش کو پیار بھری ڈانٹ پلاتا اس کے رونے کی وجہ دريافت کرنے لگا۔
اس کے سوال پر وه شرمندگی سے سر جھکاتی نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا گئی۔
“اوں ہوں!!!!!”
ارسم اسے اشارے سے منع کرتا دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی مدد سے اس کا زیریں لب دانتوں کی ظالم گرفت سے چھڑوا گیا۔ اس کی حرکت پر وه مزید سرخ پڑتی چہرہ اور جھکا گئی۔
“بتائیں شاباش!!!”
ارسم ارمش کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں قید کرتا نرمی سے پوچھنے لگا تو وه شرمندہ شرمندہ سے سر اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھتی خود میں بولنے کی ہمت پیدا کرنے لگی۔
“وو۔۔۔وہ ایکچولی۔۔۔۔ہمیں ۔۔۔”
وہ اٹک اٹک کر بولنے لگی تو ارسم اثبات میں سر ہلا کر اس کا سرد پڑتا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں دباتا اسے حوصلہ دینے لگا۔
“ہمیں اس سوال کی سمجھ بلکل بھی نہیں آ رہی۔”
وه آنکھیں بند کرتی اپنا مسلہ ایک ہی سانس میں بتاتی زبان دانتوں میں دبا گئی تو ارسم حیرت سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
“آپ ایک سوال سمجھ نہ آنے پر اتنا رو رہی تھیں؟ لائک سیریسلی؟؟؟”
ارسم کی آواز اور چہرے سے چھلکتی بے یقینی دیکھ کر وه مزید شرمندہ ہو گئی۔
“سس۔۔۔۔سوری!!!!”
ارسم آفریدی کہاں ارمش آفریدی کو شرمندہ ہوتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔وه ارمش کی ٹھوڑی پکڑتے اس کا سے اٹھاتا خود کی طرف دیکھنے پر مجبور کر گیا .
“اس میں رونے والی کیا بات ہے میری جان!!! اگر نہیں سمجھ آیا تو دوبارہ سمجھ لیں . اٹس ناٹ آ بگ ڈیل!!!”
وه اس کی ٹھوڑی چھوڑ کر اس چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام گیا۔
“لیکن ہم چار دفعہ سمجھ چکی تھی آپ سے۔”
وه ہونٹ لٹکاتی بولی تو ارسم اس کی معصوم مگر جان لیوا ادا پر دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا جھک کر اس کے لبوں کو چھو گیا۔ اس کے لمس کی نرمی اور گرمی ارمش آفریدی کو لرزا گئی۔ وه نظریں چراتی یہاں وہاں دیکھنے لگی تو اس کے گريز پر ارسم مسکرا دیا۔
“آپ میرے سے چار دفعہ کیا چار ہزار دفعہ بھی ایک ہی سوال کر سکتی ہیں۔ ارسم آفریدی کا ابھی تک اتنا جگرا نہیں ہوا کہ وه ارمش آفریدی کو انکار کر سکے اور نہ ہی ایسا کبھی ہوگا۔ ارمش آفریدی ارسم آفریدی پر ہر حق رکھتی ہے تو ارسم آفریدی کا بھی اولین فرض ہے کہ ارمش آفریدی کے نخرے اٹھاۓ اور اس کی ہر بات پر لبيك کہے۔”
وه اپنے خوب صورت الفاظ ارمش کی کانوں میں اتارتا جھک کر اس کی پیشانی اپنے پاک لمس سے معطر کر گیا۔ ارمش آنکھیں موندتی اس روح افزا احساس کو محسوس کرنے لگی۔
“اچھا ایسا کریں ابھی چھوڑ دیں۔ کچھ دیر دماغ کو پر سکون ہونے دیں۔ پھر دوبارہ سمجھیں۔”
وه اس کی گود میں پڑا رجسٹر اور پین پکڑ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھا اور اسے بھی ہاتھ سے كهينچ کر اپنے نزدیک کر گیا۔
وه جھجھکتی ہوئی اس کے کندھے پر سر رکھ گئی۔
” ہسبنڈ !!!!”
وه ارسم کی شرٹ کے کالر پر بنے ڈیزائن پر انگلی پهيرتی اسے پکار گئی۔
“جی میری جان!!”
وه جھک کر اس کے معصوم چہرے کو دیکھتا اس کے چہرے پر آئی آوارہ لٹ کو انگلی پر لپیٹنے لگا۔
“ہمیں آئس کریم کھانی ہے۔”
اس کی فرمائش پر ارسم نے خوش گوار حیرت سے اسے دیکھا۔ وه بہت کم فرمائش کرتی تھی۔ نہ جانے کیوں جھجھکتی تھی اس سے۔
“اوکے حضور جیسا آپ کا حکم۔ بندہ آپ کے حکم کا غلام ہے۔”
اس کے یوں عاجزی سے کہنے پر ارمش کھلکھلا کر ہنس دی۔
“چلیں ریڈی ہوں آپ میں گاڑی کے پاس ویٹ کر رہا ہوں آپ کا۔”
وه اس کا گال تهپتهپا کر اٹھتا موبائل اور گاڑی کی چابی پکڑے کمرے سے باہر نکل گیا۔
ارمش مسکراتی ہوئی اٹھی اور ڈریسنگ روم میں گم ہو گئی۔
°°°°°
وه بے چین ہوتی کمرے میں یہاں سے وہاں چکر لگا رہی تھی۔ چکر لگا کر تھک جاتی تو الماری میں منہ دے کر بے وجہ ترتیب زدہ کپڑوں کو پھر سے ترتیب دینے لگتی۔ اس کام سے اکتا جاتی تو ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگتی۔
مومل نے گردن گھما کر بیڈ کی طرف دیکھا تو اس سے سے بے نیاز باسم ليپ ٹو پ سامنے کھولے کانوں میں بلو ٹوتھ لگائے اپنے بزنس ورلڈ میں گم تھا۔
“نہ جانے آدھی رات کون سا ایسا کام ہے جو دن کے وقت نہیں کیا جا سکتا۔
غصّے میں بڑبڑاتے اس کی نظر بیڈ کے وسط میں سوئی مناہل پر پڑی تو اسے اس پر بھی غصّہ آیا۔
“کتنی بےوفا بیٹی ہے میری۔ ماں یہاں بور ہو رہی ہے اور یہ سوئی پڑی ہے۔ ویسے سوتے ہوئے تو اور بھی زیادہ پیاری لگتی ہے میری گڈی!!!”
وه پیار بھری نظروں سے مناہل کی جانب دیکھتی سوچتی جا رہی تھی۔
“نہیں مس حنا یہ پوانٹ مت ایڈ کریں!!!”
اس کی آواز پر مومل جل کر رہ گئی۔
“چڑیل چمٹ کر رہ گئی ہے میرے شوہر کو!!!!”
ایک دم تیش میں آتی وه بیڈ کی طرف بڑھی اور باسم کے سر پر جا کھڑی ہوئی پر وه اس پر دھیان دیے بغیر اپنے کام میں مصروف رہا۔
“باسم!!!”
اس کی پکار پر وه اب بھی متوجہ نہ تھا جس سے مومل کے غصّے کا گراف مزید بلند ہو گیا۔
“باسم!!!!”
اب کی دفعہ آواز تھوڑی بلند تھی۔
“ہممم!!!”
وه اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دے گیا۔
“مجھے کچھ پوچھنا تھا آپ سے۔”
وه اپنے غصّے کو قابو کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔
“ہاں پوچھو!!!”
اسے بولنے کی اجازت دیتا وه ليپ ٹوپ پر تیزی سے انگلیاں چلانے لگا۔
“”میں سوچ رہی تھی ہم اپنے روم میں بلو كلر کا پینٹ کروا لیتے ہیں۔”
اس کی بات پر وه سر ہلا گیا۔
“ٹھیک ہے میں کروا دوں گا۔”
اس کے جواب پر شاک سے مومل کا منہ کھل گیا۔وه اچھے سے جانتا تھا کہ نیلا رنگ مومل کو سخت ناپسند تھا۔
“مم۔۔۔میں یہ بھی کہہ رہی تھی کہ مناہل کے لئے ہم ایک کیئر ٹیکر ارینج کر لیتے ہیں۔”
وه اپنی غلط فہمی دور کرنے کی خاطر ایک اور سوال داغ گئی۔
“اوکے ہو جاۓ گا یہ بھی “
اس کے جواب پر مومل کے منہ کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وه ایسا سوچ بھی کیسے سکتا تھا تھا ان دونوں کی بیٹی کے لئے۔
وه غصّے میں لال پیلی ہوتی مٹھیاں سختی سے بند کرتی اپنے غصّے پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔
“دوسری شادی بھی کر لیں پھر۔”
وه دانت پر دانت جماتی اس کے جواب کا انتظار کرنے لگی۔
“اوکے ٹھیک ہے!!!!”
باسم کے جواب پر مومل کے ضبط کی تناباں ٹوٹ گئیں۔ وه پیر پٹختی ڈریسنگ روم کی طرف گئی اور اپنے پیچھے زور سے دروازہ بند کر گئی۔
“ٹھاہ” کی آواز پر اپنے کام میں مصروف باسم کا دل دہل گیا۔ وه الجھن بھری نظروں سے پورے کمرے کو دیکھنے لگا .محض تین سیکنڈز لگے تھے اسے ساری صورت حال سمجھنے میں۔
“شٹ یار!!!!”
وه ایک ہاتھ کا مکا بنا کر دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتا خود کو کوسنے لگا۔
“مس حنا باقی کام ہم صبح آفس میں ڈسکس کریں گے۔ اوور!!!
وه کال کاٹ کر بلو ٹوتھ کان سے اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتا بیڈ سے اتر کھڑا ہوا۔ سامنے پڑا ليپ ٹوپ اٹھا کر بلو ٹوتھ کے ساتھ رکھا اور ڈریسنگ روم کے بند دروازے کو گھورنے لگا۔
“مومل!!!!”
اس کی پکار پر کوئی جواب نہ ملا۔
“مومل اوپن دا ڈور!!!”
اب کی دفعہ وه ڈریسنگ روم کے باہر کھڑا بولنے کے ساتھ ساتھ دروازہ بھی ناک کر رہا رہا پر ہنوز جواب ندارد۔
جانتا تھا اسے غصّہ بہت کم آتا تھا پر جب بھی آتا تھا سب کچھ بهسم کر دیتا تھا۔
“اوکے اب جو ہو گا اس کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔میرا کوئی قصور نہیں ہو گا۔”
اس کی دھمکی بھی جب کام نہ آئی تو باسم سائیڈ ٹیبل ڈرار سے ڈپلیکیٹ چابی نکلتا ڈریسنگ روم کا دروازہ کھولنے لگا۔
وه جو غصّے میں بھری ہاتھ سینے پر باندھے کھڑی تھی لاک کھلنے کی آواز پر چونک کر مڑی۔ اس کے مزید کچھ سوچنے سے پہلے ہی باسم دروازہ کھول چکا تھا۔ اسے دیکھ کر مومل غصّے سے چہرہ دوسری جانب گھما گئی۔
باسم دونوں بازو سینے پر باندھے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوتا گہری نظروں سے مومل کو دیکھنے لگا جو سرخ چہرہ لئے باسم کے علاوہ ہر طرف دیکھنے میں محو تھی۔
“سویٹی!!!!”
باسم کی محبت سے لبریز پکار سن کر مومل کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ کتنے عرصے کے بعد اس نام سے پکارا تھا اس ستمگر نے۔ مومل کا دل اس کی طرف ہمکنے لگا۔
“کم ہیئر!!!!”
وه پھر سے اسے پکارنے لگا پر مومل اپنے دل کو ڈانٹ کر چپ كرواتی سٹل کھڑی رہی۔
اس کی ہٹ دھرمی پر باسم کو غصّہ آنے لگا پر وه لب بھینچے خود پر قابو پانے لگا۔ وه اسے مزید ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔
وه آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس بھرتے مضبوط قدم اٹھاتا مومل کی طرف بڑھنے لگا۔ اسے یوں اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر مومل کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا۔اس کے قریب پہنچ کر وه دو قدم کے فاصلے پر رک گیا اور گہری نظروں سے مومل کی سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا۔
“ناراض ہو؟؟؟”
وه مومل کے گال کو چومتی آوارہ لٹ کو اپنی انگلی پر لپيٹ کر پوچنے لگا۔
“اس کے لہجے کی نرمی مومل کا دل پگھلانے لگی پر وه اپنی حد سے بڑھتی دھڑکنوں کو تهپك تهپك کر چپ كرواتی خاموش کھڑی رہی۔
جواب نہ ملنے پر باسم جھک کر اسے اٹھاتا کندھے پر ڈال گیا۔
“آہ!!!! چھوڑیں مجھے باسم یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔ نیچے اتاریں مجھے۔”
وه اس کے کندھے پر اپنے نازک ہاتھ کے مکے مارتی دبی دبی آواز میں چیخنے لگی کیوں کہ اپنی بیٹی کی نیند نہیں خراب کرنا چاہتی تھی۔
باسم اس کی ایک بھی بات سنے بغیر اسے لیتا بیڈ کی طرف بڑھا۔ اسے بیڈ پر لٹانے کے بعد باسم نے بیڈ کے درمیان سوئی اپنی شہزادی کو اٹھا کر دیوار کے ساتھ لگے چھوٹے سے بیڈ پر لٹایا اور پھر واپس بیڈ کی طرف آیا۔
سے اپنی طرف پلٹتا دیکھ کر مومل رخ موڑتی تكيے میں منہ چھپا گئی۔ باسم اپنی مسکراہٹ چھپاتا اس کے پیچھے لیٹ کر اسے بازو سے جکڑتا اس کا رخ اپنی طرف کر گیا۔
“ناراض کیوں ہو؟؟؟؟”
اس کے سوال پر مومل پل بھر کے لئے اپنی آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑھ گئی پر باسم کی بولتی آنکھوں نے بہت جلد اسے آنکھیں چرانے پر مجبور کر دیا۔
“سوری یار بہت امپورٹنٹ کام میں بزی تھا۔”
کہنے کے ساتھ وه باقاعدہ کان کو ہاتھ لگا گیا۔
“کس کس بات کی معافی مانگیں گے۔ نیند آئی ہے مجھے سونا ہے۔”
وه سپاٹ انداز میں کہتی رخ موڑ گئی تو باسم گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
“اوکے!!!”
باسم اس کی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب ترین كهينچ گیا.
مومل ایک دم سٹپٹا گئی۔
“یہ کیا۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه اپنی بات مکمل کر پاتی باسم اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی جما گیا۔
“ہشش!!!! چپ چاپ سو جاؤ ورنہ پھر سونے نہیں دوں گا!!!”
اس کے سرگوشی کرتے لب اور بے باک الفاظ مومل کو كپكپانے پر مجبور کر گئے۔ وه جھرجهری لیتی جھٹ سے آنکھیں بند کرتی سونے کی کوشش کرنے لگی پر اس ستمگر کی قربت میں ایسا کہاں ممکن تھا۔
°°°°°
وه دونوں گول گپے کھانے فوڈ سٹریٹ آئے ہوئے تھے اور اب زین کے کہنے پر دونوں مقابلے سے گول گپے کھا رہے تھے۔
زین پھرتی سے گول گپے کو میزے سے بھرتا پانی میں ڈبو کر منہ میں ڈالتا نگل رہا تھا جب کہ دریہ بیچاری بہت پھرتی دکھانے کے باوجود زین سے پیچھے تھے۔
اچانک دریہ کے ذہن میں کوندا لپكا تو وه اپنے خیال پر عمل کرنے کی ٹھان گئی۔ اس نے دو گولگپے پکڑ کر مسلے اور پاؤڈر منہ میں ڈال کر پانی والی کٹوری منہ سے لگا لی۔ جب اس نے چھے گول گپے اس طرح کھاۓ تو اس کی چالاکی پر زین کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
“یہ چیٹنگ ہے !!!”
زین احتجاجیہ چلایا تو دریا کھلکھلا کر ہنس دی پر ہنستے ہوئے وه یہ بھول گئی تھی کہ اس کے منہ میں گول گپا موجود ہے جس کے باعث اسے پھندہ لگ گیا۔ وه کھانس کھانس کر بے حال ہونے لگی۔ زین جلدی سے اٹھ کر اس کے پاس آتا اس کی پیٹھ تهپتهپانے لگا۔
“کیا کرتی ہیں یار!!! چھوڑیں یہ میں اپنی منگواتا ہوں۔”
کہنے کے ساتھ ہی وه تیزی سے وہاں سے ہٹا تو اسے وہاں سے جاتا دیکھ کر دریہ تیزی سے اپنی پلیٹ میں پڑے گول گپوں سے پانچ گولگپے اس کی پلیٹ میں رکھ گئی اور پھر اپنی جگہ پھر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ کچھ سیکنڈز کے بعد ہی اسے زین اپنی طرف آتا دکھا جس نے ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑ رکھی تھی۔ اس کے چہرے پر چھائی پریشانی کوئی اندھا بھی دیکھ سکتا تھا۔اس کے قریب پہنچ کر وه بوتل کا ڈھکن کھول کر بوتل اس کے آگے کر گیا تو وه کھانستی ہوئی بوتل منہ سے لگا گئی۔ پانی پیتے اس سے چور نظروں سے زین کی طرف دیکھا تو وه آنکھوں میں پریشانی سموئے اسے ہے دیکھ رہا تھا۔ دریہ سٹپٹا کر نظریں پهير گئی۔ پانی پینے کے بعد اس نے بوتل سامنے ٹیبل پر رکھی اور ایک نظر زین کی پلیٹ پر ڈالی۔
“یے!!!! میں جیت گئی!!! زین لوزر!!! زین لوزر!!!!”
وه خوشی سے چیختی تالیاں بجانے لگی تو بیچارہ زین بوکھلا گیا۔ اس نے جھٹ سے اپنی پلیٹ کی طرف دیکھا تو اس کی چالاکی سمجھ آئی۔
“دریہ چیٹر!!! کتنی گندی بچی ہیں آپ چیٹنگ کرتے ہوئے شرم نہیں آتی کیا۔”
وه بازو سینے پر باندھ کر ٹیبل کے ساتھ کمر ٹکا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتا پوچھنے لگا۔
“نہیں جی میں نے کوئی چیٹنگ نہیں کی!!!”۔
وه ناک سکوڑ کر بولی تو زین اس کی ادا پر فدا ہو گیا۔
“اگر ہار بھی رہی ہوتی تو مجھے پتا ہے آپ مجھے کبھی نہ ہراتے۔”
اس کے الفاظ میں محسوس کیا جانے والا مان تھا۔ زین کو لگا وه ایک دفعہ پھر سے اس حسینہ کے آگے اپنا دل ہار گیا ہے۔
زین گردیزی دریہ کے آگے اپنا آپ تو ہار سکتا ہے پر اسے کبھی ہرا نہیں سکتا!!!”
اس کے جواب پر وه حسینہ دھیرے سے مسکرا دی پر آنکھوں سے چھلکتی اداسی زین سے اب بھی چھپ نہ پائی تھی۔ جانے ایسا کون سا دکھ تھا جو اس پیاری لڑکی کی آنکھوں سے جھلکتا تھا۔
“زین چلیں نا اب۔ مجھے رائیڈز لینے ہیں .”
اس کی فرمائش پر زین ایک ہاتھ سینے پر رکھتا اس کے سامنے جھک گیا تو وه کھلکھلا کر ہنس دی۔
“جو حکم ملکہ عالیہ ہم تو آپ کے حکم کے غلام ہیں۔”
اس کی نوٹنکی پر دریہ کی ہنسی رکنے کا نام نہ لے رہی تھی۔
وه دونوں وہاں سے اٹھ کر فورٹریس آ گئے اور ٹکٹس خرید کر رائیڈز کی طرف بڑھ گئے۔
“سب سے پہلے کشتی پر بیٹھنا ہے مجھے۔”
“اوکے جناب”
وه دونوں کشتی والے جھولے پر آئے اور دریہ کے اسرار پر ایک کونے میں بیٹھ گئے۔
“دریہ آپ کو ڈر نہیں لگ رہا یار۔ لڑکیاں تو ڈرتی ہیں ایسے رائیڈ سے اسپیشلی کارنر میں بیٹھنے سے .”
وه واقعی حیران تھا اس لڑکی پر۔
“ہاں ڈرتی ہیں پر وه دوسری لڑکیاں ہیں۔ دریہ کسی سے نہیں ڈرتی اور یہاں ہی تو مزہ آتا ہے۔ دیکھئے گا آپ بھی کتنا انجوائے کرتے۔”
وه خوشی سے کہتی کشتی میں موجود دوسرے مسافروں کو دیکھنے لگی اور پھر واقعی وه کشتی چلنے پر بھی بلکل نہیں ڈری تھی۔
ایک دوسرے کی سنگت میں ایک بھر پور دن گزار کر دونوں اپنے اپنے ٹھکانوں کو روانہ ہو گئے۔
