No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
مومل لاؤنج میں قالین پر بیٹھی سامنے بیٹھی مناہل کو فروٹس کھلا رہی تھی جو برے برے منہ بناتی فروٹس کھانے کے ساتھ ساتھ پاس بکھرے بلاکس سے کھیل رہی تھی۔
وہ تین سال کی ہو چکی تھی پر اس نے اپنی عمر کے بچوں کی نسبت دیر سے بولنا شروع کیا تھا۔ وہ باتیں تو کرتی تھی لیکن توڑ پھوڑ کر۔
“مینو بش!”
اس سے پہلے کہ مومل ایک اور پیس اس کے منہ میں ڈالتی مناہل جلدی سے بول کر اپنے ہونٹوں پر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ جما گئی۔
اس کی حرکت پر مومل کو اس پر بے تحاشہ پیار آیا پر یہ وقت پیار دکھانے کا نہیں تھا۔ مناہل کھانے کے معاملے میں بہت چور تھی جس کی وجہ سے مومل کو اس کے ساتھ زبردستی کرنی پڑتی تھی۔
“کیوں بش؟ مینو کو جلدی جلدی بڑا نہیں ہونا کیا؟ اگر مینو فروٹس نہیں کھاۓ گی دودھ نہیں پئے گی تو جلدی بڑی کیسے ہو گی ہاں ؟ اوکے اگر مینو کو بڑا نہیں ہونا تو کوئی بات نہیں ہم نہیں کھاتے فروٹس۔”
وہ کہنے کے ساتھ ہی ہاتھ پیچھے کرنے لگی جب مناہل اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ گئی۔
“مینو کو بڑا ہونا۔”
جواب مومل کی سوچ کے عين مطابق ہی آیا ہے تھا۔ مینو کو جلدی جلدی بڑا ہونے کا بہت شوق تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مومل اکثر اسے زیادہ کھلا دیا کرتی تھی۔
ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی بھی لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی باتوں میں مگن تھی پر ایشا آفریدی کا دھیان مومل اور مناہل میں ہی لگا تھا۔
جس طرح مومل مناہل کو سنبھال رہی تھی کوئی اور نہیں سنبھال سکتا تھا۔ کل کو مومل کی شادی ہو جاتی تو مناہل کو کون سنبھالتا۔ باسم کسی صورت بھی شادی کے لئے رضا مند نہیں تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے ایک ہی دفع شادی کرنی تھی اور وہ کر چکا ہے۔ اس کی زندگی میں مزید کسی کی گنجائش نہیں اب۔
ایشا آفریدی مومل کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں پر ایک تو مومل عمر میں باسم سے کافی چھوٹی تھی اور ساتھ ہی ساتھ ایک بچے کی ذمہ داری بھی۔ انھیں مومل بہت عزیز تھی بلکل اپنی بیٹی کی طرح اس لئے وہ اس پر ایسا ظلم بھی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
ان کی سوچوں میں خلل فریحہ آفریدی کی آواز نے ڈالا تھا۔
“بھابھی آپ سن رہی ہیں؟”
فریحہ آفریدی کے استفسار کرنے پر وہ سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھنے لگیں۔
“میں کہہ رہی تھی کہ میری دوست ہے نا جو مسز رحمان! وہ اپنے بیٹے کا پروپوزل لے کر آنا چاہ رہی ہیں مومل کے لئے۔ارسل تو رضا مندی دے چکے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ میں ایک دو دن میں انوائٹ کر لوں ان کی فیملی کو۔آپ کیا کہتی ہیں؟”
ایشا آفریدی ان کی بات سن کر مسکرا دیں۔
“ہاں تم انوائٹ کر لو انھیں۔ بہت اچھی فیملی ہے ہماری مومل بہت خوش رہے گی۔ ان کو بلا لو وہ ایک دفعہ مل لیں مومل سے اور سنو فریحہ مومل کی رضا مندی ضرور لینا۔ اس پر کوئی فیصلہ مت تھوپنا۔ ہم نے تو اپنی زندگی گزار لی مزید اور کتنے سال جی لیں گے پر ہماری اولاد کی پوری زندگی کا معملہ ہے۔ ہماری بیٹی کو اس انسان کے ساتھ پوری عمر گزارنی ہے جس کے ساتھ ہم اسے باندھ دیں گے۔ ہم اگر زبردستی کریں گی تو بیٹی ہماری عزت کی خاطر ہمارا مان رکھ کر ہمارے آگے سر تو جھکا دے گی پر اس کا دل مر جاۓ گا۔ ماں باپ ہمیشہ اپنی اولاد کے لئے اچھا ہی سوچتے ہیں پر ماں باپ کے کچھ فیصلے اولاد کے لئے عمر بھر کا روگ بن جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں کی چمک اور چہرے کی رونق چھین لیتے ہیں۔ اس لئے جو بھی فیصلہ کرو اس کی رضا مندی سے کرنا۔”
ان کی بات سنتی فریحہ آفریدی اثبات میں سے ہلاتی اندر داخل ہوتے باسم کو دیکھنے لگیں۔
“مومل بیٹا آپ کل شام اچھے سے ریڈی ہو جائیے گا۔ آپ کو دیکھنے کے لئے کچھ لوگ آ رہے ہیں۔”
ان کی بات پر جہاں مومل ہونق ہوئی تھی وہیں باسم آفریدی کے قدم بھی ساکت ہوئے تھے۔ وہ گردن موڑ کر قالین پر بیٹھی مومل کو دیکھنے لگا جو مناہل کو گود میں لئے بیٹھی تھی جو اس کی لمبی چوٹی سے کھیل رہی تھی۔ باسم کی نظریں اس کی چوٹی سے الجھ گئیں۔
مومل جو کچھ اور ہی بولنے والی تھی باسم کو دیکھ کر سر ہلا گئی۔
“جی بڑی ماں میں ریڈی ہو جاؤں گی وقت پر ہی۔”
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی تو باسم اس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر لب بھینچ گیا۔
“جھوٹی!”
وہ بڑبڑا کر سر جھٹکتا اپنی ماں اور چھوٹی ماں کو سلام کرتا تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جب کہ اس کے جانے کے بعد مومل اپنی نم ہوتی آنکھوں کو چھپاتی مناہل کے کھلونے سمیٹنے لگی۔
ایشا آفریدی نے بہت باریک بینی سے یہ سارا منظر دیکھا تھا۔
°°°°°°°
رات جب نوریہ لباس تبدیل کر کے کمرے میں آئی تو کمرہ خالی پڑا تھا۔ راجہ کمرے میں کہیں نہیں تھا۔ وہ نظریں گھماتی کمرے کا جائزہ لینے لگی۔ درمیانے سائز کا کمرہ جس کی چھت اور دیواروں پر سفید رنگ ہوا تھا۔ بیڈ کے بیچ و بیچ پڑا بیڈ جسے دیکھنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ نیا خریدا گیا ہے۔ بیڈ کے سامنے پڑا ڈریسنگ ٹیبل اور اس کے ساتھ والی دیوار کے ساتھ لگی لکڑی کی الماری کے علاوہ کمرے میں ایک ٹو سیٹر صوفہ موجود تھا۔ کمرے پر ایک نظر ڈال کر وہ بیڈ کی طرف بڑھ کر چادر اوڑھ کر لیٹ گئی اور جلدی سے آنکھیں بند کر گئی تا کہ راجہ کے کمرے میں آنے سے پہلے ہی سو سکے۔
اس کے سونے کی یقین دہانی کرتا وہ جب کمرے میں آیا تو وہ چادر سینے تک اوڑھے ایک بازو سینے پر جب کہ دوسرا سر رکھے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
بھاری جوڑے کی جگہ اس وقت ہلکا پھلکا گلابی لباس پہن رکھا تھا جو اس کی گلابی رنگت پر بہت کھل رہا تھا۔ وہ خود بھی لباس تبدیل کر کے اس وقت کالے رنگ کے ٹراؤزر شرٹ میں موجود تھا۔
وہ اپنے پیچھے موجود دروازے کو آہستگی سے لاک کرتا بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔
لیٹنے کے بعد دھیرے سے نوریہ کی طرف كهسكتا وہ نرمی سے نوریہ کا سر اٹھا کر اپنے بازو پر رکھ گیا۔
نوریہ نیند میں ہی تھوڑا سا کسمسا کر دوبارہ گہری نیند میں چلی گئی۔
“میری معصوم رانی!”۔
وہ اس کے معصوم چہرے کو دیکھتا اس کی ماتھے پر بوسہ دے کر اس کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کرتا خود بھی آنکھیں موند گیا۔
صبح راجہ کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر سب سے پہلے اپنے سینے پر پڑی نوریہ پر گئی جو سر اس کے سینے پر رکھے آدھی اس کے اوپر جب کہ آدھی بیڈ پر لیٹی سو رہی تھی۔
ہوش میں اس کے قریب آنے سے ڈرنے والی اس وقت لاپروای سے اس کے قریب ترین موجود تھی۔ اتنے قریب کہ راجہ کو اس کی سانسیں اپنی گردن پر محسوس ہو رہی تھیں۔
اس نے گھڑی پر وقت دیکھا تو صبح کے دس بج رہے تھے۔ وه جھک کر اس کا گال چھوتا اسے نرمی سے بستر پر لٹا کر خود الماری کی طرف بڑھ گیا۔
الماری سے آتشی رنگ کا کامدار جوڑا نکالا اور الماری کے باہر لٹکانے کے بعد اپنے کپڑے لیتا باتھ روم میں گھس گیا۔
فریش ہونے کے بعد وہ باہر آیا تو نوریہ ابھی تک سو رہی تھی۔ اسے یوں ہی چھوڑ کر وہ گھر سے باہر نکل گیا۔
آدھے گھنٹے کے بعد وه گھر واپس آیا تو ہاتھ میں پکڑے شاپر کچن میں رکھے اور کمرے کا رخ کیا۔
کمرے کی لائٹ جلتی دیکھ کر اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ نوریہ جاگ گئی ہے۔
وہ سیٹی کی دھن بجاتا کمرے میں داخل ہونے لگا پر ٹھٹھک کر دروازے پر ہی رک گیا اور خمار بھری نظروں سے نوریہ کو دیکھنے لگا جو اس کے منتخب کردہ آتشی لباس میں نکھری سی شیشے آگے کھڑی اپنی زلفوں کو سنوار رہی تھی۔
بے فکری سے كنگها بالوں میں چلاتے نوریہ کی نظر اچانک شیشے پر پڑی تو شرم سے پانی پانی ہو گئی کیوں کہ وه دوپٹے کے بغیر کھڑی تھی اور راجہ ٹکٹکی باندھے اسے تکتا ہی چلا جا رہا ہے تھا۔
اس نے كنگها نیچے رکھتے تیزی سے بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈال لیا اور نظریں جھکا کر کھڑی دونوں ہاتھوں کو مسلنے لگی۔
راجہ بھی ہوش میں آتا کمرے میں داخل ہوا اور عين اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔
“میری رانی کو بھوک لگی ہو گی نا؟ چلو ناشتہ کریں۔”
وه اس کا جواب سنے بغیر اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر صحن میں پڑے تخت کے پاس کے آیا۔ اسے بٹھا کر خود کچن کی طرف چلا گیا .
کچھ ہی سیکنڈز میں ایک بڑی ٹرے ہاتھ میں پکڑے باہر آیا جس میں ناشتے کے لوازمات دھرے تھے۔ ٹرے درمیان میں رکھنے کے بعد وہ دوسری طرف آ کر بیٹھ گیا اور پلیٹ میں کھانا نکالنے لگا۔
نوریہ بیچارگی سے سامنے پڑی حلوہ پوڑی کو دیکھنے لگی۔ اسے اتنی آئلی چیزیں سوٹ نہیں کرتی تھیں پر یہ بات وہ سامنے بیٹھے اپنے نئے نويلے شوہر سے کیسے کہتی جس کی شخصیت ہی اتنا ڈراؤنی اور رعب دار تھی کہ نوریہ کو اسے دیکھتے بھی ڈر لگتا تھا۔
راجہ نوالا بنا کر اس کی طرف بڑھا گیا تو وه اللّه کا نام لیتی جھجھک کر منہ کھول گئی۔
وه ایک نوالا خود کھاتا اور ایک اسے کھلاتا۔
وه محبت بھری نظروں سے اسے دیکھتا ایک اور نوالا اس کے منہ کے قریب کر گیا جب وہ منہ پر ہاتھ رکھتی وہاں سے اٹھ کر کمرے میں بھاگی۔ وہ نوالا وہیں پلیٹ میں رکھتا پریشان ہو کر اس کے پیچھے لپكا تو وه باتھ روم میں بند الٹیاں کر رہی تھی۔
وه پریشانی سے دروازہ کھٹکھٹانے لگا۔
“کیا ہو میری رانی؟ دروازہ تو کھولو!”
اگلے ہی پل وو دروازہ کھول کر باہر نکلی تو اسے دیکھتا وہ جلدی سے اپنے بازوؤں میں بھر گیا۔ اس کی حالت دیکھ کر وه ایک دم بہت پریشان ہو گیا تھا۔
وه فکر مند ہوتا اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا اس طرح الٹیاں کیوں کر رہی تھی؟”
راجہ کے پوچھنے پر وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اس کے اس طرح رونے پر راجہ بوکھلا گیا۔
“بتا تو سہی میری جان ہوا کیا ہے۔ کہیں درد ہو رہا ہے کیا؟”۔
اس کے فکر بھرے لہجے پر وه شرمندہ ہوتی نفی میں سر ہلا گئی۔
“مم ۔۔۔۔مجھے زیادہ آئلی چچ۔۔۔۔چیزیں سوٹ نہیں کرتیں ۔۔۔۔وومٹ ہو جاتی ہے اور۔۔۔۔اور طبیعت بھی خراب ہو جاتی ہے۔”
وه شرمندگی سے بولتی سر جھکا گئی۔
“افف یار! بس اتنی سی بات! مجھے پہلے بتا دیتی میں کچھ اور لے آتا ۔ڈرا دیا تو نے راجہ کو ۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہم نے تو ابھی کچھ کیا بھی نہیں ایسا تو پھر یہ الٹیااں کیوں؟”
اس کی بات پر وه سرخ پڑتی قہقہہ لگا گئی جب کہ وه اس کی خوبصورت ہنسی میں کھو گیا۔ اس کی نظروں کی تپش محسوس کرتی وہ ہاتھ مسلنے لگی۔
“چل میری رانی راجہ کچھ اچھا سا لے کر آتا ہے تیرے کھانے کے لئے اب۔”
وه سر ہلاتی تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔
راجہ بھی مسکراتا کمرے سے نکلنے لگا جب اسے موبائل کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز اس کے موبائل کی نہیں تھی۔ آواز کے تعقب میں اس نے دیکھا تو بیڈ پر نوریہ کا فون پڑا بج رہا تھا۔ اس نے قریب جا کر دیکھا تو موبائل کی سکرین پر “حاشر کالنگ” لکھا آ رہا تھا۔
“سالا!”
وہ اسے زیر لب گالی دیتا کال کاٹ کر موبائل پاور آف کر کے بیڈ پر پهينكتا نوریہ کے پیچھے چل دیا۔
°°°°°°°°
جہاں آرا چیخ چیخ کر پاگل ہو رہی تھی۔ پولیس سٹیشن میں جا کر کمپلین بھی درج کروا چکی تھی پر کوئی پتا نہیں چل رہا تھا۔ زین کو اس نے کال نہیں کی تھی اب تک کیوں کہ جانتی تھی وہ ارمش سے کتنا پیار کرتا ہے۔
اسے پتا چلتا تو آسمان سر پر اٹھا لیتا۔
پر تین دن بھی جب ارمش کا کچھ پتا نہ چل سکا تو جہاں آرا بیگم نے زین کو کال کر دی۔
“زین تم جہاں بھی ہو فوراً گھر آ جاؤ پلیز!”
ان کی روتی ہوئی آواز پر زین پریشان ہو اٹھا۔
“آپ رو کیوں رہی ہیں سب ٹھیک تو ہے نا؟”
اس کی متفكر آواز سنتی جہاں آرا بیگم کے آنسوؤں میں روانی آ گئی۔
“بس تم جلدی آ جاؤ پلیز!”
“اوکے میں آ رہا ہوں۔”
وہ بولتا کال بند کر گیا۔
گھنٹے بعد وه گھر پہنچا تو جہاں آرا بیگم سر ہاتھوں میں گرا کر صوفے پر بیٹھی تھیں۔
وہ متفكر ہوتا ان کے پاس پہنچا۔
“کیا ہوا ہے مام؟”
اس کی آواز سنتی جہاں آرا اس کے گلے لگ کر رونے لگیں۔
“ارمش کو کوئی کڈنیپ کر کے لے گیا ہے زین!”
ان کی بات سنتا زین جھٹکے سے ان سے الگ ہوا۔
“واٹ؟ یہ کیا کہہ رہی ہیں مام آپ؟ کون کڈنیپ کر کے لے گیا میشا کو؟”
وه اضطرابی کیفیت میں پوچھنے لگا۔ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتی جہاں آرا بیگم دل ہی دل میں خوف زدہ ہو گئیں۔
وه اسے اس دن کی ساری ڈیٹیلز بتانے لگیں۔
“مام وہ تین دن سے لا پتہ ہے اور آپ مجھے آج بتا رہی ہیں؟ میں شہر سے باہر ہی تھا نا مر تو نہیں گیا تھا۔ بہت غلط کیا آپ نے مام بہت غلط!”
وہ بے یقینی سے کہتا وہاں سے نکل آیا اور پولیس سے رابطہ کرنے لگا۔
°°°°°°°°
وه کہنیاں گھٹنوں پر ٹکاۓ دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر ان پر ٹھوڑی جماۓ بنچ پر بیٹھا تھا جب ایک دم اسے تیز شور سنائی دیا۔ وہ چونک کر اٹھتا گلاس ڈور سے اندر دیکھنے لگا جہاں وه چیختی چلاتی بےقابو ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر اور نرسیں اسے سنبھالنے میں لگے تھے پر وه کسی کے قابو میں نہیں آ رہی تھی۔
وه بے چین ہوتا کمرے میں داخل ہوا اور بیڈ کے قریب جا کھڑا ہوا۔
“ڈاکٹر! آپ پلیز باہر جائیں مجھے ہینڈل کرنے دیں۔”
وه ڈاکٹر کو دیکھتا بولا تو وہ سمجھتی نرسوں کو ساتھ آنے کا اشارہ کرتی باہر جانے لگی۔
“مسٹر ارسم آپ کی وائف کی مینٹل کنڈیشن بہت خراب ہو چکی ہے۔ اس واقع نے ان کے دماغ پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے پلیز کوشش کریں کہ وہ زیادہ پینک نہ کریں ورنہ وہ دوبارہ ڈینجر زون میں جا سکتی ہیں۔”
ڈاکٹر جاتے جاتے اسے تاکید کرنا نہ بھولی تھی جس پر وه سر ہلا گیا۔ ڈاکٹر اپنے پیچھے دروازہ بند کر کے جا چکی تھی۔
وه آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھ رہا تھا جو خوف سے سفید پڑتی اسے نزدیک آتا دیکھ رہی تھی۔
سخت خوف کے زیر اثر وه آواز تک نکالنا بھی بند کر چکی تھی۔
اس کی خطرناک حد تک سفید پڑتی رنگت دیکھتا وه متفکر سا اس کے بلکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔
“سوفٹی! کیسا محسوس کر رہی ہیں آپ؟”
وه نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ گیا۔
“پلیز ہمارے ساتھ کچھ بھی مت کرو ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے پلیز معاف کر دو میں کسی کو نہیں بتائیں گے ہمیں جانے دو۔”
وه خوف سے گھٹی گھٹی آواز میں بولی۔آنسو تواتر سے گالوں پر گرتے چلے جا رہے تھے۔
اس کی حالت دیکھ کر ارسم کا دل دکھ سے پھٹا جا رہا تھا .
“اچھا آپ مجھے یہ بتائیں کیا آپ نے وہ سٹوری سنی ہے جس میں ایک اینجل ایک لٹل پرنسز کو بھیڑیے سے بچاتا ہے؟”
اس کے نرمی سے پوچھنے پر وه بے اختیار اثبات میں سر ہلا گئی۔
“ہاں ہمیں بچپن میں ڈیڈی نے سنائی تھی۔ وہ ہمیں روز کہانیاں سناتے تھے۔”
اس کے معصومیت بھرے لہجے میں چھپی حسرت ارسم آفریدی صاف محسوس کر سکتا تھا۔
“آپ وہی لٹل پرنسز ہو اور میں اینجل! یہ اینجل اب کسی بھی بھیڑیے کو اپنی پرنسز کے پاس نہیں آنے دے گا۔اسے سب سے چھپا کر رکھے گا اس کی حفاظت کرے گا۔”
وه اس کے نرم لہجے اور پر سوز انداز میں بولے الفاظ کو اپنے اندر اترتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
اسے اس سے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا اب۔ اپنے گرد حفاظت کی ایک ان دیکھی دیوار محسوس کر رہی تھی۔
“کیا سچ میں؟”
حسرت بھرا لہجہ!
“جی بلکل سچ! جلدی سے ٹھیک ہو جائیں سوفٹی پھر آپ کو گھر بھی تو جانا ہے نا؟”
گھر کے نام پر اس کے معصوم چہرے پر بلا کی وحشت چھا گئی۔
“نن۔۔۔نہیں ہمیں نہیں جانا۔۔۔ہمیں گھر نہیں جانا۔۔۔۔ہمارا کوئی گھر نہیں ہے سنا آپ نے نہیں جانا ہمیں!”
وه ایک دم پینک ہوتی چیخنے لگی۔ ڈاکٹر نے آ کر جلدی سے اسے انجکشن لگا دیا۔ سکون آور انجکشن لگنے کے کچھ سیکنڈز بعد ہی وه ہوش سے بیگانہ ہو چکی تھی پر ارسم آفریدی کو بہت سی سوچوں میں الجھا گئی تھی۔
ہسپتال کے مخصوص لباس میں چھپا اس کا نالیوں میں جکڑا چھوٹا سا نازک اور کمزور وجود ارسم آفریدی کو اذیت میں مبتلا کرتا اس کی آنکھیں نم کر گیا۔ وه جھک کر عقیدت سے اس کے ماتھے پر لب رکھ کر پیچھے ہوتا اپنی آنکھوں میں موجود نمی صاف کرنے لگا۔
°°°°°
