Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6


وہ دلہن بن کر پور پور سجی آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پر نظریں جما کر بیٹھی تھی۔ سنہری رنگ کا زر تار جوڑا پہنے جب وہ مکمل سجنے سنورنے کے بعد اپنا عکس دیکھ رہی تھی تو ایک پل خود کو دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔ اس پر اس قدر روپ تو حاشر سے شادی کے وقت بھی نہ آیا تھا۔حاشر کے ساتھ شادی کے نوریہ نے اپنی مرضی سے اپنا عروسی جوڑا خریدا تھا کیوں کہ وہ اپنی مرضی کا قیمتی جوڑا لینا چاہتی تھی پر جانتی تھی کہ حاشر افورڈ نہیں کر سکتا۔ پر اب اس کا یہ جوڑا اس کے ہونے والے شوہر نے بھیجا تھا کہ وہ یہی پہن کر اس کے لئے سجے۔
اس کی طلاق کی عدت تین دن پہلے ہی ختم ہوئی تھی۔ پورا مہینہ تو اس نے روتے ہی گزارا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ حاشر کو اس قدر جلدی تھی کہ وہ اسے کھڑے کھڑے ہے طلاق کے تین لفظ بول دے گا۔ پر حاشر ایسا کر چکا تھا۔ طلاق ملنے کے چند گھنٹے بعد ہوش میں آتی وہ اسے وہاں سے جانے کا بول چکی تھی کیوں کہ اس کا نوریہ پر کوئی حق نہ رہا تھا۔ اس سارے عرصے میں وہ کبھی كبهار کال کر کے نوریہ کی خیریت معلوم کر لیا کرتا تھا اور نوریہ بھی بغیر کوئی دوسری باتکیے کال کاٹ دیتی۔
تین دن پہلے ہی عدت پوری ہونے پر حاشر اس کا جوڑا اور دیگر سجاوٹی سامان لے کر آیا تھا جو اس کے ہونے والے شوہر نے بھجوایا تھا۔ نکاح کے لئے جمعہ کا دن رکھا گیا تھا۔جوڑا اور ذیورات کافی بیش قیمت تھے۔ انہیں دیکھ کر حشر ایک دفع ٹھٹھک گیا تھا۔ بھلا گلی کا عام سا موالی اتنا پیسا کہاں سے خرچ کر سکتا تھا پر راجہ کے جواب پر حاشر کو بے تحاشہ ہنسی آئی جب اس نے بتایا کہ وہ کئی سالوں سے روپے جما کر رہا تھا تا کہ اپنی بیوی کے لئے شاندار جوڑا خرید سکے اور یہ زیور اس نے اپنے کسی دوست سے ادھار لئے تھے۔
نوریہ سارا سامان دیکھتے ہی انکار کر چکی تھی۔ اسے سجنے کی کوئی تمنا نہیں تھی۔ وہ بس سادگی سے نکاح کرنا چاہ ررہی تھی پر اسے حاشر کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی۔
حاشر کو آج کے دن خوش و خرم دیکھ کر اس کا دل جل رہا تھا۔ کیا اسے ذرا سا بھی فرق نہیں پڑ رہا تھا اس بات سے کہ اس کی محبت کسی اور کی ملکیت میں جانے والی ہے۔ اس کے شب و روز کسی اور کے حصار میں گزریں گے۔ پر وہ تو اولاد پانے کی خوشی میں ہر چیز اور سوچ سے بے پرواہ ہو چکا تھا۔
اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ کسی اور کی ملکیت بن چکی تھی۔ وہ سن ہوتے دماغ کے ساتھ یہ سب ہوتا دیکھ ررہی تھی۔ یہ سب اس کی سوچ سے بھی زیادہ مشکل نظر آ رہا تھا اب ۔
نکاح ہوتے ہی وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دی تھی۔
کمرے میں آتے ہی کب سے رکے آنسو گالوں پر پھسلنے لگے تھے۔اسے ماں باپ کی یاد بہت شدت سے آئ تھی۔ اسے کمرے میں آۓ کچھ دیر ہی ہوئی تھی جب حاشر کمرے میں داخل ہوا۔ وہ اسے دیکھتی آنسو پونچھ کر رخ موڑ گئی۔
“نوریہ! ریڈی ہو جاؤ میں کسی ملاذمہ کو بھیج رہا ہوں وہ تمہارا سامان پیک کر دیتی ہے۔ تم راجہ کے ساتھ اس کے گھر جا رہی ہو۔”
اس کی بات سن کر وہ جھٹکے سے مڑی تھی۔
“کیوں میں کیوں اس کے ساتھ جاؤں؟ یہ میرا گھر ہے اور میں یہاں سے کہیں بھی نہیں جاؤں گی۔ ہمارے درمیان یہ بات پہلے ہی طے ہو چکی ہے کہ میں اسی گھر میں رہوں گی۔پلیز حاشر مجھے کہیں نہیں جانا۔”
تیز لہجے میں کہتی وہ آخر میں بے بس ہو گئی تھی۔
“راجہ کی ضد ہے کہ تم اس کے ساتھ اس کے گھر میں جاؤ گی۔ کچھ مہینوں کی بات ہے نوریہ بس۔ اب مزید نخرے مت کرو۔ چادر اوڑھ لو میں ملاذمہ کو بھیج رہا ہوں۔ “
اپنی سناتا وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
کچھ دیر بعد وہ چہرہ گھونگٹ سے چھپاتی لاؤنج میں آ گئی جہاں اب صرف حاشر اور اس کا شوہر موجود تھے۔
اس کے وہاں آتے ہی وہ آگے بڑھتا اس کی کلائی تھام گیا جب کہ اپنی کلائی سخت گرفت میں محسوس کرتی نوریہ لرز اٹھی۔ راجہ ایک لفظ بھی مزید بولے بغیر اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا وہاں سے نکلتا چلا گیا یھاں تک کہ حاشر پر ایک نظر ڈالنا بھی گواراه نہ کیا جب کہ حاشر ایک مرتبہ اس کی حرکت پر خول کر رہ گیا۔
“سالے کو اتنی حسین لڑکی ملی ہے وہ بھی کچھ دن کے لئے ایک اس لئے ایک پل بھی ضائع کرنا نہیں چاہ رہا۔”
کمینی ہنسی هنستا وہ کمرے کا رخ کر گیا۔
°°°°°°°°
وہ اسے لیتے باہر آیا تو ٹیکسی سامنے ہی کھڑی تھی جس میں بیٹھ کر انہیں راجہ کے گھر جانا تھا ۔گاڑی کے پاس پہنچنے کے بعد راجہ نے بیک سیٹ کر دروازہ کھول کر اس کو سہارا دے کر اندر بٹھایا اور پھر دوسری طرف سے آ کر خود بھی بیٹھ گیا۔
راجہ ابھی تک اس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا پر گھونگھٹ کے باوجود اس کا مومی سراپا اس قدر دلکش لگ رہا تھا کہ راجہ کو خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ٹیکسی رکی۔ نوریہ چونک کر ہوش کی دنیا میں لوٹی جب وه گاڑی سے اتر کر اس کی سائیڈ پر آ کر دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ اس نے قدم باہر رکھنا چاہا تو ایک سفید مضبوط ہاتھ اس کے آگے آ گیا۔ وہ اس کے لئے ہاتھ بڑھا کر کھڑا تھا۔ نوریہ نے کچھ جھجکتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا جسے وہ مضبوطی سے تھام کر اس کی گاڑی سے نکلنے میں مدد کرنے لگا۔
ہیلز کی وجہ سے ٹوٹی پھوٹی سڑک پر چلنا اس کے لئے بہت مشکل ہو رہا تھا۔ اس کا پاؤں مڑا پر اس سے پہلے کہ وہ گرتی راجہ اسے کمر سے تھام گیا۔
” بس ایک منٹ یہاں رکو یہاں سے ہلنا مت۔”
اپنی بھاری آواز میں اسے حکم سناتا وہ تیز تیز قدم اٹھاتا گلی میں آگے بڑھتا گیا۔ تیسرے نمبر پر موجود گھر کے سامنے رک کر باہر لگے تالے میں چابی گھماتا تالا کھول کر چابی واپس جیب میں رکھتا اس کی طرف واپس آیا اور قریب آتے ہی اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا گیا۔ وہ اس کے اچانک اقدام میں شاک رہ گئی۔ آس پاس نظر ڈالتے اسے اتنا اندازہ تو ہو چکا تھا کہ وہ کسی محلے میں لے کر آیا تھا اسے اور اب اس کی اچانک حرکت سے وہ بے یقین تھی کہ وہ ایسی حرکت کر سکتا ہے وہ بھی اتنے لوگوں کے سامنے جو گھروں کے کھلے دروازوں سے جھانک کر انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔ جالی دار گھونگھٹ کے باعث وہ سب کچھ دیکھ پا رہی تھی۔ اس کے اٹھانے پر وہ زور سے آنکھیں میچتی گرنے کے خوف سے اس کی قمیض کا کالر دونوں مٹھیوں میں جکڑ گئی۔ گھر کے اندر داخل ہو کر وہ پاؤں کی مدد سے پیچھے دروازہ بند کر گیا اور اسے لئے سیدھا بیڈ روم میں چلا آیا۔ بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی نوریہ کے ناک سے گلاب کے پھولوں کی گہری خوشبو ٹکرائی تھی۔ وہ بیڈ کے قریب پہنچ کر اسے نرمی سے بیڈ پر بیٹھا کر اس کے گرد لپٹی چادر ہٹا کر سائیڈ پر رکھ گیا۔
نوریہ کا دل آنے والے لمحات کے خوف سے دھڑکنے لگا۔ ہتھیلیاں پسینے سے نم ہو گئیں۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر واپس دروازے تک گیا اور لاک لگا کر واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔
“السلام علیکم! “
اس کے سلام لینے پر وہ پھر سے چونک گئی۔ حاشر نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
“سلام کا جواب دیا جاتا ہے جناب!”
وہ شوخ لہجے میں بولا تو وہ شرمندہ ہو کر رہ گئی۔
“وعلیکم السلام!”
دھیمے لہجے میں جواب دیتی وہ راجہ کو مزید پیاری لگی تھی۔
“یہ پردہ کب تک اس پریمی کی آنکھوں کو دید سے محروم رکھے گا؟ کیا اس نا چیز کو اجازت ہے کہ وہ یہ پردہ سركا سکے۔”
اس کی آواز بہت خوبصورت تھی۔ بھاری مردانہ آواز! جب کہ حاشر کی آواز اس کی نسبت باریک تھی۔
اس نے ہہاں میں سر ہلایا۔ شادی تو ہو ہی گئی تھی۔ اسے یہ سب تو برداشت کرنا ہی تھا نا۔
راجہ نے اس کا گھونگھٹ اٹھایا تو وه نظریں جھکا گئی۔
اور راجہ! وه تو اسے دیکھ کر مبہوت ہو چکا تھا۔
اس کے نام کا سنہری زرتار جوڑا، مانگ میں جما ٹیکا، بھاری آویزے جو اس کے گالوں کو چھوتے دلکش لگ رہے تھے اور گلے میں پہنا سچے موتیوں کا ہار پہنے، ہلکا پھلکا میک اپ کیے وہ انتہائی دلکش لگ رہی تھی۔
گالوں پر چھائی سرخی غضب ناک تھی جب کہ ہونٹوں پر سجی لالی راجہ کے اندر تشنگی مزید بڑھا گئی۔
اس کو وہ دنیا کی دلکش ترین دلہن لگ رہی تھی۔کوئی اس قدر خوبصورت کس طرح لگ سکتا تھا! اتنا مکمل!
وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے اپنی طرف کھینچ گیا۔ اس کی اچانک حرکت پر وہ لرز اٹھی۔
اور تب نوریہ نے نظر اٹھا کر پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا۔
تیکھی ناک، عنابی لب جنھیں دیکھ کر صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ کثرت سے سگریٹ پیتا ہے، بادامی بھوری آنکھیں جو مسکرانے پر چھوٹی پڑ رہی تھیں، گھنی داڑھی مونچھیں اور لمبے بال پیچھے پونی میں بندھے تھے۔گلے میں لوکٹس اور ہاتھ میں مختلف بینڈز پہن رکھے تھے۔ سفید شرٹ کے ساتھ کالی پینٹ اور کالی ہی ویسٹ کوٹ جو شاید آج کے خاص موقع کے لئے ہی خاص طور پر زیب تن کی گئی تھی ورنہ عام حالات میں اس کا حلیہ يكسر مختلف ہوتا تھا۔
اس کی بھاری جسامت سے نوریہ اسے کوئی باڈی بلڈر ہی سمجھ رہی تھی۔
اس کے اونچے لمبے اور خوف ناک سراپے کو دیکھ کر نوریہ خوفزدہ ہو چکی تھ۔
کہاں وہ نرم و نازک سی لڑکی اور کہاں وہ مونسٹر!
اس کی شخصیت کافی رعب دار تھی۔
“ڈر کیوں رہی ہے میری رانی! “
وہ اس کی ٹھوڑی تھام کر نہایت نرمی سے پوچھ رہا تھا۔
“ڈڈ۔۔۔ڈر لگ رہا ہے!”
اس کی کانپتی ہوئی آواز پر وہ زیر لب مسکرا دیا۔
“راجہ کے ہوتے اس کی رانی کس سے ڈر رہی ہے؟”
وہ اسے مزید قریب کرتا اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر گیا۔
“آ۔۔۔آپ سے۔”
وه اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
“یہ تو بڑا گھمبیر مسلہ ہے پھر تو۔ کس طرح ختم کیا جاۓ اس ڈر کو۔”
وہ اسے ساتھ لیتا پیچھے کی جانب نیم دراز ہو گیا۔
“دد۔۔۔دور ہٹ کر۔”
اس کی بات پر وہ بھر پور قہقہہ لگا گیا۔
“یہ بات تو نہیں مان سکتا راجہ اپنی رانی کی۔ راجہ رانی سے عارضی دوری بھی برداشت نہیں کر سکتا ہاں اگر راجہ کی جان چاہئے تو بولو!”
اس کی باتوں پر نوریہ ہونق بن کر اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ اس کا تعلق عارضی تھا یہ بات دونوں ہی جانتے تھے پھر راجہ ایسی باتیں کیوں کر رہا تھا۔ شاید ان فسوں خیز لمحوں کے زیر اثر!
“مم۔۔مجھے چچ۔۔چینج کرنا ہے!”
وہ خود کو اس کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی پر وو ٹس سے مس بھی نہ ہو رہا تھا بلکہ بہت دلچسپی سے اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ رہا تھا۔
“ابے یار!”
ایک دم سے کچھ یاد آنے پر وه سر پر ہاتھ مارتا اٹھ بیٹھا۔ اس کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی نوریہ جھٹ سے اس سے الگ ہوئی۔
وه بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ایک ڈبی نکال کر واپس اس کے قریب بیٹھ گیا۔
ڈبی کھول کر اس میں موجود سونے کی ایک بھاری انگوٹھی نکالی۔
“ہاتھ دے اپنا میری رانی!”۔
اس کے ہاتھ پهيلانے پر نوریہ جھجھکتے ہوئے اپنا کومل ہاتھ اس کی مضبوط ہتھیلی پر رکھ گئی جسے تھام کر وہ اس کے ہاتھ کی تیسری انگلی میں وو انگوٹھی پہنا گیا۔
نوریہ بہت غور سے اس انگوٹھی کو دیکھنے لگی۔ وہ پرانی تھی پر بہت نفیس۔
“جانتا ہوں یہ تیرے شایان شان نہیں پر میرے لئے اس سے قیمتی کچھ نہیں ہو سکتا کیوں کہ یہ میری ماں کی واحد نشانی ہے۔”
وہ آنکھوں میں ہلکی سے نمی لئے اس کا ہاتھ چوم کر اپنی آنکھوں سے لگا گیا۔
اس کی نم آنکھیں دیکھ کر نوریہ کا دل پسیج گیا۔ شاید وہ اپنی ماں کو مس کر رہا تھا۔
“آپ ایسا نہ سوچیں۔ یہ بہت خوبصورت ہے۔”
اس کے نرمی سے بولنے پر وہ مسکرا دیا۔
“تو جانتی ہے تو بہت خوب صورت ہے۔ اتنی خوب صورت دلہن میں نے آج تک نہیں دیکھی۔”
وہ دوبارہ جھکتا اس کی پیشانی پر پورے حق سے مہر ثبت کر گیا۔
وہ ایک دم گھبراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“مم۔۔۔میں چینج کر کے آتی ہوں۔”
اس سے پہلے کہ وہ وہاں سے جاتی راجہ اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ کے سامنے پڑے ڈریسنگ ٹیبل تک لے گیا اور پاس رکھا سٹول کھینچ کر نوریہ کو اس پر بیٹھا گیا۔
سب سے پہلے اس کا دوپٹہ اس کے نازک وجود سے الگ کیا پھر ایک ایک کر کے اسے زیوروں کے بوجھ سے آزاد کرنے لگا جب کہ وہ شرم سے سرخ پڑتی سر جھکاکر بیٹھی تھی۔
تمام زیور اتارنے کے بعد وہ اس کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھتا شیشے میں نظر آتے دونوں کے عکس کو محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا جب کہ اس کا لمس محسوس کرتی وہ بے چین ہونے لگی۔ اس کا دل فلحال یہ سب قبول نہیں کر پا رہا تھا۔
راجہ نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا اور خمار بھری نظروں سے اس کے سرخی مائل نازک لبوں کو دیکھنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وه بے خود ہو کر جھکتا نوریہ کے گال پر پھسلتا آنسو اسے ٹھٹھکا گیا۔
“کیوں رو رہی ہے میری رانی؟”
وہ اس کی ٹھوڑی نرمی سے تھام کر اس کا چہرہ اونچا کر کے اس کی بھیگی پلکوں پر اٹکے موتیوں کو دیکھتا جھک کر ان موتیوں کو اپنے ہونٹوں سے چن گیا۔
نوریہ سسکی تو راجہ بے چین ہو اٹھا۔
“پپ۔۔۔پلیز! میں۔۔۔میں ابھی اس سس۔۔۔سب کے لئے تیار نہیں ہوں۔ پلیز ٹراۓ ٹو انڈر اسٹینڈ!”
اس کی بات سنتا راجہ اسے نرمی سے اپنے سینے سے لگا گیا۔
“بس اتنی سی بات پر میری رانی نے اپنے قیمتی آنسو ضائع کر دیے! میں اپنی رانی کو کس طرح تکلیف دے سکتا ہوں۔ باقی سب تو ٹھیک ہے پر جو تو نے آخر میں انگریزی بولی اس کا مطلب بتا دے میری رانی۔”
اس کے کھسیا کر پوچھنے پر وہ بے ساختہ کھلکھلا کر ہنس دی جب کہ راجہ اپنی شرمندگی بھلا کر مبہوت ہوتا اس کے حسین چہرے پر سجی دلکش ہنسی دیکھنے لگا .
اس کی نظروں کی تپش محسوس کرتی وہ جھجھک کر کمرے میں یہاں وہاں نظریں دوڑانے لگی۔ راجہ نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا تو وہ تیزی سے کمرے سے ملحق باتھروم میں گھس گئی۔
“ہاۓ! ظالم کتنی حسین ہے! میرے سپنوں کی رانی!”
وہ بیڈ پر گرتا دونوں بازو پهيلا کر آنکھیں موند گیا اور بیتے دلنشیں لمحوں کو یاد کرنے لگا۔
°°°°°°°°
وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے سیٹی کہ دھن بجاتا اس سنسان سڑک پر آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ چند قدم چلنے کے بعد ہی اسے اپنے قدم روکنے پڑے۔ وجہ اس کے پیروں میں پڑا چمکتا ہوا کوئی زیور تھا۔ اس نے جھک کر وہ ننھا سا زیور اٹھا لیا۔ وہ ایک جھمکا تھا پر اس پر لگے خون نے اسے ٹھٹکا دیا۔ ابھی وہ مزید اس پر غور کر پاتا اس سے پہلے ہی اس کے کانوں سے کسی کے کراہنے کی آواز ٹکرائی۔ وہ جلدی سے اپنے قدم دائیں طرف موڑ گیا کیونکہ وہ آواز سڑک کی دائیں طرف موجود جھاڑیوں سے آئی تھی۔ تیز تیز قدم اٹھاتا وہ جوں ہی جھاڑیوں کے پیچھے پہنچا سامنے نظر آنے والے منظر نے اس کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ وہ کسی نوجوان لڑکی کا نیم برہنہ وجود تھا جو خون سے اٹا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ یہی اندازہ لگا پایا کہ اسے جنسی زیادتی کے ساتھ ساتھ جسمانی زیادتی کا شکار بنایا گیا تھا۔
اس نے جلدی سے اپنا لونگ کوٹ اتارا اور اس لڑکی کے پاس جا کر ایک گھٹنا زمین پر ٹکا کر بیٹھ گیا۔ اس نے لڑکی کر کوٹ پہنانے کے لیے جیسے ہی اس کا رخ اپنی طرف کیا اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسے اپنی آنکھوں کے سامنے زمین و آسمان گھومتے ہوئے نظر آئے۔ وہ دو دن پہلے ہسپتال میں نظر آنے والی وہی لڑکی تھی جو پہلی نظر میں ہی ارسم آفریدی کر اپنا اسیر کر گئی تھی۔ اپنے چہرے پر نمی محسوس کرتے ارسم نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو حیران رہ گیا۔ کیا وہ رو رہا تھا؟ کیا ارسم آفریدی محض دو دن پہلے نظر آنے اور اسی پل دل میں بس جانے والی اس معصوم چہرہ لڑکی کے لیے رو رہا تھا جو کسی درندے کی حوس کا شکار ہو چکی تھی۔ کراہنے کی آواز دوبارہ اس کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا۔ جلدی سے اس کے زخموں سے چور نازک وجود کو اپنا لونگ کوٹ پہنایا جس میں وہ پیروں تک چھپ چکی تھی اور اسے اٹھائے چند قدموں کے فاصلے پر موجود اپنی گاڑی کی طرف دوڑا۔ اسے پچھلی سیٹ پر لٹا کر وہ خود ڈرائیونگ سیٹ کر طرف بڑھا اور گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی۔ اس کی نگاہیں بھٹک بھٹک کر پیچھے موجود وجود کی طرف جا رہی تھیں۔گاڑی ہسپتال کے باہر روکتے ارسم نے ایک بار پھر اسے باہوں میں بھرا اور برک رفتاری سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھ گیا۔ ڈاکٹرز اسے سٹریچر پر ڈال کر وارڈ میں لے گئے تو دروازہ بند ہونے پر وہ وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھوں موند گیا۔ دل کی حالت حد سے سوا تھی۔چند منٹ کے بعد وارڈ کا دروازہ کھلا اور ایک لیڈی ڈاکٹر باہر آئی۔
“مسٹر ارسم آفریدی!”
اپنے نام کی پکار پر وہ بلکل بھی حیران نہیں ہوا کیونکہ کون تھا جو ملک کے ایک جانے مانے اور اعلیٰ پائے کے کرکٹر کو نہ جانتا ہو۔
وہ تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھا۔
“آپ کا پیشنٹ سے کیا رشتہ ہے؟”
ڈاکٹر سنجیدہ چہرے کے ساتھ جواب کی منتظر تھی۔
“شی از مائی وائف!”
نہ جانے کیسے لفظ ہے اختیار ہو کر منہ سے پھسلے تھے۔ اگلے لمحے وہ خود اپنے ہی بولے گئے جملے پر ششدر رہ گیا۔
“دیکھیں مسٹر آفریدی آپ کی وائف کا گینگ ریپ ہوا ہے اور انھیں مسلسل دو دن زیادتی کا شکار بنایا گیا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ ان کے جسم کو سگریٹ سے داغا بھی گیا ہے۔ ان کا لورا جسم زخموں سے چور ہے۔ ان کی حالت تشویشناک ہے۔ آپ دعا کریں انھیں ہوش آ جائے کیونکہ جتنی جلدی انھیں ہوش آئے گا ان کی صحتیابی کے چانسز اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ حوصلہ رکھیں آپ کی وائف کو اس وقت سب سے زیادہ آپ کی سپورٹ اور محبت کی ضرورت ہے۔”
وہ اس کی سرخ آنکھوں کو افسوس سے دیکھتی مڑ گئی جب وہ اسے پیچھے سے آواز لگا گیا۔
“ایکسکیوز می ڈاکٹر!”
وہ اس کی آواز پر پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“پلیز یہ بات باہر نہ نکلے کیونکہ آپ جانتی ہیں یہ بات اگر میڈیا تک پہنچ گئی تو اس کا جینا حرام کر دیا جائے گا۔ آپ سمجھ رہی ہیں نا؟”
اس کی بات پر وہ سر ہلا گئی۔
“بے فکر رہیں آپ مسٹر آفریدی میں خود ایک عورت ہو کر کس طرح کسی دوسری عورت کو رسوا کر سکتی ہوں۔”
وہ کہتی واپس وارڈ میں غائب ہو گئی تو وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو رگڑتا جیب سے ماسک نکال کر منہ پر چڑھا گیا