Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

Writer Meem Ainn
Episode 30
“راجہ!!!!”
نوریہ کی پکار پر راجہ نے گردن جھکا کر اسے دیکھا جو اس کے سینے پر سر رکھے اس کی شرٹ کے بٹنوں سے کھیل رہی تھی۔
“بولو میری جان!!!!”
وه اس کے سر پر بوسہ دے کر محبت بھرے لہجے میں بولا۔
“آپ مجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں؟؟؟”
وه سر اونچا کرتی اسے دیکھتی سوال داغ گئی تو راجہ کے چہرے کو مسکان نے چھو لیا۔
“انسان کے زندہ رہنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری کیا چیز ہوتی ہے؟؟؟”
وه سوال کے بدلے سوال کر گیا۔
“اس کی سانسیں۔”
کچھ لمحے سوچنے کے بعد وه جواب دے گئی۔
“ہاں سہی کہا۔ میرے سوال کا جواب تو مجھے مل گیا اب آتے ہیں تمہارے سوال کی طرف۔”
اسے کہتا وه کروٹ بدل کر اسے بیڈ بیڈ پر لٹاتا خود اس کے اوپر جھک آیا اور کہنی کے بل لیٹ گیا۔
“میری سانسوں سے زیادہ ضروری ہو تم میرے لئے۔ میں بھتر حوروں کا اكلوتا دلبر اگر تم پر فدا ہوں تو سوچ لو کس قدر اہم ہو تم میرے لئے۔”
اس کے خوبصورت اظہار پر وه مبہوت سی اس کی آنکھوں میں جھانکتی رہی۔
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟”
اس کے سوال کا جواب دینے کی بجائے وه اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے خود پر جھکا گئی۔
اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وه اپنے لب نرمی سے اس کے ماتھے پر رکھ گئی۔ راجہ پرسکون ہوتا آنکھیں بند کر کے اس خوبصورت اور روح افزا احساس کو محسوس کرنے لگا۔
“میں ہمیشہ کوشش کروں گی کہ آپ کی محبت کا مان رکھ سکوں۔”
وه اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکا گئی۔
راجہ کا موبائل ایک دم بجنا شروع ہوا تو وه اٹھ کر بیٹھ گیا اور کال ریسیو کرتا مقابل سے بات کرنے لگا۔ اسے موبائل میں مصروف دیکھ کر نوریہ بھی اٹھ بیٹھی اور اپنے بکھرے بال سمیٹنے لگی۔
بال سمیٹنے کے بعد وه اٹھی اور بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر پڑی چادر اٹھا کر اپنے وجود کے گرد اوڑھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
کال ختم ہونے کے بعد راجہ نے کمرے کو ایک نظر دیکھا جو خالی تھا۔ وه بیڈ سے اٹھا اور پیروں میں چپل اڑس کر کمرے سے باہر آ گیا۔ کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں سنائی دیں تو راجہ اسی طرف چل دیا جہاں وه فریج سے جوس کا ڈبہ نکال رہی تھی۔
“مجھے ایک کام سے جانا پڑ رہا ہے۔ بہت ضروری کام ہے یار امید ہے دو تین گھنٹوں میں واپس آ جاؤں گا۔ رات کا کھانا ہم ایک ساتھ ہی کھائیں گے۔ تم اپنا اور میرے بےبی کا بہت سا دھیان رکھنا اور اب کوئی کام کرنے مت بیٹھ جانا ورنہ بہت پٹو گی مجھ سے سمجھی۔”
اس کی پیار اور فکر بھری دھمکی پر وه مسکرا دی۔
“اوکے جناب جیسا آپ کا حکم۔”
وه مسکراتی ہوئی جوس گلاس میں ڈالنے لگی۔
“اچھا نا!!! شوہر گھر سے باہر جا رہا ہے اسے اچھے سے رخصت تو کرو۔”
اس کی چالاکی پر وه اسے دیکھ کر رہ گئی۔
“تم سے کچھ نہیں ہو گا مجھے خود سے کرنا پڑے گا۔”
راجہ کہنے کے ساتھ نوریہ کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی سانسوں پر دسترس حاصل کر گیا تو وه اس کا کالر اپنی مٹھیوں میں بھینچ گئی۔
پیچھے ہٹ کر اس نے نوریہ کا چہرہ دیکھا جو لال ہو چکا تھا جب کہ پلکیں لرز رہی تھیں۔ وه جھک کر اس کی پیشانی چوم گیا۔
“جا رہا ہوں بہت دھیان رکھنا اپنا اور میری جان کا۔دروازہ اچھے سے لاک کر لو اور کھولنا مت کوئی بھی آئے اگر۔ میں جب واپس آؤں گا تو خود ہی کھول لوں گا چابی ہے میرے پاس۔ اللّه حافظ!!!”
وه اسے ڈھیر سی نصیحتیں کرتا اس کا گال تهپتهپاتا گھر سے نکل گیا تو وه بھی مسکراتی ہوئی دروازہ لاک کرتی کچن سے جوس کا گلاس پکڑتی کمرے میں چلی گئی۔
جوس پینے کے بعد وه موبائل پکڑ کر لیٹ گئی اور کینڈی کرش گیم کھیلنے لگی۔ اسے گیم کھیلتے ابھی دس منٹ ہی گزرے تھے جب کسی ان ناؤن نمبر سے اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔ اس نے کال کاٹ دی پر سامنے والا بھی خاصا ڈھیٹ تھا جو بار بار کال کرتا جا رہا تھا۔ جب چھٹی دفعہ کال آئی تو نوریہ جهنجهاتی ہوئی کال اٹھا گئی۔
“ہیلو!!!”
“ہیلو نوریہ یہ میں ہوں حاشر!!! نوریہ پلیز کال بند مت کرنا مجھے تم سے بہت زیادہ ضروری بات کرنی ہے۔ میری بات سن لو بس پلیز اس کے بعد کال بند کر دینا چاہے۔”
حاشر کی آواز سن کر وه کال کاٹنے والی تھی پر اس کے اسرار کرنے پر اس کا التجائیہ لہجہ دیکھتی لب بھینچ کر اس کو بولنے کا موقع دے گئی۔
اس کی خاموشی پر حاشر نے اس کی رضا مندی محسوس کرتے اپنی بات جاری رکھی۔
“نوریہ ہمارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔ راجہ کو جیسا ہم سمجھتے ہیں وه ویسا نہیں ہے۔ وه ایک بہت بڑا گنڈا ہے۔ اس کا تعلق مافیا سے ہے۔ وه بہت بڑا بہروپیہ ہے۔”
اس کی بات سنتی نوریہ بے یقین سی تھی۔
“آ۔۔آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ راجہ ایسے بلکل بھی نہیں ہیں۔ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ آپ کی کسی گھٹیا بات پر یقین کر لوں گی میں۔خبردار اگر آج کے بعد مجھے کال کرنے کی کوشش بھی کی۔”
اس کے الزام پر نوریہ بھڑک اٹھی۔
“میں جھوٹ نہیں بول رہا بلکل سچ کہہ رہا ہوں میرے پاس ثبوت موجود ہیں۔ تمہیں اگر نہیں یقین آ رہا تو میں تمہیں ایک ایڈریس سینڈ کرتا ہوں تم وہاں آ کر خود ہی دیکھ لو کہ راجہ کیا ہے اور کیسا ہے۔”
اس کا یقین بھرا لہجہ نوریہ کو تھرا کر رکھ گیا۔
“پلیز نوریہ تم ایک دفعہ آ کر اپنی آنکھوں سے ساری حقیقت دیکھ لو پھر تمہیں یقین آ جاۓ گا۔”
جواب میں نوریہ چپ رہی پر وه ایک سیکنڈ میں فیصلہ کر چکی تھی۔
“ٹھیک ہے آپ ایڈریس سینڈ کریں میں آتی ہوں۔”
وه کہتی کال کاٹ گئی۔
“میں وہاں کا کر ثابت کر دوں گی کہ میرے راجہ ایسے نہیں ہیں پھر اس کے بعد کبھی حاشر کی شکل تک نہیں دیکھوں گی۔”
وه خود سے کہتی الماری سے اپنی چادر نکالنے لگی اور پھر کچھ ہی دیر بعد وه چادر اوڑھ کر موبائل پکڑتی گھر سے نکل گئی۔
اگر اسے پتا ہوتا کہ اس کی یہ غلطی اسے کس قدر بھاری پڑ سکتی ہے تو کبھی یہ قدم نہ اٹھاتی۔
°°°°°°°
“مینو ماما کی جان ماما کو کیوں تنگ کر رہی ہو۔ جلدی سے ماما کے پاس آؤ ماما آپ کو بریک فاسٹ کروائیں۔”
مومل مناہل کے پیچھے بھاگتی اسے آوازیں دے رہی تھی پر وه كهلكهلاتی آگے بھاگتی جا رہا تھی۔
“مینو آ جاؤ بیٹا ورنہ ماما پٹائی کریں گی۔”
مومل کب سے اسے ناشتے کے لئے منا رہی تھی پر اس چھوٹی میڈم کا شرارتوں کا پلان تھا اس لئے مومل کے ہاتھ نہ آ رہی تھی۔
“مجھے نہیں تھانا!!!”
وه جواب دیتی سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔
“رکو مناہل ایسے مت بھاگو گر۔۔۔۔”
اسے فکر مندی سے منع کرتی اس سے پہلے کہ وه اپنی بات پوری کرتی مناہل کی چیخ پورے گھر میں گونجی۔
“ماما!!!!!!”
مناہل کی چیخوں پر مومل بھاگتی ہوئی سیڑھیوں کے پاس آئی جہاں خون سے لت پت مناہل سیڑھیوں سے نیچے فرش پر گری پڑی تھی۔
چیخیں سنتی ارمش بھی اپنے کمرے سے نکلتی بھاگتی ہوئی نیچے آئی تھی۔ ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی تھوڑی دیر پہلے ہی مارکیٹ گئی تھیں۔ارسم بھی گھر نہیں تھا اور باسم بھی آفس جا چکا تھا۔
“مینو اٹھو ماما کی جان پلیز ماما کو پریشان مت کرو۔”
مومل مناہل کو اٹھا کر گود میں ڈالتی وہیں زمین پر بیٹھ کر اس کا چہرہ تهپتهپانے لگی۔
روتی ہوئی ارمش کے دماغ نے کام کیا تو وه ہمت کر کی اٹھتی تیزی سے کمرے کی طرف واپس بھاگی اور جلدی سے باسم کا نمبر ملایا۔ باسم کو صورت حال سے آگاہ کرتی وه واپس نیچے آئی تو مومل یوں ہی اس کا چہرہ تهپتهپاتی روتی چلی جا رہی تھی۔
“آپی ہمیں اسے ہوسپٹل لے کر جانا چاہئے دیکھیں کتنا خون بہہ گیا۔”
ارمش کی آواز پر مومل نے چونک کر گردن موڑ کر دیکھا تو وه بھی اس کے پاس بیٹھ کر رو رہی تھی۔
“ارمش۔۔۔ارمش دیکھو یہ اٹھ کیوں نہیں رہی ارمش اسے کہو اٹھے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے یہ مجھے کیوں پریشان کر رہی ہے۔”
ارمش سے کہتی وه پھوٹ پھوٹ کر رو دی تو ارمش کے آنسوؤں میں بھی روانی آ گئی۔
“کچھ نہیں ہو گا آپی یہ بلکل ٹھیک ہو جاۓ گی آپ کو پتا ہے نہ کتنی شرارتی ہے ہمیں تنگ کر رہی ہے بس۔”
اس سے پہلے کہ مومل اس کی بات کا جواب دیتی لاؤنج کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور باسم دوڑتا ہوا ان تک پہنچا۔ باسم کو دیکھ کر مومل کی سانسیں سینے میں اٹک گئیں۔
وه اسے مخاطب کیے بغیر اس کی گود میں پڑی مناہل کو اپنے بازوؤں میں بھر کر باہر کی طرف بھاگا تو مومل بھی ہوش میں آتی اس کے پیچھے لپكی۔
باسم کے گاڑی تک پہنچنے سے پہلے ہی وه فرنٹ ڈور کھول کر اندر بیٹھ گئی تو باسم مناہل کو اس کی گود میں ڈالتا خود ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
پورے راستے باسم ایک لفظ بھی نہ بولا تھا۔ مومل روتی ہوئی بار بار مناہل کو آوازیں دے رہی تھی پر وه بے سدھ پڑی تھی۔
ہوسپٹل پہنچتے ہی مناہل کو ایمرجنسی وارڈ لے جایا گیا تھا۔مومل کی ٹانگوں نے مزید اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تو وه سامنے موجود بنچ پر بیٹھتی چہرہ ہاتھوں میں گرائے زار و قطار رونے لگی۔
وه باسم کی حد سے بڑھتی خاموشی پر اندر ہی اندر لرز اٹھی تھی۔ وه جانتی تھی مناہل کو لے کر وه کتنا حساس تھا۔ وه سخت خوف زدہ تھی کہ باسم اب اسے معاف نہیں کرے گا۔
“بے چینی سے یہاں سے وہاں چکر لگاتے باسم کی نظر بے طرح روتی مومل پر پڑی تو وه دھیرے سے چلتا اس کے پاس آیا اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
“مومل!!!!”
اس نے مومل کے کندھے کی گرد بازو پهيلا کر اسے پکارا تو وه جھٹکے سے مڑتی اس کے سینے سے آ گئی۔ وه بے چین ہوتا اس کی ہچکیاں بھرتے وجود کو دیکھ رہا تھا۔
“باسم پپ۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں میں نے ۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا میں تو اسے کھ۔۔کھانا کھلانے والی تھی پر وه خودی بھاگتی ہوئی نیچے کی طرف جا رہی تو پتا نہیں کک۔۔۔کیسے گر گئی۔ مم۔۔میں تو اسے منع بھی کر رہی تھی باسم پر وه گر گئی مجھے میری بچی لا دیں واپس باسم اسے ٹھیک کر دیں۔”
اسے بلک بلک کا روتے دیکھ کر باسم کی آنکھوں کی کنارے سرخ پر چکے تھے۔
“مومل میری جان کچھ بھی نہیں ہوا اسے تھوڑی چوٹ لگی ہے بس ڈاکٹر ٹریٹمنٹ کر رہے ہیں دیکھنا تھوڑی دیر تک وه بلکل ٹھیک ہو جاۓ گی اور تمہاری اس میں کیا غلطی۔ بچی ہے وه كهيلتے کھیلتے گر گئی اس میں کسی کا کوئی قصور نہیں۔ چپ ہو جاؤ شاباش۔ جانتی ہو نا میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ پاتا پھر کیوں میرے صبر کا امتحان لینے پر تلی ہو۔”
اس کی آواز میں بے بسی گھلی تو مومل خود پر اپنے رونے پر قابو پانے لگی پر اس سے الگ نہ ہوئی۔ وه اس کے سینے میں منہ دیے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے بیٹھی سوں سوں کر رہی رہی۔
“باسم وه ٹھیک تو ہو جاۓ گی نا!!!!؟
اس کی خوف زدہ آواز پر وه جھک کر اس کے بالوں پر لب رکھ گیا۔
“جی میری جان وه بلکل ٹھیک ہو جاۓ گی پریشان مت ہو۔”
وه نرمی سے کہتا اس کی گرد حصار تنگ کر گیا۔
انھیں بیٹھے گھنٹہ گزر چکا تھا جب کمرے سے ڈاکٹر باہر آیا۔
باسم اور مومل تیزی سے ڈاکٹر کی طرف لپكے۔
“ڈاکٹر ہماری بیٹی کیسی ہے اب؟؟؟”
باسم بے چینی سے پوچھنے لگا۔
“مسٹر باسم آپ کی بیٹی بلکل ٹھیک ہے۔ سر پھٹنے کی وجہ خون بہہ گیا جس کی وجہ سے نقاهت اور خوف سے وه ہوش کھو بیٹھی تھی۔ سٹیچز لگا دئے گئے ہیں اور ڈریسنگ بھی کر دی گئی ہے۔ تھوڑی دیر تک وه ہوش میں آ جائیں گی پھر آپ انھیں گھر لے جا سکتے ہیں۔ ریلیکس رہیں پریشانی والی کوئی بات نہیں۔”
ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں کہتا وہاں سے چل دیا تو اس کی بات سنتے دونوں نے سکون کا سانس لیا۔
مومل گہرا سانس بھرتی باسم کے بازو کے گرد ہاتھ باندھتی اس پر سر ٹکا گئی۔
“میں بہت ڈر گئی تھی۔”
اس کی بات پر باسم دوسرے ہاتھ سے اس کا سر سہلانے لگا۔
“میں جانتا ہوں۔ میں بھی بہت ڈر گیا تھا پر اللّه کا لاکھ شکر کہ سب ٹھیک ہے۔”
تھوڑی دیر بعد مناہل کو ڈسچارج کر دیا گیا تو وه اسے لئے گھر واپس چل دیے۔
°°°°°
وه دونوں اس وقت قدم کے ساتھ قدم ملاتے ساحل کنارے چل رہے تھے۔
“جانتے ہیں محبت کیا ہے؟؟؟”۔
دریہ کے سوال پر زین گردیزی گردن موڑ کر اس کی جانب دیکھنے لگا جو سامنے دیکھتی چلتی جا رہی تھی۔ آنکھوں کی ویرانی اپنی جگہ قائم تھی۔
“آپ بتا دیں۔”
جواب دینے کی بجائے وه اس سے مستفسر ہوا۔
“محبت چار حروف کا سانچا ہے۔ “م” ،”ح” ،”ب”، “ت”۔ جانتے ہیں محبت کے “م” کا مطلب کیا ہے؟ مل جاۓ تو معجزہ نہ ملے تو موت اور موت صرف جسم سے روح کے پرواز کر جانے کو ہی نہیں کہا جاتا۔ جانتے ہیں محبت کے “ح” کا کیا مطلب ہے؟ مل جاۓ تو حکومت نہ ملے تو حسرت اور حسرتیں پورا انسان نگل جایا کرتی ہیں۔ جانتے ہیں محبت کے “ب” کا کیا مطلب ہے؟ مل جاۓ تو بہادری نہ ملے تو بلا اور محبت سے بڑی بلا بھی کوئی ہوئی ہے بھلا آج تک۔ جانتے ہیں محبت کی “ت” کا مطلب کیا ہے؟ مل جاۓ تو تخت و تاج نہ ملے تو تنہائی اور تنہائی سے زیادہ جان لیوا بھی آج تک کچھ ہوا ہے بھلا۔”
زین ساکت سا اس کے لبوں سیے ادا ہوتے جملے سن رہا تھا۔ کیا تعریف بیان کی تھی اس نے محبت کی!!! اس کا حرف حرف سچ تھا۔ زین گردیزی بھی تو اسی محبت کی راہ کا مسافر تھا پھر کیسے نہ متفق ہوتا اس کی ایک ایک بات سے۔
وه رکا رہا جب کہ وه چلتی رہی۔ تھوڑی آگے جا کر اسے محسوس ہوا کہ وه اکیلی ہی چل رہی ہے تو وه رک کر دیکھنے لگی۔ اس نے رخ موڑ کر دیکھا تو کچھ پیچھے وه پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔
“کیا ہوا رک کیوں گئے؟”
وه ابرو اچکا کر اشارے سے پوچھنے لگی تو وه اداسی سے مسکراتا نفی میں سر ہلا گیا اور پھر سے اپنے قدم اس کی طرف بڑھا گیا۔ ڈوبتا سورج ہر روز کی طرح آج بھی ان دو بھٹکے ہوئے مسافروں کو دیکھ کر اداسی سے مسکرا دیا۔