Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 35
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
(Momal and Basim special 🙈❤️)
تجھ سے بچھڑ کر باخدا میں یہاں
جی نہ سکوں گا اک لمحہ !!!!!
آرام آتا ہے دیدار سے تیرے
مٹ جاتے ہیں سارے غم
ہے یہ دعا کہ تمہیں دیکھتے دیکھتے ہی نکل جاۓ دم
شکرانہ چاہے میں جتنا بھی کر لوں
پھر بھی رہے گا وه کم
تیرا تصور مجھے دے کے مولا نے
مجھ پے کیا ہے کرم
آرام آتا ہے دیدار سے۔۔۔آہ!!!!!”
وه جو چلہے کے سامنے کھڑی کڑاہی میں چمچ چلاتی مزے سے گنگناتی اپنی ہی دنیا میں مگن تھی ایک دم سے جھٹکا لگنے پر مڑی اور اپنے پیچھے کھڑے باسم کے سینے جا ٹکرائی۔ وه حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو اس کی کمر کی گرد اپنے دونوں بازو باندھے آنکھوں میں جذبات کا ایک جہاں سموئے اسے تکنے میں مگن تھا۔
اس کی نظروں کی تپش مومل کے چہرے کو جهلسانے لگی تو وه لرزتی پلکوں کی جھالڑ عارضوں پر گرا گئی۔
“آپ کچن میں کیا کر رہے ہیں۔”
وه اپنا ایک ہاتھ باسم کی سینے پر رکھے اور دوسرے ہاتھ سے اس کی شرٹ کے بٹنوں پر پهيرتی یوں ہی جھکی نظروں سے مستفسر ہوئی تو باسم اس کی ٹھوڑی کے نیچے اپنے مضبوط ہاتھ کی انگلی رکھتا اس کا چہرہ اوپر اٹھا گیا۔
“ایک ظالم کے دیدار کے لئے دل مچلا تو دل کی پکار پر لبیک کہتے میں کچی ڈور سے بندها اس ظالم کے پیچھے چلا آیا .”
اس کی بوجھل آواز پر مومل اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
“آہاں !!!! کس ظالم نے کون سا ظلم کر دیا آپ پر!”
وه اپنا دوسرا ہاتھ بھی اس کے سینے پر جما گئی تو اس کے ہاتھ کے نیچے مضبوطی سے دھڑکتا باسم آفریدی کا دل مومل آفریدی کی ہتھیلیاں نم کر گیا۔
اس کے سوال پر باسم مومل کی کمر کے گرد بندھے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتا اسے اپنے نزدیک تر کر گیا۔ وه ایک جھٹکے سے خود بھی اس کے سینے سے آ لگی۔
“ظلم یہ ہوا ہے کہ۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه اپنی بات مکمل کرتا مومل كسمسا کر اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگی جس پر وه اسے مزید خود سے قریب کرتا پیچھے چلتے چلہے کا بٹن بند کرتا اپنے دونوں بازو مضبوطی سے مومل کے گرد ہمائل کر گیا۔
“مظلوم کے قریب ہو کر ظالم کے ظلم کی داستان سنو نا!!!”
مومل لب بھینچ کر اپنے ہونٹوں پر مچلتی بے ساختہ مسکراہٹ چھپانے لگی۔
اسے یوں مسکراہٹ چھپاتے دیکھ کر باسم ایک دم جھکا اور اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کے گلابی نازک سے لب اپنے عنابی لبوں میں قید کر گیا۔
مومل اس کا کالر اپنے دونوں ہاتھوں میں جکڑتی اپنی آنکھیں سختی سے بند کر گئی۔ اسے احتجاج نہ کرتے دیکھ کر ایک سکون بھری لہر باسم کے وجود میں سرائیت کرتی چلی گئی۔
وه اسے کمر سے جکڑ کر اوپر اٹھاتا پیچھے سليب پر بیٹھاتا اس کے ہونٹوں پر اپنی گرفت سخت کر گیا۔ اس کے شدّت بھرے لمس پر مومل کا سانس بند ہونے لگا تو وه خود کو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی خاطر كسمسانے لگی پر وه پیچھے ہٹنے کی بجائے مزید شدّت دکھانے لگا۔ جب اسے محسوس ہوا کہ وه نازک جان سانس لینے کو مچل رہی ہے تو دھیرے سے اس کے لبوں کو آزادی بخش گیا اور گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو بند آنکھوں اور سرخ چہرے کے ساتھ لمبے لمبے سانس لیتی باسم کے خمار کو بڑھا رہی تھی۔ اس کی لمس نے باسم کی تشنہ لبی میں اضافہ کر دیا تھا۔
اپنے دل کی پکار پر وه سامنے بیٹھی مومل کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتا پھر سے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔ اب کی دفعہ مومل کی آنکھیں حیرت سے پهيل گئیں پر ایک وه تھا جو سیراب ہی نہ ہو رہا تھا۔
اس کے لبوں کو آزادی بخش کر وه پیچھے ہٹتا اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا اور کے بدن سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو کو گہری سانسوں کے ذریعے خود میں اتارنے لگا۔
اس کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے مومل کا جسم سنسنانے لگا۔ وه اپنے کانپتے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھتی اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کرنے لگی پر وه پیچھے ہٹنے کی بجاۓ اس کے دونوں ہاتھ اپنے بھاری ہاتھوں میں تھام کر پیچھے موڑتا اس کی کمر سے لگا گیا۔
اس نے اپنے تپتے ہوئے لب مومل کی شفاف گردن پر رکھے تو وه كپكپا اٹھی۔
“پپ۔۔پلیز!!! مجھے کھانا۔۔۔بنانا ہے!!!”
وه اس کی قید میں بے بس پڑی بتا رہی تھی یا اجازت لے رہی تھی اس بات کا اندازہ اسے خود بھی نہ تھا۔
“چھوڑو کھانے کو۔ روم میں چلتے ہیں!!!”۔
اس کی نازک گردن پر جگہ جگہ لب رکھتا وه اپنی دلی خواہش ظاہر کر گیا تو اس کی بے باکی پر مومل کی آنکھیں پهيل گئیں۔
وه مزید سرخ پڑتی اس بے باک انسان کی گرفت سے نکلنے کے لئے كسمسانے لگی جو وقت اور جگہ کا لحاظ کیے بغیر ہی اپنی من مانیوں پر اتر آیا تھا۔
“مجھے کھانا بنانے دیں پلیز۔ بہت بھوک لگی ہے۔ کھانا بنا کر کمرے میں ہی آؤں گی نا ۔”
وه فلوقت اپنی جان چھڑوانے کے لئے اسے اس طرح لالچ دینے لگی جیسے بچوں کو دیا جاتا ہے۔
“پہلے وعدہ کرو کھانا بناتے ہی کمرے میں واپس آؤ گی!!!”
وه پیچھے ہٹتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا وعدہ لینے کی خاطر اپنا ہاتھ آگے بڑھا گیا تو مومل اپنا لرزتا کانپتا ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ پر رکھ گئی۔
باسم نے جھک کر اس کے مومی ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھے اور اس کا ہاتھ ایک دفعہ اپنے ہاتھ میں دبا کر چھوڑتا کچن سے نکل گیا۔
اس کے جانے کے بعد مومل اپنے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی۔
وه چھلانگ لگاتی نیچے اتری اور چلہے کے آگے کھڑی ہوتی چولہا چلا گئی۔
اب کی دفعہ کھانا بناتے ہوئے اس کی زبان خاموش تھی پر لب خوبصورت مسکان میں ڈھلے ہوئے تھے۔
@@@@@
کھانا ٹیبل پر لگا کر مومل نے باسم اور مناہل کو آواز دی کہ آ کر کھانا کھا لیں۔ارسم اور ارمش شاپنگ پر نکلے تھے ڈنر بھی باہر کرنا تھا انہوں نے۔ بڑے سب کسی رشتہ دار کی عیادت کے لئے گئے تھے۔ایسے میں صرف وه تینوں ہی گھر پر تھے۔
مومل کھانا لگا کر جیسے ہی فارغ ہوئی اسے باسم اندر داخل ہوتا دکھائی دیا۔
“مناہل کیوں نہیں آئی؟”۔
وه باسم کو اکیلے وہاں آتے دیکھ کر مستفسر ہوئی۔
“ہماری پرنسز تو سو گئی۔”
وه اسے جواب دیتا کرسی كهينچ کر بیٹھ گیا۔
“آپ نے اسے کیوں سونے دیا باسم؟ اس نے دو گھنٹے پہلے دودھ پیا تھا بس مجھے اب اسے کھانا کھلانا تھا۔”
وه پریشانی سے کہتی اس کے ساتھ والی کرسی كهينچ کر بیٹھ گئی۔
“بس بس بس!!!! کیا ہو گیا بیگم؟ اس کو نیند آئی تھی تو سو گئی کیسے اس کی نیند خراب کرتا۔ تم جانتی ہو نا بھوک کی کتنی کچی ہے وه۔ بھوک لگے گی تو خود ہی اٹھ جاۓ گی تب کھلا دینا۔”
وه اس کی فکر دیکھتا اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا تسلی دینے لگا۔
“وہ تو ٹھیک ہے باسم پر ۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه اپنا جملہ مکمل کرتی باسم اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ گیا۔
“آہ!!!!”
مومل ایک جھٹکے سے اس کی گود میں گری۔ باسم اس کے بازو پکڑ کر اپنی گردن کے گرد ہمائل کیے اور اس اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے مزید خود کے قریب کر لیا۔
“کیا کر رہے ہیں باسم۔ چھوڑیں پلیز!!!!!”
وه جھجھکتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی لگی پر باسم کی گرفت سے نکلنا کہاں ممکن تھا۔
“جانِ باسم ہر وقت یہی کہتی رہتی ہو ہو کہ چھوڑیں باسم!! مت کریں باسم!! پیچھے ہٹیں باسم!! کبھی قرب کی تمنا بھی ظاہر کر دیا کرو۔ کبھی یہ بھی کہہ دیا کرو کہ باسم مجھے اپنی سانسوں سے بھی قریب تر کر لیں۔ اپنے مضبوط حسار میں قید کر لیں۔ بس دور جانے کی ہی بات کرتی ہو!!!!”
اس کے شکووں پر مومل آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی رہی۔
“آپ بہت بے شرم ہیں باسم!!!! میرے منہ مت لگیں فلحال کھانے پر توجہ دیں!!!”
وه اپنے لہجے کو سخت بنانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
“اپنے منہ لگنے ہی کہاں دیتی ہو تم ظالم!!! ایک دفعہ اچھے سے منہ لگنے کی اجازت تو دو بس!!! دیکھنا ایسا منہ لگوں گا کہ تم پر سانسیں تنگ پڑ جائیں گی!!!”
اس کی خمار بھری بوجھل آواز اپنے کانوں کے نزدیک تر محسوس کرتے مومل کے وجود میں سنسنی دوڑ گئی۔
“مجھے بھوک لگی ہے باسم!!!”
اسے اپنے فرار کا محض یہی طریقہ نظر آ رہا تھا اس وقت۔
“اوکے کھانا کھاتے ہیں۔ مجھے برداشت کرنے کے لئے تمہیں طاقت کی بے انتہا ضرورت ہے آج!!!!”
اس کی معنی خیز بات پر مومل کا سرخ چہرہ مزید جھک گیا۔ اس کی تزبزب کیفیت دیکھتا وه اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر اب کی بے شرافت کا مظاہرہ کرتا اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلانے لگا جب کہ آنے والے لمحات کا سوچتے مومل کا ذہن بری طرح منتشر تھا۔
@@@@@
سر میں اٹھتی ٹیسوں سے اسے آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا تو سر میں اٹھتی تکلیف نے اسے كراهنے پر مجبور کر دیا۔
“یہ۔۔۔۔یہ میں کہاں ہوں!!!!”
وه اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر سوچنے لگی۔ پھر آہستہ آہستہ حواس بحال ہونے لگے تو ایک ایک کر کے ہر بات دماغ میں آتی اسے حقیقی دنیا میں پٹخ گئی۔
اسے اتنا یقین ہو چکا تھا کہ وه ایک دفعہ پھر سے بری طرح پھنس چکی تھی۔
“ہسبنڈ پلیز آ جائیں!!!”
وه منہ پر ہاتھ رکھتی اپنی سسكیوں کا گلا گھونٹنے لگی۔
“بابا!!!!”
دوسرے نمبر پر اسے اپنا باپ پوری شدّت سے یاد آیا تھا اور اپنے باپ کا آخری دیدار بھی.
اس آخری دیدار کا واقع پوری جزيات کے ساتھ ذہن کے پردوں پر لہرایا تھا۔
(ماضی)
وہ چھوٹی سی معصوم پری اس وقت خوف سے لرزتی كانپتی بیڈ کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ اپنے ماں باپ کے چیخنے اور چلانے کی آوازوں سے بچنے کے لئے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے تھے جب کہ اپنی چیخیں روکنے کے لئے اپنے ہونٹ سختی سے بند کر کے منہ گھٹنوں پر جما رکھا تھا۔
“تم گھٹیا عورت۔۔۔۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اس قدر گھٹیا اور لالچی نکلو گی۔ اپنی حوس پوری کرنے کی خاطر تم نے اس معصوم کی جان لے لی اور خود مظلوم بن کر میرے سامنے آ گئی۔”
وہ کسی مرد کی آواز تھی جو غصے سے چیخ رہا تھا۔
“دد۔۔۔دیکھو تم غلط سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں جیسا تم کہہ رہے ہو۔ تمہیں بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے کوئی۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس کا الزام مجھ پر لگا رہے ہو تم!”
وہ عورت اس کا ہاتھ پکڑتی منت بھرے لہجے میں بولی۔
“غلط فہمی! تم کہ رہی ہو کہ غلط فہمی ہوئی ہے مجھے۔شک تو پہلےہی ہو گیا تھا مجھے تم پر پر آج میں نے خود اپنے ان کانوں سے تمہیں اپنے گھٹیا کارناموں کا اعتراف کرتے سنا ہے۔ تم اب بھی حقیقت کو جھٹلاؤ گی ہاں! اس کا نہیں تو اس کی معصوم بچی کا ہی خیال کر لیتی جس نے ابھی تو اس دنیا میں آنکھ کھولی اور تم نے ساتھ ہی اس کے سر سے ماں کا سایہ چھین لیا۔میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ذلیل عورت۔ ابھی پولیس کو کال کر کے لاک اپ میں بند کرواتا ہوں تمہیں اور ایک جان لینے اور فراڈ کے جرم میں پھانسی پر نہ بھی چڑھی تو ساری عمر جیل کاٹو گی۔”
وہ تیش کے عالم میں اسے اس کی حقیقت باور کرواتا جیب سے اپنا فون نکال کر کال ملانے لگا۔ اس سے پہلے کے وہ کال کر پاتا وہ ایک دم اس پر جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے فون چھین گئی۔
“ہاں ہاں کیے ہیں میں نے یہ جرم۔ میں نے ہی اس کی جان لی پر کیا ثبوت ہے تمھارے پاس اس بات کا۔ کوئی بھی نہیں۔ تم واحد گواہ ہو نہ پر جب تم ہی نہیں رہو گے تو کون سا ثبوت اور کہاں کا ثبوت۔ ہاہاہا۔ بائے بائے ڈیئر ہبی!”
وہ مکروہ ہنسی ہنستی ایک دم سائیڈ ٹیبل پر پڑا گلدان جهپٹ کر پکڑتی اس کے سر میں مار گئی۔ وہ بیچارہ آدمی ابھی پہلے وار سے سنبھلا بھی نہ تھا کہ اس عورت نے اس کے سر پر پے در پے کئی وار کر دیے۔ دماغ پر کاری ضربیں لگنے سے وہ آخری دفعہ اپنی پری کا چہرہ دیکھنے کی حسرت لئے موقع پر ہی دم توڑ گیا جب کہ بیڈ کے نیچے چھپا وجود اپنے سائبان کا خون میں لت پت وجود دیکھ کر خوفو حراس کی آخری حد کو چھوتا ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گیا۔
(حال)
کھٹکے کی آواز پر وه ایک دم ماضی سے نکل کر حال میں واپس لوٹی تو اس کی نظر سیدھا دروازے سے اندر داخل ہوتے وجود پر پڑی جسے دیکھتے ہی اس کا وجود ساکت ہو گیا۔
“کیسی ہو مشی جان!!!!”
اس کی آواز پر ارمش کو لگا جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسا اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو۔ اس کا سب سے بڑا خوف اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ وه شخص پھر سے اس کے مقابل آ گیا تھا جس نے محبت اور عزت دے کر اس کی روح چھلنی کر دی تھی۔
“کیسی لگی یہ ملاقات!!!!”
وه نفیس اور خوبصورت چہرے کے ساتھ كراهیت بھرے لہجے میں بولتا ارمش کو درنده ہی محسوس ہوا۔
ارمش کے دل نے بے ساختہ خواہش کی تھی کہ موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے اسی وقت پہنچ جاۓ پر ہر دعا کہاں پوری ہوا کرتی ہے اسی وقت!!!!!!
