Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

نوریہ کی پریگنینسی کو تین ماہ ہو چکے تھے۔ وه ساری باتیں ذہن سے نکال کر اپنے شوہر اور ہونے والی اولاد کا سوچتے اپنی زندگی کے حسین پل جی رہی تھی۔حاشر کا نمبر وه بلاک لسٹ میں ڈال چکی تھی۔
فیکٹری میں آج کل زیادہ کام تھا اس لئے بعض اوقات راجہ دیر سے گھر آتا تھا۔
نوریہ کی طبیعت کچھ دن سے خراب تھی پر رات زیادہ خراب ہو گئی تھی جس پر ڈاکٹر نے کہا تھا کہ وه سٹریس لے رہی ہے جس کی وجہ سے اس کا بی پی ہائی ہو رہا تھا۔ راجہ کے بہت اسرار سے پوچھنے پر بھی وه اسے ٹال گئی تھی کہ اسے کوئی پریشانی نہیں۔
نوریہ بیڈ پر بیٹھی ہاتھ میں موبائل پکڑے گیم کھیل رہی تھی۔ اسے متلی محسوس ہوئی تو تیزی سے باتھ روم کی طرف بھاگی۔
پانچ منٹ کے بعد وه گیلا چہرہ تهپتهپا کر پونچھتے نڈھال سی باہر آئی تو سامنے بیڈ پر بیٹھے حاشر کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رکی۔
ایک پل کو اس کی آنکھوں میں حیرانی ابھری اور دوسرے ہی پل نا گواری۔
اسے یوں چوری چھپے حاشر کا اپنے گھر آنا سخت نا گوار گزرا تھا۔
نوریہ نے کندھے پر پڑا دوپٹہ سینے پر پهيلا کر اوڑھتے نہ محسوس انداز میں اپنا سراپا چھپانے کی کوشش کی جو کہ حاشر کی تیز نظروں سے چھپ نہ سکی۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟”
نوریہ کے لہجے میں محسوس کی جانے والی ناگواری تھی۔
“تم سے ملنے آیا ہوں!”
وه بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ کو اس طرح راجہ سے چوری ہمارے گھر نہیں آنا چاہیے تھا!”
وه ایک قدم مزید پیچھے لیتی چہرہ موڑ گئی۔
“کیوں؟”
اس کے سوال پر نوریہ کو مزید حیرت ہوئی۔
“آپ نہیں جانتے کہ کیوں؟”
واسے واقعی اس انسان پر حیرت ہو رہی رہی۔
“حاشر پلیز آپ جائیں یہاں سے راجہ آ گئے تو اچھا نہیں ہو گا۔”
نوریہ کے سختی سے کہنے پر وه قدم بڑھاتا اس کی طرف آنے لگا۔
“میرا نمبر کیوں بلاک کیا تم نے؟؟”
وه نرم لہجے میں پوھتا ہوا بھی نوریہ کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا۔
“کیوں کہ میرا موبائل خراب تھا اس لئے راجہ سہی کروانے کے لئے لے کر گئے تھے۔”
وه تیزی سے جھوٹ بول گئی۔
“ٹھیک ہے مان لیا۔ مجھے بہت ضروری کام تھا جس کی وجہ سے رسک لے کر آنا پڑا۔ یہ کچھ پپیرز پر تمہارے سگنیچر چاہئے۔ آفس میں کچھ اسٹاف نیا رکھنا ہے۔”
وه جیب سے کچھ کاغذات نکال کر اس کے سامنے کر گیا تو نوریہ نے بغیر سوچے سمجھے جلدی سے اس کے ہاتھ سے پنسل اور پیپرز پکڑ کر سائن کر دیے۔
“اب آپ جائیں پلیز!!!”
نوریہ کے منت بھرے لہجے پر وه لب بھینچ گیا۔
“ابھی تو جا رہا ہوں پر بہت جلد واپس بھی آ سکتا ہوں اگر تم نے فون پر مجھ سے رابطہ نہ کیا۔”
بغیر مزید کوئی لفظ بولے وه تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تو نوریہ اپنے بے جان پڑتے وجود کو گھسیٹ کر بیڈ کے پاس لائی اور گرنے کے انداز میں وہاں بیٹھ گئی۔
اسے بیٹھے ابھی دو منٹ گزرے تھے جب کمرے میں راجہ داخل ہوا۔
راجہ نے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ بند کیا تو اسے دیکھتے وه سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“السلام علیکم!! کیسے ہیں آپ؟”
وه سلام لیتی اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کرنے لگی کیوں کہ راجہ ایک سیکنڈ سے پہلے اس کے تاثرات پہچان جاتا تھا۔
“وعلیکم السلام!!”
وه سنجیدگی سے جواب دے کر ڈریسنگ ٹیبل کے آگے جا کھڑا ہوا اور اپنے ہاتھوں میں پہنے بینڈز اتارنے لگا۔
“میں نے حال بھی پوچھا ہے شاید!!”۔
اس کی بات پر وه اس کی طرف مڑا اور اس پر ایک نظر ڈال کر پھر سے شیشے کی طرف دیکھ کر اپنے بال پونی کی قید سے آزاد کرنے لگا۔
“کوئی آیا تھا کیا؟؟”
اس کی سوال میں چھایا سرد پن جانے کیوں نوریہ محسوس نہ کر پائی۔
“نن۔۔۔نہیں تو !! یہاں کس نے آنا تھا۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔”
وه تیزی سے اس کی بات کی نفی کرتی الٹا اس سے سوال کرنے لگی۔
“کیوں کہ باہر کا دروازہ پورا کھلا ہوا تھا اس لئے پوچھا۔”
وه شیشے میں نظر آتے نوریہ کے عکس کو دیکھ کر تفصیلی لہجے میں بولا تو وه پھر سے بوکھلا گئی۔
“ہاں وه ایکچولی ۔۔۔میرا۔۔۔میرا دم گھٹ رہا تھا اس لئے دروازہ کھول دیا پھر ایک دم۔۔۔ایک دم وومٹ ہوئی تو اندر آ گئی اور دروازہ بند کرنا بھول گئی۔”
اس کی وضاحت پر پر غور سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتا سے ہلا کر الماری سے اپنے کپڑے لیتا فریش ہونے کے لئے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
“انہیں کیا ہوا؟؟؟”۔
راجہ کے باتھ روم میں بند ہونے کے بعد وه خود سے سوال کرنے لگی کیوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ وه گھر آتے ہی سب سے پہلے اس کا ماتھا چوم کر اسے زور سے ہگ کرتا اپنے بےبی کو پیار کرتا پھر فریش ہوتا تھا۔
*باہر آتے ہیں تو پوچھتی ہوں!!”۔
وه سوچ کر اٹھی اور کچن کی طرف چلی آئی تا کہ کھانا گرم کر سکے۔
کھانا گرم کر کے ٹرے میں لگا کر جب وه کمرے میں واپس آئی تو راجہ شیشے کے آگے کھڑا بال بنا رہا تھا۔ آہٹ پر اس نے مڑ کر نوریہ کو دیکھا پھر خود اس کی طرف آتا اس کے ہاتھ سے ٹرے پکڑ گیا۔
“مجھے آواز دے لی ہوتی۔ خود کیوں لے آئی۔”
اس کی فکر پر وه مسکرا دی۔
“میں ٹھیک ہوں بس اتنا سا تو کام تھا۔اس میں بھلا کیا مشکل۔”
وه مسکرا کر اس کے پیچھے ہی بیڈ تک آ گئی۔
اس کے بیٹھنے کے بعد راجہ نے ٹرے درمیان میں رکھا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ معمول کے مطابق پہلا لقمه دونوں نے اپنے ہاتھ سے ایک دوسرے کو کھلایا اور پھر خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔
کھانے کے بعد راجہ اسے وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کرتا خود اٹھا اور برتن اٹھا کر کچن میں رکھنے چلا گیا۔
نوریہ کافی دیر اس کا انتظار کرتی رہی پر جب وه کمرے میں واپس نہ آیا تو نوریہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ نیچے اسے کہیں بھی راجہ نہ دکھا تو وه اندھیرے میں ڈوبی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی جو چھت کی طرف جاتی تھیں۔
“راجہ!!! کہاں ہیں آپ؟؟؟”
وه اندھیرے میں اندازے سے قدم اٹھاتی اسے آواز دینے لگی تو راجہ جو کہ سگریٹ پینے کے ساتھ کسی سوچ میں مگن تھا تیزی سے سگریٹ بجھا کر اس کی طرف بڑھا ساتھ ہی ساتھ اپنی جیب سے موبائل نکال کر ٹارچ بھی اون کر لی۔
“خود کیوں آ گئی اوپر۔ مجھے آواز دے دیتی پتا بھی ہے نا کہ کتنا اندھیرا ہے۔ اگر ٹھوکر لگ جاتی تو!!!”
وه ایک ہی سانس میں کہتا اس کا ہاتھ تھام کر اسے احتیاط سے اپنے ساتھ نیچے لانے لگا۔
“یہاں بیٹھو میں ابھی آیا!!”۔
وه اسے بیڈ پر بٹھا کر خود کمرے سے باہر نکل گیا۔
پانچ منٹ بعد وه کمرے میں داخل ہوا تو نوریہ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز تھی۔
اس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس دیکھ کر وه منہ کے زاویے بگاڑنے لگی۔ اسے دودھ جس قدر نا پسند تھا راجہ اتنی ہی زبردستی اسے دو وقت دودھ کا گلاس پلاتا تھا۔
“راجہ آج نہیں پلیز!!! میرا دل نہیں کر رہا۔”
وه بیچاری سی شکل بنا کر منمنائی پر راجہ اس معاملے میں اس کی ایک بھی نہ سنتا تھا۔ اب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
“کوئی بہانا نہیں جلدی ختم کرو!!!”
اس کے لہجے میں روز والی شرارت آج مفقود تھی جسے نوریہ اپنی ہی پریشانی میں اب بھی محسوس نہ کر پائی تھی۔
وه اس کی میڈیسن اس کے منہ میں ڈال کر زبردستی دودھ کا گلاس اس کے منہ سے لگا گیا تو وه بھی ایک ہی سانس میں گلاس ختم کر گئی۔
“اف!!!”
وه منہ صاف کرتی برے برے منہ بنائی جا رہی تھی۔
“اٹھ کے تھوڑی واک کرو پھر لیٹ جانا۔”
راجہ اس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے اسے اٹھا گیا۔
“واک کرو دھیان سے جب تک میں بیکری سے بریڈ پکڑ لاؤں۔بریڈ ختم ہو چکی ہے گھر پر تمہیں ضرورت پڑے گی۔”
وه اس کا جواب سنے بغیر گھر سے نکل گیا تو وه بھی چپ چاپ واک کرنے لگی۔
بریڈ لینے کے بعد راجہ گھر واپس آیا تو صحن میں پہنچ کر اسے نوریہ کے الٹی کرنے کی آواز آنے لگی۔
وه بریڈ وہیں تخت پر رکھ کر تیزی سے کمرے میں آیا تو وه واقعی الٹیاں کر رہی تھی۔وه اس کے پیچھے ہی باتھ روم میں چل دیا اور اس کی پشت پر ہاتھ پھیرتا اپنا ایک بازو اس کی کمر کے گرد لپیٹ گیا۔
وه فارغ ہونے کے بعد کلی کر کے منہ پر پانی کے چھینٹے مار گئی تو راجہ تولیہ پکڑ کر اس کا چہرہ تهپتهپا کر خشک کرنے لگا۔
اس کا چہرہ خشک ہوا تو نوریہ نڈھال سی اپنا چہرہ اس کے سینے پر رکھ کر اپنا سارا بوجھ اس پر ڈال گئی۔
“میری جان ٹھیک ہو؟؟”
وه اس گالوں پر پر پهيلی نمی اپنے ہاتھوں سے صاف کرتا جھک کر اس کے چہرے کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگا۔ وه منہ سے کچھ پوچھے بغیر سر ہلا گئی۔راجہ نوریہ کو باہوں میں بھر کر کمرے میں لے آیا اور اسے بیڈ پر لٹا کر اس کے ٹھنڈے پڑتے وجود پر کمبل ڈال کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔
“مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی رانی!!! شاباش تھوڑی ہمت کرو ہم ابھی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔”
وه اس کے سرد ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر انہیں رگڑ کر گرمائش پہنچانے لگا۔
“آپ پریشان مت ہوں میں ٹھیک ہوں۔”
وه کمزور سی آواز میں بولتی اٹھنے لگی تو راجہ اس کے کندھوں پر ہاتھ سے دباؤ ڈالتا اسے اٹھنے سے باز رکھ گیا۔
“لیٹی رہو۔ کہاں ٹھیک ہو مسلسل الٹیاں کری جا رہی ہو اور رنگ دیکھو کیسا پیلا پڑ گیا ہے تمہارا۔”
وه اس کی حالت سے سخت پریشان تھا جو کہ اس کے چہرے سے بھی نظر آ رہا تھا۔
“یہاں آئیں!!”
وه اسے جھکنے کا اشارہ کرنے لگی تو وه اس کی بات پر عمل کرتا اس پر جھک گیا۔
س کی جھکنے پر نوریہ اپنے ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھوں سے نکال کر اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر کر مزید خود پر جھکا گئی۔
راجہ جامد ہو کر اس کی ساری کروائی دیکھ رہا تھا۔
اسے خود پر جھکانے کے بعد وه تھوڑا سا اوپر کو اٹھتی اس کے ماتھے پر اپنے نازک لب رکھ گئی۔ اس کے لمس کی ٹھنڈک راجہ کو اپنی روح میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وه دعا کرنے لگا کہ کاش لمحے یہیں ٹھہر جائیں پر ہر دعا اسی وقت کہاں پوری ہوتی ہے۔
وه اس کا چہرہ پیچھے کرتی اس کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی۔
“پریشان مت ہوا کریں میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اس حالت میں یہ سب نارمل ہے میں ڈاکٹر سے تفصیل میں سب پوچھ چکی ہوں۔ سب ٹھیک ہے آپ ایزی رہیں بس۔”
نوریہ کے مسکرا کر کہنے پر وه کچھ ریلیكس ہوتا پیچھے ہٹ کر بیڈ کی دوسری سائیڈ پر آ کر دراز ہو گیا۔
اس کے لیٹتے ہی نوریہ خود پیش قدمی کرتی اس کے سینے پر سر رکھ کر اس کی گردن میں اپنے دونوں بازو ڈال گئی۔
“راجہ!!!”
اس کی میٹھی پکار پر راجہ سر جھکا کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“ہمم۔۔۔۔”
وه ہنکار بھرتا اپنا ایک بازو اس کی کمر کے گرد باندھ گیا۔
“مجھے۔۔۔مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔”
وه لرزتی ہوئی بولی تو راجہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
“بولو میری رانی!!!”
راجہ اپنے ہاتھ کی پشت اس کے چہرے پر پهيرنے لگا۔
“آپ بہت۔۔بہت اچھے ہیں راجہ اور مجھے فخر ہے کہ آپ میرے شوہر ہیں۔”
وه شرما کر کہتی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
“اچھا!!!”
وه اسے چھوئی موئی سی ہوتے دیکھ کر بے ساختہ ہنس دیا۔
“اور میں رب کا شکر گزار ہوں کے اس نے مجھے تم جیسے نگینے سے نوازا ہے۔تمہاری موجودگی نے میری زندگی کی تاریک شب کو روشن سویرے میں بدل دیا ہے۔”
وه اس کا ماتھا چوم کر اسے خود میں بھینچ کر کمرے کی بتی بجھا گیا۔
°°°°°°°
“مینو میری جان بس کر دو اب ماما تھک گئی ہیں۔”
مومل صوفے پر بیٹھتی ہوئی مناہل سے بولی۔ وه مناہل کی فرمائیش پر اس کے ساتھ پکڑن پکڑائی کھیل رہی تھی۔ وه جان بوجھ کر ہار جاتی تو مناہل جیتنے کی خوشی میں كهلكهلانے لگتی پر اب مومل تھک چکی تھی پر مجال ہے کہ اس کی چھوٹی آفت تھکی ہو۔
“ماما اور تهيلنا ہے۔”
وه اتنا پیارا بول رہی تھی کہ مومل بے ساختہ اسے اپنی گود میں بیٹھا کر اس کا منہ چٹا چٹ چوم گئی۔
“بہت کھیل کیا اب پڑھیں گے ہم۔”
وه اسے گود میں اٹھا کر بیڈ پر بٹھا گئی اور خود قالين پر بکھرے کھلونے سمیٹنے لگی۔
“مناہل!!!!”
باسم کی پکار پر مناہل خوشی سے چیختی “پاپا” کہتی اس کی طرف دوڑی جب کہ اس کی بھاری آواز مومل کے کانوں میں پڑتی اسے كپكپانے پر مجبور کر گئی۔
وه بلند ہوتی دھڑکنوں کو تهپك کر چپ کراتی اپنے کام میں لگی رہی۔
باسم مناہل کو گود میں اٹھا کر اس کے دونوں گال باری باری چوم گیا۔
“پاپا آئی مسڈ یو!!”
مناہل باسم کے گال پر لب رکھتی لاڈ سے بولی تو وه اسے خود میں بھینچ گیا۔
“پاپا مسڈ یو ٹو میری جان۔”
باسم بھی اسی کی طرح اس کے گال پر لب رکھ کر اسی کے انداز میں بولا تو وه كهلكهلا کر ہنس دی۔
“پاپا!! ماما کی کس؟؟؟”
اس کے سوال پر جہاں جہاں باسم آفریدی کی آنکھیں پهيلیں وہیں مومل آفریدی کی آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
دھڑکنوں نے سینے میں ادھم مچا دیا تھا پر وه خود کو لاپروا ظاہر کرتی کانپتے ہاتھوں سے سامان اٹھانے لگی۔
باسم آفریدی متبسم آنکھوں سے اس کے ہاتھوں کی كپكپاہٹ دیکھنے لگا پھر يكايك اسے شرارت سوجھی۔
“بیٹا آپ کی ماما آپ کے پاپا سے کس لینا ہی نہیں چاہتی۔”
اس کی بے باکی پر مومل کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“کیوں پاپا؟”
وه چھوٹی سی بچی حیرت سے پوچھنے لگی۔
“پتا نہیں بیٹا اپنی ماما سے پوچھو!!!”
وه لب دبا کر مسکراہٹ چھپانے لگا۔
“بتائیں ماما! آپ کو پاپا سے کس کیوں نہیں چاہئے؟؟”
مومل اس کی آواز پر جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی۔
“شرم کر لیں بچی کے سامنے اتنی بے شرمی دکھا رہے ہیں۔”
وه دبا دبا چیخ کر باسم آفریدی سے بولی جو دل جلاتی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ شوخ نظروں سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔
“مینو جاؤ دیکھو دادو مارکیٹ سے آ گئی ہیں یا نہیں۔”
اس کا حکم سنتی مناہل تیزی سے کمرے سے باہر بھاگ گئی۔
“آپ میں ذرا بھی شرم بچی ہے یا نہیں۔ ماضی میں جو کچھ آپ نے کیا اور کہا وه سچ تھا تو اب یہ دھوکہ اور فریب کیوں؟ چاہتے کیا ہیں آپ۔ میری عزت نفس روند کر کس قدر سکون سے آپ ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کیوں کر رہے ہیں ایسا۔”
مومل کے چیخنے پر باسم کا متبسم چہرہ ایک دم سنجیدگی کا لباده اوڑھ گیا اور ماضی ایک فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگا۔