Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
وه بے چینی سے دروازے کے باہر یہاں سے وہاں ٹہلتا بار بار کمرے کے دروازے کو دیکھ رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ وه ضبط کھوتا کمرے کا دروازہ بجاتا، دروازہ کھول کر ڈاکٹر باہر آئی۔
“ڈاکٹر صاحبہ اندر بیٹھ کر ایٹم بم کا فارمولا دريافت کرنے کی کوشش میں لگ گئی تھی کیا جو اتنا وقت لگا دیا۔”
وه ڈاکٹر کو سامنے دیکھتے ہی اس پر چڑھ دوڑا۔
“اب یوں ہی مسکراتی رہو گی یا بتاؤ گی بھی کہ میری رانی کو کیا ہوا ہے۔”
وه اس کے پیچھے سے کمرے میں جھانکنے کی کوشش کرتا چڑ کر بولا۔
“مسٹر راجہ آپ مجھے بولنے کا موقع دیں گے تو ہی کچھ بولوں گی نا!!!”
وه اس کی بے صبری پر چوٹ کرتی بولی تو راجہ کو احساس ہوا کہ واقعی وہی بولے چلا جا رہا تھا۔
“اچھا بولیں آپ ڈاکٹرنی صاحبہ!!”
اس نے كهسيا کر اپنے بالوں کی پونی ٹائٹ کرتے ہوئے پوچھا۔
“کونگراچولیشن مسٹر راجہ!!! یور وائف اس ایکسپیکٹنگ!!”
وه مسکراتی ہوئی بول کر اس کے چہرے کے تاثرات کا جائزہ لینے لگی۔
“ہیں!!!! کیا کہا ڈاکٹرنی؟؟؟”
وه ہونق شکل لئے ہونق ہی لہجے میں مستفسر ہوا تو وه قہقہا لگا کر ہنس دی۔
“مسٹر راجہ مبارک ہو!! آپ باپ بننے والے ہیں۔”
وه اس کے تاثرات کا مزے سے جائزہ لیتی بولی۔
اسے دو کی بجاۓ پانچ منٹ لگے تھے بات سمجھنے میں۔
“ڈاکٹرنی صاحبہ آپ۔۔۔آپ سچ کہہ رہی ہیں۔”
اس کی آنکھوں اور لہجے میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
وه مسکراتی ہوئی سر ہلا گئی۔
“شکریہ۔۔۔بہت بہت زیادہ شکریہ ڈاکٹرنی صاحبہ!!”
وه خوشی سے بے قابو ہوتا جیب میں ہاتھ ڈال کر جتنے نوٹ ہاتھ میں آئے سارے اس کے ہاتھ میں تهماتا تیزی سے کمرے میں داخل ہو کر کھٹاک سے دروازہ بند کر گیا جب کہ ڈاکٹر اس دیوانے کو دیکھتی باہر کی راہ لے گئی۔
وه کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی وه گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔
“میری رانی!!!”
وه جذب کے عالم میں کہتا تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا کر گھما گیا۔
کمرے میں اس کے قہقہے گونج رہے تھے۔
“راجہ!!”
اس کی خوف زدہ آواز کانوں میں پڑی تو راجہ کو ہوش آیا۔
وه اسے اس کے پیروں پر کھڑا کر گیا تو وه سختی سے اس کے کندھے اپنے دونوں ہاتھوں میں دبوچ گئی۔ اس کا سر گھومنے لگا تھا۔
“سوری میری جان خوشی میں ہوش ہی کھو بیٹھا۔ تم ٹھیک ہو؟؟”
وه فکر مندی سے اس کا زرد چہرہ دیکھ کر بولا جس پر وه سر ہلا کر اس کے کندھے پر سر ٹکا کر آنکھیں موند گئی۔ وه نرمی سے اس کے گرد اپنی باہوں کا مضبوط حصار باندھ گیا۔
“میری رانی!!!”
وه لہجے میں محبت ہی محبت سموۓ بولا جسے محسوس کرتی وه دھیرے سے آنکھیں کھول گئی۔
“جج۔۔۔جی”
وه ایک پل کو اس کی آنکھوں میں دیکھتی پھر سے پلکوں کی جھا لڑ گرا گئی۔
وه اسے نرمی سے باہوں میں اٹھا کر بیڈ کی طرف آیا اور اسے بیٹھا کر پیچھے تكيے رکھ کر خود اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
وه سرخ چہرہ جھکائے لرزتی كانپتی انگلیاں مڑوڑتی اس کے حواس سلب کر رہی تھی۔
وه دھیرے سے اس کے نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام کر دبا گیا۔
“تم نے مجھے بہت بڑی خوش خبری دی ہے میری رانی سمجھو تم نے مجھے خرید لیا ہے۔ میں تا عمر تمہارا شکریہ ادا کر ہی نہیں سکتا۔ تم۔۔تم میری خوشی کا اندازہ لگا سکتی ہو؟؟ میرا دل کر رہا ہے چیخ چیخ کر پوری دنیا کو بتاؤں کہ دیکھو راجہ اکیلا نہیں ہے۔ اس کے پاس جان لٹانے والی بیوی ہے اور اب اس کے وجود کا حصہ اس کے جگر کا ٹکرا بھی اس دنیا میں آنے والا ہے۔ میں بے تحاشہ خوش ہوں رانی!!! بہت شکریہ میری جان مجھے اس قدر پیارا تحفہ دینے کے لئے۔”
وه نم آنکھوں کو جهپكتا جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب دھر گیا۔ نوریہ اپنی آنکھیں سختی سے بند کیے بیٹھی تھی جب اپنے ماتھے پر نمی محسوس کرتی چونک کر آنکھیں وا کر گئی۔
“کیا وه رو رہا تھا؟؟؟”
اس کا دل دھک سے رہ گیا۔
“راجہ؟؟؟”
وه اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اپنے سامنے کر گئی تو وه نظریں چرانے لگا۔
“آپ کو مجھ سے یہ آنسو چھپانے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا لباس ہوں میں۔”
وه نرمی سے کہتی اپنی نازک انگلیوں کی پوروں سے اس کی آنکھوں اور گالوں پر پھیلی نمی صاف کرنے لگی تو وه ضبط کھوتا اس کی گردن میں منہ چھپا کر اپنے بازو اس کی کمر کے گرد باندھ کر اسے خود میں بھینچ گیا۔
اپنی گردن پر محسوس ہوتی نمی نوریہ کو بہت بے چین کر رہی تھی۔ وه کہاں تصور کر سکتی تھی کہ اس قدر مضبوط مرد بھی آنسو بہا سکتا ہے۔
“میں بہت اکیلا تھا رانی بہت زیادہ اکیلا۔ میں وه بد نصیب اولاد ہوں جسے ماں باپ کا پیار ان کی شفقت ميسر نہ آئی۔ میں سوچتا تھا کہ شاید میرے مقدر میں تنہائی لکھی جا چکی ہے پر میں غلط تھا۔ میری تنہائی تب دور ہوئی جب میری زندگی میں تم آئی۔ تم نے مجھے اتنا سکھ دیا ہے جس کا میں اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ تم نے میرے اس ویران گھر کو جنت بنا دیا اور اب میرے سونے آنگن کو بھی پھولوں سے مہکانے والی ہو۔اس رب نے تمہیں میری زندگی میں بھیج کر اتنا بڑا احسان کیا ہے مجھ پر جس کا میں تمام عمر شکر ادا کر ہی نہیں سکتا۔ شکریہ میری زندگی میں آنے کے لئے۔”
گنگ ہو کر اس کی باتیں سنتی نوریہ تب ہوش میں آئی جب اسے اپنے کندھے پر اس کا لمس محسوس ہوا۔ وه تمانیت سے مسکرا دی۔ اتنے دن کی الجھن اور پریشانی پتا نہیں کہاں جا سوئی تھی۔
“کیا تم خوش ہو؟؟”
اسے جب احساس ہوا کہ بس خود ہی بولا جا رہا ہے تو اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اس کی نم آنکھوں میں جھانک کر پوچھنے لگا۔
اس کے سوال پر اس کا رنگ تیزی سے سرخ پڑا اور پلکوں کی جھالڑ لرزتی كانپتی عارضوں پر گر گئی جب کہ گالوں پر شفق پھوٹ پڑی۔
وه مبہوت سا اس کے چہرے کی دلکشی دیکھتا سر شار ہو رہا تھا۔
اس کی گہری نظریں مسلسل خود پر محسوس کر کے وه لاج سے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا گئی۔
وه ہنس کر اس کے چہرے پر موجود ہاتھوں پر لب رکھ گیا۔
“تمہیں میری زندگی میں بھیج کر مجھ پر خاص احسان کر دیا گیا۔ ایسا احسان جس کا بدلہ میں اپنی جان دے کر بھی نہیں چکا سکتا!!!!”
اس کے الفاظ نوریہ کی روح میں اترتے اسے جنت میں پہنچا گئے تھے۔
“اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے!!!”
دونوں کے دل نے چپکے سے یہ سرگوشی کی تھی۔
°°°°°°°
“سرپرائز!!!”
آشنا پر جوش آواز پر وه ایک دم پلٹی تو خوش گوار حیرت کا جھٹکا لگا جہاں وه کندھے پر بیگ ڈالے کھڑا تھا۔
وه ساکت سی کھڑی اسے تكتی جا رہی تھی جیسے اس کی موجودگی پر بے یقین ہو۔
“چاچو!!!”
مناہل کی نظر اس پر پڑی تو وه بھاگتی ہوئی ارسم کی طرف بڑھی۔ وه ہاتھ بڑھا کر اسے باہوں میں اٹھا کر گھما گیا جس پر وه کھلکھلا کر ہنس دی۔
“چاچو کی جان چاچو نے بہت مس کیا آپ کو!”
وه اس کے گال پر لب رکھ گیا جس پر وه اپنے خرگوش جیسے دانت نکال کر دکھانے لگی۔
“مینو جان آپ نے تو چاچی کی جگہ گھیر لی۔ آپ کی جگہ چچی کو ہونا چاہئے تھا۔ ہیں نا ارسم بھائی؟”
مومل شرارت سے آنکھیں مٹکاتی بولی تو ارمش بے ساختہ سرخ پڑ گئی۔
شام کا وقت تھا اور وه سب لاؤنج میں بیٹھے تھے جب وه اچانک آ دھمکا تھا۔
“بات تو آپ نے سولہ آنے درست کی ہے بھابھی جان۔”
اب کہ سٹپٹانے کی باری مومل کی تھی۔
“کک۔۔۔کیا بد تمیزی ہے۔”
وه اس کے بھابھی کہنے پر سیخ پا ہوتی سرخ پڑ گئی۔
“ارے بھائی جو رشتہ ہے اسی سے پکاروں گا نا۔ اب بڑے بھائی کی لاڈلی زوجہ محترمہ کو نام سے پکارنے کی گستاخی تو نہیں کر سکتا نا!!!”
وه آنکھوں میں شرارت اور لہجے میں عاجزی سموۓ کہتا باسم سے ملنے لگا۔
“ہنہہ لاڈلی بیوی!!!!”
اس کی استہزاہیہ سرگوشی پر باسم نے لب بھینچے اور سخت تیور لئے اسے دیکھنے لگا جو مناہل کے بال ٹھیک کر رہی تھی۔
“ہنہ شکی عورت!!!”
وه سر جھٹک کر رہ گیا۔
ارسم گہری نظروں سے ارمش کی طرف دیکھنے لگا جو آنکھیں بار بے جهپكتی لب بھینچتی آنسو روکنے کی کوشش میں هلكان ہو رہی تھی۔
“السلام علیکم کیسی ہیں آپ؟”
وه اس کے پاس جا کر اس پے سلامتی بھیجنے کے ساتھ اس کا گال ہولے سے تهپتهپا گیا۔
وه محض سر ہلا گئی۔
“ماما بابا چھوٹے پاپا چھوٹی ماما کوئی بھی نظر نہیں آ رہا۔ کہاں ہیں سب؟؟”
وه لاؤنج میں یہاں وہاں نظریں دوڑا کر پوچھنے لگا۔
“ہاں فوتگی ہو گئی ہے دور رشتہ داروں میں تو صبح وہاں روانہ ہوئے سب تین دن تک آئیں گے۔”
باسم کے بتانے پر وه سمجھتا سے ہلا گیا۔
“چلیں میں فریش ہو لوں پھر بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں۔”
وه مسکرا کر سب کو کہتا ارمش کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا کمرے کی طرف بڑھ گیا جب کہ وه وہیں کھڑی انگلیاں چٹخاتی رہی۔
“ارمش بیٹا آپ بھی جائیں روم میں دیکھیں اسے کوئی ہیلپ تو نہیں چاہئے۔ جائیں شاباش۔”
اسے یوں ہی اپنی جگہ کھڑے دیکھ کر باسم نرمی سے بولا تو وه جی بھائی کہتی کمرے کی طرف چل دی۔
وه کمرے میں داخل ہوئی تو وه کہیں نہ تھا۔ اس سے پہلے کہ وه پیچھے مڑ کر دروازہ بند کرتی وه اک دم دروازہ بند کرتا اسے پیچھے سے اپنے حصار میں قید کر گیا۔
“آہ!!!!”
خوف کے مارے وه ایک دم كراه اٹھی۔
“ہشش!!!!”
وه اس کے کان پر جھکتا اس کے کان میں سرگوشی کر گیا تو وه اسے پہچانتی سانس تک روک گئی۔
“کیسی ہیں؟”
اس کی گرم سانسیں اپنی گردن کندھے اور کان کی لو پر محسوس کرتی وه کانپنے لگی البتہ زبان کوئی بھی لفظ ادا کرنے سے انکاری تھا۔
*بتائیں!!!
وه اس کی کمر کے گرد لپٹے اپنے ہاتھوں سے دباؤ بڑھا گیا تو وه اس کا حصار توڑنے کی کوشش میں لگ گئی۔
“مم۔۔میں ۔۔میں ٹھیک ہوں۔ مجھے کیا ہونا ہے اور ۔۔۔اور آپ کو اس سے کیا کے میں کیسی ہوں کیسی نہیں۔”
وه بھراۓ لہجے میں بولی تو وه اس کے لہجے اور جملے سے خفگی محسوس کر کرتا اس کا رخ اپنی طرف موڑ گیا۔
“لگتا ہے کسی نے اپنے ہسبنڈ کو بہت زیادہ مس کیا ہے!!”
وه ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر دوسرے ہاتھ کو اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھتا اس کا چہرہ اٹھا کر اپنے رو برو کر گیا۔
اس نے پلکوں کی جھالڑ اٹھا کر دیکھا تو اس کی بھیگی سرخی مائل سنہری آنکھیں سیدھا ارسم آفریدی کی گھور سیاہ آنکھوں سے ٹکراتی اس کے دل میں ہل چل مچا گئیں۔
“ناراض ہیں میری سوفٹی اپنے ہسبنڈ سے؟؟؟”
اس کے جملے کے مکمل ہونے کی دیر تھی کہ وه چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی جس پر وه بیچارہ ایک دم بوکھلا گیا۔
“یار رو کیوں رہی ہیں آپ جانتی ہیں نا کہ آپ کے آنسو نہیں برداشت کر سکتا میں!!! چپ کریں اور بتائیں کیوں رو رہی ہیں؟؟”۔
وه اس کے ہاتھ چہرے سے ہٹا کر پوچھنے لگا۔پر وه بغیر ایک بھی لفظ بولے مسلسل روۓ چلی جا رہی تھی۔
“اچھا یہاں بیٹھیں!”
وه اس کے کندھے کے گرد اپنا بازو حمائل کرتا اسے ساتھ لا کر بیڈ پر بٹھا گیا اور خود ایک گھٹنا زمین پر ٹکاۓ اس کی سامنے فرش پر بیٹھا کر اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام گیا۔
“رو کیوں رہیں ہیں؟”
وه اپنے ہاتھوں میں قید اس کے نازک ہاتھوں کی پشت سہلانے لگا۔
“یاد آ رہی تھی مجھے!!!”
وه روتی آنکھوں سے اعتراف کر گئی۔
“کس کی یاد آ رہی تھی؟”
وه انگوٹھے سے اس کے گال پر بہتا آنسو سمیٹ کر مستفسر ہوا۔
“آپ کو!!!!”
وه كسمسا کر ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی پر وه گرفت مضبوط کر گیا۔
“مجھے؟؟ آپ مجھے مس کر رہی تھیں!!!!”
اس کے لہجے میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
“جی میں نے آپ کو بہت مس کیا ہسبنڈ!”۔
وه بہتی آنکھوں سے کھلم کھلا اظہار کرتی اس کا سانس تک روک گئی۔
اسے نہیں تھا پتا کہ وه اسے یاد کرے گی اور یوں اتنی آسانی سے اس کے سامنے اظہار کر دے گی۔کیا وه اتنا ضروری ہو گیا تھا اس کے لئے۔
اس کے اظہار پر سرشار ہوتا وه قدم اٹھا کر سرور کے عالم میں اس کی پیشانی کو اپنے عقیدت بھرے لمس سے معتبر کر گیا۔
“میں نے بھی آپ کو بہت مس کیا!!!”
وه اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کا سر اپنے سینے پر رکھ گیا جب کہ وه اس کے سینے پر سر رکھے اس کی دھڑکنوں کا شور سننے میں محو ہو گئی۔ کس قدر سکون تھا اس کی باہوں کی گرمی میں۔ اس کا سارا خوف جانے کہاں جا سویا تھا اپنے محافظ کو اپنی سانسوں سے نزدیک تر پاتے۔
“چلیں میں فریش ہو لوں پھر باہر چلتے ہیں۔ رات میں ڈھیر سی باتیں کریں گے۔ آج میرا رت جگے کا پروگرام ہے!!”
وه اس کی پیشانی پھر سے چوم کر اسے الگ کرتا اس کے سنہری بال چہرے سے ہٹانے لگا تو وه اسے دیکھ کر گہرا مسکرا دی۔
اس کی بے ریا اور روشن مسکراہٹ دیکھ کر ارسم آفریدی کا دل بے ایمان ہونے لگا تو وه ضبط کرتا اسے سمائل پاس کر کے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°
