Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

کھٹکے کی آواز پر وه ایک دم ماضی سے نکل کر حال میں واپس لوٹی تو اس کی نظر سیدھا دروازے سے اندر داخل ہوتے وجود پر پڑی جسے دیکھتے ہی اس کا وجود ساکت ہو گیا۔
“کیسی ہو مشی جان!!!!”
اس کی آواز پر ارمش کو لگا جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسا اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو۔ اس کا سب سے بڑا خوف اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ وه شخص پھر سے اس کے مقابل آ گیا تھا جس نے محبت اور عزت دے کر اس کی روح چھلنی کر دی تھی۔
“کیسی لگی یہ ملاقات!!!!”
وه نفیس اور خوبصورت چہرے کے ساتھ كراهیت بھرے لہجے میں بولتا ارمش کو درنده ہی محسوس ہوا۔
ارمش کے دل نے بے ساختہ خواہش کی تھی کہ موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے اسی وقت پہنچ جاۓ پر ہر دعا کہاں پوری ہوا کرتی ہے اسی وقت!!!!!!
“ہم نے کیا بگاڑا ہے آپ کا!!!! کس بات کی سزا دے رہے ہیں آپ ہمیں ۔ جانتے ہیں ہم آپ کو کیا سمجھتے تھے؟؟ اپنا باپ!!!! جب ہمارے بابا فوت ہوئے اس کے بعد آپ ماما کی زندگی میں آئے مجھے لگا آپ گندے ہوں گے۔ پر آپ کے نرمی اور محبت بھرے رويے نے میری سوچ کو غلط ثابت کر دیا۔ آپ نے باپ کے درجے پر ہوتے ہوئے اپنی ہی بیٹی کی روح داغدار کر دی۔ ہم سوچتے تھے کہ سگا سوتیلا کیا ہوتا ہے؟؟ رشتہ تو رشتہ ہی ہوتا ہے پھر کیا سگا اور کیا سوتیلا!!! پر آپ نے ثابت کر دیا کہ سوتیلے اور منہ بولے رشتے محض نام کے ہی ہوتے ہیں۔”
جوش سے بولتے اخر میں ارمش کی آواز بھرا گئی۔
“بس بس لڑکی!!! کتنے کان پکانے لگ گئی ہے۔ پہلے تو آواز ہی نہیں تھی نکلتی اور اب کیسے فر فر زبان درازی کر رہی ہے۔ اتنا تو جان چکی ہو گی کہ کس مقصد کی خاطر میں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔”
اس کی مکروہ صورت دیکھتے ارمش سے تنفر سے چہرہ موڑ لیا تو یوں خود کو رد ہوتے دیکھ کر عالم گردیزی نے تیش میں آ کر آگے بڑھتا ارمش کے بال مٹھی میں دبوچتا اس کا چہرہ اپنے مقابل کر گیا۔
اس کی جارہانہ حرکت پر ارمش سسك کر رہ گئی۔
“مجھ سے منہ موڑے گی؟؟ مجھے نفرت سے دیکھے گی؟؟ تجھے تو میں اس قابل ہی نہیں چھوڑوں گا کہ مجھ سے نفرت کر سکے۔”۔
عالم گردیزی نے ترشی سے کہتے اس کے بالوں کو جھٹکا دیا۔
“دیکھیں پلیز ہمیں چھوڑ دیں ہمیں جانے دیں ورنہ ہمارے ہسبنڈ آپ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔”
وه تکلیف برداشت کرتی اس کی التجا کرنے لگی تو اس کی بات پر عالم گردیزی بلند و بالا قہقہے لگانے لگا۔
“ہسبنڈ!!! اور وه بھی تمہارا!!! ہاہاہا !!!مانا کہ بہت حسین اور معصوم کلی تم تم پر تم جیسی لڑکی سے کون شادی کر سکتا ہے جو اپنے سوتیلے باپ کے ساتھ ساتھ اس کے کئی دوستوں کا دل بھی بہلا چکی ہو!!!”۔
اس کی باتیں ارمش کو ذلّت کی اتھاہ گہرائیوں میں پهينك گئیں۔
“چلو آج تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں پہلے۔ اس کے بعد ہم کچھ اور سوچیں گے!! سنو گی کہانی؟”۔
اس کے سوال پر ارمش سرخ نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“ایک تھا بزنس مین جس کا نام تھا حسین لاشاری!!! اس کو اپنی ایک کلاس فیلو رانیہ انور سے محبت ہو گئی۔ رانیہ انور ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی۔ حسین لاشاری نے جب رانیہ کے گھر رشتہ بھیجا تو اس کے ماں باپ کس طرف کفران نعمت کرتے۔ انہوں نے خوشی خوشی حسین کا رشتہ قبول کیا تو حسین نے شادی کی جلدی ڈال دی اور پھر یوں ہی ایک ماہ کے اندر حسین اور رانیہ کی شادی ہوگی جس کے کچھ عرصہ بعد ایک ننھی پری اس دنیا میں آئی۔
پھر ایک دن یوں ہوا کہ ایک اندھیری رات میں حسین کو سڑک پر ایک جوان عورت ملی جس کے ساتھ ایک چھوٹا سا چھے سالہ بچہ بھی تھا۔ وه مدد مانگنے کی خاطر گاڑی کے آگے آئی تو مجبور ہو کر حسین کو گاڑی روکنی پڑی۔ وه جوان عورت حسین سے سہارا مانگ رہی تھی کیوں کہ شوہر کی وفات کے بعد پہلے سسرال اور پھر مائکے والوں نے بھی اسے گھر بدر کر دیا تھا۔ حسین اپنی همدرد طبیعت کی باعث ان دونوں ماں بیٹا کو گھر لے آیا جس پر رانیہ نے خوش دلی سے ان کا استقبال کیا پھر جانتی ہو کیا ہو؟؟”
وه جھک کر ارمش کی سپید پڑتے چہرے کی طرف دیکھتا پوچھنے لگا۔ وه اس کی قدر بے وقوف تو نہ تھی کہ اپنے ماں باپ کے ناموں سے ہی ناواقف ہوتی۔
اس کی سگی ماں رانیہ تھی تو پھر جہاں آرا کون تھی؟؟ کیا وه اس کی سوتیلی ماں تھی؟؟؟
اس سے پہلے کہ وه مزید کچھ سوچتی عالم کی آواز اسے سوچوں کی دنیا سے باہر كهينچ لائی۔
“پھر یوں ہوا کہ حسین اور رانیہ کی ننھی پری ارمش کی دوستی جہاں آرا کے بیٹے زین سے ہو گئی۔ جہاں آرا شروع سے لالچی طبیعت کی حامل تھی جب اس نے حسین کے گھر کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھے تو اس کے دل میں شیطان آ گیا۔ حسین جیسا خوبصورت،جوان،دولت مند اور محبت کرنے والا مرد اس کی سوچوں پر طاری ہو گیا اور وه اس بڑی محل کی ملکہ بننے کے سپنے بننے لگی۔وه حسین کو رجهانے کے جتن کرنے لگی۔۔تین سال گزر گئے پر وه حسین جیسے وفادار مرد کو اپنے جال میں نہ پهنسا سکی۔ پھر جانتی ہو جہاں آرا نے کیا کیا!!! جہاں آرا نے رانیہ کے منہ پر سرہانہ رکھ کر اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلا دیا۔ ہاہاہا!!!!”
اس قدر بھیانک انکشاف پر ارمش کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اسے آج سمجھ میں آ رہی رہیں اپنے باپ کی مرنے سے پہلے کی گئی باتیں۔
“حسین بیچارے نے بہت صدمہ لیا رانیہ کی موت پر اپ مسلہ تمہارا تھا۔ وه اکیلا تمہیں سنبھال نہیں پا رہا تھا اور پھر آخر بے بس ہوتے اس نے جہاں آرا سے شادی کر لی کیوں کہ اسے تمہارے لئے ایک ماں کی ضرورت تھی اور اسے تم میں ایک عظیم ماں نظر آتی تھی۔ بیچارہ حسین!!! کتنا نادان تھا۔
پھر جہاں آرا کی اوقات ہی بدل گئی۔ اپر سوسائٹی میں اٹھنے بیٹھنے والی جہاں آرا کی ملاقات ایک پارٹی میں مجھ سے ہوئی۔
مجھے ہمیشہ خوبصورتی اٹریکٹ کرتی ہے!!! اور جہاں آرا جیسی جوان اور خوبصورت عورت میرے حواسوں پر بھی سوار ہو گئی۔ ہم دونوں کی دوستی ہوئی اور یہ دوستی آگے جا کر ایک خاص تعلق میں بدل گئی۔میں جہاں آرا کے دلکش بدن پر مر مٹا اور جہاں آرا میرے پیسے پر۔
پھر ایک دن وه کال پر مجھے رانیہ کی موت کا قصّہ سنا رہی تھی جب حسین نے سب سن لیا اور جہاں آرا پر جھپٹ پڑا۔پھر جہاں آرا نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہئے تھا۔ اس نے حسین کو بھی راستے سے ہٹا دیا۔ ماں باپ کا اکلوتا حسین اپنی من چاہی بیوی کے پاس جا بسا ہاہاہا!!!!”۔
اس کے مکروہ قہقہے ارمش کے وجود میں وحشت برپا کر رہے تھے۔ ماں باپ کی اس قدر بے درد موت کی روداد اسے چیخنے پر مجبور کر رہی تھی پر صدمہ اور دکھ اس قدر زیادہ تھا کہ آواز اور الفاظ حلق میں ہی اٹک چکے تھے۔
وه پوچھنا چاہتی تھی کہ کیوں!!!!! پر الفاظ اٹک گئے تھے۔
“عدت پوری ہوتے ہی اس نے میرے ساتھ شادی کر لی اور میں تم لوگوں کی فیملی کا حصّہ بن گیا۔ جہاں آرا کے بیٹے زین کو اپنا نام دیا۔پر جانتی ہو جہاں آرا نے تمہیں راستے سے کیوں نہیں ہٹایا؟؟ کیوں کہ حسین کی ساری پراپرٹی تمہارے نام ہے۔ اگر تم بھی مر جاتی تو ساری پراپرٹی کسی ٹرسٹ کے پاس چلی جاتی۔ جہاں آرا نے سوچا کہ تمہارے اٹھارہ سال کے ہوتے ہی ساری پراپرٹی اپنے نام کروا کر تمہیں کسی ان پڑھ جاہل کے ساتھ بیاہ دے گی پر تمہاری دلکش جوانی نے مجھے بہکا دیا!!!”
وه ارمش پر درد ناک انکشافات کرتا اس کی روح قبض کر رہا تھا۔ اسے لگا یہ صدمے برداست نہ کرتے جلد ہی اس کے جسم سے روح پرواز کر جاۓ گی۔
وه اس کی تھوڑی اپنے غلیظ ہاتھ میں تھام کر اس کا چہرہ اپنی طرف کرنے لگا تو اس کے لمس پر ارمش تڑپتی ہوئی خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“نہ نہ نہ مائی لو!!! ایسی غلطی مت کرنا ورنہ انجام بہت بھیانک ہو گا۔”
اس کی دھمکی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وه گھٹ گھٹ کر روتی سخت مذاہمت کرنے لگی۔
اس کے وجود پر اور اس کی روح پر اب صرف اور صرف ارسم کا حق تھا۔اس کے دل و جان ارسم کی امانت تھے پھر کیسے وه اس وحشی کو ارسم کی امانت میں خیانت کرنے دیتی۔
وه اپنا دوسرا ہاتھ اس کی گردن کر طرف بڑھا گیا تو ارمش نے ایک دم بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کے منہ پر تھوک دیا۔
ذلّت اور توہین کے احساس کی بدولت عالم گردیزی کا چہرہ غیض و غضب سے لال پڑ گیا۔ وه الٹے ہاتھ کا بھاری تھپڑ ارمش کے نازک گال پر پوری شدّت سے جڑ گیا تو تکلیف کے احساس سے ارمش چیخ پڑی۔
“مجھ پر تھوکے گی؟؟؟ مجھ پر؟؟؟ عالم گردیزی پر!!!! اب دیکھ تیرا کیا حال کرتا۔ تو خود موت کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاۓ گی۔”
وه اس کے ہاتھ کھولتا ایک جھٹکے سے اسے بستر پر پهينك گیا تو ارمش پھوٹ پھوٹ کر روتی کسی کو مدد کے لئے بلانے لگی پر اس اجاڑ میں کون اس کی مدد کو آتا۔ اس کی سسكيوں کو ان دیواروں سے ٹکرا کر وہیں ختم ہو جانا تھا۔
@@@@@
“آئی ایم سوری سر!!! آئی ایم رئیلی سوری!!!”
اس کی بات سن کر مرتسم کو لگا ساتوں آسمان ایک ساتھ اس کے سر پر ٹوت پڑے ہیں۔ وه ایک دم دھڑام سے اپنے پورے قد سمیت ہسپتال کے یخ ٹھنڈے فرش پر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ اسے لگا اس کے پیروں تلے سے زمین كهينچ لی گئی ہے۔
ڈاکٹر اب شاید تسلی بھرے جملے بول رہی تھی پر وه اپنے ہوش میں ہی کہاں تھا۔ ایسا انسان ہوش میں ہو بھی کس طرح سکتا تھا جس سے ایک جھٹکے میں اس کی پوری دنیا چھین لی جاۓ۔
محبت سے زیادہ محبت کا انجام ظالم ہوا کرتا ہے یہ بات اسے آج پتا چلی تھی۔
“سر!!!”
عبّاس اس کے مقابل بیٹھتا اسے کندھوں سے پکڑ کر جهنجھوڑتا اسے پکار رہا تھا۔ اس کے جهنجھوڑنے پر وه اجنبی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“اٹھیں سر پلیز!!!! دیکھیں ڈاکٹر صاحبہ کچھ کہہ رہی ہیں آپ سے۔”
عبّاس کی بات پر مرتسم نے گردن اٹھا کر نا سمجھی سے ڈاکٹر ہما کی طرف دیکھا جو پریشان صورت لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
ڈاکٹر ہما کی بات یاد آتے ہی وه ایک جھٹکے سے اٹھا۔
“یہ۔۔۔یہ جھوٹ بول رہی ہیں عبّاس!!! تم بتاؤ یہ جھوٹ بول رہی ہیں نا۔یہ ایسے کیسے کہہ سکتی ہیں میری رانی کے متعلق۔ یہ دیکھو عبّاس کیا تم کچھ محسوس کر سکتے ہو؟؟”
وه عبّاس کا ہاتھ تھام کر اپنے دھڑکتے دل کے مقام پر رکھ گیا۔
“دیکھو عبّاس تمہیں میرا دل دھڑکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے نا!!میری سانسیں چلتی محسوس ہو رہی ہیں نا!!! پھر میری رانی کو کیسے کچھ ہو سکتا ہے!!!”
وه ہزیانی انداز میں بولتا ہمّت کھو رہا تھا.
“سر پلیز آپ ریلکس ہو کر ڈاکٹر کی پوری بات تو سن لیں پلیز!!!”
اس سے پہلے کہ مرتسم مزید کچھ بولتا عبّاس اسے دونوں کندھوں سے تھام کر ہلکے سے جهنجھوڑ گیا.
وه چونک کر عبّاس کی طرف دیکھنے لگا تو عبّاس اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگا۔
مرتسم لرزتے ہاتھوں کو چہرے پر پهير کر چہرہ صاف کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
ڈاکٹر تاسف سے اس کی حالت دیکھتی دو قدم آگے آئی۔
مرتسم اپنی لال انگارہ ہوتی آنکھیں فرش پر جماۓ کھڑا تھا۔ آنکھیں یوں معلوم ہو رہی تھیں جیسے ان سے ابھی لہو ٹپک پڑے گا۔
“سر میں یہ کہہ تھی کہ آئی ایم رئیلی سوری کیوں کہ۔۔۔۔”
وه بات بیچ میں چھوڑ گئی تو مرتسم نے دونوں مٹھیاں سختی سے بھینچتے لب دانتوں تلے کچل ڈالے۔ اس کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر ہما اور عبّاس کو لگا کہ وه ابھی چھوٹے بچوں کی طرف پھوٹ پھوٹ کر رو دے گا۔
“کیوں کہ ہم نے آپ کو بلا وجہ اس قدر پریشانی دی۔اللّه کے فضل سے مسز نوریہ کا بلڈ پریشر کنٹرول ہو گیا ہے اور اب وه خطرے سے باہر ہیں۔ کچھ دیر میں انھیں روم میں شفٹ کر دیا جاۓ گا پھر آپ ان سے مل سکتے ہیں کیوں کہ ابھی وه دوائی کے زیر اثر سو رہی ہیں۔”
ڈاکٹر کی بات پر مرتسم نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر ڈاکٹر کی جانب دیکھا.اس کی آنکھوں میں موجود بے یقینی ڈاکٹر کو بے طرح شرمندہ کر گئی۔
“آپ۔۔۔آپ سچ کہہ رہی ہیں؟؟؟”
اسے یقین ہی نہ ہو رہا تھا کہ خدا اس پر اس قدر مہربان ہو گیا ہے کہ اسے موت کے منہ سے نکال کر زندگی کی طرف دھکیل دیا۔
ڈاکٹر ہما مسکرا کر سر اثبات میں ہلا گئی۔
“مرتسم کا چہرہ دمک اٹھا پر اس دمكتے چہرے کی جوت بجھنے میں صرف ایک ہی سیکنڈ لگا جب اسے اپنے بچے کا خیال آیا۔روشن آنکھیں ایک دم تاریک پڑ گئیں۔
“نور کو جب پتا چلے گا کہ ہمارا بچہ نن۔۔۔نہیں رہا تو وه برداشت نہیں کر پاۓ گی۔”
لاکھ ضبط کرنے کے باوجود اپنے بچے کا ذکر کرتے مرتسم کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ کتنا خوش تھے وه دونوں اپنے بچے کو لے کر۔ کتنا کچھ سوچ چکے تھے وه پر اللّه کی شاید یہی رضا تھی۔
وه آنکھیں بند کرتا خود پر ضبط کرنے لگا۔
“سر آپ کی مسز اور بےبی دونوں بلکل ٹھیک ہیں!!!”
ڈاکٹر ہما کی آواز اسے کسی خوش گوار جھونکے کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ وه پٹ سے آنکھیں کھول گیا۔ڈاکٹر ہما کے مسکراتے ہوئے چہرے نے اس خبر کی تصدیق کی تو وه ایک دم وہیں سجدے میں گر گیا۔ اس کا جسم ہولے ہولے لرز رہا تھا۔
آس پاس سے گذرتے لوگ حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے تھے جہاں ایک اونچا لمبا بھر پور جوان مرد ہسپتال کے فرش پر سجدہ ریز تھا۔
“یا اللّه میں نوازا گیا ہوں!!! میں نوازا گیا ہوں میرے مولا!!!”
مرتسم کی زبان پر اسی جملے کی گردان تھی۔
کچھ دیر بعد اس نے دھیرے سے فرش سےاپنا سر اٹھایا اور چہرہ جھکائے ہی دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔ کسی کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس ہوا تو مرتسم نے ہاتھ چہرے سے ہٹاتے مڑ کر دیکھا جہاں اس کا جگری دوست باسم آفریدی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔
کسی اپنے کو اپنے سامنے دیکھتے مرتسم بے ساختہ اٹھا اور باسم کے گلے جا لگا۔ باسم اس کی پیٹھ تهپتهپا کر اسے حوصلہ دینے لگا.