Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وه پریشان سی شیشے کے آگے بیٹھی تھی۔ دروازہ کھلنےاور بند ہونے کی آواز پر اس نے پلٹ کر جلدی سے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے وه اندر داخل ہوا تھا۔ بلیک ٹیکسیڈو پہنے بال جیل سے سیٹ کیے دائیں ہاتھ میں روليكس کی گھڑی باندھ رہا تھا۔ وه اسے بہت پیارا لگا۔
“ہسبنڈ!”
اس کی میٹھی پکار ارسم کے کانوں میں پڑی پر وه جان کر انجان بن گیا۔
“سنیں!”
اس کی روہانسی آواز پر وه مزید بے پرواہی کا ڈرامہ نہ کر سکا۔
“جی سنائیں!”
“یہ دیکھیں اس آپی نے مجھے کیا بنا دیا۔ میں عجیب سی لگ رہی ہوں۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میری گردن بھی اکڑ گئی ہے اور مجھ پر کسی نے بہت زیادہ وزن ڈال دیا ہے۔”
اس کی روہانسی اور جهنجهلائی آواز پر اس نے بے ساختہ نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل نہ رہا۔
وه بلا کی حسین تھی۔ اس کو حد درجہ معصومیت اور کم عمری اسے مزید دلکش بناتی تھی۔ وه سادگی میں بھی ارسم آفریدی کو گھنٹوں خود کو تکنے پر مجبور کر دیا کرتی تھی اور اب یوں کیل کانٹوں سے لیس ہو کر ارسم آفریدی کی دل پر قیامت ہی ڈھا رہی تھی۔
ہلکے گلابی رنگ کے گھیر دار شرارے اور بھاری کام والی لمبی کرتی پر اسی رنگ کا جالی دار دوپٹہ بہت نفاست سے سر پر ٹکایا گیا تھا۔ سنہری بالوں کو بلو ڈرائی کر کے دائیں کندھے پر آگے رکھا گیا تھا۔بھاری نگینے جڑا ڈائمنڈ نیکلیس کسی اژدھے کی طرح گردن سے لپٹا ہوا تھا جب کہ اس سے میچ کرتے جھمکے کانوں کی زینت بنے ہوئے تھے۔ گورے چٹے ہاتھوں پر حنا عجب بہار دکھلا رہی تھی۔ وه شرار ہاتھوں سے تھام کر اپنی جگہ سے اٹھی تو ہاتھوں میں پڑی چوڑیاں بج اٹھیں جن کا مدهر ساز ارسم آفریدی کی سماعت میں رس گھول گیا۔ اس کے سراپے سے نظریں سرکتی ہوئیں اس کے چاند سے چہرے پر گئیں تو ارسم آفریدی کا دل ڈولنے لگا۔ سنہری آنکھوں کو گلابی اور سنہری رنگ سے ہی سجایا گیا تھا۔ خم دار پلکیں مسکارے سے بوجھل تھیں جب کہ گلابی گالوں کو مزید گلابی کر دیا گیا تھا۔ تیکھی ناک ہر قسم کے زیور سے پاک تھی۔ نظریں سرکتی ہوئیں مزید کچھ نیچے گئیں تو تیز گلابی رنگ سے سجے مسلسل ہلتے نازک ہونٹ ارسم آفریدی کے گلے میں کانٹے اگا گئے۔
وه سر تا پیر شعلہ بنی ارسم آفریدی کے جذبات کی دہکا رہی تھی۔
“ہسبنڈ میں کب سے کچھ کہہ رہی ہوں آپ کو آپ جواب کیوں نہیں دے رہے۔”
وه اس کے یوں اچانک میوٹ ہو جانے اور اپنی باتوں کا جواب نہ پاتے ہوئے دو قدم آگے بڑھا کر اس کا بازو ہلانے لگی۔
“ہا۔۔ہاں! کیا کہہ رہی تھیں آپ؟”
وه ہوش میں آتا خشک پڑتے لبوں پر زبان پهير گیا۔
“ہاہ!”
صدمے سے ارمش کا منہ کھل گیا۔
“میں کب سے بولی جا رہی ہوں اور آپ اب گھنٹے بعد پوچھ رہے ہیں کہ میں کیا کہہ رہی تھی۔”
اس کی بات پر ارسم شرمندہ ہو کر اس کے صدمے سے چور چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔
“سوری میری جان میں کچھ اور سوچ رہا تھا اب بتائیں آپ کیا کہہ رہی تھیں۔ میں ہمہ تن گوش ہوں۔”
وه سینے پر ہاتھ رکھ کر عاجزی سے اس کے آگے تھوڑا جھکتا ہوا بولا۔
“ہمہ تن گوش؟ پر آپ تو ارسم ہیں نا!”
اس کی بات پر وه نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“آپ نے ابھی خود تو کہا کہ میں ہمہ تن گوش ہوں جب کہ آپ کا نام تو ارسم ہے۔”
وه سمجھداری سے اسے بتانے لگی جب کہ اپنی بیوی کی سمجھداری پر ارسم آفریدی عش عش کر اٹھا۔
“واہ بھئی آپ تو بہت زہین ہیں سوفٹی۔”
اس کے طنز کی تعریف سمجھتی وه خوشی سے ہاں میں سر ہلانے لگی جب کہ ارسم سے مسکراہٹ چھپانا مشکل ہو گیا۔
“”آپ میرے لئے اللّه کی طرف سے ایک خوب صورت انعام ہیں جس کا شکر میں زندگی بھر ادا نہیں کر سکتا۔”
وه بے ساختہ جھک کر اس کے ماتھے پر محبت اور عقیدت کے پھول کھلا گیا۔
“اب چلیں؟ باہر سب ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔”
وه اس کانازک ہاتھ اپنے مظبوط ہاتھ میں تھام کر متسفسر ہوا۔
“پر یہ سب بہت بھاری ہے۔ میں گر جاؤں گی۔”
وه اپنے لباس کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“میں ہوں نا۔ ارسم آفریدی ارمش آفریدی کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر گرنے نہیں دے گا۔ اگر کبھی کسی موڑ پر ارمش آفریدی لڑکھڑائی تو ارسم آفریدی فورأ اسے تھام کر خود سے نزدیک تر کر لے گا۔”
وه دوسرے ہاتھ سے اس کا گال نرمی سے سہلا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتا اسے حسین جذبے میں جکڑ رہا تھا۔ وه مسکراتی ہوئی اثبات میں سر ہلا گئی تو وه اسے احتیاط سے اپنے ساتھ لئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°
راجہ صحن میں تخت پر لیٹا کچن کی کھڑکی سے نظر آتی اپنی رانی کو دیکھ رہا تھا جو آٹا گوندھنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی۔ دو دن راجہ نے اسے آٹا گوندھنآ سکھایا تھا اس کی ضد پر اور آج راجہ کو زبردستی کچن سے باہر بھیج کر وه آٹے کے ساتھ زور آزمائی کرنے میں مگن تھی۔
کچے پیلے رنگ کا ہلکے سے کام والا جوڑا پہنے جامنی دوپٹہ کمر کی گرد کسے وه بہت دھیان سے آٹا گوندھنے میں لگی ہوئی تھی ۔
چوٹی میں بندھے بالوں کی کوئی آوارہ لٹ اس کو عارضوں کو چھوتی تھ وه آٹا لگی انگلیوں سے ہی اسے پیچھے کر دیتی جس کی وجہ سے اس کے بالوں اور گالوں پر بھی آٹا لگ چکا تھا پر پرواہ کسے تھی۔
“میری رانی!”
راجہ کی پکار پر وه چونک کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی پھر اس کا اشارہ سمجھتی ہاتھ آٹے سے نکال کر باہر آ گئی۔
“جی”
وه جواب دیتی اس کے نزدیک آ کھڑی ہوئی .
“بہت پیاس لگی ہے یار پانی پلا دے۔”
وه اپنی زبان لبوں پر پھیرتا ہوا بولا تو وه اثبات میں سر ہلاتی واپس کچن کی طرف چل دی۔ اسے دیکھتا وه مسکرا کر آنکھیں بند کر گیا۔
“راجہ! یہ لیں پانی۔”
اس کے منہ سے اپنا نام سنتے راجہ کا دل پھر سے بے ایمان ہونے لگا پر وه خود پر قابو پا گیا۔ آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھتے راجہ کو صدمہ ہی لگ گیا جہاں وه آٹے سے لتھڑے ہاتھوں سے گلاس پکڑے کھڑی تھی۔
اس کی نظروں کا مرکز اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر نوریہ شرم اور خفت سے زبان دانتوں تلے دبا گئی۔
“سس۔۔۔سوری”
کہنے کے ساتھ ہی وه تیزی سے کچن کی طرف واپس مڑ گئی۔ دو منٹ بعد واپس آئی تو دھلے ہوئے صاف ہاتھوں میں ٹرے تھام رکھی تھی جس میں پڑا شیشے کا گلاس پانی سے لبريز تھا۔
راجہ گلاس تھام کر دو گھونٹ پانی پی کر گلاس ٹرے میں واپس رکھ کر لیٹ گیا۔ وه مڑ کر کچن میں جانے لگی تو وه اس کی کلائی اپنے ہاتھوں میں جکڑ گیا۔
اس کے سخت ہاتھوں کا لمس اپنی کلائی پر محسوس کرتی وه دھک سے رہ گئی۔ اس کا لمس ہر بار اس کے نازک وجود میں پھریریاں دوڑا دیتا تھا۔وه دھیرے سے پلٹی اور آنکھیں ذرا سی اٹھا کر راجہ کی طرف دیکھا تو وه جان لٹاتی نظروں سے اسے تکنے میں مصروف تھا۔وه اس کی روح میں اترتی نظروں کی تپش سے لرزتی پلکیں عارض پر جھکا گئی۔
“مجھے آٹا گوندھنا ہے۔”
وه اس کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑاۓ بغیر بولی۔
“گوندھ لینا پر پہلے شوہر کی طرف تو دھیان کر لو۔ شوہر بیمار پڑا ہے اور تمہیں کاموں سے ہی فرصت نہیں۔”
اس کی بات سنتی اور لہجے میں نظر آتی خفگی دیکھ کر نوریہ ساری شرم و حیا بالاۓ طاق رکھے تیزی سے اس کی نزدیک تر آ گئی اور دوسرے ہاتھ میں موجود ٹرے زمین پر رکھ کر وه ہاتھ راجہ کے ماتھے پر رکھے اس کا بخار چیک کرنے لگی۔
“بخار تو نہیں لگ رہا۔ کیا محسوس کر رہے ہیں آپ۔ کہاں درد ہو رہا ہے؟”
اس کی خود کے پریشانی دیکھ کر راجہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“میں نے کب کہا کہ بخار ہے؟ میرا سر بہت درد ہو رہا ہے۔”
وه کہہ کر ایک ہاتھ سے اپنی پیشانی مسلنے لگا۔
“ایسا کرتی ہوں پناڈول دے دیتی ہوں آپ کو اس سے سر درد کا آرام آ جاۓ گا۔”
اس کے پریشانی سے کہنے پر وه نفی میں سر ہلا گیا۔
“نہیں مجھے کوئی دوائی نہیں کھانی۔ بس میرا سر دبا دو میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔”
وه اس کا ٹھنڈا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ گیا تو وه اس کی بات پر عمل کرنے کے لئے اس کے سرہانے بیٹھ گئی اور اس کی پیشانی پر جمے ہاتھ کو حرکت دیتی اس کا سر دبانے لگی۔
تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وه اب ہلکا ہلکا كراہنے لگا اور اپنا سر اس کی گود میں رکھ گیا۔ وه شرم کیا محسوس کرتی الٹا اس کی حالت پر حواس باختہ ہو گئی۔
“راجہ! زیادہ درد ہے کیا؟ اٹھیں ہم ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔”
اس کے کراہنے پر وه جھک کر دھیرے سے اس کی پیشانی پر لب رکھ کر بولی۔
اس کے لمس کی مسیحائی وه روح تک اترتی محسوس کرتا رخ موڑ کر اپنا چہرہ اس کے پہلو میں چھپاتا اس کے گرد بازو لپیٹ گیا۔
اس کی اس حرکت سے نوریہ کے بدن میں پھریری سی دوڑ گئی۔ اس کی سانسیں سینے میں اٹکنے لگیں پر راجہ کی حالت کو ذہن میں رکھتی وه ضبط کرتی بیٹھی اس کا سر دباتی رہی۔
ٹھنڈے ہاتھوں کا لمس بہت سکون بخش تھا جسے محسوس کرتا وه نیند میں جانے لگا۔
اس کی بھاری ہوتی سانسوں کو محسوس کر کے وه پھر سے جھک کر اس کی پیشانی پر لب رکھ گئی اور مسکراتی ہوئی اس کا بازو کھول کر اٹھنے لگی تا کہ کھانا بنانے کی کوشش کر سکے۔
ابھی وه تخت سے نیچے پیر دھرتی اس سے پہلے ہی اس کی غیرموجودگی محسوس کر کے آنکھیں کھولتا اسے اپنی طرف كهينچ گیا اور اسے سہی طرح تخت پر لٹاتے خود اس کے سینے پر سر رکھتا دونوں بازو اس کی کمر کے گرد سختی سے باندھ کر آنکھیں بند کر گیا جب کہ وه اس اچانک افتاد پر دل کر بڑھتی ہوئی دھڑکنیں شمار کرتی رہ گئی۔
“مجھے اس وقت سکون چاہئے جو صرف تمہاری قربت میں ہے۔”
بوجھل آواز میں کہتا وه اس کے خوبصورت ابھار پر لب گیا اور اس کا ایک ہاتھ تھام کر اپنے بالوں پر رکھ گیا۔ اس کا بھیگا لمس اور گرم سانسیں اپنی گردن پر پڑتی محسوس کرتی وه سرخ رنگت لئے کپكپاتا ہوا ہاتھ اس کے گھنے اور لمبے بالوں میں چلانے لگی جو اس وقت پونی کی قید سے آزاد تھے۔
وه نیند کی وادی میں گم ہوا تو وه بھی کچھ پر سکون ہوتی آنکھیں بند کر گئی۔
°°°°°
بارات آ چکی تھی۔ کچھ دیر بعد ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی برائیڈل روم میں داخل ہوئیں۔
“مومل چلو بیٹا نکاح کا وقت ہو گیا ہے۔”
فریحہ آفریدی کے کہنے پر وه اپنے دل پر پتھر رکھتی اٹھ کھڑی ہوئی اور ان دونوں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھ گئی جہاں اسٹیج کے درمیان میں پھولوں کا پردہ بنا کر دولہا اور دلہن کی الگ الگ جگہ مختص کی گئی تھی۔ باسم کی نظر جب سامنے سے آتی گھونگھٹ اوڑھے مومل پر پڑی تو وه اپنا رخ موڑ گیا۔
“ماما!”
مناہل دوڑتی ہوئی اس کی طرف آئی اور اس کی ٹانگ سے چمٹ گئی۔ وه اپنی ماں اور بڑی ماں کے ساتھ چلتی ہوئی اپنے لئے مختص کی گئی جگہ پر بیٹھ گئی۔ دل کی تکلیف حد سے سوا تھی۔
“نکاح شروع کریں مولوی صاحب!”
اپنے باپ کی آواز میں یہ کلمات سنتے وه اپنے دل کو اور مضبوط کرنے لگی اور پاس بیٹھی مناہل کا ہاتھ سختی سے اپنے ہاتھوں میں تھام گئی۔
آج اس کی یک طرفہ محبت کا آخری دن تھا۔ کون جانتا تھا کہ مومل آفریدی نے باسم آفریدی کا ہجر کس عذاب میں کاٹا تھا۔ اسے کس طرف رب کے سامنے گڑگڑا کر مانگا تھا۔اس نے سنا تھا کہ سچے دل سے مانگی گئی ہر دعا قبولیت کا درجہ رکھتی ہے پر اس کو دعا نہ جانے کیوں نہیں پوری ہوئی۔ شاید اسے مانگنے کا سہی طریقہ نہیں آیا۔ اس نے یہ ب پڑھا تھا کہ اللّه انسان کی آنکھوں میں ٹھہرے آنسوؤں کے ایک قطرے کے گرنے سے پہلے ہی اس کی دعا قبول کر لیتا ہے پر اس نے تو باسم آفریدی کے ہجر میں ساری ساری رات رو کر بھی اللّه سے اس کے رجوع کی دعائیں مانگی تھیں پھر کیوں نہیں انھیں قبولیت ملی۔ یہ سب سوچتے مومل آفریدی کا دل تکلیف سے تڑپ رہا تھا پر وه پگلی یہ بھول گئی تھی کہ اللّه کی گھر میں دیر ہے پر اندھیر نہیں۔ کبھی وه لے کر آزماتا ہے تو کبھی دے کر۔
“رکیں مولوی صاحب اتنی جلدی کس بات کی ہے؟”
نسوانی آواز پر ہال میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ تقریب میں موجود جہاں ہر شخص تجسس لئے آنے والی لڑکی کو دیکھ رہا تھا وہیں اس لڑکی کی آمد آفریدی ولا والوں کو نا گوار گزری تھی۔
اس سے پہلے کہ کوئی اور کچھ بولتا وه خود ہی بول اٹھی۔
“دلہن کے والد صاحب سامنے آئیں۔”
ان کے آگے بڑھنے پر وه خود بھی دو قدم آگے بڑھی۔
“انکل میں فاران کی یونیورسٹی کی دوست تھی۔ اس سے پیار کرتی تھی۔ اس نے کہا یہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتا ہے۔ ہم دونوں نے شادی کا پلان بنایا تو ایک دن فاران نے مجھے اکیلے میں ملنے بلایا۔ اس کی محبت میں اندھی ہو کر میں بھی ماں باپ کی عزت کی پرواہ کیے بغیر اس سے ملنے پہنچ گئی۔ اس نے ریلیشن بنانے کے لئے مجھے فورس کیا اور جب میں نہیں مانی تو زبردستی کرنے لگا۔ میں بہت مشکل سے اپنی عزت بچا کر وہاں سے بھاگی۔ہم لڑکیاں جب ماں باپ کی زندگی بھر کی محبت بھول کر چند دن کے آئے لڑکے کو ترجیح دے کر ماں باپ کی عزت رولتی ہیں تو ہمارے پلے بھی کچھ نہیں بچتا۔ ہم نا جانے کس طرح سوچ لیتی ہیں کہ جو آسائشیں ہمیں دینے میں ہمارے والدین ہمیں زندگی کے بیس پچيس سال لگے وه ایک غیر آدمی ایک دن میں ہمیں دے دے گا۔ جو اولاد ماں باپ کی عزت رولتی ہیں اس کے پلے پھر کچھ نہیں بچتا۔ نہ عزت نہ مان نہ وقار اور نہ ہی سکون۔یہ سب میں بھگت چکی ہوں۔”
وه کہتی چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رو دی تو ارسل آفریدی نے اس کی سر پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیا۔
“مجھے ہمارے ایک کامن فرینڈ سے پتا چلا کہ فاران کی ایک لڑکی سے شادی طے ہو چکی ہے اور وه اس کے ساتھ بھی مخلص نہیں۔ وه اسے ملنے کے لئے بھی غلط مقصد سے کہیں لے کر گیا پر اس لڑکی کی جلدی میں کہیں جانا پڑا اور وه اس کے کہنے پر بھی نہ رکی۔ میں بہت مشکل سے پتا کر کے یہاں تک پہنچی ہوں۔”
اس کی بات مکمل ہوتے ہی باسم تیش سے فاران کی طرف لپكا اور اس پر پل پڑا اور اسے لاتوں اور مکوں سے بے حال کر دیا۔ اسے دیکھتا ارسم بھی اس پر پل پڑا۔
ارسل آفریدی پہلے ہی پولیس کو کال کر چکے تھے۔ پولیس کے آتے ارسل آفریدی نے بہت مشکل سے انہیں الگ کیا۔
“چھوڑیں پاپا! اس خبیث کو زندہ نہیں چھوڑوں گا میں آج۔ اس نے مومل کے متعلق ایسا سوچا بھی کیسے۔ باسم آفریدی اس کا وه حال کرے گا کہ گلی کے کتے بھی اس کی حالت سے خوف زدہ ہوں گے۔”
وه بپهرا ہوا شیر بنا ہوا تھا۔ فاران کو پولیس لے گئی تو باراتی بھی واپس جانے لگے۔
ماحول تھوڑا شانت ہوا تو ارسل آفریدی نے ویٹرز کو کھانا لگانے کا کہا۔ لوگ سب کچھ بھولتے کھانے میں گم ہو گئے۔
وه بے یقین سی بیٹھی تھی۔ اتنے کم وقت میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔ چند پل اس کی زندگی کا رخ پلٹ چکے تھے۔
باسم آفریدی کوٹ سے نادیدہ سلوٹیں جھاڑ کر مركزی کرسی پر جا بیٹھا۔
“چلیں مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔”
اس کی بھاری آواز نے آفریدی ولا کے تمام افراد پر سکتہ طاری کر دیا۔
“باسم ہوش میں ہو ؟”
وه اسے ایسے دیکھنے لگے جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ ہو۔
“میں بالکل ہوش میں ہوں پاپا۔ آپ بیٹھیں اور اپنے بیٹے کا نکاح انجواۓ کریں۔”
“میں آپ کو صاف اور واضح الفاظ میں بتاتا ہوں کہ باسم آفریدی ابھی اور اسی وقت مومل آفریدی سے نکاح کا خواہاں ہے۔ اگر کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وه میرے سامنے آئے .”
اس کے مضبوط لہجے پر سب خاموش تھے۔
وه اٹھ کر چلتا ہوا ارسم آفریدی اور فریحہ آفریدی کے سامنے سر جھکائے کھڑا ہو گیا۔
“چاچو اور چھوٹی امی کیا آپ دونوں بخوشی مجھے اپنی فرزندی میں قبول کرنے کو تیار ہیں؟”
اس کے یوں مان دے کر پوچھنے سے فریحہ آفریدی خوشی سے نم آنکھیں لئے اس کے سر پر ہاتھ رکھ گئیں کہ ان کی برسوں کو خواہش بر آ رہی تھی اور ارسل آفریدی اسے اپنے سینے سے لگا کر اس کا کندھا تهپتهپا گئے۔
اسے اپنا جواب مل چکا تھا۔
آفریدی ولا کر ہر فرد بے پناہ خوش اور رضامند تھا اس فیصلے سے پر جس کی مرضی مطلوب سے اس سے تو کسی نے اس کی رائے لی ہی نہ تھی۔
“پر مجھے قبول نہیں ہے۔”
اس کی آواز پر سب نے بے ساختہ اس کی طرف دیکھا جو اپنا لہنگا دونوں ہاتھوں کی چٹکیوں میں تھامے اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تھی۔
“میں اس رشتے پر ایک فیصد بھی رضا مند نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی رشتہ مجھے قبول ہے۔”
وه بلند آواز اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنا فیصلہ سناتی کسی ریاست کی شہزادی کی طرح ہی معلوم ہو رہی تھی۔ آفریدی ولا کر ہر فرد ہی سکتے میں تھا جب کہ وه اپنا فیصلہ سنا کر واپسی کے لئے مڑ گئی۔
°°°°°