Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
وہ آنسو ضبط کرتی بیڈ پر بیٹھی تھی۔ اس کے گھر والوں نے اس کی ایک بھی نا سنتے باسم کے کہنے پر اس کی رخصتی کر دی۔ وہ اپنے ماں باپ سے سخت خفا تھی جن کی نظر میں اپنی اکلوتی اولاد کی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ کیا سوچا تھا اس نے اور کیا ہو گیا تھا۔ جس انسان کی محبت میں اپنی ذات کو بے مول کر دیا جب اس سے دوری پر صبر کر چکی تھی تو اللّٰہ نے اس کا نصیب پھر سے اسی شخض کے ساتھ جوڑ دیا۔ وہ خود کو سخت بے بس محسوس کر رہی تھی۔
ایشاء آفریدی اسے بہت کچھ سمجھاتے باسم کے کمرے میں بٹھا گئی تھیں۔باسم آفریدی کے کمرے میں اسی کے بستر پر بیٹھی وہ لا یعنی سوچوں میں گھری ہوئی تھی۔
“آخر میں یوں سج سنور کر بیٹھی اس انسان کے انتظار میں کیوں بیٹھی ہوں جس نے میری ذات کا تماشہ بنا کر رکھ دیا۔”
اچانک یہ سوچ اس کے دماغ میں آئی تو وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی۔
اس نے ابھی ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا کہ کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھلا اور پھر بند ہو گیا۔ مومل کی دھڑکن سست پڑنے لگی۔
اس نے قدم آگے بڑھانا چاہا پر پیر جیسے زمین کے ساتھ چپک گئے تھے۔
اسے بھاری بوٹوں کی دھمک اپنے قریب آتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اپنی سانس تک روک گئی۔
“آہہہ…”
اس کے منہ سے بے ساختہ ایک چیخ نکل گئی جب اس نے اس کا بازو پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنی طرف موڑا۔
“چھ۔۔۔چھوڑیں مجھے۔”
وہ کسمساتی ہوئی اپنا بازو اس کی مضبوط گرفت سے چھڑوانے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی۔
وہ ایک لفظ بھی کہے بغیر اڈے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا الماری کی طرف بڑھ گیا۔ ایک ہاتھ میں اس کا بازو یوں ہی دبوچے وہ دوسرے ہاتھ سے الماری جا دروازہ کھول کر اس میں لٹکتا ہوا ایک سوٹ نکال گیا۔
“تمہارے پاس دس منٹ ہیں جن میں تم فریش ہو کر اپنا لباس بدل کر باہر آؤ گی۔”
اس کے لباس پر موجود کسی اور کے نام کا لباس اس کے وجود میں شرارے دوڑا گیا تھا۔
وه اس کے ہاتھ میں وہ لال رنگ کا لباس پکڑا کر اس کا بازو اپنی گرفت سے آزاد کر گیا۔
وہ اس کی بات لر صاف انکار کرنا چاہتی تھی پر اس قدر ہیوی کپڑوں میں خود بھی غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھی اس لیئے کپڑے پکڑ کر چپ چاپ باتھ روم کی طرف رخ کر گئی ۔
“وہ دس منٹ کی بجائے تیس منٹ کے بعد کمرے میں داخل ہوئی تو اسے آرام دہ کپڑوں میں بیڈ پر بیٹھے دیکھا۔ اس کے باہر آنے پر وہ ایک گہری نظر اس پر ڈال کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی سگریٹ کی ڈبی اور لیٹر اٹا کر ایک سگریٹ سلگا گیا۔
اس کے ہاتھ میں موجود سلگتا ہوا سگریٹ دیکھ کر مومل حیرت سے بھری آنکھیں لیے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالتی تو ایک اس کے ہاتھ میں موجود سگریٹ پر۔
اس کی نظریں مسلسل خود پر محسوس کرتا وہ اپنی نظریں اس پر گاڑھ کر ایک آئبرو اٹا کر اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
اس کے دیکھنے پر وہ سٹپٹاتی ہوئی اپنی نظریں پھیر گئی۔
“مناہل کہاں ہے؟”
وہ کمرے میں یہاں وہاں دیکھتی اس سے استفسار کرنے لگی۔
“اپنی دادی کے پاس!”
وہ ہنوز نظریں اس پر جمائے بھاری آواز میں گویا ہوا۔
“کیوں؟”
اس کے جواب پر وہ الجھ کر پوچھنے لگی۔
“تا کہ آج کی رات وہ ہمیں ڈسٹرب نہ کر سکے۔”
اس کی معنی خیز بات پر وہ سرخ پڑتی خفت زدہ چہرہ موڑ گئی۔
“کک۔۔۔کیا بد تمیزی ہے یہ۔”
وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
“یہ میرا نہیں بلکہ مناہل کی دادی کا شاہی فرمان تھا۔ تم نے سوال کیا تو میں نے اس کا جواب دے دیا۔ اس میں کون سی بد تمیزی کی میں نے؟”
وہ سخت تیور لیے اس پر چڑھ دوڑا۔
“ہنہہ! آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے۔”
وہ اس کے منہ سے جھڑتے پھول سننے کی کوشش کرنے لگا پر اس کی سرگوشی جتنی آواز سن نہ سکا بس اس کے ہلتے ہونٹ ہی دیکھ سکا۔
“کہاں جا رہی ہو؟”
وہ دوپٹہ کندھوں پر ڈالتی کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی تو وہ سیدھا ہوتا اسے آواز لگا گیا۔
“مناہل کو لینے.”
وہ جواب دے کر پھر سے باہر جانے لگی جب اس کی آواز پر اس کے قدم پھر سے زنجیر ہوئے۔
“کیوں اس وقت اپنے ساتھ ساتھ میری ذات کا بھی تماشہ لگانا چاہتی ہو باہر جا کر۔ چل کر کے کمرے میں پڑی رہو ویسے بھی اب تک وہ سو چکی ہو گی اس کی نیند خراب مت کرو۔”
اس کی سرد آواز میی سرد ہی الفاظ سنتی وہ لب بھینچ کر اپنے قدم واپس لیتی صوفے کی طرف بڑھ گئی۔ ایک بھی باغی نظر اس پر ڈالے بغیر وہ صوفے پر لیٹ کر کندھے پر پڑا دوپٹہ سر تک تان گئی۔
اس کی ایک ایک حرکت دیکھتا وہ پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔ صوفے سے نیچے گرے اس کے لمبے گھنے بال اس کو آج بھی اپنی لپیٹ میں لینے کیلئے کوشاں تھے جیسے۔ وہ نظریں پھیر کر ایک دم اپنا جگہ سے اٹھ کر تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے سر پر نا پہنچا۔
“اٹھو یہاں سے لڑکی! ہی کوئی فلم یہ ڈرامہ نہیں چل رہا جس میں تم میرے ساتھ صوفی صوفہ کھیلو گی۔ اٹھو یہاں سے اور بیڈ پر چلو۔”
وہ اس کے سر پر کھڑا اپنی بات پوری کرتا اچانک اس کے سر تک تانا ہوا دوپٹہ ایک جھٹکے سے کھینچ گیا تو اس کی آنکھیں سیدھا اس کی روتی ہوئی آنکھوں سے ٹکرائیں۔ وہ اسے روتا دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔
“کیا ہوا؟ کیوں رو رہی ہو؟”
وہ ایک دم بے چین ہو اٹھا تھا اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو دیکھ کر۔
“کچھ بھی نہیں۔”
وہ اس کے ایک دم دوپٹہ کھینچنے اور سوال پوچھنے پر در آئی اپنی حیرت چھپاتی آنکھوں صاف کرتی رخ موڑنے لگی جب وہ ایک دم جھکتا اسے اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا گیا۔
اس کی حرکت پر وہ آنکھیں پھاڑے اس کا چہرہ دیکھنے لگی جس پر چھائے سخت تاثرات اسے کچھ بھی بولنے سے باز رکھ رہے تھے۔ اس سو پہلے کہ وہ ہر بات کی نفی کرتی اپنی زبان کھولتی وہ اسے بیڈ پر لیٹا گیا۔
“اب جی بھر کر رو لو کوئی تمہیں منع نہیں کرے گا۔”
وہ اپنی سنجیدہ آنکھوں اس کی بہتی ہوئی آنکھوں میں ڈال کر بولتا والس اپنی جگہ پر جا کر لیٹ کر ایک اور سگریٹ سلگا گیا جب کہ اس کی بے حسی پر نئے سرے سے آنسو بہانے لگی۔
پندرہ منٹ بعد باسم نے چہرہ موڑ کر اس کی جانب دیکھا تو گالوں پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان لیے وہ نیند میں گم ہو چکی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ مومل نیند کی کس قدر پکی ہے اس لے وہ اسے بازو سے پکڑ کر دھیرے سے اپنی طرف کھینچ کر اس کا سر اپنے بازو پر رکھ گیا۔
وہ نیند میں ہی تھوڑا سا کسمسائی اور منہ بسورتی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی۔ اس نے اس کی شڑٹ اپنی ایک مٹھی میں جکڑی تو باسم آفریدی کو لگا جیسے مومل آفریدی نے اس کا دل اپنی مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ وہ اس کا امتحان بنی اس کے نزدیک تر آچکی تھی۔
باسم نے ایک بس نظر اس کے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی اور خود پر قابو پاتا آنکھوں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔
°°°°°°
صبح مومل کی آنکھ کھلی تو وه اکیلی ہی بیڈ بلکہ کمرے میں موجود تھی۔ اس نے ایک نظر پورے کمرے پر دوڑائی اور اپنی درد کرتی آنکھوں کے کونوں کو انگلیوں کی پوروں سے دبانے لگی پھر وقت کا خیال کرتے بستر سے نکل آئی۔ وارڈروب کھولی تو اس میں وہ سب کپڑے لٹکے ہوئے تھے جو اس کی شادی کے لیے بنائے گئے تھے۔
اس نے آتشی رنگ کا ایک دبکے کے کام والا سوٹ نکالا اور شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر وہ سوٹ اپنے ساتھ لگا کر دیکھنے لگی۔
وہ آتشی رنگ کی گھٹنوں سے کچھ اوپر تک آتی قمیض آتشی رنگ کی پینٹ کیپری اور ساتھ میں گولڈن رنگ کا آرگنزا کا دوپٹا تھا۔
اس نے اس سوٹ سے مطمئن ہوتے فریش ہونے کے لیے باتھ روم کا رخ کیا۔
فریش ہو کر جب وہ باہر آئی تب بھی کمرہ خالی تھا۔
وہ شیشے کے آگے کھڑی ہوتی جلدی سے بال سکھانے لگی۔ بال سکھا کر آدھے بال کیچر میں باندھتی وہ باقی بال پیچھے کھلے چھوڑ گئی۔ بالوں سے فارغ ہونے کے بعد اس نے چہرے کو ہلکے پھلکے میک اپ سے آراستہ کرنا شروع کر دیا۔ سارے کام سے فارغ ہونے کے بعد اس نے ایک تنقیدی نگاہ اپنے عکس پر ڈالی۔
آتشی رنگ کے خوبصورت لباس میں گولڈن دوپٹہ دائیں کندھے پر سیٹ کیے، بال آدھے باندھ کر باقی پشت پر کھلے چھوڑے، کانچ سی آنکھوں کو کاجل سے مزہد قا تل بنائے، کٹاؤ دار نازک سے ہونٹوں پر گہری گلابی لپ سٹک لگائے اور کانوں میں بھاری جھمکے پہنے وہ حسین ترین لگ رہی تھی۔ بالکل نئی نویلی دلہن! اسے کچھ کمی سی محسوس ہوئی اپنی سونی کلائیاں دیکھتے۔ اس نے جیولری باکس سے کنگن نکال کر کلائیوں میں ڈال لیے۔ کنگن ڈالتے ہوئے اس کی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے مخملی ڈبے پر گئی تو وہ اسے پکڑ کر کھول گئی۔
“واؤ!!!”
ڈبے میں موجود خوبصورت سا لاکٹ ،اس جیسے ہی خوبصورت ٹاپس اور ایک انگوٹھی دیکھ کر اس کے منہ سے بے اختیار واؤ نکلا تھا۔
“شاید ماما نے بنوائے ہوں”
ہی سوچ کر وہ لاکٹ اور انگوٹھی پہننے لگی البتہ کانوں میں وہی بھاری جھمکے رہنے دیے۔
اپنی تیاری پر ایک آخری نظر ڈالتی وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔
“ماما”
لاؤنج میں بیٹھی مناہل اسے دیکھ کر خوشی سے چیختی اس کی طرف لپكی۔
“آرام سے ماما کی جان! میں اپنے بیٹے کے پاس ہی آ رہی ہوں۔”
اس کی بات پوری ہونے تک مناہل اس کے پاس پہنچ کر ہاتھ اس کی طرف بڑھا گئی تا کہ وه اسے اٹھا سکے۔
“میری جان!”
وه اسے گود میں اٹھا کر چٹا چٹ چوم گئی۔
اس کی نظر مناہل سے ہٹ کر وہاں موجود دوسرے افراد پر پڑی تو چہرے کو واپس سنجیدہ بناتی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کھانے کی میز کی طرف بڑھنے لگے۔
کچھ رشتہ دار بھی اس وقت شادی کی وجہ سے گھر پر موجود تھے اس لئے وه ان کی موجودگی میں کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ابھی وه ٹیبل سے پانچ قدم کے فاصلے پر تھی جب کانوں میں پڑتی آواز اس کی قدم روک گئی۔
“ارے بھائی باسم جیسا بچا تو ہمارے پورے خاندان میں نہیں۔ اسے شادی کے لئے یہی لڑکی ملی تھی کیا جس کی شادی کے دن ہی اس کے نصیب سیاہ ہو گئے۔مانا کہ مومل خوب صورت ہے پر میری عاشی بھلا کم ہے کیا۔ باسم کی نظر اس پر نہ پڑی بھابھی پر آپ تو غافل نہ تھیں اپنی بھتیجی سے۔”
یہ باسم کی ممانی تھی جو پاس بیٹھی میک اپ کی دکان بنی اپنی بیٹی کی طرف اشارہ کرتی مومل کی ذات پر وار کر رہی تھی۔ ان کی بات پر مومل کا چہرہ تاریک پڑ گیا۔ وه خود پر ضبط کرتی واپسی کے لئے قدم اٹھانے لگی جب ایک مردانہ بازو اس کی کندھے کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کر گیا۔
مومل نے چونک کر گردن موڑے اس کی طرف دیکھا جو سرد تاثرات چہرے پر سجاۓ سامنے دیکھ رہا تھا۔ مومل نے كسمسا کر اس کی گرفت سے نکلنا چاہا تو وه اپنا حصار مزید مضبوط کر گیا۔ اسے اپنے ساتھ لئے وه تین قدم چل کر آگے آیا۔
“ممانی! مومل کے نصیب سیاہ نہیں ہوئے تھے بلکہ میرے نصیب روشن کر دیے گئے تھے مجھے مومل کا ساتھ دے کر۔ اگر مومل آفریدی کسی اور کے نصیب میں چلی جاتی تو باسم آفریدی کے بخت کس طرح روشن ہوتے۔ مومل آفریدی , باسم آفریدی کے بخت کا روشن ستارہ ہے۔ رہی بات خوب صورت ہونے کی تو باسم آفریدی کی نظر یہاں موجود اور کسی لڑکی پر پری ہی نہیں مومل کی سوا آج تک۔ ہاں اب پڑ چکی ہے پر کیا ہے نا کہ میری شادی ہو چکی ہے اور باسم آفریدی کو وفا نبھانی بہت خوب آتی ہے۔”
وه سرد اور سخت لہجے میں اپنی ممانی کے ساتھ وہاں موجود سب لوگوں کو باور کرواتا ہوا بولا تو وه بے یقینی سے اس کی طرف دیکھتی ہی رہ گئی۔ اسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ وه اس کے متعلق اس طرح بول سکتا ہے۔ وه جانتی تھی کہ وه سب کے سامنے صرف اس کی عزت رکھنے کی خاطر یہ سب بول رہا تھا پر اس کی اس ادا نے مومل کا دل سرشار کر دیا تھا۔
“کیوں زوجہ سہی کہہ رہا ہوں نا؟”
وه اس کی بے یقین آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھ کر بولنے کے ساتھ اسے اپنے کچھ اور قریب کر گیا۔
وه بھی اس کا بھرم رکھنے کی خاطر نظریں جھکا کر مسکراتی اثبات میں سر ہلا گئی کہ اس کی آنکھوں میں دیکھنا مشکل ترین امر تھا مومل کے لئے۔ وه دھیرے سے جھک کر مومل کی گود میں موجود مناہل گال پر لب رکھ گیا تو وه کھلکھلا کر ہنس دی۔ ان تینوں کو ساتھ ہنستا مسکراتا دیکھ کر آفریدی ولا کے تمام مکینوں نے ان کی بلا لیتے صدا یوں ہی خوش رہنے کی دعا کی تھی جب کہ جلنے والے جل کر رہ گئے تھے۔
وه آگے بڑھا اور مومل کے لئے کرسی کھینچ گیا۔ مومل بیٹھ کر مناہل کو اپنی گود میں بیٹھا گئی۔ ان کے بیٹھنے کے بعد باسم بھی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ مومل نے سب کے سامنے اچھی بیوی ہونے کا فرض نبھاتے ہوئے کھانا پہلے باسم کو سرو کیا تو وه اسے دیکھ کر رہ گیا جو اب مزے سے اپنی بیٹی کے ساتھ باتیں کرتی اسے کھلانے میں لگی ہوئی تھی۔
“بس میرا پیٹ بھر گیا۔”
ارمش اپنی پلیٹ پیچھے كهسكا گئی تو ارسم اسے گھورنے لگا۔
“چڑیا بھی اس کھانے سے زیادہ کھاتی ہے جتنا آپ کھا کر آپ کے مطابق آپ کا پیٹ بھر چکا ہے۔”
وه بہت زیادہ ویک تھی اور اسے اچھی خوراک کی ضرورت تھی۔وه کھانے کے معاملے میں تنگ نہیں کرتی تھی پر ارسم دیکھ رہا تھا کہ شادی کے دنوں میں وه بالکل ٹھیک سے نہیں کھا رہی تھی اسی لئے اسے ٹوک گیا۔
“پر مجھے بھوک نہیں ہے اب۔”
وه کنی كترانے لگی۔
“بھوک نہیں پھر بھی کھائیں۔”
وه اب کہ تھوڑے سخت لہجے میں بولا تو اس کے انداز پر ارمش کو رونا آنے لگا۔
“بس بھی کر دو چھوٹی بچی بنا کر رکھا ہوا ہے تم لوگوں نے اسے۔ بھابھی معاف کریے گا پر آپ لوگوں کی پسند پر دل راضی نہیں ہوا۔ چھوٹی بچی تھوڑی ہے وه جو ہر کو اس کے آگے پیچھے لاڈ اٹھانے میں لگا رہتا ہے۔”
ان کی توپوں کا رخ اب ارمش کی طرف ہو گیا۔ انہیں ارسم کی اچانک شادی وه بھی اتنی کم عمر لڑکی سے بہت کھٹک رہی تھی۔
“ارمش کی آنکھوں میں چمکتے آنسو ارسم کا دل پگھلانے لگے پر وه اس معاملے میں نرمی نہیں برت سکتا تھا۔
“یہ ختم کر کے کمرے میں آ جائیے گا۔”
وه سنجیدگی سے کہتا اپنی جگہ سے اٹھ کر کمرے کی طرف چلا گیا۔
“ہنہہ ۔۔۔۔دونوں ہی زن مرید!”
وه بڑبڑا کر کہتی سر جھٹک گئی۔
ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں جب کہ ارمش آنسو پیتی کھانے کی کوشش کرنے لگی۔
°°°°°
