Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
وقت تھا کہ پر لگا کر اڑتا چلا جا رہا تھا۔ ارسم ٹرايننگ کے لئے جا چکا تھا اور باسم آج کل کافی مصروف رہنے لگا تھا۔ ایسے میں وه بے چین سی بولائی بولائی گھر بھر میں پھرتی رہتی۔
ماہم کی باتوں نے اس کا دماغ بلکل ہی الگ سمت میں موڑ دیا تھا۔ باسم کے لئے اس کے دل میں موجود محبت دن با دن مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وه باسم کے سامنے جانے سے کترانے لگی تھی کہ کہیں اس کا راز نہ کھل جاۓ۔ وه اس کی آنکھوں میں موجود محبت نہ پڑھ لے۔
باسم آج گھر ہی تھا۔ مومل کادل اس کے دیدار کے لئے مچلا تو دل کی پکار سنتی وه اس کے کمرے میں جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس سے پہلے کہ وه دروازہ کھول کر اندر جاتی، کمرے سے آتی آوازوں نے اسے وہیں رکنے پر مجبور کے دیا۔
“باسم ہوش میں تو ہو تم؟ کیا کہہ رہے ہو؟”
اسی بڑے پاپا کی آواز سنائی دی تو وه الجھ گئی۔
“بڑے پاپا اتنے غصّے میں کیوں ہیں؟”
وه سوچ کر رہ گئی۔
“پاپا میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ میں نے کہہ دیا نا کہ مجھے روزینہ سے شادی کرنی ہے۔بہت محبت کرتا ہوں میں اس سے۔”
اس کا الفاظ دروازے کے باہر کھڑی مومل پر بجلی بن کے ٹوٹے تھے۔ اس کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ اس کا جسم لرزنے لگا۔ ٹانگیں كانپنے لگیں تو اس اسے اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا مشکل لگنے لگا۔ وه دیوار کا سہارا لے کر زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ آنسو تواتر سے گالوں پر بہنے لگے تھے۔ وه کانپتے ہوئے ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی گھٹی گھٹی سسكیوں کو روکنے کی کوشش کرنے لگی پر اس کوشش میں محال ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ اس کی حالت کوئی اور دیکھے وه یہاں سے چلی جاۓ پر جیسے ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو منہ کے بل گر پڑی۔
“مومل”
فریحہ آفریدی جو اپنے کمرے سے نکل رہی تھیں ان کی نظر دروازے کے باہر گرتی مومل پر پڑی تو وه چیخ اٹھیں اور اس کی طرف بھاگیں۔
ان کی چیخ اور کچھ گرنے کی آواز سن کر کمرے میں موجود تینوں افراد بھی کمرے سے باہر نکلے۔
“مومل”
باسم اسے پکارتا تیزی سے اس تک پہنچ کر اس کا سر گود میں رکھ گیا۔
“مومل ویك اپ!! کیا ہوا ہے اسے چھوٹی ماما۔”
وه اس کا چہرہ تهپتهپاتا بے چینی سے پوچھنے لگا۔
“پتا نہیں میری بچی کو کیا ہو گیا باسم۔”
فریحہ آفریدی روتی جا رہی تھیں۔
باسم نے جلدی سے اسے بازوؤں میں بھرا اور باہر کی طرف بھاگا۔ ہسپتال پہنچتے ہی اسے ایمرجنسی میں داخل کر لیا گیا تھا۔
وه چاروں اس وقت ہسپتال کی کوریڈور میں بیٹھے اس کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے تھے
ارسم کمرے کے باہر یہاں سے وہاں ٹہلتا بے چینی سے اپنی پیشانی مسلتا بار بار اس کمرے میں دیکھ رہا تھا جہاں مومل موجود تھی۔
کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر کمرے سے باہر نکلا تو باسم تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھا۔
“ڈاکٹر!!! مومل کیسی ہے اب کیا ہوا اسے اچانک بیہوش کیوں ہو گئی وه ٹھیک تو ہے نا!!”
وه بے چینی سے ایک ساتھ اتنے سوال کر گیا تو اس کی پریشانی دیکھتا ڈاکٹر اس کے کندھے پر رکھ گیا۔
“ریلیكس جینٹل مین!!! آپ لوگ انھیں وقت پر ہسپتال لے آئے اس لئے زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں ہوا۔ انہوں نے کسی بات کا بہت زیادہ سٹریس لیا ہے جس کی وجہ سے ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوتے ہوتے بچا ہے۔دو گھنٹے تک انہیں ڈسچارج کر دیا جاۓ گا بس آپ کوشش کریں یہ سٹریس نہ لیں اور خوش رہیں۔”
انہیں تفصیل سے آگاہ کرتا ڈاکٹر وہاں سے چلا گیا جب کہ وہ سب یہ سوچ کر پریشان تھے کہ آخر ایسی کون سی پریشانی تھی مومل کو۔
دو گھنٹے بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا تو وه اسے گھر لے آئے۔مومل نے بہت اسرار پر بھی نہیں بتایا تھا کہ اسے کیا پریشانی ہے۔ وه سب کو یہی یقین دلا رہی تھی کہ وه بلکل ٹھیک ہے بس ایک دم سر چکرا گیا اور وه بیہوش ہو کر گر گئی۔
ان چند دنوں میں یہ بات گھر بھر میں پھیل چکی تھی کہ باسم کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کے لئے ڈٹ گیا ہے۔ لڑکی پاکستانی تھی پر اسٹڈیز کے لئے ابروڈ گئی ہوئی تھی۔
باسم کے ماں باپ شدید خفا تھے پر یہ اپنی بات سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹ رہا تھا۔
وه بے دلی سے کچن کی طرف جا رہی تھی تا کہ اپنے لئے چائے بنا سکے۔ اس کا سر شدید درد کر رہا تھا۔ وه لاؤنج کے پاس سے گزر کر کچن کی طرف جا رہی تھی جب بڑی ماما کی الفاظ اس کے کان میں پڑتے اس کے قدم زنجیر کر گئے۔
“باسم کل کی فلائٹ سے جا رہا ہے اس منحوس کے پاس۔ میں کیا کروں فریحہ میرا دل بند ہو رہا ہے۔ میں نے باسم کے پاپا کو بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ وه نہیں مان رہا تو آپ ہی مان جائیں اور اس کی خواہش پوری کر دیں۔ میں نہیں رہ سکتی اپنے بیٹے کے بغیر۔ پر نہ تو بیٹا سن رہا ہے میری نہ ہی شوہر۔”
وه روتی ہوئی فریحہ آفریدی سے بات کر رہی تھیں۔
مومل کو لگا وه سانس نہیں لے سکے گی۔ کب اس کی محبت اس قدر شدت اختیار کر گی اسے علم ہی نہ ہو سکا۔آنکھوں سے نمکین پانی بہنے لگا۔ اس نے گیلی سانس اندر کھینچی اور کچن میں جانے کا ارادہ ترک کرتی باسم کے کمرے کی طرف چل دی۔ وه اب مزید تاخیر نہیں کر سکتی تھی۔ اس سے پہلے کے سب کچھ ریت کی مانند اس کے ہاتھوں سے پھسل جاتا اسے اپنے لئے، اپنی محبت کے لئے اسٹینڈ لینا تھا۔
باسم کے کمرے کا دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔ وه جا کر دروازے میں کھڑی ہو گئی۔
باسم جو پیکنگ کرنے میں مصروف تھا اس کی نظر مومل پر پڑی تو وه مسکرا کر اسے اندر انے کا اشارہ کرنے لگا پر وه وہیں کھڑی رہی۔
“آپ آج جا رہے ہیں کیا؟”
وو نازک سی دوشیزہ گھبرائی سی کمرے کے دروازے میں کھڑی اداسی سے محو سوال تھی۔
“ہاں جا رہا ہوں۔”
وہ الماری سے کپڑے نکال کر بیڈ پر پڑے سوٹ کیس میں رکھ رہا تھا۔
“اندر آ جاؤ سویٹی وہاں کیوں کھڑی ہو۔”
وہ شرٹ سوٹ کیس میں رکھتا اس کی طرف متوجہ ہوا۔وہ دھیرے سے چلتی اس کے اشارے پر بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔
“آپ واقعی کسی کو پسند کرتے ہیں کیا؟”
انداز جھجھک لئے ہوئے تھا۔
“یس! پسند نہیں محبت کرتا ہوں اور نہ صرف محبت کرتا ہوں بلکہ شادی بھی کرنے والا ہوں۔ میں چاہتا تھا کہ سب میری خوشی میں شریک ہوں پر میرے گھر والوں نے میری پسند کو دیکھے بغیر ہی ٹھکرا دیا۔ میں بہت محبت کرتا ہوں روزینہ سے۔ گھر والوں سے میرا خون کا رشتہ ہے جو کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا پر اگر میں پیچھے ہٹ گیا تو روزینہ مجھ سے بہت دور ہو جاۓ گی جو میرے لئے بالکل بھی قابل قبول نہیں۔”
وہ اس کے مقابل بیٹھا اس کے ہاتھ تھامے نهايت نرمی سے بات کر رہا تھا۔
وہ اس کی چھوٹی سی گڑیا تھی جس کو ہمیشہ بچوں کی طرح ٹریٹ کرتا تھا وہ جانتا تھا وہ اس سے بہت اٹیچ ہے اور اس کے دور جانے سے پریشان ہے پر وہ اس پگلی کے دل کا بدلتا حال کہاں جانتا تھا۔
“میں بھی تو آپ سے بہت مم۔۔۔محبت کرتی ہوں۔ میں کیسے آپ کے بغیر رہوں گی۔”
وہ آج جی کڑا کر کے بول گئی تھی۔
“ہاں میں جانتا ہوں میری سویٹی مجھ سے پیار کرتی ہے پر مجھے ابھی جانا ہے۔ دعا کرو جلدی سے سب ٹھیک ہو جاۓ اور ہم سب ساتھ رہیں۔”
وہ اس کی بات کو معمول کی طرح ہی لے رہا تھا۔
“آ۔۔۔آپ پلیز ۔۔۔۔آپ پلیز روزینہ سے شش۔۔۔شادی نہ کریں پلیز۔۔۔میں آپ کو روزینہ سے بھی زیادہ چاہتی ہوں۔ مجھ سے زیادہ کوئی آپ سے پیار نہیں کر سکتا۔ پلیز آپ مجھ سے شادی کر لیں پلیز!۔”
وه اس کا ہاتھ اپنے سرد پڑتے کانپتے ہاتھوں میں تھام کر گڑگڑانے لگی جب کہ اس کی بات سنتا باسم جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑا کر بیڈ سے دور کھڑا ہوتا آنکھوں میں بے یقینی لئے اپنی چھوٹی سی محض سترہ سالہ سویٹی کو دیکھ رہا تھا۔ بے یقینی تھی کہ ختم ہونے کو ہی نہ آ رہی تھی۔
“تم ہوش میں تو ہو یہ کیا بکواس کر رہی ہو ہاں؟ جانتی بھی ہو کہ کس کے سامنے کیا بکواس کر رہی ہو۔ چھوٹی بہن سمجھتا ہوں تمہیں اور تم! ابھی کے ابھی دفع ہو جاؤ یہاں سے نفرت ہو رہی ہے مجھے تمہاری اس معصوم شکل کے پیچھے چھپے کالے چہرے سے۔”
وہ تیش میں اپنا غم و غصے کی شدت سے پھٹتا ہوا سر پکڑ کر اس پر چیخا۔
“آپ ایسے بول کر میرے دل میں موجود اپنے لئے محبت ختم نہیں کر سکتے۔”
وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ بے بسی سے بولی۔
“اگر میں عورت پر ہاتھ اٹھانا مردانگی کی توہین نہ سمجھتا تو اللّه کی قسم تمہارا چہرہ ابھی تھپڑوں سے لال کر دیتا۔ آج کے بعد اپنی یہ دوگلی صورت نہ دکھانا مجھے۔ نکل جاؤ میرے کمرے سے۔”
شدت سے چلاتا وه اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے سے نکال گیا۔ جب کہ وہ سن ہوتے دماغ کے ساتھ اپنے پیچھے دھاڑ کے ساتھ بند ہوتے دروازے کی آواز سننے کے بعد اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخوں کا گلا گھونٹتی مردہ قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
اس کے جانے کی بعد باسم سر پکڑ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ یہ کیا ہو گیا تھا؟؟؟ ایسا کیوں ہوا تھا۔
“یہ بلکل ٹھیک نہیں ہوا بلکل بھی نہیں۔”
وه بڑبڑا کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گیا۔
°°°°°°°
آج اس کی فلائٹ تھی۔ وه جا رہا تھا۔ اپنوں کو خفا کر کے اپنوں سے بہت دور اور ایسے میں وه جھلی ڈھیٹ بنی پھر سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔
“آپ سمجھتے کیوں نہیں بہت محبت کرتی ہوں میں آپ سے۔”
وه بے بسی سے چلائی۔
“تم مانتی کیوں نہیں بہت نفرت کرتا ہوں میں تم سے۔”
سرد لہجے میں ایک دفعہ پھر سے نفرت کا اظہار کیا گیا تھا۔
“میں آپ کی بے جا نفرت کو لازوال محبت میں بدل دوں گی بس ایک موقع تو دے کر دیکھیں پلیز!”
بے بس لہجہ التجائیہ ہوا تھا۔
“خوش فہمی ہے تمہاری!”
استہزاہیہ لہجے میں جواب آیا تھا۔
“یقین ہے میرا!”
لہجے کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں بھی یقین واضح تھا۔
“ہنہہ یقین! “
مقابل کے ہونٹوں پر بھر پور طنزیہ مسکراہٹ در آئی تھی۔ ایک دم وہ کرسی سے اٹھا۔ کوٹ کا بٹن بند کیا ایک نظر بائیں ہاتھ کی مضبوط کلا ئی میں میں قیمتی گھڑی پر ڈالی اور دادائیں ہاتھ سے ماتھے پر بکھرے بھورے بال سنوارے ۔ پھر قدم بڑھاتا عين اس کے سامنے آ کھڑا ہوا جو ضبط سے سرخ ہوتی نم آنکھیں لئے کھڑی تھی۔
“تم دعوہ کر رہی ہو کہ مجھ سے محبت کرتی ہو تو کیسے ثابت کر سکتی ہو اپنے اس دعوے کو؟ اگر ثابت کر سکتی ہو تو تمھارے پاس صرف اور صرف دو منٹ ہیں اس کام کے لئے۔”
وہ دوبارہ گھڑی پر نظر ڈالتا مصروف انداز میں گویا ہوا۔
“میں آپ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر سکتی ہوں۔ آپ کے لئے اگر کوئی قربانی دینا چاہوں تو اس کے لئے سب سے کم درجہ اپنی جان دینا ہیں۔ آپ کے بغیر تو ویسے بھی مر جاؤں گی! میں سچ کہہ رہی ہوں مر جاؤں گی میں۔”
اب کہ بے بسی کی انتہا کو پہنچتے آنسو آنکھوں کی سرحد پار کرتے گالوں پر بکھر گئے تھے۔
“تو پھر مر جاؤ۔”
وہ سفاكی سے کہتا اپنا رخ موڑے تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
اس کی بات سنتے وہ پل بھر کے لئے ساکت ہوئی پر اگلے ہی پل اس کے نازک ہونٹ دلکش مگر اداس مسکراہٹ میں پھیل گئے۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی سائیڈ ٹیبل پر پڑی فروٹ باسكٹ تک گئی اور اس میں پڑی تیز دھاری چھری اٹھا کر اپنی كلائی پر رکھ لی۔
“اگر میرا محبوب اس طرح خوش ہے تو میری ہر سانس بھی اس کی خوشی کے لئے قربان۔”
وہ آنکھیں بند کرتی چھری کا دباؤ ہاتھ پر بڑھا گئی۔ ایک دم سے کلائی سے نکلتی سرخ خون کی دھار فرش پر بچھے سفید قالين پر گرنے لگی۔ وہ ساکت آنکھوں سے تیزی سے بہتے خون پر نظریں جمائے کھڑی تھی۔ خون بہتے جسم میں نقاہت ہونے لگی تو وه لڑکھرا کر اوندهے منہ نیچے گر گئی۔ آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہونے کو تھیں۔
وہ جو موبائل لینے کمرے میں واپس آیا تھا سامنے نظر آتا منظر دیکھ کر اپنی جگہ پتھرا چکا تھا۔ آنکھوں دیکھا منظر بے یقین سا تھا۔ ہوش آتے ہی وہ دوڑتا ہوا اس کی طرف لپكا اور اس کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔
“ہے ویک اپ! یہ ۔۔۔یہ کیا کر دیا تم نے پاگل لڑکی۔”
وہ ضبط کھوتا چیخا تھا۔
“کک۔۔۔کہا تھا نن ۔۔نا کہ ۔۔۔کہ مر جاؤں گی آ۔۔آپ کی خاطر! اب تو یقین ک ک ۔۔۔۔کر لیں گے نا کہ مم ۔۔۔۔محبت کرتی ہوں بہت آپ سے۔ میں ۔۔۔میں اقرار کرتی ہوں کک ۔۔۔کہ آپ میری زندگی میں آ۔۔۔آنے والے پہلے مرد ہیں اور مجھے آپ سے ۔۔۔مجھے آپ سے بے پناہ مم ۔۔۔۔محبت ہے!”
محبت کا آخری اظہار کرتی وہ تھوڑا سا اپر اٹھی اور دوسرا ہاتھ اس کی گردن میں ڈال کر اس کا سر اپنی طرف جھکا گئی۔ اس کے ہونٹوں کو ہلکا سا چھوتے وہ پر سکون ہوتی پیچھے ہٹی جب اس کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ وہ ساکت سا اس کے سرد پڑتے بے جان وجود کو باہوں میں لئے بیٹھا تھا۔
اس نے کہا تھا وہ مر جاۓ گی اور واقعی وہ اس کی محبت میں مر گئی تھی
