Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

ایک گہری چپ تھی جو ارمش کے ہونٹوں پر ڈیڑا ڈال چکی تھی۔ آفریدی ولا کا ایک ایک فرد اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکا تھا اور ایک وه تھی کہ ان کی باتوں کے جواب میں خاموشی سے سر ہلا دیتی بس۔
ارسم آفریدی واقعی جگرے والا مرد تھا جو اس ٹوٹی بکھری لڑکی کو کسی آبگینے کی طرح سینچ سینچ کر رکھ رہا تھا۔ اپنی بے تحاشہ محبت اس پر لٹا رہا تھا۔ اپنی عزت کی چادر میں اسے چھپا کر رکھ رہا تھا پر ایک وه تھی جو سارے زمانے کے ساتھ ساتھ اس سے بھی خفا محسوس ہوتی تھی پر کوئی کہاں جانتا تھا کہ وه خود سے ہی خفا تھی۔
اب بھی وه سفید سادہ سے جوڑے میں سوگوار سی بیٹھی لا یعنی سوچوں میں قید تھی جب ارسم آفریدی دھیرے سے اس کے پہلو میں آ کر نیم دراز ہو گیا۔
“سوفٹی!!!!!”
اس کی پیار بھری پکار پر بھی وه متوجہ نہ ہوئی تو ارسم اسے کہنی سے پکڑ کر پیچھے کو اپنی جانب كهينچ گیا۔
“آہ!!!!!!”
اس کے کھینچنے پر ارمش ایک دم بوکھلا گئی اور کٹی ہوئی ڈال کی مانند اس کے سینے پر جا گری۔ ارسم اس کی کمر کے گرد اپنا بازو حائل کرتا اسے خود کے اور بھی نزدیک کر گیا۔
وه پهيلی آنکھوں اور کھلے منہ سے اس کی کاروائی کو سمجھنے کی کوشش میں تھی۔
اس کے نیم وا گلابی لب ارسم آفریدی کو کسی شدّت بھری گستاخی پر اکسا رہے رہے اور آج اتنے ماہ گزر جانے کے بعد پہلی دفعہ وہ اپنے بے قرار دل کی پکار سنتا اسے پیچھے گردن سے پکڑ کر خود پر جھکا گیا۔
ارمش پھٹی پھٹی نظروں سے یہ سب ملاحظہ کر رہی تھی۔ اسے یقین ہی نہ آ رہا تھا کہ ایسا ارسم آفریدی نے کیا ہے۔ اتنے مہینے گزر جانے کے بعد بھی اس نے ایسی گستاخی کبھی نہ کی تھی پھر آج اس کے جذبات اتنے منہ زور کیوں ہو گئے تھے۔
اپنی من مرضی کرتا وه پیچھے ہٹا اور کڑوٹ بدل کے ارمش کو نرمی سے بیڈ پر لٹا کر خود اس کی دائیں بائیں ہاتھ رکھتا اس کے اوپر جھک گیا اور گہری نظروں سے اس کی سرخ رنگت اور پھولی ہوئی سا۔ سانسیں نظر بند کرنے لگا۔
“ارمش!!!!!!”
اس کی گھمبیر آواز میں کی گئی سرگوشی ارمش کا دل دھڑکانے لگی۔ وه پہلی مرتبہ اسے اس کے نام سے پکار رہا تھا اور ارمش کو آج پہلی دفعہ اپنا نام اس قدر دلکش لگ رہا تھا۔اس کی پکار پر وه دھیرے سے لرزتی پلکوں کی جھالڑ اٹھا کر اس کو گہری آنکھوں میں جھانکنے لگی پر لمحہ بھر ہی ایسا کر سکی پھر واپس اس کی پلکیں گلابی عارضوں پر جھک گئیں۔
“قرآن پاک میں اللّه پاک فرماتا ہے کہ پاک عورتوں کے لئے پاک مرد اور بد عورتوں کے لئے بد مرد!!! جانتی ہیں؟؟؟”
اس کی سوال پر وه دھیرے سے سر ہلا گئی۔
ارسم پیچھے ہٹتا کہنی کے بل اس کے پہلو میں دراز ہو کر دوسرے ہاتھ میں اس کا پسینے سے نم ہاتھ تھام گیا۔
“اپ کو میں کیسا مرد لگتا ہوں؟؟؟”۔
اب کہ ارمش اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
“پاک مرد!!!!”
اس کے ہونٹوں سے بے ساختہ یہ الفاظ پھسل کر باہر آئے تھے۔
“پھر میرے حصّے میں کسی عورت آنی چاہئے؟”
وه اس کا ہاتھ ہولے سے اپنے ہاتھ میں دبا کر اسے گرم کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
“پپ۔۔۔پاک عورت!!!”
جواب دینے کے ساتھ ہی اپنے اس خسارے پر ارمش کا دل كرلايا۔ اسے شکوہ ہونے لگا۔ وه پاک کیوں نہیں تھی؟ اس قدر محبت کرنے والی جان لٹانے والا پاک مرد اسے اس حالت میں کیوں نہیں مل سکتا تھا کہ وه بھی پاک ہوتی۔ اس کا کیا قصور تھا جو وه ناپاک کر دی گئی۔
“میرے نکاح میں کون عورت ہے؟؟؟”
ارمش کا سانس بند ہونے لگا۔
“مم۔۔میں!!!”۔
اس کی یک لفظی جواب پر وه جھک کر اس کی پیشانی کو اپنے لمس سے معطر کر گیا۔
“جب اللّه نے خود یہ وعدہ کیا ہے کہ جیسا مرد ہو اسے ویسی ہی عورت ملتی ہے تو مجھے پاک جانتے ہوئے آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ آپ ناپاک ہیں۔ اللّه اپ نے کسی بندے کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں کرتا۔ وه سب سے بہتر منصف ہے۔ آپ ایک پاک عورت ہیں۔ شبنم کے پہلے قطرے کی طرح پاک۔ خود کو ناپاک تصور کر کی خود کو گنہگار مت کریں۔”
اب کی بار ارمش ضبط کھوتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
پھر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا ہسبنڈ ہماری عزت کیوں خراب کی گئی ہمیں کیوں نوچا گیا ہمارا کیا قصور تھا۔”
ارسم اسے سینے سے لگا کر نرمی سے اس کی پیٹھ تهپتهپانے لگا۔
“قصور آپ کا نہیں میری جان۔ اللّه پاک اپنے بندوں کو دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔ وہ آپ کو لے کر آزما رہا ہے۔ آپ کو آزمائش پر پورا اتر کر صبر کا انعام حاصل کرنا ہے نا شکری کر کے اللّه کو ناراض نہیں کرنا۔ سمجھ رہی ہیں نا۔”
اس کے الفاظ ارمش کے جلتے ہوئے زخموں پر ٹھنڈی میٹھی پهوار کی طرح اثر انداز ہو رہے تھے۔وه پرسکون ہوتی اس کی سینے پر سر رکھے پڑی رہی۔
“اب کیا سوچا آپ نے پھر؟”
اس کے سوال پر وه سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی۔
” ہم اب ناشکری نہیں کریں گی بلکہ اللّه کا شکر ادا کریں گے اور صبر کریں گے۔اللّه ہم سے خوش ہو کر ہمیں انعام دے گا پھر۔”
اس کی معصومیت بھری تفصیل پر وه مسکرا کر پھر سے اس کا ماتھا چوم گیا۔
“شاباش میری جان!!! پر اللّه کو خوش کرنے کا ایک اور طریقہ بھی ہیں!!”
اس کی نرم آواز آخر میں سرگوشی میں تبدیل ہوئی تو ارمش نظر اٹھا کر سوال کرنے لگی۔
“وه کیا؟؟؟”
وه جاننے کو بے تاب تھی۔
“ہسبنڈ کو خوش کریں اللّه پاک خود ہی خوش ہو جاۓ گا۔”
اس کی سرگوشی پر ارمش کی آنکھوں میں استتعجاب در آیا۔
“ہسبنڈ آپ ہم سے خوش نہیں ہے کیا؟”
وه ایک دم روہانسی ہوئی تو ارسم بوکھلا اٹھا۔
“نن۔۔نہیں میری جان ایسا کب بولا میں نے۔ پر ہسبنڈ کو زیادہ خوش کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے جس سے وه مزید خوش ہوتا ہے۔”
وه اس کی عقل کے مطابق اس کے دماغ میں بات ڈالنے لگا جسے سن کر وه مزید الجھ گئی۔
“مثلاً؟؟؟”
اس کی الجھن دور کرنے کی خاطر وه لب دباتا اس کے اپر جھک گیا۔
“اس کے قریب ترین آ کے ۔ اسے پیار کر کے۔ اس کی سانسیں خود میں الجھا کے۔ اپنے تن سے اس کا تن مہکا کے۔ “
اس کی گھمبیر سرگوشیاں ارمش کی جان لینے لگیں۔
وه اپنی بھیگی ہتھیلیوں کو اس کی آنکھوں پر جما گئی تو ارسم قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
“کرو گی میری خواہش پوری؟”۔
وه اس کے کان کے قریب جھکا تو اس کے لب ارمش کے کان اور گردن کو چھونے لگے۔ اس کا دل باہر آنے کو بیتاب ہو گیا.
*بولیں؟؟”
اس کے اسرار پر وه گھبراتی شرماتی اس کی گردن میں بازو ڈال کر اس کے سینے میں چھپی تو اس کی رضامندی جانتا ارسم آفریدی اسے خود میں بھینچ گیا۔
°°°°°°°°
مومک گھریلو حلیے میں موجود تھی۔ سادی کالی شلوار قمیض پہنے بالوں کا جوڑا بنائے وه مناہل کے گندے کپڑے اکٹھے کر رہی تھی تا کہ لانڈری میں بھیج سکے۔ کپڑے اکٹھے کر کے ٹوکری میں ڈالنے کے بعد وه کمرے سے نکلنے لگی جب اندر داخل ہوتا باسم اس کا راستہ روک گیا۔
“پیچھے ہٹیں مجھے باہر جانا ہے۔”
مومل کے کہنے پر باسم اور پھیل کر کھڑا ہو گیا۔اس کی حرکت پر وه لب بھینچ تی اپنا غصّہ قابو کرنے لگی۔
“راستہ دیں۔”
اب کے ضبط سے بولی۔
“تمہارا ہر راستہ مجھ تک ہی آتا ہے۔”
وه آنکھوں میں طنز سجا ۓ اس خوش فہم انسان کو دیکھنے لگی۔
“ہنہہ !!!!”۔
مومل ہنکار بھر کر رہ گئی۔
باسم نے اس کے ہاتھ سے ٹوکری پکڑ کر نیچے رکھی اور خود اسے کندھوں سے تھام کر کمرے کے اندر لے جا کر اندر سے دروازہ بند کر دیا۔
“ایسا کب تک چلے گا؟”
وه اس کے سپاٹ چہرے کو دیکھتا سوال کرنے لگا۔
“کیسا؟”
ہنوز سپاٹ انداز۔
“بس کر دو مومل۔ کب تک نفرت نفرت کھیلو گی۔ اتنے ماہ گزر چکے ہیں ہماری شادی کو پر تمہارا رويہ ہے کہ سہی ہو ہی نہیں رہا۔ “
وه تھک چکا تھا اب اس روٹین سے۔
“میری اتنی توجہ بھی تم پر اثر نہیں کر رہی؟؟؟”
وه مستفسر ہوا۔
“مجھے نظر اندازی کے بعد دی گئی توجہ سے نفرت ہے۔”
وه اپنے کندھے اس کی گرفت سے چھڑوانے کے جتن کرنے لگی۔
“میری دی ہوئی خوشیاں تمہارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں؟؟”
ایک اور سوال۔
“مجھے دکھ کے بعد دی گئی خوشی سے نفرت ہے۔”
اس کے انداز میں بلکل بھی لچک نہیں تھی۔
“میں تمہیں۔۔۔میں تمہیں پیار بھی تو دے رہا ہوں۔”
اس کا التجائیہ لہجہ مومل کو ڈگمگانے لگا پر وه سٹل رہی۔
“مجھے تکلیف اور دهتکار کے بعد دی گئی محبت سے نفرت ہے۔”
باسم اس کے ایسے لہجے پر بے یقین سا تھا۔
“وه وقت کا تقاضہ تھا مومل۔ ہم مل کے سب سہی کر سکتے ہیں۔میں تمہیں سب کچھ دوں گا۔مان، محبت ، یقین ،عزت، اپنا ساتھ!!!! سب کچھ!!! پر اب سب بھول جاؤ پلیز۔”
وه بے بس اور ملتجی ہوا۔
“مجھے سب کچھ چھین کر واپس منہ پر مارنے والے سے نفرت ہے کیوں کہ میں کوئی بھی بات بھلا نہیں پاتی۔ نفرت ہے مجھے سمجھے آپ!!!!!”
وه اس کی آنکھوں میں دیکھ رہ پھنکاری اور اس کا ساکت وجود دیکھتی اسے پیچھے دھکیل کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
باسم نے اسے نہیں روکا۔ وه اس حالت میں رہا ہی نہیں تھا کہ اسے روک پاتا۔
“شاید میں نے اپنی سویٹی کو کھو دیا۔”
الفاظ پھڑپھڑاتے ہوئے اس کے منہ سے ادا ہوئے اور پھر اس کے بعد گہری چپ!!!!!
°°°°°
وو دونوں وجود اس وقت ساحل کنارے بیٹھے ایک دوسرے کی خاموشی سن رہے تھے۔ ان کا معمول بن گیا تھا ہر شام یہاں چلے آنا اور پھر کچھ وقت وہیں بیٹھے رہنا۔
دونوں ہی محبت کے مارے ہوئے تھے اور دونوں کی محبت یک طرفہ!!!!
ایک کی لاحاصل ٹھہری تھی پر کیا پتا دوسرے کو مل جاتی۔ پر کون جانے نصیب کے کھیل۔
“دریہ!!!!!”
زین کی پکار پر دریہ نے گردن ترچھی کر کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ وه اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ دم سادھے ، بنا پلکیں جهپكے !!!!
دریہ کو بھی اب عادت ہو گئی تھی ان نظروں کی۔ وه محبت نگر کی باسی تھی کس طرح انجان رہ سکتی تھی کسی کی محبت بھری نظروں سے۔
“کیا کہنا چاہ رہے آپ؟؟؟”
اس کی آواز پر زین نے سر جھٹک کر خود کو ہوش دلایا۔
“ایک بات پوچھوں؟؟”
دریہ نے محض سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔
“اب تک ارسم آفریدی سے محبت کرتی ہو؟”
دریہ کے بقول جان چکا تھا اس کی رام کتھا۔ ہاں وه اب رازدار تھا اس کا۔ واحد رازدار!!!!
اس کے سوال پر وه اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
“کیا سننا چاہتے ہیں؟”
اس کی بات زین مسکرا دیا۔
“وہی جو سچ ہے!!!”
دریہ سر ہلا گئی پھر اس نے ہولے ہولے بولنا شروع کیا تو زین کے جسم کا ہر عضو کان بن گیا۔
*جس دن ارسم کی شادی تھی میں نے اس دن ہی خود سے وعدہ کر لیا تھا کہ اب خود سے ان کو یاد کرنے کی کوشش نہیں کروں گی۔ وه کسی اور کی امانت ہیں اب۔حلال تو مجھ پر پہلے بھی نہیں تھے پر اب بلکل حرام ہو چکے تھے۔
کسی دوسرے انسان کی چیز پر میں نے آج تک نظر نہیں رکھی یہاں تو پھر پورا انسان ہے۔ ہاں یہ نہیں کہ محبت نہیں رہی۔ محبت اب بھی ہے پر اس محبت کو دل کے نہاں خانوں میں چھپا چکی ہوں۔ اب تو عرصہ ہوا دیکھے اور جیسے عکس بھی دھندھلانے لگا ہے۔”
زین ياسیت سے اس کا تكان زدہ دلکش چہرہ دیکھ رہا تھا۔
“کتنا مشکل ہوتا ہے نا اپنی محبت کے منہ سے اس کی محبت کا ذکر سننا۔”
“ہاں شاید!!!!”
دریہ محض سر ہلا گئی۔ بے خبر تو نہ تھی اس کے سوال میں چھپے مطلب سے پر بے بس تھی۔ سخت بے بس!!!!!
“دریہ!!!!”
اس کی پکار پر وه پھر سے اس کی جانب دیکھنے لگی۔
“آپ اداس مت رہا کریں۔ میں آپ کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔ بہت زیادہ خوش۔ میں نے آج تک آپ کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کیا آپ ایک دوست کے لئے اتنا سا کام کر سکتی ہیں؟”
زین کی بات کے جواب میں وه آنکھیں موند گئی۔ وه اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے آنکھیں کھولی اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ زین بھی اس کی تقلید میں کھڑا ہو گیا۔
“ہاں میں کر سکتی ہوں۔ میں نہیں جانتی میری یہ زندگی کتنی ہیں۔ میری کتنی سانسیں باقی ہیں پر زین!!! میں نے اپنی زندگی کے بہت سے قیمتی سال اداسی اور ياسیت میں گزارے ہیں۔ اب تک میں زندگی گزار رہی تھی پر اب میں زندگی جینا چاہتی ہوں ۔ میں اداس اور غمزدہ رہ رہ کر تھک چکی ہوں۔ میں اب خوش رہنا چاہتی ہوں جینا چاہتی ہوں۔”
دریہ کی آنکھوں سے موتی پهسل کر نیچے ریت پر گرنے لگے۔ یہ شاید اس کے اندر کا غبار تھا جو آنسوؤں کے ذریعے باہر نکل رہا تھا۔ اس کی باتوں پر زین کی آنکھیں چمک اٹھی۔
اسے یقین تھا وه اس اداس چاند کو زندگی کی طرف واپس لے آتا ایک دن ضرور اور اسے اس دن کا شدّت سے انتظار تھا۔
“تو پھر کہاں سے شروعات کی جاۓ؟؟؟”
دریہ نے اپنے سامنے کھڑے اس خوبرو جوان کو دیکھا جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پرشوق نگاہیں اس پر جمائے کھڑا تھا۔
“رات ہونے والے ہے ابھی مجھے گھر جانا ہے۔ ٹیکسٹ کر کے بتا دوں گی آپ کو۔ اب چلیں؟؟”
وه کہتی واپسی جانے کے لئے مڑ گئی تو وه بھی سر ہلاتا اس کے ہم قدم ہو گیا۔