Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

past

آفریدی ولا میں اس وقت رونق عروج پر تھی۔ دونوں فیملیز اس وقت نیچے والے پورشن میں موجود تھیں۔
بڑوں کے کمرے نیچے تھے جب کہ مومل باسم اور ارسم کے کمرے اوپر تھے۔پر اس وقت شام کی چاۓ پر سب نیچے اکٹھے ہوئے تھے۔
جون کے مہینے میں کافی گرمی پڑتی تھی پر لاؤنج میں چل رہے دونوں اے سی وہاں کے ماحول کو ایک دم ٹھنڈا کر چکے تھے۔
کریم آفریدی اور ارسل آفریدی ایک صوفے پر براجمان چاۓ پینے کے ساتھ ساتھ بزنس کے معاملات ڈسکس کر رہے تھے جب کہ ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی سامنے والے صوفے پر بیٹھی ہاتھ میں ایک میگزین پکڑے کپڑوں کے نئے ڈیزائنز پر تبصرے کر رہی تھیں۔
تھوڑی ہی دور نیچے قالین پر ارسم آفریدی اور مومل آفریدی آمنے سامنے بیٹھے لڈو کھیل رہے تھے جب کہ مومل کے پیچھے موجود سنگل صوفے پر باسم آفریدی نیم دراز موبائل میں محو تھا۔
“ارسم بھائی آپ کتنے بڑے چیٹر ہیں!!!!”
مومل کی روہانسی آواز باسم کے کانوں سے ٹکرائی تو وه موبائل سے نظریں ہٹا کر اس کی جانب دیکھنے لگا جو رونے والی صورت لئے ارسم کو دیکھ رہی تھی۔
“چیٹنگ میں نہیں بلکہ تم کر رہی ہو چڑیل۔”
اس کے چڑیل کہنے پر وه مڑ کر شکایتی نظریں باسم پر ٹکا گئی۔اس کے یوں دیکھنے پر باسم اٹھا اور ان دونوں کے درمیان میں بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا؟؟؟”
وه جانتا تھا کہ دونوں لڈو کھیلتے ہوئے ہمیشہ بچوں کی طرح لڑتے تھے پر پھر بھی وه نا سمجھی کا تاثر چہرے پر سجاۓ دونوں سے سوال کر گیا۔
“باسم بھائی یہ ارسم بھائی ہمیشہ کی طرح آج بھی چیٹنگ کر رہے ہیں اور اوپر سے مان بھی نہیں رہے۔”
اس کی روہانسی شکل پر باسم کو بے ساختہ پیار آنے لگا۔
“ارسم کب سدھرو گے تم ہاں!!! کیوں تنگ کر رہے ہو میری سویٹی کو؟؟”
وه رعب دار آواز میں بولا تو ارسم منہ بسورنے لگا جب کہ مومل ناک چڑھا گئی۔
“بھائی میں نے کوئی چیٹنگ نہیں کی۔ یہ چڑیل چیٹنگ کرتی ہے اور الزام مجھ پر لگا دیتی ہے ۔”
اس کے چڑیل کہنے پر مومل پھر سے باسم کی طرف دیکھنے لگی تو وه ارسم کو گدی سے پکڑ گیا۔
“آہ!!!!چھوڑیں بھائی۔بچے کی جان لیں گے کیا۔”
وه اپنی گردن باسم کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگا۔
“چڑیل کیوں بولا مومل کو تم نے؟؟”
وه اسے اپنی گرفت سے آزاد کیے بغیر پوچھنے لگا۔
“تو اور کیا کہوں۔ اتنے لمبے ناخن اور اتنے زیادہ لمبے بال چڑیلوں کے ہی تو ہوتے ہیں۔ مم۔۔میرا مطلب سوری بھائی معاف کر دیں بھائی اب نہیں بولوں گا اس چڑیل کو آئی مین مومل کو چڑیل۔”
وه چڑیل کہنے کی جسٹیفیکیشن دیتا اس کی گرفت اپنی گردن پر مضبوط پڑتی محسوس کر کے گڑبڑا کر معافی مانگ گیا۔
اس کی پتلی ہوتی حالت پر مومل کھلکھلا کر ہنسنے لگی تو اسے یوں ہنستے دیکھ کر باسم کے چہرے پر موجود مصنوعی غصّے کے تاثر ایک دم نرمی میں بدل گئے۔
“باسم بھائی ان کو کہیں کہ میرے ساتھ ایک اور گیم لگائیں یہی ان کی پنشمنٹ ہے!!!”
مومل کے اترا کر کہنے پر ارسم بیچارگی سے باری باری دونوں کو دیکھنے لگا۔
“تم نے سن لیا نا ارسم کہ تمہیں کیا کرنا ہے۔”
باسم نے تیوری چڑھا کر اس سے پوچھا تو وه دونوں ہاتھ اس کے آگے باندھ گیا۔
“بھائی پلیز آج ابھی نہیں میرا میچ ہے مجھے وہاں جانا ہے۔”
اس کی بات پر مومل کا منہ لٹک گیا۔
“کوئی بات نہیں آپ جائیں ہم بعد میں کھیل لیں گے۔”
وه اپنی اداسی چھپا کر ارسم سے کھلے دل سے بولی۔ وه جانتی تھی ارسم کے لئے کرکٹ کی کیا اہمیت تھی۔ وه مسکرا کر بولی تھی پر اس کی آنکھوں میں موجود اداسی باسم کی تیز نظروں سے چھپی نہ رہ سکی۔
“تم جاؤ ارسم اب میں اور مومل کھیلتے ہیں۔ کیوں سویٹی؟؟”
وه ارسم سے کہتا آخر میں مومل سے مستفسر ہوا تو اس کی آنکھوں کے بجھتے دیے ایک دم ٹمٹما اٹھے اور خوشی سے چیخ اٹھی۔
“یےےےے !!!”
وه خوش ہو کر چیختی پر جوش سی اس کے بازو سے لپٹ گئی تو باسم کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
باسم مسکرا کر اسے دیکھنے لگا جو اب اس سے الگ ہوتی خوشی خوشی لڈو سیٹ کر رہی تھی جب کہ ارسم وہاں سے اٹھتا گھر سے باہر نکل گیا۔
°°°°°°°
“باسم!!!”
وه جو ليپ ٹوپ سامنے رکھے کوئی ضروری کام کر رہا تھا فریحہ آفریدی کی پکار پر انھیں دیکھنے لگا۔
“جی چھوٹی ماما!!!”
وه انہیں جواب دیتا ساتھ ہی تیزی سے ليپ ٹوپ پر انگلیاں چلا کر اپنا کام بھی کرنے لگا۔
“بیٹا مومل کا فیئر ویل ہے آج اسکول میں۔ وه ریڈی ہو رہی ہے تم اسے چھوڑ آؤ گے کیا؟ مومل کے پاپا تو آفس ہیں اور ارسم بھی باہر نکل گیا ہے۔ جوان لڑکی ہے ایسے سج سنور کر اکیلی جاۓ یہ مناسب نہیں لگ رہا مجھے۔”
اسے مصروف دیکھ کر وه پوری بات تفصیل سے باسم کے گوش گزار کر گئیں۔
وه کلائی میں بندهی گھڑی پر نظر ڈال کر وقت دیکھنے لگا۔
“ڈونٹ بی فارمل چھوٹی ماما۔ آپ اسے کہیں کہ ریڈی ہو کر بتا دے میں چھوڑ آتا ہوں .”
کے کہنے پر وه سر ہلاتی وہاں سے چلی گئیں۔
اسے کام کرتے مزید پندره منٹ گزر گئے جب وه کمرے میں داخل ہوئی۔
“کیسی لگ رہی ہوں میں؟؟؟؟”
وه جو پوری طرح کام میں غرق تھا مومل کی آواز پر چونک اٹھا اور سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔ اس پر پڑی سرسري نظر جلد پلٹ کر واپس نہ آ سکی تھی۔
وه یک ٹک اس کی طرف دیکھ رہا تھا جو پیروں تک جاتی مونگیہ رنگ کی فراک پر گولڈن كلر کا دوپٹہ کمر کے پیچھے سے گزار کر بازوؤں میں ڈال کر کھڑی تھی۔
کمر تک جاتے سیاہ بال اس وقت خوب صورت سے سٹائل میں قید تھے۔ بالوں کی آوارہ لٹیں گالوں کو چوم رہی تھیں۔ لمبی پلکوں کو مسکارے سے مزید بوجھل کیے آنکھوں میں کاجل ڈالے، گلابی گالوں کو مصنوعی رنگ سے مزید گلابی کیے اور بھرے بھرے ہونٹوں کو گلابی رنگ سے رنگے وه کم سن حسینہ بلا کی حسین اور دل ربا لگ رہی تھی۔
“دل ربا!!!!!”
باسم کے منہ سے بے ساختگی میں یہ دو لفظ ادا ہوئے تھے جو سامنے موجود لڑکی کو لرزا گئے تھے۔
“کیا سچ میں اچھی لگ رہی ہوں؟”
اس کی سوال پر وه ٹھٹھک کر ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا پھر اپنی بے ساختگی یاد آتے ہی دو انگلیوں سے پیشانی سہلانے لگا۔
“ہاں۔۔ہاں بہت اچھی لگ رہی ہے میری سویٹی۔ ہمیشہ کی طرح !!! پر۔۔۔۔۔”
اس کی بات ادھوری چھوڑنے پر وه نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“پر کیا؟؟؟”
وه بے چینی سے استفسار کرنے لگی۔
“پر یہ کہ۔۔۔میری سویٹی میک اپ کے بغیر بھی سب سے اچھی لگتی ہے۔ بلکہ میک اپ کے بغیر زیادہ اچھی لگتی ہے۔”
باسم کی کہنے پر وه منہ بسور گئی۔
“آج ہی تو تیار ہوئی ہوں۔ میں نہیں اتار رہی میک اپ۔”
وه ناک چڑھا کر کہتی اسے ہنسنے پر مجبور کر گئی۔
“اچھا نا۔۔۔اپنا آئی فون تو نکالیں اور میری اچھی اچھی پكس لیں۔”
مومل بے تكلفی سے اس کی جیب سے موبائل نکال کر اس کے ہاتھ میں تهما گئی اور خود جا کر کمرے میں لگی باسم کی دیوار گیر بڑی سے تصویر کے پاس کھڑی ہو گئی۔
“ارے یہاں کیوں کھڑی ہو گئی۔ اس میں تو میں آ رہا ہوں۔”
وه کیمرے کا اینگل سیٹ کرتا تصویر کھینچنے سے پہلے بولا۔
“ہاں نا۔ اسی لئے مجھے آپ کے اس بڑے سے کمرے کا یہی حصّہ سب سے زیادہ پسند ہے۔ اب جلدی سے بنائیں نا لیٹ ہو رہی ہوں۔”
وه حسب عادت ناک چڑھا کر کہتی پوز دینے لگی۔
“جھلی!!!”
وه سر جھٹک کر اس کی تصاویر بنانے لگا جو کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آنی تھی اب۔ جانتا تھا کہ پچاس تصویریں بنوا کر بھی احسان کر کے کہے گی کہ” ہیں تو کم پر چلیں اتنے میں ہی گزارا کر لیتی ہوں”
“اچھا اب آئیں ہم دونوں سیلفیز لیتے ہیں۔”
اس کی بات پر وه بے بسی سے گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
ڈھیر سی تصویریں بنانے کے بعد آخر کار وه اس پر احسان عظیم کرتی اسے نیچے انے کا پیغام دے گئی۔
وه اسے لئے اسکول پہنچا تو وه پر جوش سی تیزی سے باہر نکلنے لگی جب وه اس کی کلائی تھام کر ایک جھٹکے سے اسے روک گیا۔
“کیا ہوا”
مومک سوالیہ نظروں سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
“کچھ نہیں بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ بہت دھیان رکھنا اپنا اور کولڈ ڈرنک کم پینا جانتی ہو نا اس سے گلا خراب ہو جاتا ہے تمہارا۔ فری ہونے سے دس منٹ پہلے میڈم کے موبائل سے کال کر دینا تا کہ لینے وقت پر پہنچ سکوں ۔ اب جاؤ شاباش۔”
باسم اسے تاکید کرتا اس کا گال نرمی سے تهپتهپا گیا تو وه مسکرا کر ہاں میں سر ہلاتی گاڑی سے نکل گئی۔
اس کی دوستیں اسے گیٹ کے پاس ہی مل گئیں جو اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ اس کے اندر جانے کے بعد باسم گاڑی وہاں سے بهگا لے گیا۔
“مومل!!!”
وه جو نینا کے ساتھ باتیں کر رہی تھی ماہم کے پکارنے پر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“جی!”
وه پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئی۔
“تمہیں اسکول چھوڑنے جو ہینڈسم سا لڑکا آیا تھا وه کون تھا؟؟”
ماہم کے سوال پر مومل مسکرا دی۔
“وه باسم بھائی ہیں میرے ببڑے پاپا کے بڑے بیٹے۔”
باسم کا ذکر کرتے وقت اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک اتر آئی تھی۔
“بھائی؟ لائک سیریسلی؟؟ وه اتنا ہینڈسم انسان تمہارا بھائی ہے؟؟ پر جس طرح وه تمہیں دیکھ رہا تھا مجھے تو لگا کہ وه تم سے محبت کرتا ہے!!!”
ماہم کی بات پر وه پل کے لئے چونکی پھر مسکرا دی۔
“ہاں نا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں وه بچپن سے ہی۔”
اس کے لہجے میں باسم کے لئے محبت اور عزت دیکھ ماہم کچھ سوچنے لگی۔
“پاگل!! میں اس محبت کی بات نہیں کر رہی بلکہ اس محبت کی بات کر رہی ہوں جو ایک جوان لڑکے کو ایک جوان لڑکی سے ہوتی ہے اور اس محبت کے بعد وه لوگ شادی کرتے ہیں۔”
ماہم کی بات پر مومل کی آنکھیں شاک کی وجہ سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
“پپ۔۔۔پر ایسا ۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے ماہم!!! وه بھائی ہیں میرے میں ان کو بھائی کہتی ہوں۔”
اس کی آواز اور الفاظ دونوں میں ہی بے یقینی تھی۔
“کیوں نہیں ہو سکتا۔ تم دونوں سگے بہن بھائی تھوڑی ہو۔ اور ویسے بھی میں نے بہت غور سے دیکھا اور محسوس کیا تھا کہ باسم بھائی تم سے بہن بھائی والی نہیں بلکہ دوسری محبت کرتے ہیں۔”
ماہم کی بات کے جواب میں وه چپ رہی۔ بے یقینی تھی کہ ختم ہونے میں ہی نہ آ رہی تھی۔
کیا سچ میں باسم بھائی اس سے محبت کرتے تھے؟؟؟
باقی کا سارا فنکشن مومل انجوئے نہ کر سکی۔ اس کے ذہن میں بس ماہم کی باتیں ہی گونج رہی تھیں۔
واپسی کے سفر پر وه بلکل خاموش تھی جسے باسم نے خاصہ محسوس کیا۔
“مومل! !!”
“سویٹی آر یو اوکے؟؟”
جب اپنے نام کی پکار پر بھی اس نے کوئی رسپانس نہ دیا تو وه اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگا۔
“جج۔۔۔جی کیا ہوا؟؟”
وه چور نظروں سے اپنے کندھے پر موجود باسم کے ہاتھ کو دیکھتی بد حواسی میں بولی۔
“یہی تو میں پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ میری سویٹی کو کیا ہوا ہے۔اتنی چپ چپ اور گم سم کیوں ہے؟؟؟ کوئی بات ہوئی ہے اسکول میں کیا؟؟؟”
باسم کے سوال پر وه تیزی سے نفی میں سر ہلا گئی جیسے بات پکڑی جانے کا خدشہ لاحق ہو۔
“پھر ایسے بیہیو کیوں کر رہی ہو؟”
وه سچ میں اس کے یوں گم سم ہونے پر پریشان ہو چکا تھا۔
“نہیں ایکچولی بہت تهك گئی ہوں نا اس لئے۔”
وه اس کو مطمئن کرنے کی خاطر مسکرا کر وضاحت دے گئی کہ جانتی تھی وه ایسے کبھی پر سکون نہ ہوتا۔ اس کا یہ انداز دیکھ کر مومل کا دل دھڑک اٹھا۔ دماغ میں پھر سے ماہم کی باتیں گونجنے لگی تھیں۔
معصوم کچا ذہن ذلالت کی راہ پر گامزن ہونا شروع ہو چکا تھا جس کا نتیجہ آگے جا کر بہت برا نکلنے والا تھا جس سے وه نادان انجان تھی۔