Mohe Piya Bedardi By Meem Ain Readelle50154 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
رات نوریہ کافی تھک چکی تھی اسی لئے گھر آتے ہی سو گئی۔ اب اس کی آنکھ کھلی تو اکیلی ہی بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس نے سامنے دیوار پر ٹنگی گھڑی میں وقت دیکھتا تو نو بج چکے تھے۔
بالوں کو جوڑے میں لپيٹ کر وه بیڈ سے اتری اور پاس پڑے سلیپرز پہن کر باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے ایک نظر اپنے بند موبائل پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔لاؤنج میں آتے ہی اسے کچن سے کھٹر پٹر کی آوازیں آنے لگی تو وه متجسس ہوتی کچن کی طرف بڑھ گئی۔
سامنے نظر اتے منظر کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیل گئیں جہاں راجہ کھڑا کھڑا ناشتہ بنا رہا تھا۔ کالی شرٹ کے بازو فولڈ کے گھٹنوں سے پھٹی ہوئی کالی ہی پینٹ پہنے اور بالوں کی پونی بناے وه بہت تیزی سے ہاتھ میں موجود باؤل میں موجود انڈہ پهينٹ رہا تھا۔ انڈہ اچھی طرح پهينٹ کر اس نے چلہے پر موجود فراۓ پین میں ڈالا اور دوسرے چلہے پر موجود ساس پین اتار کر اس میں پكتی چاۓ شلف پر پڑے بڑے بڑی کپوں میں انڈیلنے لگا۔
انڈہ جب سہی طرح پک چکا تو اس نے شیشے کی پلیٹ اٹھائی اور چمٹے سے انڈہ اتار کر نفاست سے اس پلیٹ میں رکھا۔ یہ سارا کام ختم کرنے کے بعد اس نے نوریہ کو اٹھانے کی غرض سے باہر کی طرف رخ کیا تو اسے دروازے میں ایستاده پایا۔
اسے دیکھتے ہی راجہ کے سنجیدہ چہرے پر جیسے سو واٹ کا بلب جل اٹھا۔
“اٹھ گئی میری رانی۔”
وه کہنے کے ساتھ آگے بڑھتا اس کا ماتھا چوم گیا۔
“جج۔۔۔جی۔”
وه سرخ پڑتی سر جھکا گئی۔
“میں ناشتہ بنا چکا ہوں۔ باہر تو سردی ہے اندر بیڈ پر ہی جا کر بیٹھو میں ناشتہ لگاتا ہوں۔”
وه اس کا سرخ پڑتا گال تهپتهپا کر بولتا پیچھے ہٹ کر برتن اٹھانے لگا۔
“میں ہیلپ کروں پلیز؟”۔
اس کے پوچھنے پر وه مڑ کر اسے دیکھنے لگا جو کنفیوز سی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی۔
“نہیں میری رانی! آج کے دن اس غلام کو موقع دو اپنی خدمات کا۔ اس کے بعد یہ گھر تمہیں ہی تو سنبھالنا ہے۔”
اس کی مسکرا کر کہنے پر وه سر ہلاتی وہاں سے نکل آئی۔
“ایک تو اس آدمی کے ڈائلاگز! بندہ فضول میں ہی خفت زدہ ہو کر رہ جاتا۔”
وه بڑبڑا کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ناشتہ بے حد مزے کا بنا تھا۔ راجہ نے اتنے پرفیکٹ پراٹھے بناۓ تھے کہ نوریہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں وه پراٹھے دیکھ کر۔ وه تو اتنے گول اور پرفیکٹ پراٹھے بنانے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتی تھی۔ اس نے کہاں کیے تھے کبھی ایسے کام۔
ناشتہ کرنے کے بعد راجہ اسے لئے چھت پر چلا آیا . ٹھنڈے موسم میں ایسی چمکیلی دھوپ کا نکل آنا بھی نعمت ہی ہوتا ہے۔
وه دونوں چھت پر موجود چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نوریہ بہت اشتياق سے اس پاس موجود گھروں کی چھتوں پر نظر ڈال رہی تھی۔ کچھ لوگ ان ہی کی طرح چھت پر بیٹھے دھوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے تو کچھ عورتیں کپڑے دھو کر سوکھنے کے لئے دھوپ میں ڈال رہی تھیں۔ نوریہ کے لئے یہ ماحول نیا مگر دلچسپ تھا۔
اپنے ہاتھ کو مضبوط گرفت میں پاتے اس نے گردن موڑ کر راجہ کی طرف دیکھا تو اس کی محويت دیکھ کر وه نظریں جھکا گئی۔ وه اس قدر گہری نظروں سے دیکھتا تھا کہ اس کی نظریں نوریہ کو خود میں گڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔
“میری طرف دیکھو میری رانی!”
اس کی گھمبیر آواز پر وه جھجھکتی ہوئی دھیرے سے گالوں پر سجدہ ریز پلکیں اٹھا گئی پر اس کی بولتی ہوئی نگاہوں کی تاب نہ لاتے پھر سے لرزتی پلکیں گرا گئی۔اپنی شہادت کی انگلی اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کا چہرہ اٹھاتا وه اس کی لرزتی ہوئی پلکوں پر پھونک مار گیا۔ وه اپنی سنہری آنکھیں زور سے مینچ گئی۔
وه دھیرے سے اس کے بلکل نزدیک كهسك آیا۔ وه جھجھکتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی تو وه اس کی کمر کے گرد اپنا بازو لپيٹتا اسے اپنی طرف كهينچ گیا ۔ وه دونوں میں فاصلہ رکھنے کے لئے تیزی سے اپنا نازک ہاتھ اس کے سینے پر جما گئی۔
“سب دیکھ رہے ہوں گے۔”
اس کا اشارہ آس پاس موجود گھروں کی چھتوں کی طرف تھا۔
“راجہ کسی کے باپ سے بھی نہیں ڈرتا۔ تم کیوں اتنا ڈرتی ہو۔”
ایک بازو نے اس کی نازک کمر کو جکڑ رکھا تھا جب کہ دسرے ہاتھ کی انگلی سے اس کو خم دار پلکوں کو چھوتا وه اس کے ہوش اڑانے لگا .
“نن۔۔نہیں تو۔ میں ۔۔۔۔میں کیوں ڈرنے لگی۔”
وه خود کو مضبوط ثابت کرنے لگی پر لرزتی ہوئی آواز نے ساتھ نہ دیا۔
“مالٹے کھاؤ گی؟”
ایک دم اس کی بات بدلنے پر وه آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“رکو میں بس یوں گیا اور یوں آیا۔”
اس کے گال پر چٹکی بھرتا وه نیچے چلا گیا جب کہ اس کی حرکت پر وه پھر سے سرخ پڑ گئی۔
پانچ منٹ بعد وه واپس آیا تو وه دونوں پاؤں اوپر کر کے ایزی ہو کر بیٹھی تھی۔ اس نے ہاتھ میں موجود tokri درمیان میں رکھی اور خود بھی پاؤں اوپر کر کے اس کے مقابل بیٹھ گیا۔
ٹوکری میں مالٹوں کے اوپر پڑی پلیٹ اٹھا کر سائیڈ پر رکھی۔
“چلو ریس لگاتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کون زیادہ مالٹے چھیلتا ہے۔”
وه دونوں بازو اوپر چڑھا کر بولا تو وه بھی پر جوش ہوتی تیزی سے سر ہلا گئی۔
“تھری۔۔۔ٹو ۔۔۔ون ۔۔۔۔گو”
نوریہ کے کہتے ہی دونوں نے تیزی سے مالٹے چھیلنے شروع کر دیے۔
نوریہ بہت نفاست سے ایک ایک مالٹا چھیل رہی تھی جب کہ راجہ تیزی سے ہاتھ چلاتا آگے بڑھ رہا رہا۔
“میں جیت گیا۔”
سارے مالٹے چھیلے گئے تو وه دونوں ہاتھ اٹھا کر چہکا۔
نوریہ جس کا پورا دھیان اپنے ہاتھ میں پکڑے مالٹے کو چھیلنے کی طرف تھا اس کی فتح کی اعلان پر اس نے راجہ اور اس کے چھیلے گئے مالٹوں پر گیا تو اس کا منہ صدمے سے کھل گیا۔
“یہ کیا کیا آپ نے۔ مالٹوں کو چھیلنے کی بات ہوئی تھی انھیں زخمی کرنے کی نہیں۔ آپ نے تو بے چارں کو شدید زخمی کر دیا۔”
اس کی آواز میں بھی صدمہ تھا۔
“میری جان بات تو مالٹے چھیلنے کی ہوئی تھی نہ کہ نفاست کی۔ تمہیں کس نے بولا تھا کہ اس قدر محبت سے چھیلو۔”
اس کی چڑاتی ہوئی آواز پر وه منہ بسور کر رہ گئی۔
“آپ کتنے بڑے چیٹر ہیں راجہ!”
وه اسے شرم دلاتی بولی۔
“اف یار! تمہارے منہ سے اپنا نام سن کر کس قدر اچھا لگتا ہے مجھے اگر تم جان جاؤ تو با خدا منہ چھپاتی پھرو گی۔تمہارے یہ نرم و نازک سے لب جب میرے نام میں ڈھلتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خوش نما پھول جھڑ رہے ہوں۔ یا جیسے خوش رنگ تتلیاں ارد گرد اڑتی پھر رہی ہوں۔جی چاہتا ہے کہ تمہارے یاقوتی لبوں سے اپنا نام چن کر خود میں جزب کر لوں۔”
اس کی گھمبیرتا لئے خوب صورت آواز میں بولے جانے والے الفاظ نوریہ کی جان لبوں پر لے آئے تھ وه لال گلابی ہوتی چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔
“میری جان!”
وه اس کے ہاتھ پیچھے کرتا اس کے ماتھے پر بوسہ دے گیا۔ اس سے پہلے کہ وه مزید کوئی پیش قدمی کرتا نیچے داخلی دروازہ بری طرح دھڑدھڑایا گیا۔
راجہ بد مزہ ہوتا پیچھے ہٹا۔
“میں دیکھتا ہوں کون ہے۔”
اس کے بتانے پر وه یوں ہی سر جھکا کر اثبات میں سر ہلا گئی تو وه نیچے کی طرف بڑھ گیا۔ نیچے آ کر راجہ نے دروازہ کھولا تو سامنے موجود شخص کو دیکھتے اس کے تاثرات ایک دم تن گئے۔
°°°°
مومل اس وقت آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے بال سنوار رہی تھی۔ سامنے نظر آتے اپنے عکس پر نظریں جمائے وه کہیں اور ہی گم تھی۔
“کاش روزینہ ان کی زندگیوں میں کبھی آئی ہی نہ ہوتی۔”
یہ وه بات تھی جو کئی سالوں سے مومل کے دماغ میں آتی رہتی تھی۔ اسے روزینہ سے نفرت تھی جس نے باسم کو اس سے چھین لیا۔ پر یہ نفرت بھی اس دن اپنی موت آپ ہی مر گئی جس دن اسے احساس ہوا کہ باسم آفریدی تو کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔ وہی بس اس کے پیچھے پاگل تھی۔
بچپن میں لڑائی کے بعد ایک دوسرے سے کہا کرتے تھے کہ لڑائی لڑائی معاف کرو اللّه کا گھر صاف کرو ۔ تب اس بات کا اتنا شعور نہیں تھا پر اب پتا چلا کہ یہاں اللّه کے گھر سے مراد بیت المقدس نہیں بلکہ انسان کا دل ہے۔اللّه کے گھر کو حسد اور بغض کے اندھیرے میں ڈبو کر ہم اپنی زندگی میں اجالے کی امید کس بنا پر رکھ سکتے ہیں۔اللّه کا قرب چاہیے تو اپنے دل کو ایک دوسرے کے لئے حسد ، بغض اور نفرت سے پاک کرنا پڑے گا۔
یہ سب سوچ کر مومل کے دل میں روزینہ کی لئے کسی قسم کا کوئی جذبہ نہ بچا تھا۔
کچھ سوچ کر وه اٹھی بیڈ پر پڑا دوپٹہ شانوں پر ڈالا اور لاؤنج کی طرف بڑھ گئی۔
باسم ،ارسم ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ مناہل اور ارمش سو رہی تھیں۔
وه جا کر ایشا آفریدی اور فریحہ آفریدی کے درمیان بیٹھ گئی۔اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد باسم اپنے موبائل میں گم ہو چکا تھا۔
“ماما مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔”
وه ایشا آفریدی کے کندھے پر سر کر بیٹھی تو وه اس کا ماتھا چوم گئیں۔
“ہاں بولو! ضرور کوئی پھلجھڑی ہی چھوڑنی ہو گی۔”
ان کی بات پر وه شکایتی نظروں سے سے ایشا آفریدی کی طرف دیکھنے لگی۔
“دیکھ رہی ہیں نا اپنی دیورانی کی طرف۔ مجھے تو لگتا ہے میں ان کی سگی اولاد ہی نہیں۔ سہی سہی بتائیں کہیں آپ نے مجھے پچپن میں ان کو گود میں تو نہیں ڈال دیا تھا۔”
اس کی بات پر جہاں فریحہ آفریدی کی تیوری چڑھی وہیں ایشا آفریدی اور ارسم آفریدی ہنس دیے۔
“نہیں چڑیل تم ہماری بہن بلکل بھی نہیں بلکہ ہم تمہیں کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر لاۓ تھے . ہم تو دو بھائی تھے پر چھوٹی امی کی کوئی اولاد نہیں تھی اس لئے تمہیں انہوں نے رکھ لیا .”
ارسم کے چڑانے پر وه رونی صورت بنا گئی۔
“ارسم بھائی آپ تو بس مجھ سے جلتے ہی رہئے گا۔آپ سے زیادہ پیار مجھے جو ملتا ہے۔ اسی لئے جلتے ہیں آپ۔”
اس کی کڑھنے پر وه قہقہہ لگا دیا۔
“میری جان تم چھوڑو اسے یہ بتاؤ تم کیا بات کرنے والی تھی اپنی ماما سے۔”
ایشا آفریدی کے پوچھنے پر وه سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
“بڑی ماما مجھے یہ کہنا تھا کہ ۔۔۔۔۔میں شادی کے لئے تیار ہوں۔ آپ فاران کی فیملی کو ہاں کر دیں۔مجھے پسند ہیں وه۔”
اس کی بات پر وہاں بیٹھے سب افراد کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا کہ سب ہی جانتے تھے اس کی دلچسپی اس رشتے میں بلکل سفر ہے۔
“پر تم تو کہہ رہی تھی کہ انکار کر دیں ہم۔”
فریحہ افریدی بالآخر بول پڑیں۔
“جی لیکن اب میں ہی کہہ رہی ہوں کہ مجھے یہ رشتہ منظور ہے آپ ہاں کر دیں۔
وه اپنا جواب سناتی وہاں سے اٹھ گئی۔
“پر مجھے یہ رشتہ بلکل بھی منظور نہیں۔”
باسم افریدی کی سنجیدہ آواز نے اس کے بڑھتے قدم روکے۔
“آپ کو شادی کرنی ہے کیا؟ نہیں نا۔ تو براۓ مہربانی اپنا فرمان اپنے پاس سنبھال کر رکھیں۔”
اس کی بات پر وه لب بھینچ کر رہ گیا پر دل ہی دل میں اس کی ہمت کو داد دینا نہ بھولا جو باسم آفریدی کو اس طرف جواب دے رہی تھی۔
اپنی بات کہہ کر وه ایک پل وہاں نہ رکی اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں آ کر بیڈ پر گرتی وه بے طرح رو دی۔ کتنا مشکل ہوتا ہے اپنی محبت سے دستبردار ہونا یہ اسے آج پتا چلا تھا۔
محبت سے دستبرداری تپتے ہوئے کوئلوں پر ننگے پیر چلنے کے برابر تکلیف دہ ہوتی ہے یا پھر اس سے بھی زیادہ روح فرسا۔
دروازے کی ہینڈل گھومنے کی آواز پر وه تیزی سے اٹھ بیٹھی اور اپنے آنسو صاف کرنے لگی۔
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا تو وه دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں پھنسا کر کھڑا سرد نظروں سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔
اس کی آنکھوں کے سرد پن کو محسوس کرتے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پیدا ہو گئی۔
اس نے نا محسوس انداز میں اپنے گلے میں پڑا دوپٹہ درست کیا۔
“کیا لینے آئے ہیں آپ یہاں میرے کمرے میں؟”
اس کے پوچھنے پر وه آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھنے لگا۔ اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وه بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
اس سے چار قدم کے فاصلے پر رک کر وه اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا جو اس کے سامنے تن کر کھڑی تھی۔ اسے اس کے انداز پر سچ میں حیرت ہو رہی تھی پر وه کہاں جانتا تھا کہ عورت جب ٹوٹ کر دوبارہ واپس جڑتی ہے تو اس میں چٹان سے بھی زیادہ مضبوطی آن سماتی ہے۔
“بڑی دلير ہو گئی ہو!”
پتا نہیں طنز تھا یا تعریف!
“آپ ہی تو چاہتے تھے کہ بہادر بنوں میں۔ تو بن گئی بس!”
وه دونوں ہاتھ سینے پر باندھے جیسے مقابلے کے لئے کھڑی تھی۔
“بہت مانتی ہو مجھے کیا؟”
اس کے پوچھنے پر وه استہزائیہ ہنس دی۔
“نہیں! اپنے فائدے کی باتوں پر عمل کرتی ہوں بس۔”
وه کہتی ایک قدم مزید پیچھے ہو گئی۔
*مطلب خود غرض ہو اب تک۔ ہمیشہ کی طرح۔”
“جی بالکل۔ آپ کی ہی کزن ہوں۔”
اس کی بات اور انداز پر وه مٹھیاں بھینچ کر خود پر ضبط کرنے لگا.
“رشتے کے لئے اقرار کی وجہ بتاؤ۔ کل تک تم اس رشتے سے انکاری تھی اور آج اس لڑکے سے ایک ہی ملاقات کے بعد ایسا کیا جادو ہو گیا کہ تمہارا انکار ،اقرار میں بدل گیا۔”
اس کی بات پر توہین کے احساس سے مومل کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
“مائنڈ یور اون بزنس پلیز! میں نے کسی کو اتنا حق نہیں دیا کہ میرے پرسنلز میں انٹر فیئر کرے۔”
دل کر رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر رو دے پر اس ستمگر کے سامنے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔
“انٹرسٹنگ! ویری انٹرسٹنگ! چلو پھر دیکھ لیتے ہیں مس مومل کہ کون کس کی پرسنلز میں انٹر فیئر کرتا ہے اور کس حد تک کرتا ہے۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ!”
وه اٹل لہجے میں کہتا دو قدم آگے بڑھ کر اس کے گال کو چھوتے بالوں کی لٹ کو پھونک مار گیا پھر سیٹی کی دھن بجاتا پینٹ کی جیبوں میں دوبارہ ہاتھ اڑسے باہر کی طرف بڑھ گیا جب کہ وه اسے دیکھ کر رہ گئی۔
وه اس بندے کی سوچ کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ نہ جانے کیا چاہتا تھا اب جو ایسی حرکتیں کرتا پھر رہا تھا اب۔
°°°°°°
ارسم کمرے میں واپس آیا تو وه اٹھ کر بیٹھ چکی تھی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر وه ایک دم ڈر کر دروازے کی طرف دیکھنی لگی۔ ارسم نے بغور اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھا تھا۔
“اٹھ گئیں میری جان آپ؟”
وه نرم مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اس کے سامنے آن بیٹھا۔
“جی۔”
وه کہتی انگلیاں مڑوڑنے لگی۔
“کچھ کہنا چاہتی ہیں کیا؟”
اس کے نرمی سے پوچھنے پر اس کی غزالی آنکھوں میں نمی جما ہونے لگی پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ نمی آنسوؤں کی شکل میں گالوں پر پھسلنے لگی۔
اسے یوں روتے دیکھ کر وه تڑپ کر اس کے مزید قریب ہوتا اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام گیا۔
“آپ مجھے پریشان کر رہی ہیں سوفٹی! بتائیں تو سہی کہ کیا پریشانی ہے۔”
“ہسبنڈ! مجھے واش روم جانا ہے۔”
اس کی آواز میں شرمندگی اور بے بسی محسوس کرتا وه نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔
“آپ بس اتنی سی بات کے لئے رو رہی تھیں اور میں اتنا پریشان ہو گیا کہ نا جانے ایسے کون سی بات ہے جس نے میری چھوٹی سی جان کو رلا دیا۔”
وه نفی میں سر ہلا کر کہتا آگے بڑھ کر اسے باہوں میں بھر گیا۔
اسے باتھ روم کے باہر کھڑے ہو کر اس نے پہلے وہیں اپنا جوتا اتارا اور پھر اسے زمین پر کھڑا کر گیا۔ اسے کھڑا کرنے کے بعد وه جھک کر اس کے پاؤں میں اپنے جوتے پہنانے لگا جب کہ وه حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے کہاں مرد کا ایسا روپ پہلے دیکھا تھا۔
“آپ فریش ہو کر آ جائیں میں یہیں آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔”
اس کے لفظ فریش پر وه نا سمجھی سے اس کی طرف دیکھنے لگی پر پھر سر ہلا کر اندر چلی گئی۔
فارغ ہو کر باہر آئی تو وه وہیں دروازے کے باہر کھڑا موبائل میں بزی تھا ۔ اسے دیکھ کر اس نے موبائل جیب میں رکھا اور اسے پھر سے باہوں میں بھر گیا۔
اسے بیڈ پر بٹھا کر اچھے سے بلینکٹ سے کوور کرنے کے بعد جوتا پہن کر خود ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔ بیڈ کی طرف واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ہیئر برش موجود تھا۔
وه آ کر اس کے پیچھے بیٹھتا اس کے الجھے ہوئے بال کھول گیا۔ اس کے بال بہت خوب صورت تھے۔ مومل کے بالوں سے زیادہ خوب صورت بال اس نے آج تک کسی کے نہ دیکھے تھے۔ وه ہمیشہ سوچتا تھا کہ اس کی بیوی کے بال بھی ایسے ہی خوب صورت ہوں۔
ارمش کے بال مومل جتنے لمبے تو نہ تھے پر بہت حسین تھے۔ اس کی بالوں اور آنکھوں کا رنگ سنہری تھا۔ جو اس پر بہت جچتا تھا۔
اس کی الجھے بال کھولنے کے بعد وه نرمی سے اس کے بال سلجھانے لگا۔ اس کے بال سلجھانے کے بعد انھیں ڈھیلی سی چوٹی میں باندھ دیا۔ مومل کے لاڈ اٹھانے کا ہی نتیجہ تھا یہ جو وه بالوں کی چوٹی بنانا سیکھ گیا تھا۔ مومل اکثر سے اپنے بال اس سے بنواتی تھی۔
“یہ آپ نے کیسے کیا؟”
وه آنکھوں میں اشتياق سموۓ پوچھنے لگی۔وه ہمیشہ بالوں کو ڈھیلی سی پونی میں ہی قید کرتی تھی۔ اس کے بالوں کو پہلی دفعہ کسی نے چوٹی میں باندھا تھا اور اسے یہ بہت دلچسپ لگ رہا تھا۔
“ہاتھوں سے کیا میری جان!”
وه اس کی معصومیت پر ہنس دیا۔
“سوفٹی! آپ مجھ پر یقین کرتی ہیں کیا؟”
اس کے پوچھنے پر وه جھٹ سے ہاں میں سر ہلا گئی ۔
“کتنا؟”
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام کر پوچھا۔
“اس دنیا میں سب سے زیادہ!”
اس کے زور دینے پر وه ہلکا سا مسکرا دیا۔
“پکّا نا؟”
اس کے پھر سے پوچھنے پر وه اس کی گرفت اپنے ہاتھوں پر سخت پڑتی محسوس کر کہ دوبارہ سر ہلا گئی۔
“پھر مجھے بتائیں کہ آپ کو اغوا کس نے کروایا تھا؟”
اس نے کسی زيادتی کا نہیں صرف اغوا کا پوچھا تا کہ مزید خوف زدہ نہ ہو پر اس کے پوچھتے ہی اس کا رنگ ایک دم زرد پڑ گیا۔
“مجھے صرف اس کا نام بتائیں۔ وه کون تھا؟”
وه سنجیدہ چہرہ لئے اس کے سامنے بیٹھا اسے پھر سے اس ازیت میں دھکیل گیا۔
°°°°
