Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

قسط نمبر 27
“ارمش کیا ہوا؟ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں؟”
ارسم اس کا ہاتھ دبا کر پوچھنے لگا۔
وہ دونوں ارسم کے دوست ولی کی شادی پر جا رہے تھے۔ ارمش جانا نہیں چاہ رہی تھی پر ارسم کے بار بار زور دینے پر جیسے تیسے راضی ہو ہی گئی۔زنك كلر کا نفیس سا فراک پہنے وو خوبصورت مگر پریشان لگ رہی تھی۔
“نن۔۔۔نہیں تو۔”
ارسم کے پوچھنے پر وه اپنی پرشانی چھپاتی ہلکا سا مسکرا دی تو وه اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ماركی کے اندر داخل ہو گیا جہاں بارات کا فنکشن ایرینج کیا گیا تھا۔
اسے اپنے دوست اور اس کی فیملی سے ملوا کر وه اسے ایک ٹیبل پر بیٹھاتا دوسرے دوستوں کی طرف بڑھ گیا۔
وه کنفیوز سی اس سمت دیکھ رہی تھی جہاں وه کچھ دوستوں کے ساتھ کھڑا ہنسی مذاق میں مصروف تھا۔ اسے دیکھ کر وه مسکرا دی ۔ وه کسی کو بتا ہی نہ سکتی تھی کہ یہ شخص اسے کتنا پیارا اور کتنا عزیز تھا۔
وه ایسے ہی اسے دیکھنے میں گم تھی جب تین خواتین آ کر اس کے پاس کھڑی ہو گئیں۔ ان کی توجہ کا مرکز خود کو محسوس کرتی وه اٹھ کھڑی ہوئی۔
“السلام علیکم!!!”
اس نے پہل کی تو جہاں دو خواتین مسکرا کر جواب دینے لگیں وہیں تیسری نخوت سے اسے دیکھتی محض سی ہلا گئی۔
” ان سے ملو یہ ارسم کی وائف ہیں اور ارمش بیٹا یہ فری ہیں ارسم کے دوست ولید کی مدر اور یہ نازش ہیں علی کی مدر۔”
ولی کی ماں ارمش کا تعارف ان دونوں سے کروا کر اب باری باری ان دونوں کا تعارف ارمش سے کروانے لگیں۔ ولی کی ماں عالیہ اور نازش خوش مزاجی سے بات کر رہی تھیں جب کہ فری بیگم کے تیور عجیب ہی لگے ارمش کو۔
“ارے عالیہ ارسم نے شادی بھی کر لی۔ ارسم کی کلاس لیتی ہوں میں جو اتنی پیاری سی لڑکی کو سب سے چھپا کر رکھا اور شادی کی خبر بھی نہ ہونے دی۔”
نازش بیگم ارمش کا گال چھوتی خوش مزاجی سے بولی تو ارمش جھينپ گئی۔
“ارے نازش کیا تم نہیں جانتی کہ ارسم کی شادی کن حالات میں ہوئی؟ اس بیچاری لڑکی کا گینگ ریپ ہوا تھا اور ارسم کو کہیں سڑک سے کافی خراب حالت میں ملی تھی۔ بیچارے نے ترس کھا کر اس سے شادی کر لی۔”
فری بیگم کی بات پر ارمش کا رنگ ایک دم سپید پڑ گیا۔
باقی دونوں خواتین اس اچانک بات پر ششدر سی کبھی فری کو دیکھتیں تو کبھی سپید پڑتی ارمش کو۔
“کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟”
عالیہ بیگم ناگواری سے بولیں تو فری بیگم طنزیہ ہنس دی۔
“آپ خود پوچھ لیں اس لڑکی سے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں یا۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وه اپنا جملہ پورا کر پاتی ارمش ایک دم تیورا کر منہ کے بل نیچے گری۔
تینوں خواتین ایک دم بوکھلا گئیں۔
دور سے اسے دیکھتا ارسم آفریدی ہاتھ میں پکڑا مشروب سے بھرا کانچ کا نازک گلاس وہیں پهينكتا بھاگتا ہوا ارمش کی طرف لپكا۔
وه گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھتا تیزی سے اس کا رخ پلٹ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ گیا۔
ماتھا ایک جھٹکے سے زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے پھٹ چکا تھا جس سے بہتا خون اس کے سر کے نیچے موجود ارسم آفریدی کے ہاتھ کو سرخ کرتا جا رہا تھا جب کہ ہونٹ کی کنارے سے بہت خون گردن سے نیچے بہتا لباس کو رنگ گیا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر ارسم آفریدی کا كلیجہ منہ کو آ گیا۔ اس کے دل پر جیسے کسی نے پنجے گاڑھ دیے تھے۔
وه ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اسے بازوؤں میں اٹھا کر باہر کی سمت بھاگا تو صورت حال دیکھتا علی بھی اس کے پیچھے لپكا۔
ارسم گاڑی کے پاس پہنچا تو علی نے جلدی سے آگے بڑھ کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور خود ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
ارسم مومل کے گلے میں موجود دوپٹہ پکڑ کر سختی اس کے سر کے زخم پر جما گیا۔
ہوسپٹل پہنچ کر ارسم اسے باہوں میں لئے تیزی سے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھا۔
ڈاکٹر نے اسے باہر رکنے کو بولا تو وه باہر بنچ پر بیٹھتا سر دونوں ہاتھوں میں گرا گیا۔ علی بھی اس کے ساتھ بیٹھتا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینے لگا جس کے جواب میں وه کچھ بول ہی نہ سکا۔
جیب میں پڑا اس کا موبائل بجنے لگا تو ارسم نے دیکھا باسم کی کال تھی۔ وه گہرا سانس بھر کر خود پر قابو پاتا کال اٹھا گیا۔
“ہیلو!!”
“ارسم کہاں ہو تم لوگ ابھی تک واپس نہیں آئے اتنی رات ہو چکی ہے۔”
باسم آفریدی کی فکر پر وه آنکھیں بند کرتا الفاظ ترتیب دینے لگا۔
“بھائی!!!!میں ہوسپٹل میں ہوں۔”
“کیوں خیریت؟؟ تم ٹھیک تو ہو نا؟؟”
“جی بھائی میں ٹھیک ہوں!!!”
“پھر ہوسپٹل کیا کر رہے ہو؟”
“ارمش ٹھیک نہیں ہے بھائی اسے ہوسپٹل لے کر آیا ہوں۔”
“کیا ہوا ارمش کو؟؟؟”
“پتا نہیں بھائی ہم شادی پر ہی تھے میں دوستوں کے ساتھ تھا اچانک ہی ارمش بیہوش ہو کر گر گئیں ۔ ان کے سر پر چوٹ آئی ہے کافی خون نکل رہا تھا بھائی۔”
“پریشان کیوں ہو رہے ہو یار سب ٹھیک ہو جاۓ گا تم مجھے ہوسپٹل کا نام بتاؤ میں آ رہا ہوں۔”
ارسم نے ہوسپٹل کا نام بتا کر فون بند کر دیا اور نظریں ایمرجنسی وارڈ پر جما دیں۔ اچانک اس کے ذہن میں ایک کوندا لپكا تو وه موبائل جیب سے نکال کر تیزی سے ایک نمبر ملانے لگا۔
°°°°°°
“رانی!!! رانی!!! کہاں ہے یار!!!”
نوریہ جو کچن میں کھڑی دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی راجہ کے پکارنے پر سر پر ہاتھ مار کر رہ گئی۔
“یہ جناب جس دن گھر ہوتے ہیں نہ تو خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی مجھے کرنے دیتے ہیں۔ اب بھی ضرور کوئی نہ کوئی نیا بہانہ تیار رکھا ہوگا مجھے بلانے کے لئے۔”
وه بڑبڑاتی ہوئی کچن سے نکل کر کمرے کی طرف چل دی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اندر کی حالت دیکھ کر نوریہ کا سر چکرا گیا۔
“یہ۔۔۔یہ کیا کیا آپ نے۔”
وه ایک ہاتھ سے سر تھامتی بکھرے ہوئے کمرے کو دیکھ کر چلائی جہاں ہر طرف بکھرے کپڑے کسی لنڈہ بازار کا منظر پیش کر رہے تھے۔
“یار رانی مجھے اپنی وه کالی شرٹ نہیں مل رہی تھی جو تم نے مجھے گفٹ کی تھی بس وہی ڈھونڈتے ہوئے یہ تھوڑا بہت سامان بکھر گیا۔”
اس کے جواب پر آنکھیں پهيلا گئی۔
“تھوڑا بہت؟؟؟ یہ تھوڑا تو کہیں سے بھی نہیں البتہ بہت نہیں بہت زیادہ ہے۔”
اس کی بات پر وه ایک شرمنده نظر پورے کمرے پر ڈال گیا۔
“شرٹ ملی؟؟”
اب کہ وه سخت تیور لئے آگے بڑھتی ہوئی بولی تو راجہ خجالت سے سر نفی میں ہلا گیا۔
اس کے جواب پر نوریہ آنکھیں سختی سے بند کرتی اپنے اندر تیزی سے امڈتے غصّے کو ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
راجہ دو قدم آگے بڑھتا اس کا ہاتھ تھام کر احتیاط سے اسے جھٹکا دیتے اپنی طرف كهينچ کر اس کے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں پر رکھ کر اپنے مضبوط بازو اس کی نازک کمر کی گرد لپیٹ گیا۔
“غصّہ کیوں کرتی ہے میری رانی!!!! یہ خادم ہے نا اپنی رانی کی خدمت کے لئے۔ پریشان مت ہو میں سب ٹھیک کر دوں گا۔”
وه محبت سے کہتا اس کی پیشانی پر لب جما گیا۔ اس کا عقیدت بھرا بوسہ نوریہ کا سارا غصّہ اپنے ساتھ بهگا لے گیا۔
“اچھا چھوڑیں اب مجھے کچن میں جانا ہے کھانا بنانے۔”
وه پیچھے ہٹنے لگی تو وه اسے مزید خود سے قریب کر گیا۔
“چھوڑو ہر کام کو اور صرف میرے دل کی آواز سنو!!”
وه اس کی گردن کے پیچھے ہاتھ رکھتا اس کا چہرہ اپنے سینے میں موجود دل کے مقام پر جما گیا۔
“غور سے سنو میرے دل کی آواز۔ میرا بے چین دل تم سے کیا کہنا چاہ رہا ہے۔”
وه اس کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کرنے لگا تو اس کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتی نوریہ تھرا اٹھی۔
“کک۔۔۔کیا کہہ رہا ہے آپ کا ۔۔۔۔دل!!!”
اس کے سوال راجہ اس کے بالوں میں ہاتھ پهنسا کر نرمی سے پیچھے کی جانب کھینچتا اس کا چہرہ اپنے مقابل کر گیا۔اور جھک کر اپنے لب نوریہ کی لبوں کے قریب تر کر گیا یوں کہ اگر وه ذرا سا ہلتی تو اس کے لب راجہ کے لبوں سے جا ملتے۔
“میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں تمہاری سانسیں پی لوں۔”
راجہ کے لب نوریہ کے لبوں کے مقابل سرگوشیاں کرنے لگے تو وه كپكپا اٹھی۔ راجہ ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر اس کے نازک پنكھڑیوں جیسے ہونٹ اپنی گرفت میں لے گیا اور قطرہ قطرہ اس کی سانسیں پینے لگا۔ نوریہ آنکھیں بند کرتی اس کے کندھوں پر جمے اپنے ہاتھ سرکاتی اس کی گردن میں حائل کر گئی۔
اپنی پیاس بھجانے کے بعد راجہ نے اپنے لب دھیرے سے نوریہ کے لبوں سے الگ کیے اور جھک کر اس کی لرزتی ہوئی پلکوں پر پھونک مار گیا۔
“نشہ بنتی جا رہی ہو تم راجہ کا۔”
وه اس کے کان میں محبت بھری سرگوشی کرتا اس کی گردن میں چہرہ چھپا کر اس کے بدن سے اٹھتی خوشبو خود میں اتارنے لگا جب کہ اس کے ہاتھ نوریہ کے بدن میں موجود اپنے وجود کے حصّے پر رقصاں تھے۔ اس کی حرکتیں نوریہ کے جسم پر چیونٹیاں دوڑانے لگے۔
اس کا جسم لرزنے لگا تو راجہ اس کی گردن سے اپنا چہرہ اٹھاتا دھیرے سے اسے خود سے الگ کر گیا اور ایک تفصیلی بھر پور نظر اس کے بھرے بھرے خوب صورت جسم پر ڈال گیا۔ اس کے وجود کا حصّہ اپنے وجود میں سجاۓ وه اسے پہلے سے بھی زیادہ حسین لگتی تھی۔
اس کی گہری نظریں خود پر ٹکی دیکھ کر وه شرم سے لال ہوتی بازوؤں پر بکھری چادر سے تیزی سے اپنا وجود ڈھک گئی تو اس کی حرکت پر وه قہقہہ لگا گیا۔
“میری چیز مجھ سے ہی چھپا رہی ہو۔ یہ تو بہت زيادتی ہے یار۔”
“راجہ بہت بے شرم ہیں آپ!!!”
وه سرخ پڑتی اس کے سینے پر مکے برسانے لگی تو وه پھر سے ہنس دیا۔
“اچھا سنو کھانا مت بناؤ میں ایک کام سے جا رہا ہوں باہر ہی کھا لوں گا اور تمہارے لئے تمہارا فیورٹ پیزا لے آتا ہوں۔ مجھے کام سے جانا ہے تو شاید تھوڑی دیر ہو جاۓ تم پریشان مت ہونا اور سو جانا۔ میرے پاس چابی ہے گھر کی خود ہی دروازہ کھول لوں گا واپسی پر۔ اور ہاں!!!! جانے سے پہلے یہ سب سامان سمیٹ کر ہی جاؤں گا۔”
آخری بات پر نوریہ ہنس دی تو راجہ ایک بار پھر سے اس کی پیشانی چوم کر کام پر لگا گیا۔
تھوڑی دیر بعد جب کام ختم ہو گیا تو وه پیزا نوریہ کو لا دے کر کام پر روانہ ہو گیا۔
پیزا کھانے کے بعد وه کچن سمیٹ کر کمرے میں آ گئی۔ اس کی پریگننسی کا ساتواں مہینہ شروع ہو چکا تھا تو اکثر ہی اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں سویلنگ رہتی تھی۔ اب بھی تھوڑا سا کام کرنے اور کھڑے رہنے کی وجہ سے اس کے پاؤں سوج چکے تھے۔
راجہ ہر رات اس کے پیروں کی تیل سے مالش ضرور کرتا تھا۔ چاہے نوریہ جتنا مرضی منع کرتی پر وه اپنا کام پورا کر کے ہی دم لیتا تھا۔
راجہ کا سوچتے اس کے ہونٹوں پر پیاری سی مسکان بکھر گئی۔ وه آرام کرنے کی نیت سے بیڈ پر سکون سے دراز ہو گئی۔
وه گہری نیند میں تھی جب باہر کا دروازہ زور زور سے بجنے لگا۔ اس نے سستی سے جمائی لیتے آنکھیں مسلی اور سامنے دیوار پر ٹنگی گھڑی میں وقت دیکھا تو شام کے سات بج رہے تھے۔
“اف میں اتنی دیر سوتی رہی!!!”
دروازہ مسلسل بج رہا تھا۔ وه چپل پیروں میں اڑستی باہر دروازہ کھولنے چل دی۔
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی چودہ پندره سالہ لڑکا حواس باختہ سا کھڑا تھا۔
“بھابھی جی جلدی چلیں غضب ہو گیا جی راجہ بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔”
اس لڑکے کے الفاظ بجلی بن کر نوریہ پر گرے تھے۔
“کک۔۔کیا ۔۔۔کیا کہہ رہے ہو تم؟ کس نے کہا تم سے؟؟؟”
وه كانپتی ہوئی آواز میں بولی۔ اسے یقین ہی نہ آ رہا تھا۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں بھابھی جی محلے کے لڑکے انھیں ہسپتال لے کر گئے ہیں۔ اماں نے کہا آپ کو بھی بتا دوں۔ آپ جلدی سے چلیں میرے ساتھ۔”
وه نوریہ کے آنسوؤں سے تر چہرے کو دیکھتا افسوس سے بولا۔
“تم مجھے ساتھ لے جاؤ گے کیا پلیز؟؟؟ میں بس چادر لے کر آتی ہوں۔”
نوریہ آنسو بہاتی تیزی سے کمرے کی طرف گئی اور بیڈ پر پڑی چادر اٹھا کر اپنے گرد اوڑھ کر گھر کی چابی پکڑتی باہر آئی جہاں وه لڑکا کھڑا تھا۔
گھر کو تالا لگانے کے بعد وه روتی ہوئی اس لڑکے کے ساتھ ہسپتال چل دی۔
°°°°°°°
وه سکت بیٹھی اپنے ہاتھوں میں موجود ان کاغذ کے چند ٹکروں کو دیکھ رہی تھی جو اس کی زندگی کا فیصلہ کر چکے تھے۔
اس کی نظریں پورے صفحے سے ہٹ کر صرف دو لفظوں پر تھیں۔
“بلڈ کینسر”
یہ دو الفاظ اس چاند سی لڑکی کی زندگی کا فیصلہ کر چکے تھے۔ پھر وه روتی روتی ایک دم مسکرا کر آسمان کی طرف سر اٹھا گئی۔
“یا اللّه تیری رضا میں میں راضی !!!!”
یہ الفاظ اس کے لبوں سے ادا ہوئے ساتھ ہی آنکھوں سے بہتے آنسو خشک ہو گئے۔ وه واقعی اللّه کی رضا میں راضی تھی۔