No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
آفریدی ولا میں دو فیملیز رہائش پذیر تھیں۔ بڑے بھائی کریم آفریدی ان کی زوجہ ایشاء آفریدی اور دو بیٹے باسم آفریدی اور ارسم آفریدی۔ چھوٹے بھائی ارسل آفریدی ان کی زوجہ فریحہ آفریدی اور ایک بیٹی مومل آفریدی۔ ماں باپ کی ایک ایکسیڈنٹ میں وفات کے بعد دونوں بھائی ہی ایک دوسرے کا خاندان تھے۔ جہاں دونوں بھائیوں کا پیار مثالی تھا وہیں ان کی بیگموں میں اتفاق بھی کمال تھا۔ مومل گھر کی چڑیا تھی۔ ہر ایک فرد کی لاڈلی! پر باسم آفریدی کا مومل کے لئے لاڈ اور پیار سب سے بالا تھا۔ پر اس پیار کو مومل نے کب کسی اور طور پر لینا شروع کر دیا باسم کو علم ہی نہ ہو سکا !
°°°°°°°°°°
وہ ڈھیلے ڈھالے انداز میں صوفے پر نیم دراز ایک ہاتھ میں نیل فائلر پکڑے دوسرے ہاتھ کے نیلز فائل کرنے میں مشغول تھی۔ جامنی ساڑھی کے ساتھ پہنے چھوٹے سے بلاؤز سے پیٹ اور کمر کی کا آدھا حصّہ صحیح واضح ہو رہا تھا۔ کندھوں تک آتے بورھے بال لاپرواہی سے ایک شانے پر دھرے تھے۔ وہ پوری طرح اپنے کام میں مگن تھی جب ملازمہ هانپتی ہوئی وہاں آئی۔
“بیگم صاحبہ غضب ہو گیا۔”
اس کے یوں بولنے پر جہاں آرا نے گھورتے ہوئے نیل فائلر نیچے رکھ کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“اب بول بھی چکو کیا غضب ہو گیا؟”
اس کے یوں تڑخ کر بولنے پر ملازمہ نے اپنے لب تر کیے۔
“بیگم صاحبہ ارمش بی بی سخت بخار میں پھنک رہی ہیں۔ دوائی بھی دی تھی دوپہر میں پر طبعیت سمبھلنے کی بجاۓ مزید بگڑ گئی ہے۔”
اس کی بات سن کر جہاں آرا ایک دم اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔
“اور تم مجھے یہ بات اب بتا رہی ہو؟ اب یہاں کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو جلدی سے چلو اس کے کمرے میں۔”
اسے حکم سناتی وہ خود بھی تیزی سے ارمش کے کمرے کی طرف بڑھی۔
کمرے میں جا کر اس نے ارمش کو دیکھا جو ہوش و حواس سے بیگانہ بستر پر پڑی تھی۔
“تم جلدی سے جاؤ اور ڈرائیور کو بولو کہ گاڑی نکالے ارمش کو ہسپتال لے کر جانا ہے۔ اور صائمہ کو بھی بلا لو وہ ارمش کو گاڑی تک لے جانے میں مدد کرے۔”
اس کا حکم سنتے ہی ملازمہ سر ہلاتی تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔
“مام میشا کو کیا ہوا؟”
زین جو ابھی لاؤنج میں داخل ہوا تھا انہیں دیکھ کر فورا پاس آیا۔
“اس کو بہت تیز بخار ہے ہسپتال لے کر جا رہی ہوں ۔”
اس کی بات سن کر وہ پریشانی سے ارمش کو دیکھتا سر ہلا گیا۔
“تم بھی چلو ساتھ۔”
ان کی آواز سن کر وہ ایک دم چونک کر کچھ سوچنے لگا۔
“نہیں میرے ایک دوست کے بھائی کی ڈیتھ ہو گئی ہے وہاں جانا ہے ابھی مجھے اسلام آباد۔ بس کچھ سامان لینے ہی گھر آیا تھا۔ پیکنگ کر کے نکلتا ہوں بس۔ آپ پلیز مجھے اس کی خیریت سے آگاہ کرتی رہیے گا اور اس کا بہت سا خیال رکھئے گا میرے آنے تک ۔ وہاں پہنچ کر میں کال کروں گا میشا کی خیریت پوچھنے کے لئے۔”
وہ تیزی سے انہیں بتاتا ارمش کے ماتھے پر بوسہ دے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا پیکنگ کرنے کے لئے۔
ہسپتال پہنچتے ہی اسے ایمرجنسی میں لے جایا گیا۔اسے ایک سو چار بخار تھا جو لاپرواہی کی وجہ سے بگڑ گیا تھا۔ڈرپ ختم ہوئی تو وہ جہاں آرا کے اشارے پر کمرے سے باہر نکل آئی جب کہ جہاں آرا ڈاکٹر کی ہدایات سن رہی تھی۔
وہ موبائل پر انگلیاں چلاتا کوری ڈور سے گزر رہا تھا جب اچانک ہی ایک گداز وجود اس سے ٹکرایا۔ وہ مقابل وجود کے گرنے سے قبل ہے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سہارا دے گیا۔جب کہ وہ بھی گرنے کے خوف سے تیزی سے اس کی جیکٹ کا کالر مٹھیوں میں جکڑ گئی۔ دونوں طرف سے ہی یہ غیر ارادی عمل تھا۔ ارسم نے چونک کر اس کے چہرے کو دیکھا جس پر حراس چھایا ہوا تھا۔ رنگت ایک دم مزید پیلی پڑ گئی تھی جب کہ گلابی ہونٹ کپكپانے لگے تھے۔ ارسم کا دل ایک پل کو بہت شدت سے دھڑکا تھا پر وہ جلد ہی خود پر اور اپنے بے قابو ہوتے دل پر قابو پا گیا۔ تھوڑا سنبهلتے ہی وہ تیزی سے اس کا کالر چھوڑ کے پیچھے ہٹ گئی مگر نقاہت کے باعث لڑکھڑا گئی۔ اس کے ایک دم سے پیچھے ہوکر لڑکھڑانے پر وہ اس کی کلائی تھام کر اسے سہارا دے گیا۔
“آر یو اوکے پریٹی گرل؟”
وہ اس چھوٹی سی لڑکی کی اڑی اڑی رنگت دیکھ کر نرمی سے استفسار کرنے لگا۔
وه ہاں میں سے ہلاتی اپنا ہاتھ کھینچ گئی۔ سامنے سے آتی جہاں آرا کو دیکھ کر وہ آنکھوں میں خوف لئے اپنی ماں کی طرف بڑھ گئی جب کہ وہ حیران کھڑا اس چھوٹی سی لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اسے دیکھ کر دوسری لڑکیوں کی طرح نہ ہی چیخی نہ ہی آٹوگراف مانگا نہ ہی سیلفی کی فرمائش۔ یہاں تک کہ ارسم نے اس کے چہرے پر کوئی اکسائیٹمنٹ نہ دیکھی نہ محسوس کی۔ ایسا ممکن نہ تھا کہ وہ اسے جانتی نہ ہو ۔ آخر اتنا بڑا سٹار بن چکا تھا وہ اور جو لوگ کرکٹ کے دیوانے نہیں بھی ہوتے وہ کرکٹرز کو جانتے اور پسند ضرور کرتے ہیں۔ عجیب لڑکی تھی! پر ہاں! ایک پل کو ہی صحیح پر وہ ارسم آفریدی کے دل کو آج پہلی بار دھڑکا ضرور گئی تھی ۔
“شیم آن یو ارسم آفریدی چھوٹی سی بچی تھی وہ!”
خود کو ڈپٹتا وہ سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔
گاڑی میں مکمل خاموشی چھای ہوئی تھی۔ جہاں آرا موبائل پر مصروف تھی جب کہ ارمش آنکھیں موندے کھڑکی سے سر ٹکا کر بیٹھی تھی۔ کھڑکیوں کے شیشوں پر بلائینڈز لگا رکھے تھے۔ اچانک ٹائر پر فائر کیا گیا جس کی وجہ سے وه پھسل گیا۔ ڈرائیور نے ایک دم بریک لگائی۔ گاڑی رکتے ہی دو نقاب پوش تیزی سے دروازہ کھولتے ان پر بندوک تان گئے۔ ایک نقاب پوش ڈرائیور کے سر پر بندوک تان کر کھڑا تھا جب کہ دو پیچھے۔ ایک نقاب پوش نے ہاتھ بڑھا کر ارمش کا بازو پکڑا اور اسے کھینچ کر باہر نکالا۔ یہ سب لمحوں کا کھیل تھا۔ انھیں سمبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ نقاب پوش کے حصار میں جاتے ہی ارمش چیخنے لگی جس میں جہاں آرا کی چیخیں بھی شامل ہو چکی تھیں۔ وو نقاب پوش ارمش کو اپنی گرفت میں لے کر ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ڈرائیور اور جہاں آرا کو بندوک کے دستے سے زخمی کر کے چیختی چلاتی ارمش کو اپنے ساتھ لے گئے۔
°°°°°°°°°
اس دن کی تلخ کلامی کے بعد مومل اور باسم کے درمیان کوئی بات بھی نہ ہوئی تھی۔ ارسم جس وقت گھر ہوتا وہ کمرے سے ہی نہ نکلتی پر مناہل سے اس کی بہت اٹیچمنٹ ہو چکی تھی۔باسم کی غیر موجودگی میں وہ سارا وقت مومل کے پاس ہی ہوتی تھی۔ باسم اپنا بزنس پاکستان ہی شفٹ کر رہا تھا۔ اس کا ارادہ اب پاکستان میں رہنے کا ہی تھا ہمیشہ کے لئے کیوں کہ وہ مزید اپنے ماں باپ سے دور نہیں رہنا چاہتا تھا نہ ہی انھیں اپنی جدائی کا دکھ دینا چاہتا تھا۔ اس لئے آج کل وہ بزنس سیٹ کرنے میں مصروف تھا۔ اس کے گھر سے نکلتے ہی مومل مناہل کو اپنے پاس لے آتی۔
ابھی بھی وہ مناہل کو سلا کر اس کی کپڑے پریس کر رہی تھی جب دریہ وہاں آئی۔ دریہ اس کی بچپن کی دوست تھی اور کالج میں بھی دونوں ساتھ رہیں۔باسم کے علاوہ ایک وہ ہیتو تھی اس کی رازدار!
اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ ایک دم بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی۔
“واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز دری! بےوفا عورت اتنے ہفتوں کے بعد آخر کار آج تمہیں میری یاد آ ہی گئی۔!”
اس کے خفگی بھرے شکوے پر دریہ کا زوردار قہقہہ کمرے میں گونجا تو مومل گڑبڑا کر تیزی سے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ جما گئی۔
“پاگل ہو گئی ہو کیا جو یوں چڑیلوں کی طرح ہنس رہی ہو۔ تمہاری اس قدر سریلی آواز سن کر ابھی مناہل اٹھ جاتی۔”
وہ اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا کر مناہل کی طرف دیکھتی فکر مندی سے بولتی جا رہی تھی جب کہ دریہ ہونق بنی اس کا چہرہ تک رہی تھی۔
“مومل کی نظروں کے تعقب میں اس نے بیڈ کی جانب دیکھا تو وہاں سوۓ ہوئے اس چھوٹے سے بچے کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔
“ارے مومی! یہ تو نے بچے چوری کرنے کب سے شروع کر دیے۔”
اس کے یوں آنکھیں پهيلا کر پوچھنے پر مومل سے اس کے کندھے پر دهپ سے تھپڑ رسید کیا جس پر دریہ آہ کر کے رہ گئی۔
“فضول مت بکو بدتمیز! اتنے برے دن نہیں ابھی میرے آۓ جو تمہارے والے کام میں شروع کر دوں۔”
وہ کہتے ساتھ کمرے میں موجود صوفے کی طرف بڑھ گئی تو دریہ نے بھی اس کی تقلید کی۔
“اچھا اب بتا بھی دو یہ اتنا پیارا بےبی کس کا ہے اور تمہارے پاس کیا کر رہا ہے۔ ایسا کیا پلا دیا بیچاری بچی کو جو یوں ٹن ہو کر سو رہی ہے دن کے وقت۔”
اس کے سیریس ہو کر پوچھنے پر وہ سر جھکا کر اپنی گود میں دھرے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔
“بچوں کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں فکس ہوتا سونے کا اور یہ ویسے بھی روز دن میں سوتی ہے اور ۔۔۔۔یہ ۔۔یہ مناہل باسم آفریدی ہے!”
آاس کے دھیمے لہجے میں بولے گئے جملے پر دریہ نے جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا۔
“کیا!”
اس کی چیخ پر مومل پھر سے اس کے منہ پر ہاتھ جما گئی۔
“پاگل ہو گئی ہو کیا اٹھ جاۓ گی وہ تمہاری خوف ناک آواز سن کر۔”
وو اسکو ڈپٹ کر بولی جب کہ دریہ صدمے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مناہل باسم آفریدی۔۔..مطلب ۔۔۔مطلب ۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔او ایم جی! یہ باسم بھائی کی بیٹی ہے!”
اس کی آنکھیں حیرت سے پهيل گئیں جب کہ مومل آنکھیں گھما کر رہ گئی۔
“اتنا اوور ری ایکٹ کیوں کر رہی ہو دری تم۔ ایسے جسے تمہیں تو علم ہی نہیں نا کہ ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔”
وہ بلا وجہ ہی کمرے میں ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگی جب کہ دریہ اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔
“تم نے مجھے بتایا نہیں مومی کہ باسم بھائی پاکستان آ چکے ہیں ۔ چلو وہ بات چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ ان کی بیٹی تمہارے پاس کیا کر رہی ہے؟”
وہ تو جیسے آج بال کی کھال اتارنے کا ارادہ کیے بیٹھی تھی۔
“کیوں کہ مجھے بہت پیاری ہے یہ! میرے دل کے بہت قریب ہے۔ اس کاکیا قصور ہے جو اپنی ماں سے بچھڑ گئی وه بھی اس عمر میں جب بچے کو سب سے زیادہ ضرورت ماں کی گود کی ہی ہوتی ہے۔ میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں دریہ! میں نہیں چاہتی کہ اس کی ذات میں کسی قسم کا کوئی خلا رہے۔ میں اسے ایک پرفیکٹ انسان دیکھنا چاہتی ہوں۔میں اس کی ماں کی جگہ نہیں لینا چاہتی کیوں کہ ماں کا نعم البدل اس پوری دنیا میں نہیں بنایا اوپر والے نے۔ میں پر میں اسے اتنا پیار اور توجہ تو دے ہی سکتی ہوں نا کہ اس کے ذہن میں ہر وقت یہ خیال نہ رہے کہ اس کے سر پر ماں کا سایہ نہیں۔”
دریہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں بات کرتے وقت آنسو چمکنے لگے تھے۔
“مومل تم پاگل ہو کیا؟ جانتی بھی ہو تم کیا ارادے کیے بیٹھی ہو۔ آج یا کل کبھی نہ کبھی تمہیں شادی کر کے یہاں سے رخصت ہو جانا ہے۔ باسم بھائی کی بھی اپنی لائف ہے اور یہ ان کی اکلوتی بیٹی ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ آرام سکون سے اپنی بیٹی تمہاری گود میں ڈال دیں گے۔ ویٹ! کہیں تم پھر سے باسم بھائی کو حاصل۔۔۔”
“شٹ اپ دریہ!”
دریہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی مومل سرخ چہرہ لئے تیزی سے اس کی بات کاٹ گئی۔ اس کی دل پر یہ بات تیر کی طرح لگی تھی۔ اسے مناہل سے کوئی غرض نہ تھی نہ ہی اس کے ذہن میں ایسی کوئی گری ہوئی سوچ آئی تھی۔ مناہل سے اس کا پیار اور لگاؤ بہت خالص تھا۔ ممتا سے بھر پور! ہر غرض اور لالچ سے پاک!
“مومل تمہیں باسم بھائی سے بات کرنی چاہئے۔ اب تو اکیلے ہیں وہ کیا پتا تمہاری محبت پر ایمان لے آئیں!”
دریہ کی بات پر وہ نفی میں سے ہلا گئی۔
“میں تب نا سمجھ تھی دری! اسی لئے اپنے جذبات کی توہین اور اپنی ذات کی تذلیل کروا بیٹھی۔ پر اب میں با شعور ہوچکی ہوں۔ محبت اب بھی بے تحاشا ہے اس ستمگر سے پر اپنی ذات کی تذلیل اور جذبات کی توہین نہیں برداشت کر سکتی اب۔ پہلے ٹوٹ کر سنبھل گئی تھی پر اب اگر ٹوٹی تو بکھر جاؤں گی۔”
دریہ افسوس سے اس کی گالوں پر پهسلتے ہوئے آنسو دیکھ رہی تھی۔
“جانتی ہو دری ہم جب کسی چیز یا انسان کو لے کر اوور کانفیڈنٹ ہو جاتے ہیں نا کہ یہ بس ہمارا ہی ہے اور ہمیں مل کر ہی رہے گا تو وہ چیز یا انسان ہم سے چھین لیا جاتا ہے۔ محدود مدت کیلئے یا پھر ہمیشہ کیلئے! میں بھی اس وقت اپنی محبت کو لے کر بہت اوور کانفیڈنٹ تھی اور یہی اوور کانفیڈنٹ مجھے لے ڈوبا اور اپنی محبت سے ملنے سے پہلے ہی بچھڑ گئی میں۔”
وہ کہتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی جب کہ دروازے کے باہر کھڑا وجود لب بھینچے سرد آنکھیں لئے وہاں سے ہٹ گیا۔
°°°°°°°°°
وہ سر گھٹنوں پر رکھے زمین پر بیٹھی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ دماغ میں صبح ہونے والی ساری باتیں گھوم رہی تھی۔
صبح وہ کچن میں کھڑی کک سے ناشتہ بنوا رہی تھی جب کہ حاشر سو رہا تھا۔ اس کے بعد حاشر سے اس کی کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ وہ اوپر والے کے فیصلے پر صبر کر چکی تھی۔ شادی کے دوسرے ماہ سے ہی حاشر کا رويہ اس کے ساتھ بہت عجیب ہو گیا تھا پر اسے حاشر سے بہت محبت تھی۔ وہ اللّه کی رضا میں راضی ہو چکی تھی پر اندر سے پریشان بھی تھی کیوں کہ جانتی تھی کہ حاشر کو بچوں کا بہت زیادہ شوق ہے۔ اسی لئے وہ شادی کے دوسرے مہینے ہی اپنی اس خواہش کا اظہار کر چکا تھا۔ پر کچھ مہینوں سے کوشش کرنے کے باوجود بھی جب انھیں یہ خوش خبری نہ ملی تو وہ اسے ڈاکٹروں کے پاس لے جانے لگا۔ نوریہ کو یہ بلکل اچھا نہیں لگتا تھا۔وہ کہتی تھی کہ ابھی ان کی شادی کو عرصہ ہی کتنا گزرا تھا جو وہ لوگ اس قدر پریشان ہوتے۔ پر حاشر کی ضد کے آگے وہ بے بس تھی۔ آۓ روز کسی نئے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا حالاں کہ اس کی ساری رپورٹس بھی کلئیر تھیں۔پر جب اسے پتا چلا کہ خامی اس میں نہیں بلکہ حاشر میں ہے تو وہ چپ کر گئی تھی۔ صبر کر بیٹھی تھی پر حاشر نے صبر نہیں کیا تھا۔
صبح ناشتہ بنوا رہی تھی جب حاشر کچن میں آیا۔
“نوریہ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے روم میں آؤ۔”
نوریہ نے کک کو ناشتے کا مینیو بتایا اور خود حاشر کی پیچھے ہی کمرے میں چلی آئی۔
وه جب کمرے میں پہنچی تو حاشر صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے اشارے پر وہ بھی اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔
“نوریہ مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ پلیز میری پوری بات تحمل سے سننا اور سمجھنا۔”
وہ اس کی طرف رخ موڑ کر اس کی دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام گیا۔
نوریہ ناسمجهی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی۔
“دیکھو نوریہ تم جانتی ہو نا کہ مجھے کس قدر خواہش ہے بچوں کی۔ جانتی ہو نا تم؟”
اس کے پوچھنے پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“نوریہ میں بہت بے بس محسوس کر رہا ہوں خود کو۔ بہت زیادہ۔ میرے اندر یہ خواہش اتنی زور پکڑ چکی ہے کہ اس پر قابو پانا ممکن نہیں اب۔ اس لئے میں نے کچھ سوچا ہے۔ دیکھو نوریہ تمہاری اولاد بھی تو ہماری اولاد ہی ہو گی نا ۔ تمہارے وجود کا حصّہ میرے لئے سب سے پیارا ہوگا۔میری اولاد! میں نے سوچا ہے نوریہ کہ تم ۔۔میرا مطلب ہم دونوں طلاق لے لیتے ہیں۔ میں تمہیں کچھ عرصے کے لئے طلاق دوں گا اور تم عدت پوری ہونے کے بعد کسی آدمی سے نکاح کر لینا۔ پھر خوش خبری ملتے ہی تم واپس ہمارے گھر آ جانا میں کسی فلیٹ میں رہ لوں گا اور بچہ ہوتے ہی تم اس سے طلاق لے لینا پھر ہم نکاح کر لیں گے۔پھر ہم تینوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوشحال زندگی گزاریں گے۔ تم میں اور ہمارا بےبی! میں کسی آدمی کا پتا کرتا ہوں جو پیسے لے کر ہماراکام کر دے۔ صرف کچھ عرصے کی ہی تو بات ہے۔”
وہ بولتا جا رہا تھا جو کچھ بھی اس کے دماغ میں تھا جب کہ نوریہ حیرت اور بے یقینی سے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔ اس کی زبان گنگ ہو چکی تھی۔ یہ سامنے بیٹھا گھٹیا سوچ کا مالک شخص کون تھا؟ وہ تو اسے نہ جانتی تھی۔ یہ وہ حاشر تو نہ تھا جس سے اس نے محبت کی تھی۔ جو اب اس کا محبوب شوہر بھی تھا۔ پھر ایک دم ہوش میں آتی وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا گئی۔
“میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی اس قدر گھٹیا اور بغیرت نکلو گے تم حاشر! اپنی بیوی کا سودا کرنا چاہ رہے ہو تم! یاد رکھنا میں مرنا پسند کروں گی پر ایسا گھٹیا کام نہیں کروں گی۔
وہ چیختی اس کا کالر اپنے ہاتھوں میں جکڑ گئی۔
“ایسا کرنا تو تمہیں ہر حال میں پڑے گا میری جان ورنہ پھر میرا مرا ہوا منہ دیکھنے کے لئے تیار رہو۔”
وہ اس کے ہاتھوں سے اپنا کالر چھڑواتا ہوا بولا۔
“مر جائیں بے شک پر میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔”
اس کی بات ختم ہوتے ہی حاشر نے پہلے سے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی چھری اٹھا کر اپنی کلائی پر رکھ لی۔
“بولو میرا ساتھ دو گی یا نہیں؟”
اس کے غرانے پر وہ لب بھینچ کر نفی میں سر ہلا گئی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا خوف کے باعث۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا چھری کا دباؤ بازو پر بڑھا گیا۔ ایک دم خون کی دھار تیزی سے فرش پر گرتی فرش رنگین کر گئی۔
“حاشر!”
وه چیختی ہوئی اس کی طرف دوڑر جب وہ اسے فاصلے پر روک گیا۔
“ہاں یا نہ؟”
پوچھنے کے ساتھ ہی وہ چھری کا دباؤ پھر سے زیادہ کر گیا۔
“ہاں ہاں ہاں! مم۔۔۔میں ویسا ہی کک۔۔۔کروں گی جیسے۔۔۔جیسے آپ کہیں گے۔ اب پلیز۔۔۔پلیز اس کو سائیڈ پر کریں ڈاکٹر کے پاس چلیں۔آ۔۔۔آپ کا خون۔۔۔”
وہ اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھتی بلکنے لگی۔
“تھنک یو سو مچ میری جان۔میں جانتا تھا تم میری خواہش ضرور پوری کرو گی۔ وہ اس کا ماتھا چومتا اپنی کلائی پر کپڑا رکھے ڈاکٹر کو کال کرنے لگا تا کہ پٹی کروا سکے۔پٹی کروانے کے بعد وہ گاڑی بھگاتا گھر سے نکل گیا جب کہ وه وہیں فرش پر بیٹھی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
