Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

Writer Meem Ainn
Episode 31
نوریہ ڈرتے ڈرتے اس گھر میں داخل ہوئی جہاں کا پتا اسے حاشر نے دیا تھا۔اپنے بھاری وجود کے گرد مظبوطی سے چادر پھیلاتی وه احتیاطی قدم اٹھاتی آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ وه گھر باہر سے جتنا ویران تھا اندر سے اس سے بھی زیادہ خوفناک دکھ رہا تھا۔
یہاں تک آ تو گئی تھی پر اب خوف سے دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔
“کک۔۔۔کوئی ہے!!!!”۔
خالی مکان میں اس کی آواز گونجی تو نوریہ کو اپنی ہی آواز سے خوف محسوس ہوا۔
“حاشر؟؟؟”
اب کے اس کی پکار پر وه ایک کمرھے سے نکلتا اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“آئیے آئیے مسز راجہ ویلکم!!!”۔
اس کی سرد آواز پر نوریہ بے ساختہ ایک قدم پیچھے لے گئی تو اس کی پشت لاؤنج کے بند دروازے سے ٹکرا گئی۔ اس کا رنگ سپید پڑ گیا کیوں کہ ابھی یہ دروازہ کھلا تھا پر حاشر کے سامنے آتے ہی بند ہو چکا تھا۔
“کیا ہوا ڈر کیوں رہی ہو ہاں!!!”
اس سے پوچھتا حاشر اس کی طرف قدم بڑھاتا جا رہا تھا جب کہ نوریہ خوف کے باعث اپنی چادر دونوں مٹھیوں میں بھینچ گئی۔
حاشر نے ایک تفصیلی نظر اس کے سراپے پر ڈالی۔ اس کی نظریں نوریہ کو اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔
وه ایک دم تیش میں آتا آگے بڑھا اور نوریہ کو بالوں سے دبوچ گیا۔
“آہ!!!! چھوڑو مجھے جنگلی انسان!!!”
وه چیختی ہوئی اپنے بال اس کی گرفت سے آزاد کروانے کے جتن کرنے لگی پر وه اس کے چیخنے چلانے کی پرواہ کیے بغیر اسے بالوں سے دبوچے اپنے ساتھ کھینچتا ایک کمرے میں لایا اور ایک جھٹکے سے اسے نیچے زمین پر پهينك دیا۔ نوریہ نے بہت مشکل سے اپنے ہاتھ زمین پر جماتے خود کو بیلنس کیا تھا۔ اپنے بچے کو کھونے کے ڈر سے اس کا دل بے طرح دھڑک رہا تھا۔
“تجھے کیا لگا تھا کمینی کہ تو مجھ سے اپنے ماں بننے کی خبر چھپائے گی تو میں بے خبر ہی رہوں گا۔ بھول ہے تیری۔مجھے تو شروع میں ہی علم ہو گیا تھا پر میں سہی وقت کا انتظار کر رہا تھا اور دیکھ آج قدرت نے سہی موقع دے ہی دیا۔”
وه پھنکار رہا تھا جب کہ نوریہ سن ہوتی اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے لگا سامنے کھڑا یہ انسان حاشر ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر یہ حاشر تھا تو اس حاشر کو تو وه جانتی ہی نہ تھی ۔ نوریہ کو بہت جلد یہ احساس ہو گیا کہ وه بری طرح پھنس چکی ہے۔
“بول!!! چپ کیوں ہے اب جواب دے۔کیوں چھپائی مجھ سے یہ خبر؟؟؟”
وه اس کے پاس زمین پر ایک گھٹنہ ٹکا کر بیٹھتا پھر سے اس کے بال مٹھی میں جکڑ گیا۔
“حاشر چھوڑیں آپ پاگل ہو گئے ہیں کیا؟؟”
وه روتی ہوئی اپنے بال اس کی گرفت سے چھڑوانے لگی تو وه ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
*حاشر آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ ہاں میں جانتی ہوں کہ آپ کی خواہش کی وجہ سے میں عارضی شادی کے لئے مان گئی پر میں اس پر قائم نہیں رہ سکی۔ میرے پاس بھی دل ہے میری بھی عزت نفس ہے۔ میں کوئی کھلانا نہیں جسے جب چاہا کسی اور کی جھولی میں ڈال دیا اور جب چاہا واپس حاصل کر لیا۔ میں ایک جیتی جاگتی لڑکی ہوں جس کے جذبات اور احساسات ہیں۔ میں نے پاپا سے ضد کر کے آپ سے شادی کی حاشر۔ آپ کو ہر سکھ دینے کی کوشش کی۔ آپ کی اولاد کی روز با روز بڑھتی خواہش مجھے سولی پر اٹکائے رکھتی تھی۔ پھر جب آپ کو پتا چلا کہ آپ باپ نہیں بن سکتے تو آپ مجھے کسی اور مرد کے پاس جانے پر مجبور کرنے لگے۔ میں نے انکار کر دیا تو آپ اپنی جان لینے کے در پر آ گئے۔ اپ کی دھمکیوں کی وجہ سے میں یہ سب مجبور ہوئی۔ آپ تو اس قدر بےغیرت ثابت ہوئے کہ اپنی بیوی کسی اور کی جھولی میں ڈال دی۔ عزت دار مرد تو ایسا سوچتے ہوئے بھی ہزار دفعہ مرتا ہے۔ پر آپ تو پورے بے غیر۔۔۔۔آہ!!!”
اس سے پہلے کہ وه اپنی بات پوری کرتی حاشر نے اس کے چہرے پر ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔تھپڑ کی شدّت اتنی زیادہ تھی کہ نوریہ کو اپنا جبڑا ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔ اس کے منہ میں خون کا ذائقہ گھلنے لگا ۔
“مجھے گالی دے گی؟؟ حاشر کو؟؟ دیکھ اب تیرے ساتھ کرتا کیا ہوں میں۔”
وه غیض سے کہتا اسے بازو سے کھینچتا کمرے کے وسط میں پڑی کرسی کے قریب لے جاتا اسے کرسی سے باندھ گیا۔
“چل اب شروع کر آگے کی کہانی!!!”
اس کے کہنے پر نوریہ خوف کے مارے لب سی گئی۔
“بول!!!!”
وه چیخ کر کہتا نوریہ کو تھرانے پر مجبور کر گیا۔
“میری راجہ سے جب شادی ہوئی میں نے تب ہی سوچ لیا تھا کہ اب کسی صورت راجہ سے طلاق نہیں لوں گی۔میں کوئی کھلونا نہیں ایک سانس لیتا وجود ہوں جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے۔ جس کے پاس عزت نفس ہے اور پھر راجہ کے محبت اور عزت بھرے رويے نے مجھے اپنے فیصلے پر اور بھی ثابت قدم کر دیا۔راجہ نے مجھے مرد کے ایک نئے روپ سے آشنا کروایا۔ اتنی عزت اتنی محبت دی جس کا میں تصور بھی نہ کر سکتی تھی۔راجہ نے واضح الفاظ میں مجھے بتا دیا تھا کہ وه کبھی مجھے نہیں چھوڑیں گے ۔ میں بھی کہاں چھوڑنا چاہتی تھی انھیں۔ ہم دونوں کی زندگی بہت پر سکون ہو گئی تھی حاشر پر آپ نے آج دھوکے سے مجھے یہاں بلا کر ثابت کر دیا کہ آپ کبھی بھی راجہ کی برابری نہیں کر سکتے۔”
بات ختم کرتے ہی نوریہ حاشر سے دوسرا تھپڑ بھی کھا چکی تھی۔
وه بے آواز رونے لگی تو حاشر اس کے مزید قریب ہوا۔
“اس سب سے ایک بات تو اچھی طرح ثابت ہو گئی کہ دھوکہ دینے والے کو بھی بدلے میں دھوکہ ہی ملتا ہے۔ جانتی ہو کیسے؟؟”
اس کے پوچھنے پر وه چہرہ موڑ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔
“آہاں!!! اتنا غرور!! کوئی نہیں ابھی یہ غرور مٹی میں ملنے والا ہے۔”
وه کہتا اس کے گرد چکر کاٹنے لگا۔
“جانتی ہو راجہ کون ہے اوپس!!! راجہ تو راجہ ہی نہیں۔ مجھے یہ سوال پوچھنا چاہئے تھا کہ جانتی ہو مرتسم يزدان حسن کون ہے؟؟”۔
اس کے سوال پر نوریہ کی آنکھوں میں الجھن ابھری۔
“میں بتاتا ہوں کون ہے مرتسم يزدان حسن !!! یہ دیکھو یہ ہے مرتسم يزدان حسن!!!”
وه موبائل کی سکرین نوریہ کے سامنے کر گیا تو سامنے دیکھتی نوریہ کی آنکھیں پهيل گئیں۔
“کک۔۔۔کیا بکواس ہے۔ یہ کوئی مرتسم کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ میرے راجہ ہیں!!!”
وه اس کی عقل پر شبہ کرتی چلائی۔
“چچ چچ چچ بیچاری نوریہ!!! کس قدر بھولی ہو تم۔ جانتا تو شروع سے ہی تھا پر اب تو یقین ہو گیا ہے۔ دس ماہ ہو چکے ہیں تمہیں راجہ کے ساتھ رہتے اور اب تک تم اس کی اصلییت ہی نہ جان سکی۔ بہت افسوس ہوا۔چلو خیر!!! میں بتاتا ہوں تمہیں سچائی تمہارے پیارے راجہ کی۔”
اس کی باتیں نوریہ کو ہولا رہی تھیں۔
“مرتسم يزدان حسن۔۔۔ایک سیکرٹ ایجنٹ جسے بلیک پینتھر کے نام سے جانا جاتا ہے پر اسی مرتسم کو ہم جانتے ہیں “راجہ” کے نام سے۔ راجہ کا گیٹ اپ اس نے اپنے ایک مشن کے لئے لیا جانتی ہو کون سا مشن؟؟؟”
وه نوریہ کی بے یقین آنکھوں میں دیکھتا سوال کرنے لگا پر وه اس حالت میں ہی کہاں تھی کہ اس کے سوال کا جواب دے پاتی۔
“میرے گینگ کو پکڑنے کے لئے!!!!”۔
وه انکشاف کرتا جا رہا تھا جب کہ نوریہ کی آنکھوں میں بے یقینی اترتی جا رہی تھی۔
°°°°°°
“مومل!!! مومل!!! کہاں ہو یار!!!!”
مومل جو کچن میں کھڑی باسم کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی اوپر سے آتی اس کی چنگھاڑتی آواز پر سب چھوڑ چھاڑ کر تیزی سے کمرے کی طرف گئی۔
“کیا ہو گیا ہے کیوں اس طرح چیخ رہے ہیں۔ آپ کی اتنی تیز آواز سے ابھی میری بچی اٹھ جاتی۔”
وه اسے سناتی كسمساتی ہوئی مناہل کو تھپکنے لگی جو چند سیکنڈز میں ہی دوبارہ نیند میں چلی گئی تھی۔
“جی فرمائیں اب!!! کس خوشی میں صبح صبح میرے نام کا راگ الاپ رہے ہیں ؟”
مناہل کو سلانے کے بعد وه باسم کی طرف آئی جو ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا جب کہ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال رکھے تھے ۔ بلیک پینٹ کے ساتھ سفید شرٹ پہنے وه مومل کو ہمیشہ کی طرح ہمیشہ سے بڑھ کر پیارا لگا۔ اس کی گہری نظریں خود پر جمیجمی محسوس کر کے مومل کی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں پر وه خود کو نارمل ظاہر کرتی اس کے قریب چلی آئی۔
“کوئی کام تھا آپ کو؟ میں آپ کے لئے ناشتہ۔۔۔۔آہ!!!!”
اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی باسم اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب ترین كهينچ گیا تو وه مومل کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ باسم اس کی کمر پر دباؤ ڈالتا اسے اپنے بلکل ساتھ لگا گیا تو اس کی اس قدر قربت پر مومل کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔
“کک۔۔کیا کر رہے ہیں؟؟؟”
مومل اس کی مضبوط چھاتی پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہونے کی کوشش کرنے لگی پر وه اس کی کوشش ناکام بنا گیا۔
“عبادت!!!”
باسم کے جواب پر وه چہرہ اونچا کر کے بے یقینی سے اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی۔
“عبادت!! پر کیسے؟؟؟”
اس کی حیرت سے کھلی آنکھوں پر وه پھونک مار کر مسکرا دیا تو مومل پلکیں جھپکنے لگی۔
“بیوی سے محبت کرنا عبادت ہے!!!”
وه اپنی بات کے جواب میں اس کے چہرے پر پهيلے خوب صورت رنگوں کو مبہوت ہو کر دیکھنے لگا۔
“روح من !!!!”
اس کی محبت سے لبریز آواز مومل کے جسم میں پھریری دوڑا گئی۔ اس کے لفظوں کی چاشنی مومل کی روح کو مہکانے لگی۔پلکیں لرز کر عارضوں پر سجدہ ریز ہو گئیں۔
“جج۔۔۔۔جی!!!”
“جانتی ہو تم کیا ہو میرے لئے؟”
اس کی گھمبیر آواز میں کئے گئے استفسار پر وه نفی میں سر ہلا گئی۔
“قرار من ہو تم!! چاہت دل ہو تم!! اجلا سویرا ہو تم!! مہکی رات ہو تم!! سبز رتوں کا پيام ہو تم!! مجھ میں، میں کہاں ہوں مجھ میں پور پور ہو تم!!!”
اس کے الفاظ مومل کی روح کے ادھڑے اور جلے زخموں پر پهوار بن کر برس رہے تھے۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے باسم نے اسے کبھی کوئی دکھ دیا ہی نہ ہو۔ یوں جیسے وه ہمیشہ سے اس کی اسی محبت کی حق دار رہی ہو۔
“باسم!!!”
مومل کی پکار پر باسم نے سر جھکا کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے اسے مزید اپنے قریب کر لیا کہ مومل کی تیز ہوتی دھڑکن اسے اپنے سینے میں مدغم ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔
“بولو جان جان!!!”
وه چہرہ جھکاتے اس کی کان میں سرگوشی کرنے لگا تو مومل لرز اٹھی۔
“آپ۔۔۔آپ آفس سے لیٹ ہو رہے ہیں اور میرا بنایا گیا ناشتہ بھی اب تک ٹھنڈہ ہو چکا ہو گا۔”
وه اس کی شرٹ کے بٹنوں پر انگلی پهيرتی ہوئی بولی تو باسم آفریدی کے جذبات پر اوس برس گئی۔
“يارررر!!!!”
وه بد مزہ ہوتا بولا تو مومل کھلکھلا کر ہنس دی۔
“بہت مزہ آ رہا ہے نہ میری حالت پر ابھی بتاتا ہوں۔”
وه چڑ کر کہتا شرارت سے اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو اس کے ارادے سمجھتی مومل اسے زبان چڑا کر کمرے سے باہر بھاگ گئی جب کہ وه صرف اس کی پھرتی دیکھتا رہ گیا۔پھر سر جھٹک کر بھر پور مسکراتا اپنا رخ شیشے کی طرف موڑ کر اپنے بال بنانے لگا۔
°°°°°°°
“ہسبنڈ یہ والا سوال سمجھا دیں!!!”
ارمش سامنے بیٹھے ارسم سے بولی جو موبائل میں گم تھا۔ اس کی آواز پر اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر اس کی بات پر دھیان دیتا بیڈ کی ٹیک چھوڑ کر آگے ہو کر بیٹھا اور موبائل سائیڈ پر رکھ گیا۔
“لائیں دکھائیں کون سا سوال ہے۔”
گزرے سات مہینوں سے ارسم ارمش کو پڑھا رہا تھا۔ جب میچز میں بزی ہوتا تب یہ ذمہ داری مومل کے سر آ جاتی۔ ارسم نے بہت کم وقت میں جان لیا تھا کہ ارمش ایک زہین لڑکی تھی اور وه بہت جلد چیزیں پک کر لیتی تھی۔
ابھی بھی وه الجبرا کے سوال حل کرنے بیٹھی تھی جب اسے ایک سوال میں مشکل ہوئی۔ وه اسی سوال میں اب باسم سے ہیلپ مانگ رہی تھی۔
“یہ والا۔”
وه انگلی سے سوال کی جانب اشارہ کرتی بولی تو ارسم سر ہلا کر اس کے ہاتھ سے پین اور رجسٹر پکڑ کر اسے سوال سمجھانے لگا۔
اسے سوال سمجھا کر وه پھر سے موبائل میں مصروف ہو گیا۔
ابھی دس منٹ گزرے تھے جب اس کی میٹھی سی آواز پھر سے ارسم کے کانوں سے ٹکرائی۔
” ہسبنڈ دوبارہ سمجھا دیں پلیز!!!”
اس کی پکار پر وه پھر سے سر ہلاتا اسے سمجھانے لگا۔ اسے سوال سمجھا کر وه پھر سے موبائل میں گیم کھیلنے لگا۔
“ہسبنڈ ایک دفعہ بس اور پلیز!!!”
تیسری دفعہ پھر پکارا گیا۔
“ہس۔۔ہسبنڈ پلیز لاسٹ ٹائم!!!”
اب کے آواز میں تھوڑی نمی بھی گھل گئی تھی پر وه پہلی دفعہ جیسی ہی فرماں برداری کے ساتھ سرہلاتا پہلی سی توجہ کے ساتھ سمجھاتا رہا اور پھر سے گیم کھیلنے لگا۔ کچھ دیر بعد اسے ہلکی ہلکی سسكیوں کی آواز سنائی دی تو وه چونک کر سر اٹھاتا سامنے دیکھنے لگا پر اس پر نظر پڑتے ہی ٹھٹھک گیا۔
وه آنسو بہاتی گود میں پڑے رجسٹر کو گھورتی چلی جا رہی تھی۔ آنسو تواتر سے بہتے رجسٹر کو گیلا کر رہے تھے۔بالوں کی لٹیں بھیگ کر گالوں سے چپکی ہوئی تھیں۔ناک لال ہو رہی تھی اور جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔