584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zehr-e-Sheren Episode 1

Zehr-e-Sheren by Rania Siddiqui

سر آپ کو کچھ چاہئیے۔۔۔۔۔

وہ شہر کی مشہور لائبریری میں بیٹھا تھا جب ایک خوبصورت آواز پہ متوجہ ہوا۔

نہیں آپ کا بہت شکریہ۔۔۔۔ابھی میں کچھ وقت کے لئے مطالعہ کرنا چاہوں گا۔

وہ جب بھی یہاں آتا تو لائبریری کے اس خاص کونے کا رخ کرتا۔

وجہ یہ تھی کہ اس جانب لوگوں کا آنا جانا کافی کم تھا جس وجہ سے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی۔

لائبریری کی انتظامیہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ ایک نامی گرامی مصنف ہے اسی وجہ سے اسے وی۔آئی۔پی ٹریٹمنٹ ملنا کوئی اچنبھے کی بات نا تھی۔

شروعات سے ہی اس نے اپنے قلم سے ایسی تحاریر پیش کیں جن میں اصلاح کو عنصر پایا جاتا ہو لیکن اپنی محبوب بیوی کے بچھڑ جانے کے بعد سے اس میں سنجیدگی کا عنصر مزید گہرا ہوا تھا۔

وہ مختصر جواب دے کر پھر سے مطالعہ میں مشغول ہو گیا۔۔۔اس کا زیادہ تر وقت کتابوں میں ہی گزرتا تھا۔

اپنی نئی تحریر کے لئے وہ ایک عمدہ موضوع کی تلاش میں تھا۔

معراج کو مطالعہ میں یوں کھویا ہوا دیکھ کر عشاء نے اپنا گلا صاف کیا تو وہ پھر سے اس کی جانب متوجہ ہوا۔

جی مس۔۔۔۔آپ کو کچھ چاہئیے۔۔۔۔۔۔

اس نے یہاں دو ہفتہ پہلے ہی نوکری کا آغاز کیا تھا۔ اور جب اس نے پہلی بار اپنے پسندیدہ مصنف معراج غزنوی کو دیکھا تھا تب سے ہی وہ اس کا آٹوگراف چاہتی تھی۔۔۔۔اور شاید اس کی توجہ بھی۔

اس کی نگاہیں خود پہ محسوس کر کے عشاء کے رخسار گلابی ہوئے تھے اور وہ ہمت کرتی اس سے گویا ہوئی۔

وہ سر۔۔۔۔اصل م۔۔۔میں مجھے آپ کا انٹرویو چاہئیے۔۔۔۔

وہ ہاتھ میں پکڑی چھوٹی سی نوٹ بک اس کے سامنے کرتی کہنے لگی۔

دکھنے میں وہ کوئی کوہقاف کا شہزادہ نا تھا۔ سانولا رنگ اور بھوری آنکھیں۔۔۔۔۔لیکن اس کی شخصیت اسے بےشک سب میں نمایاں کر دیتی تھی۔

جی ضرور۔۔۔۔

وہ گہرہ سانس بھرتا اپنی کتاب ایک سائیڈ پہ کرتا کہنے لگا۔

اسے معلوم تھا وہ جتنی جلد اسے یہاں سے روانہ کرے گا اتنی جلد ہی اپنے مطالعہ کی طرف لوٹ پائے گا۔

آٹوگرام کے دوران عشاء کی نظریں اس کے چہرے پہ جمی رہیں جو سپاٹ تاثرات کے ساتھ اسے اب وہ نوٹ بک واپس پکڑا رہا تھا۔

چوڑے شانے اور دراز قد کا حامل وہ شخص اسے پہلی نظر میں ہی اپنا دیوانہ بنا گیا تھا۔

نوٹ بک واپس پکڑا کر بھی جب وہ وہاں سے نا ہلی تو وہ معراج اسے ابرو اچکا کر دیکھنے لگا۔

عشاء کے رخسار ایک بار پھر سرخ ہوئے تھے اور وہ الوداع کہتی وہاں سے چل دی۔

معراج ایک بار پھر سے اپنے مطالعہ کی جانب متوجہ ہوا۔

اس نے کئی مشہور کتابیں لکھی تھیں لیکن اب وہ کچھ نیا لکھنا چاہتا تھا کچھ الگ ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔

کسی کی ہیل کی آواز نے اس کا تسلسل پھر سے توڑا تھا وہ جھنجھلایا سا اس آواز کی وجہ کو ڈھونڈںے لگا۔

خود سے کچھ ہی فاصلہ پہ اسے وہ چار انچ ہیل کی وجہ مل گئی تھی۔

سرخ ہیل کے بعد اس کی نظر کی نظر چست جینز کی پینٹ پہنی پنڈلیوں پہ گئی تھی۔

وہ اپنی نظروں کو اس کے چہرے تک لیجانے لگا۔

سرخ ہی رنگ کی ڈیزائنر شرٹ اور کمر تک آتے لمبے بال اسے خاصہ متوجہ کر گئے تھے۔

وہ بک شیلف کے سامنے کھڑی کوئی کتاب ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔ اور معراج اسے دیکھنے میں۔

شاید اسے کوئی کتاب پسند نہیں آئی تو وہ دوسری بک شیلف کی جانب بڑھی۔

اس کی ہیل کی آواز پھر سے گونجی تو معراج نے اسے باور کروانا لازمی سمجھا۔

مس۔۔۔۔کیا آپ کو کچھ چاہئیے۔۔۔۔

اس کی آواز پہ وہ معراج کی جانب پلٹی اور اسے پراسرار نظروں سے دیکھنے لگی۔

لچھ تھا اس میں جس نے معراج کو اپنے شکنجے میں جکڑہ تھا لیکن وہ کیا چیز تھی معراج سمجھ نا پایا۔

جی آپ نے مجھے بلایا۔۔۔۔

وہ اپنی جانب اشارہ کرتی کہنے لگی تو معراج کسی سحر سے باہر نکلا۔

کیا آپ کو کچھ مدد چاہئیے۔۔۔۔۔

وہ اس کے کئے گئے سوال کا جواب دینے لگا تو وہ لڑکی مسکرا دی۔

اصل میں میں ایک کتاب ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ اسی سیکشن میں ملے گی۔

وہ معراج کے سامنے لگے ڈھیر کو غور سے دیکھتی ہوئی کہنے لگی۔

کونسی کتاب چاہئیے آپ کو۔۔۔۔۔

نجانے کیوں معراج کا دل تھا کہ وہ اس سے بات کرتا رہے۔۔۔۔ایسا پیلے تو کبھی نہیں ہوا تھا۔

کتاب کا نام سنتے ہی اس کی پیشانی پہ بل نمودار ہوئے تھے۔

کیا آپ واقعی یہ کتاب پڑھنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔

اس کتاب کی کوئی اچھی شہرت نہیں تھی

اس کے سوال پہ وہ بھنویں اچکا گئی تو نعراج اپنی جگہ سے کھڑا ہوا بک شیلف کے ایک جانب بڑھا جہاں اس کتاب کو موجود ہونا چاہئیے تھا

وہ کیا پڑھتی تھی اور کیا نہیں۔۔۔۔۔اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئیے تھا۔

معراج اس کے سامنے کھڑا ہوا تو صندل نے اسے غور سے دیکھا۔

وہ ایک دراز قد لڑکی تھی اور اپنی چار انچ ہیل کے ساتھ بھی معراج اس سے دو انچ لمبا تھا۔

آپ کا شکریہ۔۔۔۔

اس کے ہاتھ سے مطلوبہ کتاب تھامتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی کہنے لگی۔

وہ اسے مزید کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وہ پلٹی اور جس تیزی سے وہاں آئی تھی اسی تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔

جیب میں موجود اس کا پیجر بجنے لگا تو معراج اس پہ آیا نوٹیسفکیشن دیکھنے لگا اور پھر ان کتابوں کا ڈھیر اٹھا کر مین ڈیکس کی جانب بڑھ گیا۔

_______

اسے ایک یونیورسٹی میں لیکچر دینا تھا۔۔۔۔اس کے بعد وہ اپنے گھر کے لئے روانہ ہو گیا۔

لیپ ٹاپ کھولے وہ کب سے ٹائیٹل کو گھور رہا تھا۔ کیا لکھے اور کیا نہیں ابھی تک سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

اچانک آفس کا دروازہ کھلا اور امان وہاں داخل ہوا۔

اسے دیکھتے ہی معراج کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔

اگر وہ نا ہوتا تو آئمہ کی موت کے بعد وہ خود کوتاحیات اس حویلی میں قید کر لیتا۔

لوگ کہتے تھے کہ وہ ایک مغرور شخص ہے کسی کو اپنے قابل نہیں سمجھتا لیکن اصل میں اس کی زندگی میں کچھ تھا ہی نہیں جسے لے کر وہ بات کرتا۔

گھر میں موجود اپنے آفس سے لائبریری تک یہی اس کی زندگی تھی۔

یا کام کے سلسلے میں اس کا تبادلہ اپنے اسسٹنٹ اور آڈیٹر سے ہوتا رہتا تھا۔

اور کچھ روز پہلے اس کا اسٹنٹ یہ نوکری چھوڑ کر چلا گیا تو اب اسے ایک نئے اسسٹنٹ کی تلاش تھی۔ جو کہ اسے برداشت کر سکے۔

امان۔۔۔۔کیسے ہو یار۔۔۔۔

وہ اس سے کھڑے ہوتے مصافحہ کرنے لگا۔

تم نے تو مجھ سے ملنے آنا نہیں تو میں ہی آ گیا۔۔۔۔

وہ ہمیشہ کی طرح اس سے شکایت کرنے لگا جسے معراج نے ہر بار کی طرح خاطر میں نہیں لایا۔

خیر میں نے جو تمہارے اسسٹنٹ کے لئے اخبار میں اشتہار دیا تھا اس کا کوئی جوب موصول ہوا۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔آج صبح سے ہی میں کئی سی۔وی موصول کر چکا ہوں۔۔۔۔میں نے ان میں سے کچھ کو شورٹ لسٹ کیا ہے تم بھی دیکھ لو۔۔۔۔

معراج کچھ پرنٹڈ سی۔وی امان کی جانب بڑھاتا ایک تاریخی کتاب کا مطالعہ کرنے لگا۔

وہ سی۔وی پکڑتا انہیں دیکھنے لگا۔ اور پھر ایک سی۔وی پہ رک گیا۔

صندل احمد علی۔۔۔۔۔

عمر۔۔۔۔چھبیس سال۔۔۔۔۔

پیشہ۔۔۔لکھاری۔۔۔۔۔

ہمم۔۔۔نائس۔۔۔۔تمہیں تو اسے فورا اسسٹنٹ رکھ لینا چاہئیے۔

امان نے اپنے جگری دوست سے کہا جو اسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھا۔

ویسے اگر یہ وہی مصنفہ ہیں جن کا کام میں نے پڑھا ہے تو تم دونوں کو بحث کرتے میں ضرور دیکھنا چاہوں گا۔

کہاں تم۔۔۔۔ادب اور اصلاح کے دیوانے۔۔۔۔اور کہاں وہ۔۔۔۔۔۔

معراج غزنوری نے تں سے پہلی بار نظروں کا زاویہ بدل کر اپنےدوست کو دیکھا۔

وہ کیا۔۔۔۔

میرے خیال سے تمہیں اس کا کام پڑھنا چاہئیے۔۔۔۔

وہ ذومعنی طریقہ سے کہتا سی۔وی اس کے سامنے ڈیسک پہ رکھتا کہنے لگا۔

معراج نے ایک بار پھر اس نام کو دیکھا جو بڑے بڑے حروف میں لکھا گیا تھا۔

اس نے اپنا کوئی بھی کام یہاں مینشن نہیں کیا۔۔۔۔اور نا ہی میں اس نام کی کسی مصنفہ سے واقف ہوں۔۔۔۔۔

وہ کتاب بند کرتا ہوا کہنے لگا۔

وہ اس لئے میرے دوست کیونکہ وہ ایک سوشل میڈیا رائیٹر ہے لیکن اس کی نئی تحریر نے کافی شہرت حاصل کی ہے جو کہ کتابی شکل میں بھی آ چکی ہے۔۔۔

کیا نام ہے اس کتاب کا۔۔۔۔

معراج کے سوال پہ امان کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیلی تھی اور وہ ایک عجیب چمک اس کی نظروں میں دیکھ سکتا تھا۔

ذہر شیریں۔

__________

وہ ابھی تیسرے شخص کا انٹرویو لے کر فارغ ہوا تھا اور ابھی تک کوئی بھی شخص اسے پسند نا آیا۔

ایسا نہیں تھا کہ وہ کم پڑھے لکھے تھے لیکن وہ کام کی نوعیت سے ناواقف تھے اور وہ اس وقت ایسی پوزیشن میں نہیں تھا کہ پہلے انہیں کام سکھائے اور پھر اس کی خدمات سے فائدہ حاصل کرے۔

صاحب جی ۔۔۔۔۔کوئی لڑکی آئی ہے۔۔۔انٹرویو کے لئے۔۔۔۔

اس کے ملازم نے بتایا تو معراج نے اس لڑکی کو اندر بھیجنے کے لئے کہا اور خود کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندھ گیا۔

ہیل کی تیز آواز پہ اس نےآنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے وہی لڑکی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ کھڑی تھی۔

واٹ آ سرپرائز۔۔۔

وہ سر کو ہلکا سا ٹیڑھا کرتی اسے دیکھنے لگی جبکہ معراج کی نظریں ابھی بھی اس کے چہرے کا طواف ہر رہی تھیں۔

تیکھے نین نقش والی وہ حسینہ نجانے خود میں ایسا کیا رکھتی تھی کہ معراج اس کی جانب کھچنے لگتا تھا۔

کیا آپ مجھے بیٹھنے نہیں کہیں گے۔۔

وہ چہرے پہ مسکراہٹ سجاتی کہنے لگی تو معراج اس دنیا میں واپس لوٹا۔

پلیز ہیو آ سیٹ۔۔۔۔

وہ سامنے کرسی کی جانب اشاری کرتا کہنے لگا تو صندل ٹانگ پہ ٹانگ جمائے بیٹھ گئی۔

میرا نام صندل ہے اور میں نے اخبار میں اشتہار دیکھا تھا۔ ویسے کہنا پڑے گا جب ہم لائبریری میں ملے تو میں کبھی سوچ نہیں سکتی تھی کہ آپ ہی مشہور معراج غزنوی ہیں۔۔۔

وہ پراسرار نگاہوں سے اسے دیکھتی کہنے لگی جبکہ اس کے چہرے پہ خفیف سی مسکراہٹ پھیلی تھی جس سے اپنایت جھلک رہی تھی۔

معراج کو لگا کہ اس کی نگاہیں اور وہ مسکراہٹ دو الگ لوگوں کا احساس دلاتی ہیں۔

میں روایتی سوالات سے ہٹ کر صرف ایک بات جاننا چاہوں گا۔۔۔۔آپ کو کیوں لگتا ہے کہ اپ اس نوکری کے لئے منتخب کی جائیں گی۔

وہ اس کی باتوں کو نظر انداز کرتا پیشہ ورانہ طریقہ سے پوچھنے لگا۔