584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 2

Fareb Nazar by Gazal Saima

♡♡آنکھوں میں ہیں جو مستیاں♡♡

♡♡کہتی ہیں دل تھام لو♡♡♡

♡♡ہونٹوں سے تم میرے ابھی♡♡

♡♡چاہت کا پیغام لو♡♡♡

موبائل پر لائبہ کی تصویروں میں کھوئے،،،،،،، اس نے موبائل اسکرین کو چوما تھا،،،، اپنا فیورٹ سونگ گنگناتا ہوا،،،،کوئی آدھے گھنٹے سے اسی طرح،،،،، اسکی تصویروں کے سحر میں ڈوبا وہ دنیا و مافیا سے بےخبر اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔

“کیا چیز ہے بھائی،،، پٹاخہ ہے ایک نمبر کی”

آنے والے شخص نے جھانک کر اسکے موبائل میں دیکھا۔

لیکن وہ اسکی اس حرکت کو نہیں دیکھ پایا۔

“کون،،،کس کی بات کر رہا ہے؟؟؟”

وہ اسکا کوئی قریبی ہی تھا تبھی اسے اسکا بغیر اجازت اندر آنا برا نہیں لگا۔

رعب سے اپنے مخصوص انداز میں اس نے پوچھا۔

“وہی بلیو اسکن ٹائٹ ٹراوزر پر جو پنک کلر کی شرٹ پہنے

ہوئی تھی،،، ابھی جسکی فوٹو چلا رہے تھے آپ بھائی،،، بولیں تو کل ہی اٹھا لیں اسے،،،،،،کہاں آتی ہے،،،،،

کہاں جاتی ہے سب بائیو ڈیٹا نکال لونگا آپ فکر ہی نہ کرو۔”

اسکے چہرے کے بدلتے یوئے تیور نہ دیکھتے ہوئے وہ اپنی بات

ہی کیے گیا تھا۔

ادھر اسکا اسکی گھٹیا ترین بات سنکر دماغ گھوم گیا۔

“کیا بولا،،،،اسے اٹھائے گا،،،،کہاں جاتی ہے کہاں رہتی

ہے سب پتا کرائیگا،،،،تیری تو،،،،”

ایک ساتھ تین چھانٹے کھینچ کھینچ کر اسے جھڑتے وہ اسکا

دایاں گال لال کر چکا تھا۔

:معافی دے دو بھائی،،،،غلطی ہوگی،،،مجھے لگا آپ اسکو

پسند کرتے ہو،،،بس اسی لیے بولے گیا۔”

لال ہوتے اپنے گالوں کو وہ سہلاتے ہوا فر فر بولا۔

“آئندہ اپنی غلیظ زبان سے اسکا نام بھی مت لینا،،،،یہ بھابھی ہے تیری،،،،،تیرے اسفر بھائی کی پہلی اور آخری پسند،،،، سمجھ گیا۔”

بپھرا ہوا وہ آگے بڑھا اور اسکا گریبان پکڑ لیا۔

“اگر دوبارہ ایسی غلطی کی تو گدی سے پکڑ کر تیری زبان کھینچ لونگا۔ سمجھا”

“غلطی ہوگئی اسفر بھائی،،،میں تو بس یونہی کہہ رہا تھا۔ آئندہ بھول کر بھی،،،،نام اپنی زبان پر نہیں لاونگا۔”

اسے اسفر کی آنکھوں میں دکھائی دینے والی چمک نے سب بتا دیا تھا۔ وہ الٹے پاؤں واپس چلا گیا۔

“بھائی ابھی پرسنل کام میں بزی ہیں،،،تم میں سے کوئی انہیں ڈسٹرب نہ کرے۔”

البتہ جاتے جاتے باہر بیٹھے آدمیوں کو سختی سے آڈر دیتا گیا۔

●●□■○●□■○●

“یہ کیا حرکت ہے لائبہ،،،ابھی تک جاگ رہی ہو،،،،ٹائم دیکھو

دو بج رہے ہیں،،،صبح یونیورسٹی نہیں جانا کیا؟؟؟؟”

بی پانی پینے کے لیے کچن میں آئیں تو اسکے کمرے کی لائٹ جلتی دیکھ کر اسی طرف آگئیں۔

:اوہ سوری بی،،،میں نے کلاک دیکھی ہی نہیں،،،کل یہ اسائنمنٹ جمع کرانی ہے تو بس اسی میں لگی تھی،،،ٹائم کا

پتا ہی نہیں لگا،،،،اتنا لیٹ یوگیا۔”

جلدی جلدی اس نے ساری فائلز بکس سمیٹیں۔

“اب تم بڑی ہوگئی ہو لائبہ،،،چھوٹی بچی نہیں ہو کہ میں تمہاری ایک ایک چیز کا خیال رکھوں،،،خود کو گروم کرو۔

کل کو تمہاری شادی ہوگی،،،بچے ہونگے،،،تو کیا تب بھی

یہی بھلکڑ پن دکھاتی پھروں گی سسرال میں،،،،اپنی بی

کا نام خراب کرو گی۔ ہاں بولو،،،،جواب دو مجھے۔”

ٹھیک ٹھاک کلاس لیتی بی غصے سے بھری کھڑی تھیں ۔

“نہیں بی،،،میں تو بس سونے ہی لگی تھی،،،”

“کیا سونے ہی لگی تھی،،،تم نے تو ایک بار بھی وال کلاک دیکھنا تک گوارا نہیں کیا،،،اور مجھے بنانے چلی ہو،،،”

اسکی بات کے مکمل ہونے سے پہلے ہی بی دوبارہ سے شروع ہو چکی تھیں۔ بی اسے ہمیشہ کیطرح ڈانٹتی ہی گئیں اور وہ چپ چاپ انہیں بس سنتی گئی۔

“اب اٹھو صبح کے لیے پہلے دودھ ابال دو اور پھر سو جاو،،،مجھ

سے کچن میں بالکل بھی کھڑا نہیں ہوا جارہا۔”

“جی بی،،،،” لائبہ انکے آگے بس اتنا ہی کہنے کی ہمت کر پائی۔

اسے اچھا خاصا لیکچر دینے کے بعد بی واپس اپنے کمرے میں جا چکیں تھیں۔ اس نے سب چیزیں سمیٹ کر اسٹڈی ٹیبل پر رکھیں اور دودھ ابالنے کچن کیطرف چل دی۔

○●□■○●□■○□

“ہاں،،،ہاں وہ پیشنٹ اب کافی بہتر ہے،،،،موت کے منہ میں جاتے جاتے جو بچا ہے۔” ڈاکٹر سیف کسی سےکال پر بات کر رہے تھے۔

“آف کارس آپریشن بہت سکسس فل رہا۔ اچھا بتاؤ بھی مشی جان،،، شام کو اسی ریسٹورنٹ میں آرہی ہو ناں۔ پورا ایک ہفتہ

ہو گیا ہے تم سے مل نہیں پایا،،،،، آئی مس یو ویری مچ،،،

سوئیٹ ہارٹ۔ “

یقینی طور پر کال کی دوسری طرف انکی کوئی سراپہ حور

بیسٹ فرینڈ،،،یا پھر گرل فرینڈ مہو گفتگو تھی جسکا ثبوت

انکے لال پڑتے چیکس دے رہے تھے۔

“ہائی بگ برادر،،،،سنا ہے کسی کی جان بچانے کا ایک اور ریکارڈ تم نے اپنے نام کیا ہے۔”

اچانک ہی وہ دروازے سے نمودار ہوا۔ اسے دیکھتے ہی سیف نے

لائن جلدی سے ڈسکنٹ کر دی۔

“تو اسمال برادر تیرا نیٹ ورک ابھی بھی،،،، سو فیصد کام کر رہا ہے۔”

اسے وہاں دیکھ کر سیف بالکل بھی نہیں چونکا،،،،،بلکہ وہ تو

خود اسکا کسی بھی لمحے وہاں آنے کا منتظر تھا۔ البتہ اگر

اس نے کال پر موجود اس نسوانی آواز والی کے بارے میں کچھ

پوچھ ڈالا تب سیف کا بری طرح سے چونکنا بنتا تھا۔ لیکن اسکی

شکل دیکھ کر تو ایسے کوئی آثار اسے دکھائی نہیں دیے۔ دل ہی دل میں اس نے شکر کیا۔

ورنہ وہ اسے بہت اچھی طرح جانتا تھا،،،ادھر کوئی خبر اسے

پتا چلی نہیں اور ادھر اسکے پیٹ میں مروڑ شروع ہو جانا اس خبر

کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے۔

انکا فلش بیک بھی ویسے کافی سیڈ تھا،،، وہ دونوں اپنے ممی ڈیڈی کو ایک خوفناک پلین کرش میں دو سال پہلے ہی کھو چکے تھے،،،،تب انکے لیے پوری دنیا ویران سی ہوچکی تھی،،،نہ انکا کہیں جانے کو دل کرتا،،،نہ کسی سے ملنے کا،،،آس

پڑوس میں جانا تو پہلے ہی کافی کم تھا کیونکہ وہ دونوں اپنی

اسٹیڈیز کو لے کر بہت سیریس تھے پھر پیرنٹس کی اچانک موت نے انہیں بالکل ہی آدم بیزار بنا دیا،،،کوئی رشتہ دار،،،دوست احباب اگر کبھی ملنے آ بھی جاتا تو وہ اسکے جانے کی گھڑیاں

گنتے رہتے۔

لیکن پھر قدرت کو ان دونوں بھائیوں کی حالت زار پر رحم آ ہی گیا اور سیف کی ملاقات اپنی اسپیشل لائیزیشن کے آخری ہفتے میں مشعل سے ہوئی جو پہلی ہی نظر میں اسے اچھی لگی۔

پھر رفتہ رفتہ اسکا دل پورےکا پورے مشعل کے پیار میں گرفتار ہوگیا اور مشعل سے،،،، وہ اسکے لیے مشی اور پھر مشی سے سوئیٹ ہارٹ اور جان من بن گئی۔

اسکی زندگی میں اچانک ہی آنے والے اس بدلاو نے اسکے چھوٹے

بھائی شاہان فاروق کی بھی بورنگ لائف پر خوش آئند اثر ڈالا۔ وہ

شاہان کا کسی چھوٹے بچے کی طرح بے حد خیال رکھتا،،زبردستی اسے کمرے کی خاموش نگری سے نکال کر اپنے ساتھ آووٹنگ لر لیجاتا،،،کبھی سی سائیڈ،،،کبھی کسی

ریسٹورنٹ اور کبھی ایسی خوبصورت جگہ جہاں پر وہ دونوں ایک

دوسرے سے اپنے دل کی باتیں کرتے،،،کون کیا سوچتا ہے،،،

کیا چاہتا ہے سب ایک دوسرے کو بتاتے۔ اسطرح سیف فاروق اور شاہان فاروق آہستہ آہستہ کر کے اپنے پیرنٹس کی موت کے غم کو بھلا دینے میں کامیاب ہوگئے۔

لیکن سیف فاروق نے ابھی تک اپنے اسمال برادر یعنی شاہان فاروق کو مشعل اور اپنے پیار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا

اور ایک یہی ایسا راز تھا جو شاہان فاروق اپنے بگ برادر کے بارے

میں ابھی تک نہیں جانتا تھا۔

“بریکنگ نیوز نے ہر طرف دھوم جو مچائی ہے،،، تبھی تو اسمال برادر بھی اپنے بگ برادر کو پیار کی جھپی دیے بنا بھلا کیسے یونیورسٹی جاسکتا ہے،،،،،کم از کم جب تک میں بھابھی والا نہیں ہوتا تب تک تو اپنے بھائی کی یہ ذمےداری مجھے ہی تو اٹھانی ہے۔”

شرارتی انداز میں سیف کو آنکھ مارتے وہ اسکے سینے سے آلگا۔

“دن بدن تیری بھابھی والا بننے کی خواہش بڑھتی ہی جارہی ہے۔ سوچ رہا ہوں اب تیری یہ خواہش پوری کر ہی ڈالوں،،،کچھ زیادہ ہی بوجھ ڈال دیا ہے،،،،، میں نے تجھ پر ذمےداریوں کا،،،،،،کیوں؟؟

اسے زور سے دباتے سیف نے شوخی سے کہا۔

“اوہ رئیلی،،،مطلب تم ڈھونڈ چکے ہو،،،اچھا بتاو تمہارے ساتھ یہیں ہسپتال میں کام کرتی ہے،،،ڈاکٹر ہے یا نرس،،،،

یا پھرکوئی دائی وائی تو نہیں پسند کر لی بگ برادر،،،،تیرے سرپرائز مجھے ہمیشہ ہی شاکڈ کر دیتے ہیں،،،،بتا دے ابکے پھر سے شاکڈ کرنے والا ہے کیا؟؟؟”

پریشان ہونےکی جھوٹی ایکٹنگ کرتا وہ اسے اپنی اسپشل پیار

کی جھپی دے کر فارغ ہوا اور اسی کا لیپ ٹاپ آن کرنے لگا۔

“تو بالکل بھی سدھرنے والا نہیں،،، اپنا پرامس بھول گیا،،،

بگ برادر جب ہی شادی کریگا جب اسمال برادر کریگا،،،

تین سال کا ایج ڈیفرنس ہمارے بیچ بالکل بھی نہیں چلنے والا۔”

سیف نے اسمائل کرتے اسے دیکھا تھا،،،جو اسکا لیپ ٹاپ

آن کیے،،،، بھابھی والا ہونے کیلیے اپنی بھابھی کی کوئی پک

ڈھونڈ رہا تھا۔

○●□■○●□■○●

“میرے لاڈلے پیارے انور،،،،ملک مینشن میں بڑی خوشی کا موقع ہے۔ ایک ساتھ تین شادیاں،،،دو باراتیں یہاں آنی ہیں اور ایک کورخصت ہو کر پیا دیس سدھارنا ہے،،، سارے انتظامات بالکل

ٹھیک ٹھاک ہونے چاہیے۔”

گرینی نے آج ملک مینشن میں سکو جمع کیا تھا۔مینشن میں

کئی سال بعد تہیری خوشی کا بڑا موقع تھا۔ ملک خاندان کے دو سپوت انور وقار ملک اور اظہر وقار ملک شادی کے بندھن میں بندھنے جارہےتھے اور سبکی لاڈلی نرمین ملک پیا دیس سدھارنے والی تھی۔

ہر کوئی ہی خوشی کے اس پر مسرت موقع پر وہاں موجود گرینی

کی ہدایات توجہ سے سن رہا تھا۔ سکندر حیات ملک کی موت کے بعد گرینی یعنی صالحہ حیات ملک ہی اب مینشن کی بڑی اور

ان سبکے لیے قابل احترام ہستی تھیں۔ ہر کوئی گرینی کے ایک

حکم کا منتظر ہوتا،،،وہ جب جو کہہ دیتیں بالکل ویسا ہی مینشن کا ہر فرد کرنا فرض اولا سمجھتا،،،

“ارے اماں آپ بالکل فکر نہ کریں،،،بچے سب سنبھال لیں گے۔

اتنی دھوم دھام سے شادیاں ہونگی کہ کئی سالوں تک ملک مینشن خاندان کی شادیوں کے چرچے رہینگے۔”

نورین وقار ملک نے گفتگو میں حصہ لیتے حسب عادت بھڑک ماری۔

“ہاں اماں آپ بالکل بھی فکر نہ کریں۔”وقار ملک فوری اپنی

بیوی کی تائید میں بولے۔

“جورو کا غلام کہیں کا۔”

گرینی کو ہمیشہ ہی اپنے چھوٹے بیٹے وقار ملک کا اپنی چہتی بیوی نورین وقار ملک کی تائید میں بولناکٹکتا تھا۔ اور اپنے سپوت وقار ملک کی اسی عادت کو لے کر وہ ہمیشہ اسے جورو کا غلام کا ہی خطاب دیتیں تھیں۔

انکا زیر لب کہنا بھی سب ہی بچوں نے سنا لیا تھا اور سب ہی اپنی ہنسی روکے بیٹھے تھے۔

“ٹھیک ہے،،،اچھا ہے تم سبکو اپنی اپنی ذمےداری کا احساس ہے۔ اچھا پرسوں ہونے والے مہندی کے فکشن میں فردین ملک

کی دونوں یتیم بچیوں کو بلانا نہیں بھولنا وہ بھی ملک مینشن کا

حصہ ہے۔ چاہے انکا باپ مجھ سے منہ موڑ کر چلا گیا لیکن انکا خاندان اور ہمارا خاندان ہمیشہ ایک ہی رہیگا۔”

“لیکن اماں،،،آپکو پتا ہے مینشن سے جانے کے بعد انہوں نے کبھی ہمیں یاد تک نہیں کیا،،، ایک بار ہم سے ملنے نہیں آئے جب تک شاہانہ اور فردین بھائی تھے تب کی بات اور تھی لیکن

اب تو وہ آپ سے اپنا حصہ تک لے چکے ہیں۔ اب انہیں مینشن

کی خوشیوں میں شریک کرنے کا کیا مطلب ہے۔”

نورین وقار ملک کی نہ کبھی پہلے اپنی سمدھن سے بنی نہ آج

ہی وہ اسکی یتیم بچیوں کو مینشن بلانے کے حق میں تھی۔

“نورین بیگم آپ بھول جاتی ہیں کہ فردین ملک بھی میری ہی اولاد ہے بالکل آپکے چہیتے میاں نامدار وقار ملک کی طرح۔

اور وہ چاہے ہم سے تعلق توڑ کر چلے گئے لیکن صالحہ بیگم کبھی انہیں مینشن کی خوشیوں میں شریک کرنے سے نہیں روکے گیں،،،،اور نہ ہی کسی اور کو ایسا کرنے دیگی۔”

گرینی نے خاص کر زور دے کر کہا۔

“اگر وہ مینشن کی دعوت قبول کرتی ہیں،،،تو ان دونوں کا مینشن میں بھرپور استقبال کیا جائیگا۔ اسے گرینی کا حکم سمجھ کر آپ سب اس بات کا خاص خیال رکھیں گے۔”

سب ہی کو اپنی نظروں سے تنبیہی کرتے گرینی نے دیکھا۔

“جی گرینی،،،بالکل آپکے کہنے کے مطابق ہوگا۔”

وقار ملک کا سب سے چھوٹا الڑ مزاج، ضدی اور لڑائی جھگڑوں کا ایک نمبر کا دلدادہ اسفر وقار ملک ابھی ابھی وہاں آیا تھا اور گرینی کی بات سے اس نے برملا سب کی موجودگی میں اتفاق کیا تھا۔

“اسفر تم کب آئے؟؟؟؟” نورین وقار نے بےچینی سے پہلو بدلتے اپنے سب سے چھوٹے برخودار کو خشمگی نظروں سے گھورا۔

“جب گرینی نے آمینہ بی اور لائبہ فردین کا مینشن میں استقبال

کرنے کا حکم دیا بس تبھی میں آیا تھا۔”

لائبہ کا نام لیتے ہی اسفر کا دمکتا چہرہ،،، اسکے دل کی بدلتی کیفیت ان سبکو بتانےکیلیےکافی تھا،،،،، نورین بیگم نے اسے

پھر سے گھور کر دیکھا تھا۔ جسے وہ نظرانداز کرتا گرینی

کے قدموں میں آکر بیٹھ چکا تھا۔

سب ہی جانتے تھے اسفر وقار ملک گرینی کی کوئی بات نہیں ٹالتا اور اس وقت اسکا انکی بات سے اتفاق کرنا وہاں موجود ہر

کسی کو تشویش میں ڈال چکا تھا۔

○●□■○●□■○□

“شاہان فاروق پوائنٹ سے نیچے اترتے ہی لائبہ کے ساتھ قدم

قدم ملا کر چلنے لگا تاکہ وہ اسے اپنے ساتھ چلتا نوٹ کرے اور

اسے بات کرنے کا موقع مل جائے۔

“یہ کیا حرکت ہے مسٹر شوشل ورکر؟؟؟ لائبہ نے جیسے ہی اسے ساتھ ساتھ چلتے دیکھا بھنا کر بولی اور یہی تو وہ چاہ

رہا تھا۔

“اب بات سے بات بنے گی،،، تو ہی ہماری لو اسٹوری آگے

بڑھے گی ناں مائی اینجل۔”

دل ہی دل میں لائبہ کو اپنی بانہوں میں سمٹے دیکھ کر وہ خوشی

سے نہال ہوا۔

“ہیلو مسٹر،،،شوشل ورکر،،،آئی ایم آسکنگ ٹو یو؟؟” چٹکی بجاتے لائبہ نے شاہان کو خوابوں کی دنیا سے باہر نکالا۔

“کچھ نہیں میں تو بس ڈسٹنٹ میژر کر رہا،،کہیں تم ڈیپارٹمنٹ تک پہنچنے میں زیادہ قدم تو نہیں چلتیں؟؟؟”

اسے اپنے لیے رکے دیکھ کر شاہان کا دل زور سے اچھلا۔

“ایک وقت آئیگا لائبہ فردین جب تم بھی شاہان فاروق کے پیار میں پاگل ہو کر ایسے ہی راہ چلتے خوابوں کی دنیا میں کھوئی رہو گی۔”

لائبہ کی شہد آنکھوں میں دیکھتے اس نے سوچا۔ صبح صبح ہی اسکی شہد آنکھوں میں اپنی بیتابیوں کو کنارہ ملتے،،،،، اسکا تیز تیز دھڑکتا دل شاد ہوگیا۔ وہ اسے بغور دیکھے گیا۔

“اور میرے زیادہ قدم چلنے سے تمہارا کونسا بل آتا ہے؟؟؟”

وہ بھی اسے بغور دیکھے گئی۔لیکن اسکی زبان کینچی کی طرح

چلتی گئی۔

“بل نہیں آتا لیکن یہ ضرور پتا چلتا ہے کہ تم زیادہ قدم چل کر زیادہ انرجی پھونکتی ہو اور میں کم قدم چل کر کم انرجی۔”

عجیب منطق دیتا وہ اسے کوئی پاگل لگا،،،اکر وہ اتنا ہینڈسم اور گڈ لکنگ نہیں ہوتا تو لائبہ اسکے پاگل ہونے کا پورا پورا یقین کر لیتی۔

“اور اس سے کیا ہوتا پھر؟؟؟” اسکو بغور دیکھتے ہوئے وہ اسکی بلیو شیڈ آئی بالز کو نوٹ کرچکی تھی۔

“یہ کہ تم اتنی نازک اور پتلی کیوں ہو۔”

اسمائل کرتا ہوا وہ اسے اب کچھ بھلا لگا۔ جواب میں وہ بھی مسکرا دی۔ وہ ازلی ڈیٹ ہے اسے پکا پتا لگ چکا تھا اور اب اسکا

ارادہ اسے پاگل بنانے کا تھا۔

اسکو روبرو مسکراتا دیکھ کر شاہان فاروق کی پسلیوں میں ٹھنڈ کا احساس دوڑا ،،،،، موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے فورا”

اپنا تعارف لائبہ کے گوش گزار کیا۔

“مجھے شاہان فاروق کہتے ہیں،،،، ٹیکسٹائل ڈیزائنگ کے فائنل

ائیر میں ہوں۔ تمہارے گھر کے بالکل پیچھے والا گھر میرا ہے۔” اسکی صاف گوئی پر لائبہ اسے بس گھورے ہی گئی۔

اس شام جب وہ چھت پر بیٹ منٹن کی پریکٹس کر رہی تھی

تو اسے سامنے والے گھر کے ٹیرس میں کسی کے ہونے کا بار

بار احساس ہوا تھا لیکن جب اسے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا

تو وہ اسے اپنا وہم سمجھی تھی۔ یعنی اس وقت وہی تھا وہاں اور چھپ چھپ کر اسکے نظارے کرتا رہا تھا۔

شرم کے مارے اسکا چہرہ سرخ پڑنے لگا۔

اسکی بھنویں پہلے سیکڑیں اور پھر پھیلیں۔ شاہان اسے ایک

ایک منٹ نوٹ کر رہا تھا۔ کیونکہ جس قدر وہ اسے تکتا جاتا

اس قدر ہی طمانیت کی لہر اپنے پورے وجود میں اسے اترتی محسوس ہوتی۔

“یعنی تم مجھے چھپ کر دیکھ رہے تھے،،،ذرا بھی شرم نہیں تمہیں،،،کسی لڑکی کو یوں چھپ کر دیکھنا کوئی اچھی

بات ہے۔”

اسے جھاڑتے وہ تنک کر بولی۔ اس نے بھی پینترا بدلا۔

“ارے یار تمہیں بس موقع چاہیے،،، مجھ معصوم کو جھاڑ پلانے

کا۔ اب چھپ کر نہیں دیکھتا تو کیا،،،، تم اسی طرح دو گھنٹے میری آنکھوں کے سامنے کھیلتی رہتیں،،،،نہیں ناں۔”

اسے تکتے،،،شہد آنکھوں میں ڈوبتے وہ گویا تھا۔ لائبہ کی پیشانی پر بل پڑے۔

“اچھا یعنی تم نے پورے دو گھنٹے مجھے گھورا”

تنک کر کہتے اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

وہ اسے جتنا مکار سمجھی تھی وہ اس سے کہیں زیادہ مکار تھا۔ مگر اسکی بلیو شیڈ آئی بالز لائبہ کو اپنا دیوانہ کرنے لگی تھیں۔ اسکی جان پر بنے گئی تھی۔

“ہاں،،، لیکن میں نے تمہیں بس کھیلتے ہوئے ہی امیجن کیا تھا اس پوری رات اپنے سوئیٹ ڈریمس میں۔”

لائبہ کے کانوں کی لہویں گرم ہوگئیں،،،وہ شوشل ورکر تو اس سے بھی زیادہ منہ پھٹ نکلا۔ ایک کے بعد ایک دل دہلا دینے

والا انکشاف کرتا جا رہا تھا۔

“میں چلتی ہوں،،،میری کلاس کا ٹائم ہو رہا۔”

لائبہ جان بجا کر اسکے پاس سے کسکنے لگی۔

“اچھا سنو آئی لائک یور نیک مول”

اس نے پیچھے سے ایک اور لائبہ کا دل دہلانے والا انکشاف اسکے گوش گزار کیا تھا۔ اسکا دل زور سے دھڑکا۔

“یو باسٹرڈ،،،چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔”

فرسٹ فنگر دکھاتے لائبہ نے اسے چلتے چلتے پیچھے مڑ کر وارن کیا۔

“میں بھی تو یہی چاہتا ہوں لائبہ عرف مائی اینجل۔”

شوخی بھرے انداز میں اسے اپنا نام لیتے لائبہ نے دور جاتے بھی

سن لیا تھا۔ اور اسکی جرات دیکھ کر وہ چلتے چلتے ہی دھیرے

سے مسکرائی تھی۔

شاہان فاروق کا دلچسپ تعارف تو اس نے سن لیا تھا لیکن اپنا

تعارف کرانے سے پہلے ہی وہ جان چکی تھی کہ وہ اسکے بارے

میں سب کچھ پہلے سے ہی جانتا ہے۔

اور وہ گلفس دینے والا واقع،،اس پر گرنا،،،یونیورسٹی گیٹ پر

اسے فولو کرتے پہنچنا وہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ اسکا پلانٹڈ تھا،،،لائبہ نے ایسا سوچ کر زور سے اپنی مٹھیاں بھینچیں تھیں۔

○●□■○●□■○●

“تمہیں اچھی طرح پتا ہے رامین کہ میں اور لائبہ کبھی بھی مینشن میں واپس قدم نہیں رکھیں گی۔ جب ہمارے والدین ہی نے ایسا نہیں کیا تو ہم دونوں کیسے ایسا کر سکتی ہیں؟؟”

“کیا تم اپنے ماں باپ کی مرضی کے خلاف کچھ کرنے کا کبھی سوچ بھی سکتی ہو؟؟؟ پھر مجھے کیوں مجبور کرنے آئی ہو۔”

آمینہ نے غصے سے رامین کو مینشن میں آنے کی دعوت پر صاف صاف انکار کیا۔

“بڑی بی وہ آپ سبکا بھی مینشن ہے،،،گرینی آپ دونوں کو وہاں دیکھنے کی خواہشمند ہیں۔”

اس بار رامین کے ساتھ آئے اظہر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

“آج دس سال بعد تمہیں اپنی بڑی بی کی یاد آئی ہے۔ وہ بھی تب جب مینشن میں شادیوں کی تیاریاں ہو رہیں ہیں،،، ہمیں وہاں بلا کر خود کو فرشتہ صفت ثابت کرنا چاہتے ہو۔”

آمینہ کا انداز خاصا جاہرانہ تھا۔ اظہر اور رامین گرینی کے حکم کے مطابق اسے منیشن میں آنے کی دعوت دینے آئے تھے لیکن

وہ تو ہتھے سے اکھڑ چکی تھی۔

“بڑی بی،، آپ ہم میں سب سے بڑی ہیں، ،، آپکی ہم سب

ہمیشہ سے بہت عزت کرتے ہیں۔ پلیز گرینی کا دل مت دکھائیں

آپ اور لائبہ کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہونگی۔”

رامین نے بات بناتے ہوئے پھر سے خفا بیٹھی آمینہ کو کنونس کرنے کی ہمت کی۔

“گرینی کو میرا سلام کہنا،،،لیکن ہمارا انتظار مت کرنا۔

مجھے اس مینشن میں واپس جانے کا کوئی شوق نہیں۔”

سپاٹ لہجے میں بولتے آمینہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ جسکا مطلب

وہ دونوں باخوبی سمجھتے تھے۔ آخر کو وہ ایک ہی طرح کے

طور طریقوں کے پابند تھے۔

“ٹھیک ہے بی،،،جیسے آپکی خوشی۔”

اظہر نے اٹھتے ہوئے بجھے بجھے لہجے میں کہا اور پھر وہ

دونوں انکے گھر سے نکل گئے۔