Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 21
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 21
Fareb Nazar by Gazal Saima
ڈارک بلیو کلر کا لہنگا جس پر چھوٹے سائز کے چمکتے سفید موتیوں کا نفیس کام تھا آمینہ نے زیب تن کیا ہوا تھا۔ اسکی کھلتی رنگت کو لہنگا بہت جچا تھا۔
اسکا روپ اور بھی اجلا اور نکھرا لگ رہا تھا۔
شاید اتنے سالوں بعد اپنی خواہش پوری ہونے کی اسے کچھ زیادہ ہی خوشی تھی۔
اسکا شادی کا لہنگا خاصکر گرینی کی پسند کے مطابق اسکے لیے اسپیشل بنوایا گیا تھا۔
مہندی سے اپنے رچے ہاتھوں کو سہلاتے ہوئے وہ بڑبڑائی۔
“میں اس خاندان کا حصہ ہوں اور کوئی مجھ سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔”
گرینی کے فیصلے کے عین مطابق اسکا نکاح انور وقار الملک سے
ہوچکا تھا لیکن ابھی تک اپنے سجے روم میں وہ اسکے پاس آیا نہیں تھا۔
کافی دیر اسکا انتظار کر کے بالآخر آمینہ بھاری لہنگا سنبھالتی بیڈ سے نیچے اتری اور ڈور کھول کر باہر جھانکا۔
لیونگ روم سے خوش گپیوں کی آوازیں ابھی بھی آرہی تھیں۔
اسکو گراونڈ فلور پر ہی انور کے کمرے میں بیٹھایا گیا تھا۔ شادی کے بعد اب وہ روم انہی دونوں کا تھا۔
انور سے ناراضگی کے بعد نیہان فلحال الگ روم میں ہی رہنے پر بضد تھی اور ویسے بھی اب اسکا اور انور کا سامنا کم ہی ہوتا تھا۔ اسلیے بغیر کسی جھگڑے کے آمینہ کو اسکا روم مل گیا تھا۔
“پتا نہیں ابھی اور کتنی دیر انتظار کرنا ہوگا۔”
اس پر نیند طاری ہونے لگی تھی۔
مینشن کے لان کی ساری روشن لائٹس بجھا دی گئیں تھیں۔
تمام مہمان جاچکے تھے۔ رات کے ٹھیک دو بج رہے تھے جب
انور روم میں داخل ہوا۔
آمینہ نیند کے زیر اثر اسے دکھائی دی۔
میری زندگی میں زہر گھول کر اتنے سکون سے تم کیسے سو سکتی ہو۔
غصے سے بپھرا ہوا وہ اسکی جانب بڑھا۔
آمینہ کو ہلکی سی اسکی آواز سنائی دی تھی۔
“اٹھو۔ جاگو۔ محترمہ۔ ابھی اور اسی وقت مجھ سے اور میرے بیڈ سے دور چلی جاؤ۔”
غصے میں اس نے آمینہ کا بازو پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔
“کیا کر رہے ہیں یہ آپ میرے ساتھ۔”
آمینہ نے آنکھیں کھولے اسے تعجب سے تکا تھا۔
وہی کر رہا ہوں۔ جو تم اس سبکے بعد ڈیزرو کرتی ہو۔
غصے میں وہ پنکارا۔
اسکے بگڑے تیور دیکھ کر آمینہ نے اسکی بات ماننے میں ہی اپنی عافیت جانی۔
ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے۔ میں جارہی۔
لہنگا سنبھال کر۔۔۔ اپنا بازو اس سے چھڑا کر۔۔۔ سرعت سے
وہ بیڈ سے نیچے اتری۔
“ویسے مبارک ہو انور وقار الملک تمہیں اپنی دوسری شادی۔”
اور پھر تن کر اسے چھڑانے کو بولی۔
“بکواس بند کرو۔ مجھ سے کسی بھی قسم کی کوئی امید مت رکھنا۔ جس بھی دن میرا بس چلا میں اپنے ہاتھوں سے تمہارا گلہ دبا کر تمہیں مار ڈالوں گا۔”
طیش سے انور غرایا۔
“جب تک گرینی ہیں میرے ساتھ تم میرا بال بھی بھیگا نہیں کرسکتے انور وقار الملک۔”
لہنگا کو دائیں بائیں سے اٹھاتے ہوئے۔ اسے جتاتے ہوئے وہ بےخوفی سے سوفہ کم بیڈ پر دونوں پیر لیکر چڑھ گئی اور پھر
ایک نظر کچھ ہی دور کھڑے اپنے نئے نویلے دلہے پر ڈال کر سرعت سے لیٹ گئی۔
انور اپنے آگے اسکی یہ من مرضیاں دیکھ کر جلتا ہی رہ گیا۔
“پلیز لائٹ آف کردیں۔”
چینج کر کے انور ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تھا کہ وہ گویا ہوئی۔
“مجھے لائٹ آن کر کے سونے کی عادت ہے۔”
ڈیٹائی سے کہتا ہوا انور اسکی طرف دیکھے بغیر ہی بیڈ پر
لیٹ چکا تھا۔
“اف یہ کیسی فضول عادت ہے۔”
ٹھنڈا لہجہ اختیار کیے آمینہ بڑبڑائی تھی۔
“اپنے لیے ایسی ہی فضول عادتوں والے شخص کو تم نے خود اپنی مرضی سے داخل کیا ہے اپنی زندگی میں۔تو اب اس سب کی عادت بھی ڈال لو۔”
اسکی بڑبڑاہٹ روم کی خاموشی میں انور کو صاف سنائی دے گئی تھی۔
جواب میں اس نے آمینہ کو بہت کچھ باور کرایا تھا لیکن انتہائی غیر محسوس انداز میں۔
○●□■○●□■○●
فارم ہاؤس میں اس وقت ان تین نفوس کی اہم ترین میٹنگ چل رہی تھی۔
“نرمین جس طرح ہوا، میں نے گرینی اور کسی کو بھی کچھ نہیں پتا چلنے دیا ہے۔”
اسفر سنجیدگی سے گویا تھا۔
وہ دونوں پورے انہماک سے اسے سن رہے تھے۔
اس میٹنگ کی خاص بات شاہان اور اسفر کا ایک دوسرے کے حق میں بالکل ٹھنڈا ٹھار رویہ تھا۔
سینے میں دہکتی آتش عشق انکے لیے اب بھی ویسا ہی تھی البتہ انکے چہرے بالکل پرسکون تھے۔ اپنے اپنے حق میں تقدیر
کا فیصلہ جیسے انہیں من و عن قبول ہو۔
“تمہاری کوئی بھی شرط ہو شاہان۔ تو تم بتا سکتے ہو۔”
اسفر نے نرمین کے بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے پوچھا۔
“میری ایک ہی شرط ہے بس۔”
شاہان پہلی بار گویا ہوا۔
نرمین اور اسفر ایک ساتھ اسکی طرف متوجہ ہوئے۔
“ہماری پرسنل لائف میں مینشن کا کوئی فرد انٹرفیر نہیں کریگا۔ چاہے پھر وہ گرینی ہی کیوں نہ ہوں۔”
اسکے ایسا کہتے ہی اسفر نے ناگواری سے دیکھا۔
گرینی کے بارے میں وہ ایسا کہنے کی ہمت بھی کیسے کرسکتا ہے۔ اسفر کے اعصاب تنے۔
نرمین بھی اسکی تردید کرتے ہوئے متذبذب ہوئی۔
“بس میری پہلی اور آخری شرط یہی ہے۔”
شاہان نے اطمینان سے بات جاری رکھی۔
تھوڑے توقف کے بعد، انکے چہروں کے بدلتے تاثرات نے اسے مزید بولنے پر آمادہ کیا۔
“میں جانتا ہوں میری شرط مانا ممکن نہیں لیکن میں ایسا صرف اسلیے چاہتا ہوں تاکہ لاعلمی میں کوئی بھی ہمارے
رشتے کو نقصان نہ پہنچا سکے۔”
اسکا اشارہ نرمین کے ساتھ ہونے والی ٹریجڈی کیطرف تھا۔
نرمین کے ساتھ اسفر کی بھی بھنویں سیکڑیں۔
“لیکن تم کبھی بھی اس کا فائدہ نہیں اٹھاو گے۔”
اسفر کی پیشانی کے بل گہرے ہوئے۔
نرمین کے بارے میں اسکی فکرمندی کا جو منہ بولتا ثبوت تھے۔
وہ شاہان کو اپنی بہن کی زندگی کا حصہ بنانے پر راضی ضرور ہوا تھا مگر اپنے آنکھ اور کان کھلے رکھ کر۔
“ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا شاہان۔ نرمین کی آنکھوں میں آنے والے ایک ایک آنسو کا بدلہ میں لونگا تم سے۔”
تنبیہ کے ساتھ شاہان کے لیے اسفر کی یہ دھمکی بھی تھی۔
“تم فکر مت کرو اسفر۔ نرمین کی آنکھوں میں تمہیں کبھی آنسو نہیں دکھائی دینگے۔”
شاہان نے قطعیت سے کہا۔
نرمین ان دونوں کی باتوں سے نروس ہو رہی تھی۔
اضطراری کیفیت میں وہ ان دونوں کو باری باری تک رہی تھی۔
اور پھر انکے خاموش ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“اوکے۔ چلیں بہت باتیں ہو چکیں اب کافی پیتے ہیں۔”
گہرا سانس لیتے وہ اچانک ہی بولی تھی۔
اس سے زیادہ تناو برداشت کرنا اسکے بس سے باہر تھا۔
ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق اسکے لیے ذہنی تناو بالکل بھی اچھا
نہیں تھا۔
اسکو منتظر کھڑا دیکھ کر شاہان اور اسفر نے مسکراتے ہوئے
ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا اور کافی پینے کے لیے ایک ساتھ
اسکے پیچھے پیچھے چل دیئے۔ وہ اسے اور نروس نہیں دیکھ سکتے تھے۔
○●□■○●□■
“کچھ بھی کر کے آج میں تم سے ضرور ملونگی شاہان اور ہم مل
کر سب ڈیسائیٹ کرلینگے۔ آمینہ بی کو منانا، گرینی کو راضی
کرنا سب کچھ میں ہماری محبت کے لیے کر دکھاونگی۔”
پوائنٹ میں بیٹھی لائبہ سوچوں کے گھوڑے دڑاتی بہت دیر سے
سوچے جارہی تھی۔
آج اسکا شاہان سے مل کر اسے سب کچھ صاف صاف بتانے اور
آگے کا پلان سوچنے کا مصصم ارادہ تھا۔ خیالوں ہی خیالوں میں
وہ سب کچھ ڈیسائیٹ کرچکی تھی۔ بس اب اسے شاہان سے ملکر ساری غلط فہمی کو ختم کرنا تھا۔
یونیورسٹی میں پوائنٹ جیسے ہی انٹر ہوا وہ پہلے ہی ڈیپارٹمنٹ پر اتر گئی۔ وہی شاہان کا ڈیپارٹمنٹ تھا اور لازمی وہ اسے وہیں
مل سکتا تھا۔
تیز تیز قدم اٹھاتے وہ ایک ایک کر کے ہر روم میں اسے تلاش کرنے لگی۔
لیکچر روم۔ لائبریری۔ کمپیوٹر لیب۔ آفس۔ کلاس روم سب ہی جگہ اس نے شاہان کو باری باری تلاش کیا لیکن افسوس وہ اسے نہیں ملا۔ تھک ہار کر وہ کینٹین کیطرف جانے لگی۔
بوجھل وجود۔ بوجھل قدموں کے ساتھ اب وہ بالکل آہستہ آہستہ
چل رہی تھی۔
کچھ دیر پہلے کا سارا جوش، ہمت اسکے اندر سے بھک سے اڑ چکے تھے۔ اسکے دل کا بوجھ اور بھی زیادہ ہوگیا تھا۔
“تو کیا لائبہ فردین تم بےوفا بھی ہوسکتی ہو؟”
چلتے ہوئے الجھا الجھا سوال اس نے خود سے کیا تھا۔
شاہان کی نظروں میں اسکی یہی پہچان تو تھی۔ وہ خود سے سوال جواب کرتی ہوئی بیزاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔
“تم نے شاہان کا اعتماد، اسکا بھروسہ توڑا ہے۔”
اضطراب سے اسکا ٹوٹا لہجہ، شکوہ کے زیر اثر تھا۔
“اسکی بےپناہ محبت کے بدلے میں تم نے اسے دھوکہ دیا ہے”
اسکی بلند اور درشت آواز گونجی۔
کینٹین کے بالکل سامنے کھڑی وہ بےبسی سے چلائی تھی۔
وہاں موجود ہر کسی نے اسے تعجب سے گھورا تھا۔
“دھوکے باز ہو تم۔ دھوکے باز۔”
عالم بےنیازی میں وہ زور سے پھر چلائی۔
گہرے دکھ کے زیر اثر اس پر ہیجانی کیفیت طاری ہوچکی تھی۔
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کر رہی ہے، کیا بول رہی ہے،
کیوں چلا رہی ہے۔
آنسو اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے۔
ایک پرانا منظر اس کی شہد آنکھوں میں ابھرنے لگا تھا۔
![]()
چاند نے جاگتے رہنے کا سبب پوچھا ہے
کیا کہیں ٹوٹ گیا خواب ہمارا کوئی![]()
![]()
اس نے مسکراتے ہوئے سوچ سوچ کر لکھا۔ اسے بھی محسن نقوی کی یہ غزل بہت پسند تھی۔
ایک ہی منٹ میں شاہان کا رپلائی اسے موصول ہوا۔
![]()
نہ وہ ملتا ہے نہ ملنے کا اشارہ کوئی
کیسے امید کا چمکے گا ستارہ کوئی ![]()
![]()
بےساختہ ہی لائبہ اسکا جواب پڑھ کر شرما پڑی۔ اور پھر کچھ
سوچتے ہوئے ایک اور شعر اسکے نام کیا۔
![]()
بیوفائی کے ستم تم کو سمجھ آجاتے
کاش تم جیسا اگر ہوتا تمہارا کوئی ![]()
![]()
کچھ دیر تک شاہان کا جب کوئی رپلائی نہ آیا۔ وہ تھک کر پھر سے نوٹس بنانے لگی۔
لیکن ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسکے کانوں میں شاہان کی گھمبیر آواز اپنی پوری مٹھاس کے ساتھ گونجی۔
وہ سٹپٹا کر رہ گئی۔
![]()
سب تعلق ہیں ضرورت کے یہاں شانی
نہ کوئی دوست، نہ اپنا، نہ سہارا کوئی![]()
![]()
اپنے جواب کے ساتھ وہ خود بھی حاضر تھا اور دنیا و مافیا سے بےفکر اسکی شہد آنکھیں جی بھر کے تک رہا تھا۔
اسے یوں وارفتگی سے خود کو تکتے دیکھ کر،،، شرما کر لائبہ نے اپنی نظریں جھکا لیں۔
لیکن شاہان پورے موڈ میں تھا اسے یوں اپنے سامنے نظر جھکائے دیکھ کر اسکا شعری ذوق اور بھی بھڑک اٹھا۔
![]()
تو ہے جسکی جان اسی کی، تجھ کو نہیں پہچان سجن
تجھ پر میری جان نچھاور ،، اے میرے انجان سجن ![]()
![]()
معصومانہ انداز میں شعر پڑھتا وہ لائبہ کو اور بھی زیادہ اچھا لگا۔
کتنے معصوم تھے اسکے گلے نہ کوئی زور، نہ کوئی زبردستی،
نہ کوئی دھمکی ، نہ کوئی خوف ، نہ کوئی ڈر۔
اسکی یادوں میں کھوئے ہوئے لائبہ چلتے چلتے پتھر سے اڑ کر گری تھی۔
غم کی شدت اسکا ضبط کھا گئی تھی۔
ٹوٹ کر وہ جو بکھری تو سوگواریت نے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹا تھا۔
“بیوفا۔” آخری الفاظ اپنی پوری سچائی کے ساتھ اسکے خشک ہونٹوں سے ادا ہوئے تھے۔
اور اسی پل لائبہ پر غشی کا دورہ پڑا تھا۔
اسکا حال تاریک راہوں میں کھو گیا۔ خاموشی۔ تاریکی۔ افسردگی۔ جدائی۔ احساس جرم کے زیر اثر لائبہ ہوش
کی دنیا سے لاپتہ ہو گئی۔
○●□■○●□■
“کبھی بھی لائبہ کو اس سب کا حصہ بنانے کا سوچنا بھی نہیں ۔”
کافی ساتھ پینے کے بعد نرمین کچھ دیر ریسٹ کرنے کے لئے اپنے روم میں جاچکی تھی۔
اور اب لان میں اسفر اور شاہان ہی باقی تھے۔
خاموشی توڑتے ہوئے اسفر نے اچانک ہی کہا تھا۔
شاہان طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکی جانب متوجہ ہوا۔
“میرا اس بیوفا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”
سبک رفتاری سے اس نے کہا تھا۔
“تعلق تھا تو ناں۔؟”
خاص کھوجنے والا انداز تھا اسفر کا۔
“تھا۔۔ لیکن ہے نہیں۔”
وہ بھی تندہی سے گویا ہوا۔
“تو اب نفرت کرتے ہو اس سے۔”
اسفر نے اسے اور کریدا۔
جو سچائی ابھی وہ بیان کر رہا تھا ضروری نہیں تھا کہ بعد میں بھی کرے۔ اسی لیے وہ اس سے ابھی ہی مکمل سچائی جان لیتا چاہتا تھا۔
“نفرت۔ بہت زیادہ نفرت۔ پل پل نفرت۔”
ٹرانس کی کیفیت میں وہ کہتا ہی گیا۔
اسفر یک ٹک اسے دیکھتے رہا۔
“ایسی نفرت کی بھی ایک کہانی ہوتی ہے۔”
توقف سے وہ گویا ہوا۔ لیکن قدرے متنفر انداز میں۔
شاہان کے ارادے جاننے کیلیے اسکا ایسا کرنا بہت ضروری تھا۔
“نفرت کی کوئی کہانی نہیں ہوتی۔”
بےتاثر لہجے میں جواب دیتا سرعت سے شاہان کھڑا ہوا۔
اسفر پر خود پسندی طاری ہوئی۔
“لائبہ کو کبھی تنہا مت سمجھنا۔ کبھی اسے دکھ دینا کا سوچنا بھی نہیں۔”
آخرکار اسفر کی زبان پر اسکے دل کی بات آگئی۔ اس نے پہلی فرصت میں اپنے سامنے کھڑے شاہان کو باور کرایا۔
“تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو۔”
پراعتماد لہجے میں کہہ کر شاہان اسے وہیں چھوڑ کی مین گیٹ کی سمت بڑھ گیا۔
اب اور وہ وہاں اسکے ساتھ رکھنا بالکل بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔
البتہ اسفر جاتے ہوئے بھی اسے مشکوک نظروں سے دیکھتا رہا۔
کچھ تو تھا اسکے سرد انداز اور یخ بستہ لہجے میں۔
اسفر کا اس پر اب بھی شک باقی تھا۔
○●□■○●□■
ڈرائیو کرتے ہوئے شاہان نے اچانک ہی کار روکی تھی۔
اور سرعت سے موبائل نکالا تھا۔
“لائبہ کو کبھی تنہا مت سمجھنا۔ کبھی اسے دکھ دینا کا سوچنا بھی نہیں۔”
اسکی سماعت میں اسفر کی آواز گونجی تھی۔
موبائل پر لائبہ کی ایک کے بعد ایک تصویر چلاتا وہ اسے شکوہ کن نظروں سے گزارتا ڈیلیٹ کرتا جارہا تھا۔
♡♡نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم♡♡
♡♡خموشی سے ادا ہو رسم دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم♡♡
♡♡وفا، اخلاص، قربانی، محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم♡♡
♡♡ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم♡♡
♡♡کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم ♡♡
♡♡نہیں پروا جب دنیا کو ہماری
تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم♡♡
“ڈوب گیا وہ چاند جو کبھی میری محبت کے آسمان پر چمکا تھا۔” ٹوٹے دل کے ساتھ شاہان بڑبڑایا تھا۔
مایوسی سے اس نے لائبہ کی تمام تصویریں اپنے موبائل سے ڈیلیٹ کر دیں تھیں۔
ایک پرانا منظر اسکی یادداشت میں ابھرا۔
“اور تمہاری شہد آنکھیں کیسی ہیں؟؟؟”
شاہان نے اسکی آنکھوں کو تصور کرتے جھٹ سے پوچھا۔
ہاہاہاہا،،،وہ کھلکھلا اٹھی۔
“بالکل شہد رنگ جیسی ہی ہیں۔”
اپنی آنکھوں کو خود بھی سامنے مرر میں دیکھتے ہوئے شرما کر بولی۔
“ہاہاہا۔۔ ڈٹس گڈ۔”
اسکا معصوم جواب سنکر وہ بھی مسکرا پڑا۔
“اور تم کیا کر رہے ہو ؟؟”
لائبہ ابھی بھی اپنی آنکھوں کو مرر میں دیکھ رہی تھی۔
“تمہیں یاد۔” اس نے جھٹ سے کہا۔
لائبہ کے چہرے کی اسمائل اور گہری ہوئی۔
“مجھے یاد کیوں؟؟” اس نے خود کو مرر میں دیکھتے استفسار
کیا۔
“کیونکہ میرا دل کر رہا ہے ایسا،، وہ تمہیں یاد کرنا چاہتا ہے،،
اسلیے میں بھی تمہیں یاد کر رہا اسکے ساتھ ساتھ۔”
“لیکن اب میں تمہیں کبھی یاد نہیں کرونگا۔ کبھی بھی نہیں۔
لائبہ اسفر۔ کبھی بھی نہیں۔”
پرانا منظر اسکی بےچینی میں اور بھی اضافہ کرگیا۔
وہ تلملا کر بڑبڑایا۔
بڑبڑاہٹ کے ساتھ ہی شاہان نے سر جھٹکا اور اسکی یادوں سے اپنا دامن چھڑایا۔
سرعت سے کار اسٹارٹ کی اور زن کر کے روانہ ہوگیا۔
