Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 14
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 14
Fareb Nazar by Gazal Saima
جس پلان کے تحت شاہان فاروق اور اسفر وقار الملک وہاں پہنچے تھے اسے پورا کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔
ایک ساتھ وہ دونوں اپنی اپنی کار سے اترے تھے انکی ٹائمنگ تک بالکل سیم تھی۔ البتہ سمت ایک دوسرے کے بالکل مخالف تھی۔
شاہان فاروق پچھلے گیٹ کیطرف جبکہ اسفر وقار الملک اگلے مین گیٹ کیطرف قدم بڑھا رہا تھا۔
وہ دونوں ہی بہت محتاط تھے کیونکہ انکے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
بانڈری وال پھلانگ کر اسفر جیسے ہی فارم ہاؤس کے اندر کودا۔
اسےکوئی بات کرتا سنائی دیا جو مین گیٹ کی طرف ہی آرہا تھا۔
جلدی سے خود کو اسفر نے بانڈری وال کے ساتھ قطار میں کھڑے ان درختوں میں چھپ لیا۔
“ارے کچھ نہیں یار۔ کوئی مسئلہ نہیں کیا اسکی فیملی نے۔
شور بھی کیسے مچاتے لڑکی کی عزت کا سوال ہے۔
چپ سادے بیٹھے ہیں۔”
فون پر بات کرتے ہوئے وہ خباثت سے مسکرایا ۔
اسفر کا خون کول اٹھا اسکی بات سنکر۔
“کمینے۔ تیری اتنی ہمت کے تو اسفر وقار الملک کی بہن کو
تکلیف پہنچائے۔”
بجلی کی تیزی سے اسفر درخت کے پیچھے سے نکل کر اس پر جھپٹا۔۔
“ک۔۔کون ہو تم ؟” ٹوٹے لفظوں میں کہتا وہ اسکے اچانک حملے پر سٹپٹا گیا۔
“تیری موت۔”
اسفر نے زور کا پنچ اسکے دائیں طرف کے جبڑے پر رسید کیا۔
خون کی باریک دھار اسکے منہ سے نکلی، دو دانت ٹوٹ کر جبڑے سے باہر گرے اور وہ چت زمین پر گر گیا۔
“اتنا تعارف کافی ہے یا اور بھی چاہیے۔”
فاتح کیطرح اسفر نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے تحکم سے پوچھا تھا۔
انہیں دیکھ کر مین گیٹ پر کھڑا باڈی گارڈ بھاگتا ہوا آیا جسے اسفر نے اپنی فلائنگ کک سے وہیں ڈھیر کر دیا۔
“اتنی دیر لگا دی آنے میں۔ کب سے تمہارا انتظار تھا۔”
فرصت سے مسکراتا ہوا اسفر آگے بڑھا اور اسکے ہاتھ میں موجود گن لے لی۔
“اسکا کام وہیں ہیں جہاں اسے استعمال کیا جائے۔”
گارڈ کو فرش پر پڑا چھوڑ کر تنبیہی انداز میں کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔ اسکی اگلی منزل فارم ہاؤس کا وہ لاؤنج تھا جہاں سے تیز میوزک کی آواز باہر تک آرہی تھی۔
باڈی گارڈ کی گن ہاتھ میں لیکر فضا میں سیدھا بازو اٹھائے وہ محتاط قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا۔
“ماضی میں ڈی ایس پی رہنے اور اب اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ہونےکا مجھے یہ فائدہ تو ہوا ہے کہ کرائم سین پر بنا کوئی ثبوت چھوڑے اپنا کام ہوشیاری سے مکمل کر سکوں۔”
ایسا بڑبڑاتے ہوئے اسفر چند قدم ہی دور گیا تھا کہ پیچھے مڑا اور اسٹریٹ فائر کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے ان دونوں زخمیوں یعنی باڈی گارڈ اور لڑکے کو وہیں ڈھیر کر دیا۔
“موقع دیا تھا زندہ رہنے کا لیکن اسفر سے چالاکی کرنے والے
کو مرنا ہی پڑتا ہے۔”
بےخوفی سے کہتا اب وہ فارم ہاؤس کے سامنے کی انٹرنس کے گلاس ڈور کو سلائیڈ کرتا اندر داخل ہوا تھا۔
○●□■○●□■
تیز میوزک کی آواز لاؤنج میں گونج رہی تھی۔
“خرامستیاں۔ واہ” دھیرے سے اسفر بڑبڑایا۔
یہ سب اسکے لیے کسی ایکشن فلم کے سین سے زیادہ نہیں تھا جنہیں دیکھنے کا اسے جنون کی حد تک شوق تھا۔
ایکشن ہیرو کی طرح گن کو اپنی فرسٹ فنگر کے گرد اس نے بڑی مستعدی سے چکر دلایا اور تاک کر سامنے کے کمرے کے لاک پر فائر کیا۔
لاک ٹوٹ گیا اور اندر کا منظر دیکھنے سے پہلے ہی اس نے اپنی نظریں جھکا لیں کیونکہ وہاں کسی عریاں فلم کی شوٹنگ چل رہی تھی۔
“ہتھ تیرے کی۔ کمینگی میں ان لوگوں کا کوئی ثانی نہیں۔”
عالم طیش میں کہتا وہ ان سب پر گن تان چکا تھا جو پھٹی پھٹی نگاہوں سے حیران اسے دیکھ کر خوف سے کانپنے لگے تھے۔
کام کرنے والی لڑکیاں تو سہم کر جلدی جلدی چادریں لپیٹے دیوار کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھیں لیکن وہاں موجود دو کالے سانڈ جیسے آدمیوں نے اس پر اپنے فائر کھول دیے۔
اسپیشل فورسز کی ٹریننگ ہونے کی وجہ سے اسفرکو فائرنگ سے بچنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوئی۔ پھرتی سے پلک جھپکنے تک کی مہلت میں ہی وہ جھنپ لگا کر پھرتی سے لاؤنج میں موجود اسٹیرز کے نیچے خود کو فائرنگ سے محفوظ کر چکا تھا۔
“بہتر ہے کہ اپنی گنز فرش پر پھینک دو۔ تم چاروں طرف سے پولیس کی گھیرے میں ہو۔”
لاوڈ اسپیکر پر اچانک ہی انساونسمنٹ ہوا۔
اسفر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ وہ پرسنل سرچ آپریشن پر تھا۔ ڈیپارٹمنٹ میں تو کیا کسی کو کانوں کان اسکی خبر تک نہیں تھی پھر یہ پولیس کہاں سے آگئی۔
شاکی نظروں سے اسں نے گلاس ڈور سے باہر دیکھا۔
لیکن اسے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیا۔
“میرے پاس وقت کم ہے۔ جو کرنا ہے بس اسی پل کرنا ہے۔”
بڑبڑاتا ہوا وہ اسٹیرز کے نیچے سے نکلا اور کمرے سے بھاگ کر فرار ہونےکی کوشش کرنے والے اس سانڈ جیسے آدمی پر تان کر فائر کیا۔
“اسفر وقار الملک کا نشانہ خطا ہو جائے۔ نو چانس۔”
اپنی ایک اور فتح پر چہک کر کہتا وہ محتاط انداز میں سامنے
کی دیوار کے عقب میں ہوا اور دوسرے سانڈ جیسے آدمی پر نشانہ باندھا۔
ابھی وہ ٹریگر دبانے ہی والا تھا کہ پولیس یونیفارم میں پانچ اہلکار پچھلے دروازے سے پوزیشن لیے اندر داخل ہوئے۔
ایک ساتھ پانچ فائر ہوئے۔ اور سانڈ آدمی کے ساتھ مزید دو افراد
مارے گئے۔
“آپریشن سکسسفل۔”
تالی بجاتا ایک ادا سے چلتا شاہان فاروق اندر داخل ہوا۔
” پولیس کو یہاں لانے والا اور تمہاری بہن کے گناہگاروں کو پکڑوانے والا میں ہی ہوں۔”
قدم قدم اٹھاتا وہ اسفر کے بالکل قریب آیا۔
“اگر تم سوچ رہے تھے کہ ایسا کیسے ہوا تو ایسا میری وجہ سے ہوا صرف میری ہی وجہ سے۔”
گمبھیر آواز میں مگر نرم گرم لہجہ اختیار کیے وہ قدرے توقف سے بولا تھا۔ اسفر کو زور کا جھٹکا لگا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟”اسفر نے اسے پہچانے کے ساتھ ہی
خاصی درشتی سے پوچھا۔
“تمہاری مدد۔”
اتنے ہی سکون سے وہ گویا تھا۔
“کیسی مدد ؟”
اسفر نے شاکی نگاہوں سے اسے گھورتے استفسار کیا۔
“کچھ باتیں پرسنل ہوتی ہیں اسسٹنٹ آف پولیس کمشنر مسٹر اسفر وقار الملک۔”
استہزائیہ انداز میں کہتا وہ اسفر کے کان کے بالکل پاس ہوا۔
اسکی جرآت مندی کو برداشت کرتا اسفر اسے یک ٹک دیکھتا ہی رہ گیا۔
“اور انہیں پرسنل ہی رہنا چاہیے۔”
نرم گرم لہجے کا امتزاج لیے اسکے کان میں سرگوشی کرتا شاہان ذرا بھی نہیں ڈرا۔
البتہ سرگوشی کرنے کے بعد خود سے اسے دور ہٹتے دیکھ کر اسفر کے چہرے پر غیظ و غضب نمایاں تھا۔
●□○●■□●○■
چاروں طرف پھیلی روشنی، گلاب کے پھولوں کی دلفریب خوشبو اور سرخ جوڑے میں سجی وہ خود کو وال سائز مرر میں ششدر تک
رہی تھی۔
“سمجھ نہیں آرہی کہ اپنے دلہن بننے کی خوشی مناؤں یا سوگ۔”
خود سے سرگوشی کرتے وہ افسردہ افسردہ سا مسکرائی تھی۔ جیسے اسے اپنی خوش قسمتی اور بد قسمتی کا بیک وقت سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔
“تم تو ہمیشہ ہی سے سہارے کی محتاج رہی ہو لائبہ فردین۔ تمہیں اپنی زندگی کا کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار ہی کب ہے۔ آج تک آمینہ بی کے فیصلوں پر تم چلتی آئی ہو اور آج سے اس گھمنڈی امیرزادے کے فیصلوں پر تمہیں چلنا ہوگا۔”
نڈھال وجود کے ساتھ خود کو مکمل دیکھتے وہ خود ہی خود
متنفر ہونے لگی۔
“تمہاری مرضی جاننے کی زحمت گوارا ہی کب کی ہے کسی نے جو تم خود کو اس سرخ جوڑے میں سجائے سج سنور کر کھڑی ہو کر خود کو رشک بھری نظر سے دیکھنے کی کوشش کر رہی ہو۔”
“بے مول، بےرقعت اور سہما ہوا وہ وجود ہو تم جسکی قسمت میں ترسنا اور تڑپنا لکھا ہے۔ شاہان سے جدا ہوکر تمہیں اب ہر روز اذیت سہنا ہوگا۔ طعنے، طنز، غیض و غضب بس یہی سب اب سے تمہاری زندگی کا حصہ ہوگا۔”
آنکھوں میں ابلتے آنسو اسکی بےبسی کا اعتراف کرتے ٹپ ٹپ گرنے لگے۔
“شاہان آئی مس یو۔ کیا میں تمہیں یاد نہیں آتی۔”
“پلیز ہیلپ می۔ مجھے اس اذیت سے نکال لو۔ پلیز۔ پلیز۔”
پرشکوہ نظریں اپنے عکس پر ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر وہ رو پڑی۔
□○●■□○●□■
“جو بھی کہنا ہے جلدی کہو۔ تمہارے پاس صرف پانچ منٹ ہے۔”
شاہان اور اسفر آمنے سامنے کھڑے تھے۔
انکے سامنے پانی کی دھیمی دھیمی لہریں آہستگی سے کنارے کو چھو کر پلٹ رہی تھیں۔ نیلی شام کے تمام آثار مدہم پڑ چکے تھے۔ البتہ چاندنی انڈیلتا چودھویں کا چاند پورے جوبن سے چمک رہا تھا اور ایک سیاہ اور تاریک رات کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔
“میں نرمین سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
شاہان سیدھا مطلب کی بات پر آیا تھا۔ اسکی خواہش جان کر اسفر ہل کر رہ گیا تھا۔
“خود کو کسی فلم کا ہیرو سمجھتے ہو کیا؟ جو بھی چاہا وہ کرلیا جو دل کیا بول دیا۔ سوچتے بھی ہو کچھ کہنے سے پہلے
یا۔۔۔ “
الفاظ چبا چبا کر اسفر ابھی اپنی بات کر ہی رہا تھا کہ شاہان بیچ میں بول پڑا۔
“نہیں میں کرنے کے بعد سوچنے کا قائل ہوں۔”
وہی نرم گرم لہجہ اختیار کیے شاہان دلیری سے بولا تھا۔
اسفر اسکی پل پل بڑھتی دیدہ دلیری دیکھ کر سٹپٹا گیا۔
بالکل اسکی ہی طرح وہ بھی کرنے کے بعد سوچنے کا قائل تھا۔
اسے زور کا دھچکا لگا۔
“کب سے جانتے ہو اسے ؟؟”
اچانک سے ہی شاہان کی بلیو شیڈ آئی بالز کو براہ راست تکتے اس نےخاصی درشتی سے پوچھا تھا۔
“تمہاری انہی بلیو شیڈ آئی بالز پر وہ مری ہوگی۔”
اور شاہان سے جیلس ہوتے اسفر نے ایک پل کو سوچا۔
“اس رات سے جب وہ زخمی حالت میں اس ویرانے میں بےرحمی سے پھینکی گئی تھی۔”
اسفر کی سماعت پر اس نے بم پھوڑا تھا۔
“تو کیا کر رہا تھا وہاں؟؟ تو نے اس معصوم سے اپنی دشمنی نکالی ہے کیا ؟؟”
شاہان کی بات سننے کے ساتھ ہی اسفر غصے سے آگ بگولا ہوئے اسکی شرٹ کا گریبان پکڑے اسے سختی سے جھنجھوڑ کر پوچھ رہا تھا۔
پہلی بار شاہان نے اسکے زور اور غصے کا بےدریغ سامنا کیا۔
“نہیں بلکہ میں ہی ہوں اسے ہسپتال پہچانے والا۔”
آہستگی سے بتاتا شاہان اسکے ہاتھ سے اپنا گریبان چھڑانے لگا۔
“کیا کر رہا تھا تو وہاں؟؟؟”
لیکن اسفر ویسے ہی اسکا گریبان پکڑے دھاڑا۔
اسے شاہان کے بتانے پر ابھی بھی یقین نہیں ہوا۔
“وہ میری بائیک کا کلچ ٹوٹ گیا تھا اسی کو چیک کر رہا تھا کہ مجھے جھاڑیوں کے پیچھے سے کسی کے درد سے کراہنے کی آواز آئی اور تب میں وہاں گیا تو مجھے وہ دکھائی دی۔”
وضاحت سے بتاتے ہوئے شاہان نے خود کو کافی پرسکون رکھا
ورنہ اسفر پر غصہ تو اسے بھی بہت تھا۔
“اس بات کو اپنے تک ہی رکھنا۔ اگر کسی کو ذرا سی بھی بھنک پڑی اسکی تو اسفر وقار الملک تمہیں خود اپنے ہاتھ سے شوٹ کرے گا۔ سمجھ گئے۔”
تنبیہ کرتے اسفر غضیلی نگاہوں سے شاہان کو گھور رہا تھا۔
“اوکے۔ اوکے۔ نہیں بتاتا۔ لیکن تمہیں بھی ایک ڈیل مجھ سے کرنی ہوگی۔ نرمین سے میری شادی کروانے کی۔”
قطعی انداز میں شاہان گویا ہوا۔
“یہ اتنا آسان نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔”
اسفر نے اس پر واضح کیا۔
“تو پھر میرا خاموش رہنا بھی ناممکن ہے۔ اور وویمن رائٹس کے لیے یہ خبر کتنی سودمند ثابت ہوسکتی ہے اسے مجھ سے بہتر کون جاسکتا ہے۔ پورا پورا فائدہ۔”
آنکھ کے اشارے سے اسفر کو جتلاتا ڈیٹائی سے کہتا شاہان وہاں سے جانے کے لیے پلٹا۔
“رکو۔ اوکے ڈیل ڈن۔”
اسکے مڑتے ہی اسفر نے روکتے ہوئے اسے پکارا۔
“لیکن یاد رکھنا اگر تم نے کوئی ہوشیاری دکھائی تو میں تمہیں
زندہ نہیں چھوڑوں گا۔”
دانت پیس کر وارن کرتا اسفر دل ہی دل میں شاہان سے خاصا شاکی تھا۔
“ڈونٹ وری۔ آئی کیپ مائی پرامس۔”
بےفکری سے کہتا شاہان وقت ضائع کیے بغیر وہاں سے چل پڑا
“آئی ول سی یو۔”
اسکو دور جاتا دیکھ کر اسفر کچھ سوچ کر بڑبڑایا تھا۔
□●■□●○●□■
ینشن ایک بار پھر روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ چودھویں کی رات اور پورے چاند کی چاندنی لان کے اس قدرے خاموش حصے پر اپنی رمک دکھا رہی تھی جب لائبہ نے اپنے کمرے کی کھڑکی
سے باہر جھانک کر دیکھا۔
دراصل تو وہ سناٹے اور خاموشی میں اپنے دل کی آواز سننا چارہی تھی۔ اپنے اندر جاری کشمکش کو پرسکون کرنا چارہی تھی۔
گہرے گہرے سانس لینے کے بعد اسے اپنا آپ ہلکا پھلکا محسوس ہوا۔
لمحے بھر کو وہ مسکرائی۔ لیکن بلاارادہ بس خود کو خوشگوار احساس دینے کو۔ اداسی اور افسردگی کی کالی رات میں بس چند پل آسودگی سے جینے کو۔
♡♡وہ نہیں ملا تو ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا
اسے یاد کر کے نہ دل دکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا♡♡
♡♡نہ گلہ کیا، نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جدا ہوئے
نہ تو بےوفا، نہ میں بےوفا، جو گزر گیا سو گزر گیا♡♡
رندھی آواز میں اسکے لپ اسٹک زدہ ہونٹ ٹوٹے دل کی کیفیت بتاتے ہلنے لگے۔ لائبہ کی آنکھوں کے کنارے گیلے ہونے لگے۔
پورے چاند پر حسرت بھری نظر ڈال کر اپنے بوجھل وجود کو
زندہ ہونے کا احساس دلانے لگی۔
♡♡تجھے اعتبار و یقین نہیں، نہیں دنیا اتنی بری نہیں،
نہ ملال کر میرے ساتھ آ، جو گزر گیا سو گزر گیا♡♡
♡♡وہ وفائیں تھیں کہ جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اسے گلے لگا، جو گزر گیا سو گزر گیا♡♡
خالی ہاتھ چاند کی طرف اٹھائے وہ اپنی مٹھی میں اسے بند کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
“تم ہار گئیں لائبہ آج بھی ہار گئیں۔ فل مون تمہارا نہیں ہوا۔”
چاندنی بکھیرتا آب و تاب سے چمکتا پورا چاند لائبہ آج بھی اپنی مٹھی میں بند کر نہ پائی تھی جیسے آج سے پہلے اس سے کبھی نہیں ہوا تھا۔
“لیکن ایک دن تم میری مٹھی میں ضرور بند ہوگے۔”
ایک بار پھر نئے عزم سے کہتی وہ کھل کر مسکرائی تھی۔
اسی پل اپنے پیچھے اسے کسی کے کمرے میں ہونے کا احساس ہوا تھا اور وہ تیزی سے پیچھے پلٹی تھی۔
“تم۔” چونک کر اس نے کہا تھا۔
“ششش۔” اسکے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا وہ اسے شہادت کی انگلی سے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا۔
اس سے خود کو سنبھالنے کی کوشش میں اسکا پاؤں مڑا تھا اور وہ گرتے ہوئے اسی کی بانہوں میں مقید ہوگئی تھی۔
