584.3K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareb Nazar Episode 18

Fareb Nazar by Gazal Saima

“اوہ تو اب گرینی چاہتی ہیں کہ آپکی دوسری شادی اس آمینہ بی سے ہو۔ واہ۔ اچھا خاندان ہے آپکا انور وقار الملک۔ جہاں سزا بھی پھولوں کی سیج پر دی جاتی ہے۔”

تالی بجاتے ہوئے نیہان نے اپنے سامنے بیٹھے انور وقار الملک پر طنز کے نشتر چلائے۔

نیہان کو انور وقار الملک نے گرینی کے فیصلے سے جب سے آگاہ کیا تھا۔ اسکی تند و تیز باتیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

“نیہان جو کہنا ہے مجھے کہو۔ لیکن میرے خاندان کو برا بھلا کہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا۔”

انور غصے سے دھاڑا۔

نیہان کی جلی کٹی باتیں سن سن کر۔۔۔ آخرکار اسکا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔

“تمہیں تو بس عاشقی کرنا آتی ہے انور وقار الملک۔ پہلے مجھے دو سال تک اپنے جھوٹے پیار کے جال میں پھنسایا اور اب آمینہ

کو میری سوتن بنانے والے ہو۔”

نیہان کا غصہ اتنی جلدی کہاں ختم ہونے والا تھا۔

تلخی سے کہتی وہ باہر جانے لگی۔

“ایک بات تم کان کھول کر سن لو نیہان ڈئیر۔”

انور نے اسکا بازو پکڑ کر اسے روکا۔

“گرینی کا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔ اس لیے کچھ بھی کرنے اور کہنے سے پہلے اتنا سوچ لینا کہ اگر انہوں نے تمہیں چھوڑنے کا حکم دیا تو انور وقار الملک ایک منٹ نہیں لگائے گا تمہیں مینشن سے باہر کرنے میں۔”

انور کا درشت لہجہ نیہان کی سماعتیں سن کرگیا۔

وہ جہاں کھڑی تھی وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔

“تم مجھے چھوڑ دو گے انور۔ ہمارا رشتہ اتنا کمزور ہے۔ تم نے تو دنیا میں سب سے زیادہ محبت مجھ سے کی ہے۔”

بنا پلک جھپکے حواس باختہ نیہان اسکے سامنے زخمی ہرنی کیطرح تڑپی۔

“یہاں فیصلے کا اختیار صرف گرینی کو ہے۔ اچھی طرح اپنے دماغ میں یہ بات بٹھالو۔”

اسکا بازو زور سے دباتے ہوئے انور نے کہا تھا۔

اور پھر اسے یونہی ہکابکا کھڑا چھوڑ کر وہ باہر نکل گیا۔

نیہان نے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اسے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔

انکا رشتہ گرینی کے ایک فیصلے پر ٹوٹ سکتا ہے۔ اسے زور کا دھچکا لگا تھا۔

○●□■○●□■●

“اسفر جانی یہ کونسا ہسپتال ہے جو وجود ہی نہیں رکھتا لیکن مریض کی مرہم پٹی اچھی سی کرتا ہے۔”

اسفر اور لائبہ کے آتے ہی اظہر نے چھیڑا تھا۔

اسکے پیچھے جب انور وقار الملک اور اظہر وقار الملک بھی اپنی اپنی کار لے کر نکلے تھے تو کچھ دور جاکر اسفر کی کار اچانک ہی انکی نظروں کے سامنے سے اوجھل ہوگئی تھی تب وہ دونوں سارا معاملہ سمجھ گئے تھے آخر کو اسفر انکا بھائی تھا اور بھائی بھی وہ جو ایک نمبر کا اکڑ اور کھر دماغ تھا اوپر سے سونے پر سہاگہ موصوف کا تعلق پولیس ڈیپارٹمنٹ سے تھا۔

قدرت بھی دینے پر آئے تو چھپر پھاڑ کر دیتی ہے۔ وہ جیسا تھا جیسی سختی اسکی فطرت میں شامل تھی ویسا ہی عہدہ اسکے

نصیب میں لکھ دیا گیا۔ اب اسکی اپنے عہدے سے پوری پوری نبھ رہی تھی۔

اسلیے سب ماجرا اظہر پہلے ہی سمجھ چکا تھا۔

اب صرف لطف اندوز ہونے کے لیے اسفر کو جتلا رہا تھا۔

لائبہ نے نظر جھکائے رکھنے میں ہی عافیت جانی اور تیزی سے

وہاں سے نکل کر گرینی کے کمرے کیطرف بڑھ گئی۔

ابھی اسے گرینی کو بھی سب بالکل ویسا ہی بتانا تھا جیسا اسفر نے اسے کہا تھا۔

البتہ اسفر وہیں رک گیا تھا اور جب تک اظہر کو وہ چپ نہیں کرادیتا وہاں سے ہلنے والا بھی نہیں تھا۔

“اظہر جانی یہ وہ ہسپتال ہے جو فری سروسز دیتا ہے لیکن صرف اپنی پسند کے انسان کو۔”

اسی کے پوچھنےکے انداز میں اسفر نے اسے جواب دیا۔

اس کی حاضر دماغی کا جواب نہیں اظہر بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ لاجواب ہوگیا۔

“اور وہ پسند کا انسان جب آپکی بیوی ہو تو فری سروس کے ساتھ ساتھ فری ٹائم بھی کوائنٹ نہیں کیا جاتا۔”

اظہر نے اسے اور بھی تنگ کرنے کو کہا تھا۔

ورنہ اسفر اپنے ٹائم کا جتنا پابند تھا اسکا شمار بھی وقت طلب کام تھا۔ اپنے پل پل کا وہ حساب رکھتا تھا۔

ممکن ہی نہیں تھا کہ اسے کہیں پہنچنا ہو اور وہ لیٹ ہوجائے۔

البتہ ابھی وہ پچھلے تین گھنٹے لائبہ کے ساتھ گزار کر واپس لوٹا تھا۔

“ہاں تو۔ کسی کو پرابلم ہے کیا۔”

کندھے اچکاتے اسفر بےفکری سے بولا تھا۔

“ارے نہیں اسفر جانی۔ کوئی ہوتا کون ہے آپکی لائف میں دخل دینے والا۔”

اظہر نے فورا ہار مان لی تھی۔ آخر کو اسکے بزنس میں ایک بڑی رقم اسفر وقار الملک ہی انوسٹ کرتا تھا۔ اور اسکا کسی بھی قسم کا رسک لینے کا بالکل کوئی ارادہ نہیں تھا۔

“ایگزیٹلی۔”

ایک ادائے بےنیازی سے کہتا ہوا اسفر۔۔۔ لائبہ کے پیچھے گرینی کے کمرے کی طرف چل دیا۔

اس نے وہاں کیا کچڑی پکائی ہے اسے بھی جاننے کا اشتیاق ہوا۔

“آخر اسفر وقار الملک آپ بھی تو دیکھیں آپکی انتہائی جذباتی بیوی کچڑی پکانے میں کتنی مہارت رکھتی ہے۔”

چلتے چلتے وہ بڑبڑایا تھا۔

♡♡ میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے

تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں ♡♡

لائبہ کا دلربا چہرہ دھیان میں آنے پر وہ غیر ارادی طور پر ہی مسکرا اٹھا۔

○●□■○●□■

“یہ بات اتنی بھی غیر اہم نہیں ہے انور کہ آپ اس سارے معاملے سے اتنی لاپرواہی برت رہے ہیں۔”

نورین بیگم تنے ہوئے اعصاب اور خشک لہجے میں انور کے کمرے میں آتے ہی گویا ہوئیں۔

گرینی کے حکم پر پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے فوری طور پر

انور اور اسفر کو بلایا تھا۔ اسفر کے آنے میں تو وقت تھا لیکن انور انکا پیغام ملتے ہی آگیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد سے اسکو اچھی طرح اندازہ تھا کہ اب اسے تمام بڑوں کی نصیحتیں تو سننا ہی ہونگی۔

اسی لیے بغیر کوئی چوں چراں کیے نورین بیگم کی خدمت میں وہ حاضر ہوگیا تھا۔

“کئی سال پہلے کا قصہ آپکی لاپرواہی کی بدولت آج پھر ہمارے حلق میں ہڈی کی طرح پھنس گیا ہے۔”

بیزاری سے نورین بیگم نے پہلو بدلا تھا۔

“ہم نے ویسا کچھ نہیں کیا مام۔ آمینہ نے صرف اس سب میں ہمیں پھنسایا ہے۔”

سبکو اپنی بےگناہی کا یقین دلا دلا کر انور اب تھک چکا تھا۔

بےتاثر لہجے میں اس نے کہا۔

“ہم خوب سمجھتے ہیں ان دونوں بہنوں کی چالوں کو۔ اتنے سال

بعد بھی انکی وہی روش ہے۔ لیکن ہم صرف گرینی کی وجہ سے

خاموش ہیں ورنہ مینشن سے ابھی تک ان آفت کی پڑیوں کو باہر پھینکوا چکے ہوتے۔”

قدرے ناگواری سے نورین بیگم نے کہا تھا۔

“پھر مام جب آپ جانتی ہیں سب کچھ تو مجھے قصوروار کیوں

سمجھتی ہیں؟”

انور کافی متذبذب تھا۔

“تاکہ گرینی کی نظروں میں خود کو سرخرو کر سکوں ورنہ وہ مجھے اس شاہانہ کے جیسا ہی گردانے گیں۔”

سردمہری سے نورین بیگم نے کہا۔

“افف۔ مام یہ کیسا حسد ہے آپکا شاہانہ آنٹی سے جو انکے مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوا۔ کتنے سال ہوچکے ہیں انہیں مرے ہوئے اور آپ آج بھی ان سے ہی مقابلہ کرتی ہیں۔ حد ہے۔”

انور سخت متاسف تھا۔ نورین بیگم کی منطق اسکی سمجھ سے بالکل باہر تھی۔

“یہ میری انا کا مسئلہ ہے انور وقار الملک۔ اس سب سے آپکو غرض ہو بھی کیسے سکتی ہے۔ آپ سے تو ایک آمینہ تک ہینڈل نہیں ہو پائی۔”

نورین بیگم کا انداز خاصا روکھا تھا۔

اپنی ماں سے ایسا کچھ سننے کی انور کو امید نہیں تھی۔ گرینی کے بعد نورین بیگم نے بھی اسکی امیدوں کا گلا گھونٹ ڈالا تھا۔

بنا کچھ کہے اس نے بس خالی خالی نظروں سے نورین بیگم کیطرف کچھ سیکنڈ دیکھا تھا۔

اپنی حسد کی آگ میں اپنے ہی جوان بیٹے کی عزت نفس کو وہ راکھ کر چکی تھیں اور انہیں اسکا احساس تک بھی نہیں تھا۔

ٹوٹے دل اور ناامیدی کے گہرے سائے میں اس نے باہر کیطرف قدم اٹھائے تھے۔

“آپ نے بالکل اچھا نہیں کیا آمینہ بی۔ بالکل اچھا نہیں کیا۔

اسکا حساب آپکو چکانا ہی ہوگا”

سیڑھیاں چڑھتا وہ خاصا تلخی سے بڑبڑایا تھا۔

○●□■○●□■○●

“بالکل نہیں گرینی۔ بالکل بھی نہیں۔ جیسا آپ سوچ رہی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔”

اسفر کی خواہش کے عین مطابق لائبہ پچھلے پندرہ منٹ سے گرینی کو کنوینس کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

لیکن گرینی اسکی بات کا یقین کرنے کو تیار ہی نہیں تھیں۔

“لائبہ چندا آپکو پریشان ہونے کی بالکل بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس احمق نے کچھ بھی ایسا ویسا کیا ہے تو آپ ہمیں

بلاخوف و خطر بتاسکتی ہیں۔ گرینی خود اس نامعقول کے کان کھینچ کر لمبے کردینگی۔”

گرینی نے پیار سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

وہ کتنی جلد پریشان ہوجاتی ہے اور پریشانی کے بعد بیہوش۔

جب سے انہیں پتا لگا تھا تب سے وہ اس پر ذرا سا بھی بوجھ

نہیں ڈالتی تھیں۔ وہ انہیں بہت زیادہ عزیز تھی۔

“نہیں ناں گرینی۔ ہم آپکو کب سے یہی تو بتا رہے ہیں ایسا کچھ بھی نہیں کیا انہوں نے ہمارے ساتھ۔”

لائبہ کے بات کرنے کے دوران ہی اسفر کمرے کی دیوارگیر کھڑکی سے کان لگائے کھڑا ہوا تھا۔

“کہیں آپ ڈری ہوئی تو نہیں ہیں لائبہ چندا؟؟”

گرینی نے لاڈ سے اسکے کندھے پر جھولتا دوپٹہ اسکے سر پر اڑایا تھا۔

طمانیت کا گہرا احساس لائبہ کو اپنے وجود میں اترتا محسوس ہوا۔

اسی دوران اسکی نظر سامنے وال سائز مرر پر گئی جہاں اسفر کی مبم شبیہ اسے دکھائی دی۔

پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس نے اسکی شبیہ کا بغور جائزہ لیا۔

کان لگائے وہ جانے کب سے انکی باتیں سن رہا تھا۔

اسکا دل زور سے دھڑکا۔ اسے گھٹن محسوس ہوئی۔

اسکے لب بھینچ گئے۔ حیرت پر غصہ غالب آیا۔

:کیا ضرورت ہے اس طرح ہماری جاسوسی کرنے کی۔ کیا ہم پر اتنا بھی اعتبار نہیں۔ کھڑوس کہیں کے۔”

دل ہی دل میں لائبہ نے اسے ہزارہا باتیں سنا ڈالیں۔

:کیا ہوا میری چندا۔ آپ کہاں کھو گئیں؟؟”

لائبہ کو گمسم دیکھ کر گرینی فکرمند ہوئیں۔

البتہ مرر کیطرف پشت ہونے کی وجہ سے اسفر کے وہاں ہونے کا انہیں بالکل بھی علم نہیں تھا۔

“وہ ہمارا گلا خشک ہورہا گرینی۔ ہم پانی پی کر آتے ہیں۔”

چونک کر لائبہ نے کہا اور بہانہ بناکر وہاں سے نکل گئی۔

باہر نکلتے ہی لائبہ کا سامنا اسفر سے ہوگیا۔

جو اسے باہر آتا دیکھ کر کھڑکی سے ہٹ کر اسی طرف آچکا تھا اور اب اسکا راستہ روکے اسے فرصت سے تکنے کا شفل فرما رہا تھا۔

“چپ کر کسی کی بات سننا کتنی بری بات ہے آپکو اتنا بھی نہیں پتا کیا۔”

اسفر کو دیکھتے ہی لائبہ اس سے الجھ پڑی۔

“کسی کی بات سننا ہوگی بری بات لیکن میں نے تو اپنی بیوی کی بات سنی ہے وہ بھی اس لیے۔۔۔ کہ وہ ایک نمبر کی بھلکڑ ہےکہیں کچھ بھول نہ جائے بتانا۔”

کمال ڈیٹائی سے اسفر نے اسکے روبرو اپنا بےقصور ہونا ثابت کیا۔

“خدا پوچھے گا آپ جیسے ستمگر سے۔”

چہرے پر گری لٹ ہٹاتے لائبہ دھڑلے سے بولی تھی۔

“وہ تو سبکو ہی پوچھے گا لائبہ ڈارلنگ۔۔۔ آپکو بھی کہ آپ نے ابھی تک اپنے شوہر کو اسکے حق سے محروم کیوں کر رکھا ہے۔”

اسی ڈیٹائی سے وہ گویا ہوا۔

لائبہ اسے مبہوت دیکھے گئی۔ کتنا آسان تھا اسکے لیے کچھ بھی بول دینا۔ کچھ بھی سوچ لینا۔

“آپ کچھ بھی بولنے سے پہلے ایک بار سوچ ضرور لیا کریں۔ اسفر وقار الملک۔”

ترش لہجے میں کہتی وہ اسکے سامنے سے ہٹ گئی تھی۔

اسکے برف جیسے ٹھنڈے جذبات پر یکلخت اسفر نے قاری وار کیا تھا۔

سبک قدموں سے وہ اپنے کمرے کیطرف دوڑی تھی۔

“کچھ کچھ ہوتا ہے۔”

اسفر کی عالم خمار میں ڈوبی سرگوشی اسکے پیچھے گونجی تھی۔

♡♡عجب اپنا حال ہوتا۔۔۔ جو وصال یار ہوتا

کبھی جان صدقے ہوتی۔۔۔۔ کبھی دل نثار ہوتا♡♡

♡♡کوئی فتنہ تا قیامت۔۔۔۔ نہ پھر آشکار ہوتا

ترے دل پہ کاش ظالم۔۔۔۔۔ مجھے اختیار ہوتا♡♡

وہیں کھڑے کھڑے لائبہ کی مہک اپنے چار سو محسوس کرتا اسفر بیخودی میں گنگنایا تھا۔