Fareb Nazar by Gazal Saima NovelR50458 Fareb Nazar Episode 9
Rate this Novel
Fareb Nazar Episode 9
Fareb Nazar by Gazal Saima
♡♡بڑے وثوق سے دنیا فریب دیتی رہی
بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے رہے♡♡
“لائبہ تم اپنے ہوش میں تو ہو یا نہیں۔ یہ کیا بیوقوفی کر بیٹھی ہو۔ اس شخص کو اپنا شوہر تسلیم کرلیا ہے اسکے بارےمیں بغیر کچھ جانے ہی۔”
آمینہ ڈریسنگ روم میں اس پر چلا رہی تھی اور وہ حسب عادت
بس خاموشی سے اسکی ڈانٹ سن رہی تھی۔
“بی آپ نے مجھے کبھی اس سچ کے بارے میں بتایا کیوں نہیں۔
مجھ سے کیوں اتنی بڑی بات چھپائے رکھی آپ نے؟؟۔”
لائبہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے افسردہ بیٹھی اپنی جیولری ایک ایک کر کے اتار رہی تھی۔
“میری چندا،،میری لائبو،،میں کیا بتاتی۔ کبھی ایسا بھی کچھ ہوگا میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔”
بی خود کو اسکے سامنے بےقصور ثابت کرنے لگی۔
“کیوں بی کیوں جب آپ نے میری ذمےداری اٹھائی تو اتنا بڑا سچ کیسے بتانا بھول گئیں۔”
اسکی آنکھوں کے کنارے گیلے ہونے لگے لیکن آمینہ سے کوئی
سوال کرنا اسکے بس میں نہیں تھا اتنے سبکے بعد بھی وہ چپ
ہی رہی۔
“نہیں لائبہ،،میری جان،،بی نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا۔
یقین کرو۔”
اسکے سامنے آمینہ جھوٹ موٹ کا رونے لگی۔
“نہیں بی نہیں،،میں آپکو الزام نہیں دے رہی بس پریشانی میں
کچھ سمجھ نہیں پارہی۔ پلیز آپ روئیں نہیں۔”
اس نے جلدی سے آمینہ کو روتا دیکھ کر چپ کرایا۔
بی اسکی وجہ سے روئے وہ ایسا کیسے ہونے دے سکتی تھی۔
“کیا میں اندر آجاوں۔”
وہ گرینی کی آواز تھی جو ان سے کوئی بات کرنے آئیں تھیں۔
“جی۔ جی گرینی آئیں۔ ہم تو بس جانے کی ہی تیاری کر رہیں۔
آمینہ جھٹ سے بولی جبکہ لائبہ نظر جھکا کر کھڑی رہی۔
اسکے دل میں عجیب عجیب وسوسے آرہے تھے جانے گرینی اب
کیا کہنے آئیں ہیں۔ اسکے چہرے سے صاف پریشانی جھلکنے
لگی۔ “ادھر آو میرے پاس لائبہ گڑیا۔”
گرینی نے صوفے پر براجمان ہوتے اسے بڑے ہی لاڈ سے بلایا
تھا۔ وہ ان سے نظر ملانے کی ہمت تو نہیں کرسکی لیکن انکا
ہاتھ تھام کر انکے پاس وہیں نیچے بیٹھ گئی۔
“جیتی رہو۔ جیتی رہو۔”
گرینی نے اسکے سراپے کو ستائشی نظروں سے دیکھا وہ
کئی سال بعد اسے یوں اپنے پاس بیٹھا دیکھ پائی تھیں۔
گلابی رنگ کا لمبا گہرے دار فراک اور سر پر پیلا دوپٹہ ڈالے
وہ اس بات سے بےخبر تھی کہ گرینی اسے کتنے اشتیاق سے
دیکھ رہیں تھیں۔ دودھیا رنگت، شہد آنکھیں، لمبے سلیقے
سے اسٹائل دیے بال اور نرم و نازک ہلکے گلابی مائل ہاتھ پاؤں
وہ سچ مچ سراپہ حسن تھی۔
“ماشاء اللہ۔ ماشاءاللہ۔”
اسکو نظر نہ لگ جائے۔ گرینی نے اسے دعا دی۔
وہ چپ چاپ ویسی ہی بیٹھی رہی۔
البتہ آمینہ کبھی گرینی کو اور کبھی اسکو ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔ وہ مخمصے کا شکار تھی کہ آخر گرینی کے وہاں آنے
کی کیا وجہ ہے۔
“میری چندا۔میرے اسفر کی دلہن۔”
گرینی نے کہنا شروع کیا۔ لائبہ کے ساتھ آمینہ کے کان بھی کھڑے ہوے۔
“ہم شرمندہ ہیں کہ تمہیں پہلے کبھی نکاح کے بارے میں نہیں
بتا پائے کیونکہ ہمیں لگتا تھا کہ تمہیں وہ سب یاد ہی ہوگا۔
جس صورتحال میں تمہارا اور اسفر وقار الملک کا نکاح ہوا تھا۔
لیکن تمہاری بی نے ہمیں کبھی یہ بتایا ہی نہیں کہ تم اپنی
دماغی بیماری کی وجہ سے پریشانی کی حالت میں بیہوش ہوجاتی ہو اور ہوش آنے پر اس وقت ہوا کچھ بھی تمہیں یاد
نہیں رہتا۔میری چندا ہم تم سے شرمندہ ہیں۔”
اسکے سر پر گرینی نے شفقت سے ہاتھ رکھا۔
لیکن لائبہ سم گم تھی۔
گرینی نے اس ہی کی بیماری کا ذکر کیا اور وہی اپنی بیماری سے بےخبر تھی۔ اسکا سر چکرانے لگا۔ تو کیا وہ جب بھی پریشانی کے باعث بیہوش ہوتی ہے تو واقعی سب بھول جاتی ہے جو اسے پریشانی دیتا ہے۔ لائبہ کو سب سچ نہیں لگ رہا تھا۔
بی نے اسکی بیماری کے بارے میں کبھی اسے بتایا کیوں نہیں وہ سمجھ نہیں پارہی تھی۔
“اسفر وقار الملک تمہیں ہر حال میں خوش رکھے گا۔
وہ تمہیں بہت پسند کرتا ہے میری جان۔ میری لائبہ۔ اسلیے تم کچھ بھی سوچ کر پریشان مت ہونا۔”
گرینی نے اسکی پیشانی چومتے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیکن وہ نظر جھکائے ویسی کی ویسی ہی گمسم بیٹھی تھی۔
“اچھا اب ہم چلتے ہیں۔ خدا تمہاری حفاظت کرے۔”
اسے دعا دے کر گرینی جانے کیلیے کھڑی ہوگئیں تو وہ بھی
اٹھ کھڑی ہوئی لیکن کچھ بھی بولے بنا۔
گرینی کے جانے کے بعد اس نے البتہ آمینہ کیطرف نظر اٹھا کر
دیکھا تھا جو ایک اور سچ اسکے سامنے آجانے پر الجھن کا
شکار تھی اور بالکل خاموش کھڑی اپنا جرم قبول کر رہی تھی۔
اسے خاموش کھڑا دیکھ کر لائبہ کی نظر جھک گئی۔ ایک وہی
تو تھی جس پر اسے خود سے زیادہ بھروسہ تھا۔
اسکی بی اسکی جان تھیں وہ انکے کسی فیصلے سے انکار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی لیکن وہ کیوں چھپ کھڑی ہیں،،، کچھ بولتی کیوں نہیں اپنی صفائی میں سوچ سوچ کر لائبہ ہلکان ہوتی گئی۔
○●□■○●□■○●
“نرمین کس نے کیا ہے آپکے ساتھ یہ سب،،،اپنے بھیا کو بتائیں،،،،قسم سے بھیا خود اپنے ہاتھ سے ان شیطانوں کو گولی مارینگے۔”
نرمین کی حالت دیکھ کر اسفر وقار الملک خود پر قابو نہیں رکھ
پارہا تھا۔
اسکا بس چلتا تو ابھی اسکے گناہگاروں کو جنم رسید کر دیتا۔
“بھائی آپ مجھے گھر لے چلیں۔ میں آپکو ایک ایک کے بارے
میں بتاونگی۔ یہاں مجھے کوفت ہورہی ہے۔ ہر کوئی مجھے
عجیب ترس کھانے والی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے مجھے اپنا
آپ لاش کے جیسا لگ رہا ہے۔ خدارا مجھے گھر لیں چلیں۔”
پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے نرمین اسفر کے سینے سے لگ گئی۔ “فکر نہیں کریں میری بہنا،،،بھیا ایک ایک کمینے سے بدلہ لیگا۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارے گا ان بدبختوں کو جنہوں نے آپکا
یہ حال کیا ہے۔”
اسے حوصلہ دیتے اسفر وقار الملک خود بھی ٹوٹ رہا تھا۔ اسکی
حالت دیکھ کر اسکا خون کھول اٹھا تھا۔
مینشن میں فکشن کی وجہ سے کئی مہمان ابھی بھی ٹھہرے
ہوئے تھے اور اس خوشی کے موقع پر ایسا کچھ بھی اگر سامنے
آجاتا تو بہت زیادہ بدنامی ہونے والی تھی۔ اسلیے اسفر نے نرمین
کو بجائے مینشن کے اپنے فارم ہاوس پر کچھ دن رکھنے کا پلان
کیا تاکہ کوئی نیا مسئلہ مینشن میں دھوم دھام سے ہونے والی
شادیوں میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
“بس بھیا مجھے یہاں سے لیں جائیں۔ مجھے وحشت ہو رہی
یہاں۔”
دماغی طور پر نرمین بہت زیادہ ڈسٹرب تھی،،،ٹرانس کی کیفیت میں مبتلا ہوئے وہ صرف ہسپتال سے جانے کی ضد لگائے ہوئے
تھی۔
“ہاں میری پرنسس،،،میری بہنا،،،بھیا آپکو ابھی اپنے ساتھ
لیکر جائیں گے۔ آپ فکر نہ کریں۔”
اپنے آنسو ضبط کیے وہ اسے دلاسہ دے رہا تھا۔
لیکن بار بار اسکا ضبط جواب دینے لگتا۔
آج اسکے دل کی کیفیت بہت عجیب تھی،،، وہ خود کو جانے
کیسے کمپوز کیے ہوئے تھا ورنہ آج اسکے ساتھ ہونے والے دونوں
ہی واقعات اسکے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں تھے۔
لیکن وہ بھی اسفر وقار الملک تھا چٹان کے جیسا سخت اور
کھر دماغ۔ اسے خطروں سے کھیلنے کا ہمیشہ سے شوق
تھا اور وہ خود پر قابو رکھنا اچھی طرح جانتا تھا۔ اسلیے اس
سب کے باوجود کوئی بھی اسکا چہرہ دیکھتا تو وہ پرسکون ہی
دکھائی دیتا۔
“اصل کمال ٹھنڈا رہنے میں ہے۔ سمندر جتنا گہرا ہوتا ہے
اتنا ہی پرسکون بھی۔ بڑے سے بڑا ددر اپنے اندر چھپا لینا
ہی اصل مردانگی ہے۔”
اتنی بری صورتحال میں بھی وہ پرسکون رہنے کا قائل تھا۔
وہ خود ہی اپنا مسیحا اور خود ہی اپنا نجات دہندہ تھا۔ جب
اسکی مرضی ہوتی وہ ایک جست لگا کر مصیبت سے باہر نکل جاتا،،،، اور جب تک اسکی مرضی نہیں ہوتی مصیبت اس پر چھائی رہتی۔ بس وہ ایسا ہی تھا سوچے بنا کر جانے والا۔
♡♡نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پروہ کیوں کریں ہم♡♡
○●□■○●□■○●□
“بی کیا بات ہے کیا مجھ سے ناراض ہیں ابھی تک؟؟”
لائبہ آج تک کبھی بی سے ناراض نہیں ہوئی تھی۔ ان دونوں بہنوں
کی زندگی میں کبھی اسکی نوبت ہی نہیں آئی تھی لیکن اب جو
اسفر انکے بیچ آیا تو وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرائے ہوئے
تھیں۔
“تمہاری بی، تمہاری مجرم ہیں لائبہ،،، آج تک تم نے سب سے
زیادہ اعتبار،، سب سے زیادہ بھروسہ اپنی بی پر کیا اور بی ہی نے تم سے اتنا سب سچ چھپائے رکھا۔”
آمینہ نے اسے دیکھ بغیر ہی اپنی بات کہی تھی۔
اسکی جھکی نظر،،، اسکا افسردہ لیجہ لائبہ کو یہ بتانے کیلیے
کافی تھا کہ اس سے وہ کس قدر شرمندہ ہے۔
“نہیں بی،،، ہرگز نہیں،، لائبو کیسے اپنی بی کو دکھ پہنچا سکتی ہے،،،کیسے انہیں تکلیف دے سکتی ہے۔”
اس نے جلدی سے انکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا وہ اس سے بات کرنے کے دوران مسلسل اپنی انگلیوں کو بند کھول کرتی رہیں تھیں اور ایسا وہ تب ہی کرتیں تھیں جب وہ کسی بات سے بہت زیادہ ہرٹ ہوں۔
“نہیں لائبو،،،بی تمہاری گنہگار ہیں،،بی کو کوئی حق نہیں
پہنچتا تھا کہ وہ اپنی لائبو کو اس سب سے بےخبر رکھیں۔
مجھے معاف کر دو لائبو میری جان،،،میری چندا،،،میں تمہاری گنہگار ہوں۔”
انکی آنکھوں سے آنسو پھسل کر چہرہ پر بہہ گئے۔
“نہیں بی،، پلیز ایسا مت کریں یوں آپ روئیں تو نہیں،،، لائبو
جو کچھ ہے آج صرف آپکی وجہ سے ہے۔ پلیز پلیز آپ اپنے آپکو گنہگار مت سمجھیں۔”
لائبہ نے آمینہ کے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہی اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“تم سچ مچ مجھ سے ناراض نہیں ہو لائبو؟؟”
آمینہ نے اسکی پیشانی چومی تو لائبہ کے دل میں اپنی بڑی بہن کی محبت پہلے سے اور بڑھ گئی۔
بی نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
کہیں ایسا تو نہیں وہ اپنے دل میں کوئی بات دبائے ہو اور اوپر اوپر سے اس سے رضامندی ظاہر کر رہی ہو۔ کچھ بھی ہو لیکن
وہ اپنی باتیں دل میں چھپائے رکھنے کی عادی تھی اور بی سے
زیادہ اسکی عادتوں کے بارے میں اور کون جاتنا تھا۔
“سچ مچ بی،،لائبو اپنی بی سے خفا کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔” اس نے فرط محبت سے آمینہ کا تھاما ہاتھ چوما۔
“میری جان،،،میری لائبو،،،بی تم پر قربان۔”
اسے خود سے چمٹاتے آمینہ نے بھی اپنی محبت کا بھرپور اظہار کیا۔
“بی آپ لائبو کی جان ہیں،،، لائبو اپنی بی کے صدقے واری”
آمینہ کے پیار کے آگے وہ بھی اپنے پیار کا برملا اظہار کر گئی۔
“اچھا اب جلدی سے یونیورسٹی کیلئے تیار ہو جاؤ،،، ایسا نہ ہو بی کیوجہ سے تمہارا پہلا پیریڈ مس ہوجائے۔”
آمینہ نے شرارت سے اسے دیکھا۔
“بی آپ بھی ناں،، آج میرا پہلا کیا دوسرا پیریڈ بھی فری ہے کیونکہ سائیکالوجی کی پروفیسر لیف پر ہیں۔”
“اوہ اچھا تو پھر کیا دیر سے جانے کا ارادہ ہے ؟؟؟”
اس سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ بی اب صوفی کیلیے فیڈر بنانے لگیں تھیں۔
“نہیں جانا تو جلدی ہے کیونکہ فری پیریڈ میں مجھے لائبریری سے بک ایشو کرا کر اپنے نوٹس کمپلیٹ کرنے ہیں،،، بس ایک مینتھ ہی تو رہ گیا ہے فائنل ایگزیمز ہونے میں۔”
لائبہ انہیں مصروف دیکھ کر اپنے لیے جلدی جلدی ٹوسٹ سینکنے لگی۔
“چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن یونیورسٹی میں بھوکی مت رہنا کینٹین جاکر کچھ کھا ضرور لینا۔ مجھے تم دن بدن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہو۔”
اسے حسب معمول تنبیہ کرتے آمینہ صوفی کا فیڈر بناکر کچن
سے جاچکی تھی۔
کھانے پینے اور جلدی سونے اٹھنے کے بارے میں روزانہ وہ اسے تنبیہ کرنا نہیں بھولتی تھی۔ لائبہ کو اسکے تنبیہ سننےکی عادت پڑ چکی تھی،،، اور وہ اسے آمینہ کی اپنے لیے فکرمندی سمجھ کر برا منانا بھی بھول چکی تھی۔
“جی بی نہیں بھولوں گی۔”
ایک دم ہی اسے شاہان کا خیال آیا تو اسکا چہرہ کل کے واقعے کے بعد پہلی بار پھر سے مسکرایا۔
“آج تو شاہان نے مجھے ٹریٹ دینی ہے۔”
خوشی سے اپنے ہونٹ دبائے وہ زیرلب شرمائی تھی۔
○●□■○●□■○●□
“کانگریٹس مسٹر اسفر وقار الملک،،،اسسٹنٹ آف کمشنر پولیس کا عہدہ سنبھالنے پر آپکو تہہ دل سے اسٹاف مبارکباد پیش کرتا ہے۔”
پھولوں کے گلدستے اٹھائے اسٹاف کے سب لوگ اسکے آفس میں جمع تھے۔
“آپ سبکا بہت مشکور ہوں۔ تھینکس۔”
اپنے عہدے کا چارج اس نے آج ہی سنبھالا تھا اور انسپکٹر کامران مرزا پورے اسٹاف کے ساتھ اسے مبارکباد دے رہا تھا۔
“تم میرے دوستوں میں شامل ہوں انسپکٹر کامران مرزا،،مجھے
تمہاری سپورٹ کی ضرورت ہمیشہ رہیگی۔”
اسفر نے اسکے کندھا تھپتھپایا۔
“آپکو جب بھی ضرورت ہوئی میں حاضر رہونگا سر۔”
انسپکٹر کامران نے سلیوٹ کیا اور پھر وہ ایک ایک کر کے اسکے
آفس سے باہر نکل گئے۔
“انسپکٹر کامی آپ یہیں رکیے۔”
اسفر اور انسپکٹر کامران مرزا کافی وقت سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ انکا اس سے پہلے بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ جوائن
کرنےکے بعد سے کئی بار آمنا سامنا ہوا تھا۔
اور آج انسپکٹر کامران مرزا کو اپنا دوست بنانےکا فیصلہ بھی
اسفر نے اسی وجہ سے لیا تھا کہ اس عہدے پر فائز ہونے کے
بعد اسکے مضبوط کندھوں پر ذمےداریوں کا بوجھ بڑھ گیا تھا
اور ایسے میں اسے اپنے ساتھ اپنے قریب ایک بااعتبار پولس آفیسر کی ضرورت تھی اور اسے انسپکٹر کامران اسکے لیے
بالکل پرفیکٹ لگا تھا۔
“یس سر۔” سب کے جانے کے بعد اب اسفر اور انسپکٹر کامران
ہی وہاں اکیلے بچے تھے۔
“آو بیٹھو۔” اسفر اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود بھی بیٹھ گیا۔
“مجھے خوشی ہے تم ایک ایماندار اور ذمےدار پولیس آفیسر ہو اور تمہارے یونیفارم پر سجے یہ بیجز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔”
اسکے بیٹھنے کے بعد اسفر اصل بات کیطرف آیا۔
“تھینکس سر۔ میری جان بھی اپنی ڈیوٹی کیلئے قربان ہے۔”
جذباتی انداز میں انسپکٹر کامی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھے
کہا۔
“پولیس ڈیپارٹمنٹ کو تم جیسے بہادر جوانوں پر فخر ہے،،، انسپکٹر کامران۔” اسفر اسے سراہتا ہوا بولا۔
“تھنکس سر۔”
انسپکٹر کامران پہلے ہی دن اس سے اپنے لیے اتنی تعریف سن کر دل ہی دل میں پھولے نہیں سمایا تھا۔
جان ہتھیلی پر لیے اتنی ٹف ڈیوٹی کرنے والا ہر سپاہی اور چاہتا ہی کیا ہے۔ وہ پل جس میں،،،، اسکی اس قربانی اور ملک سے محبت کو قابل قدر سمجھ کر اسے سراہا جائے،،،اسکے لیے اس پل کی خوشی سے بڑھ کر خوشی کا احساس اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور ایک پولیس افسر ہونے کے ناطے انسپکٹر کامران بھی اسی خوشی کے پل کو محسوس کر رہا تھا۔
“انسپکٹر کامی آج سے تمہیں میرے آڈرز ایز اے اسسٹنٹ مانیں ہونگے۔ میں تمہیں آج ہی اپنا اسسٹنٹ ہونے کا آفیشل لیٹر بھیج دونگا۔ اسلیے تم آج سے بلکہ ابھی سے اپنی نئی ڈیوٹی شروع کر دو۔”
:یس سر۔” اسکی بات مکمل ہوتے ہی انسپکٹر کامران اپنی جگہ
سے کھڑا ہوا اور اسے سلیوٹ کیا۔
“اس ایڈریس پر اپنے آدمی لگوا دو اور اس لڑکے کے بارے میں
ہر طرح کی انفارمیشن مجھے آج رات تک اپنی ٹیبل پر چاہیے۔”
انسپکٹر کامی کو اسکی ذمےداری بتاتے وہ بھی کھڑا ہو چکا
تھا۔
“اوکے سر۔” انسپکٹر کامی اسکا آڈر مکمل ہوتے ہی اس پر عمل درآمد کرانے باہر نکل گیا۔
“اب دیکھتا ہوں میری بہن کو تکلیف پہنچانے والے کیسے سکون
سے رہتے ہیں۔ جب تک میرا بدلہ پورا نہیں ہوگا میں چین سے بیٹھنے والا نہیں ہوں۔”
اسفر مصمم ارادے سے بولا تھا۔
○●□■○●□■○●□■
“بغیر کسی ثبوت کے آپ اسے یہاں نہیں رک سکتے۔ اسے آپکو
ابھی کے ابھی رہا کرنا ہوگا۔”
سیف اور مشعل دونوں پولیس اسٹیشن پہنچ چکے تھے۔
“آپ لوگ فیملی والے لگتے ہیں مگر آپکے بھائی کا جرم ناقابل معافی ہے۔ ایک لڑکی کو اس نے اپنی حیوانیت کا بری طرح
نشانہ بنایا ہے۔”
پولیس آفیسر کیا کہہ رہا ہے۔ سیف کی کچھ سمجھ میں نہیں
آرہا تھا۔
شاہان ایسا کرسکتا ہے وہ مان ہی نہیں سکتا تھا۔
“آپ میری اس لڑکی سے بات کرائیں۔ میں خود اسکا علاج کرنے
کے لیے تیار ہوں۔ ایک ڈاکٹر ہوں میں اور شاہان میرا بہت ہی سلجھا ہوا چھوٹا بھائی ہے۔ اسے ضرور اس سب میں پھنسایا گیا ہے۔”
سیف کسی صورت شاہان کو مجرم ماننے پر راضی نہیں ہوا۔
“آپکا بھائی ضرور ہوگا وہ لیکن آپ نے اسکی تربیت کرنے میں
کوتاہی برتی ہے تبھی وہ وحشی درندہ بن چکا ہے۔”
“کیا بکواس کر رہے ہو۔ وہ ایسا کچھ نہیں کرسکتا تم کسی کا جرم اسکے سر پر تھوپ رہے ہو لیکن میں اسے کچھ نہیں ہونے دونگا ابھی چھوڑو گے تم اسے۔ میرا وکیل آتا ہی ہوگا۔”
اسکا دل کیا اس پولیس آفیسر کا منہ توڑ ڈالے۔
“تم پولیس اسٹیشن میں ہو اس وقت ذرا سنبھل کر بات کرو۔
مجھے تیور دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ باہر جاکر بیٹھو جب
وکیل آجائے تو اندر بھیج دینا۔ سمجھے۔”
سیف کو جھڑکتے ہوئے پولیس آفیسر نے باہر نکال دیا۔
“سیف آپ پاپا سے بات کریں وہ سب سنبھال لیں گے۔ ریٹائرڈ ہیں تو کیا ہوا،،،تھے تو جج ناں۔ کئی وکیل انکے دوست ہیں وہ ضرور،،،کسی اچھے وکیل سے کہہ کر،،، شاہان کی رہائی کا بندوبست کر دینگے۔
مشعل نے سیف کو اپنے پاپا سے بات کرنے کا مشورہ دیا۔
“تم پریشان مت ہو میری جان۔ میں کرلونگا انتظام۔
ابھی وکیل آجائیگا۔ اسکے آتے ہی سب مسئلہ سولو ہو جائیگا۔
یو ڈونٹ وری۔”
سیف نے پھر سے وکیل کا نمبر ملایا۔
“جی سیف صاحب بس میں پہنچنے ہی والا ہوں۔ آپ بالکل فکر نہکریں۔ ضمانت ابھی ہی ہوگی۔ شاہان صاحب کو اور لاک اپ میں نہیں رکھ سکتے یہ لوگ۔”
“اوہ تھینکس وکیل صاحب۔ آپ نے میری پریشانی دور کردی۔”
اس نے لائن ڈسکنٹ کرتے ہی مشعل کو خوشخبری سنائی۔
“رئیلی،،، تھینکس گاڈ۔”
مشعل نے بھی سکون کا سانس لیا۔
پتا نہیں اس نے ایک رات کیسے یہاں گزار ہوگی۔ اتنی گھٹن یہاں۔ اسے تو نیند بھی نہیں آئی ہوگی۔
سیف اسکے لیے خاصا فکرمند تھا۔
“سیف فکر نہ کریں۔ ہم اسے لیے بنا یہاں سے جانے والے نہیں۔
آپ بس اب وکیل کو آلینے دیں۔”
“تھینکس مائی سوئیٹ ہارٹ۔”
مشعل کا اسے حوصلہ دینا سیف کے دل میں اسکی جگہ اور بھی مضبوط کرچکا تھا۔ وہ واقعی اسکے لیے نعمت تھی۔
بس اب اسے شاہان کو اسکی رہائی کے بعد منانا تھا تاکہ وہ بھی
اسکی خوشی میں دل سے شامل ہو جائے اور پھر وہ تینوں مل کر اس خوشی کو سلیبریٹ کرسکیں۔
